12/31/2009

بلاگر ایوارڈ

اردو بلاگر نہایت معذرت کے ساتھ اپنی الگ دنیا بسا کے بیٹھے ہوئے ہیں ! جی ہاں الگ دنیا ! کم ہی دیکھنے میں آیا کہ انگریزی بلاگ (خاص کر پاکستانی) کی کسی تحریر کا حوالہ دیا گیا ہویا اس طرز کا کوئی اور کام! چند ایک ہی اردو بلاگر میرا خیال ہے انگریزی بلاگ دیکھتے یا پڑھتے ہیں! تبصرہ وہ بھی نہیں کرتے! انکل اجمل و نعمان کے علاوہ کون کون ہے جو انگریزی بلاگ اور اُس کیمونٹی پر نظر رکھتا ہے؟ ممکن کے عنیقہ ناز ہوں!!! اور کون ہے؟
اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ دونوں طرف کے لوگ الگ الگ اپنی اپنی مختلف سرگرمیوں میں مصروف رہتے ہیں ہم اُن کو اور وہ ہمیں منہ نہیں لگاتے، یوں لگتا ہے دونوں ایک دوسرے کے وجود سے بے خبر بنے بیٹھے ہیں! یہ حقیقت ہے کہ ملک میں اردو ذیادہ بولی جاتی ہے مگر نیٹ پر پاکستانی بلاگر کمیونٹی میں انگریزی بلاگر کی تعداد بہت ذیادہ ہے۔ یوں نظر انداز کرنے کا میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اردو بلاگرز کو ذیادہ نقصان ہوتا ہے جیسے اگر میں غلط نہیں تو پہلا بلاگ سیارہ جو کسی پاکستانی نے بنایا وہ اردو سیارہ تھا؟؟ اگر ہاں تو یہ کیا وجہ ہے کہ بلاگرز پی کے پہلا کہلاتا ہے؟ یوں اور بھی کچھ باتیں!!! ممکن ہے میں غلط ہوں۔
ہمیں ایک اجتماعی کوشش کرنی چاہئے کہ وہ ہمیں نظر انداز نہ کر سکیں! دلچسپ بات یہ کہ کراچی میں انگریزی و اردو بلاگر الگ الگ بہت ایکٹو ہیں! مگر کوئی مشترکہ پروگرام دونوں جانب سے نہیں کیا گیا! بلاگر کانفرنس میں بھی ہم (اردو) بلاگر نے بمشکل ایک میز پر قبصہ کیا تھا! بعد میں جن انگریزی بلاگر زنے اُس کانفرنس پر اپنے بلاگ پر اظہار رائے کیا تھا تو اکثر اردو بلاگنگ کی پریزنٹیشن کو بھول گئے تھے تبصرہ کر کے انہیں یاد کروانا پڑا تھا تو معذرت کے ساتھ انہوں نے بہر حال جگہ دی! یو ہی میں اپنی ذاتی دفتری مصروفیات کی وجہ آخری بلاگرز کانفرنس کے لئے رابطے نہ کر سکا البتی اپنے بلاگ پر آگاہ کر دیا تھا مگر کسی اور اردو بلاگرز میں سے اللہ کے بندے نے بھی شرکت نہ کی!
منظر نامہ نے یوں تو اپنا ایک سلسلہ شروع کیا ہے انعامات دینے کا اردو بلاگرز کو! مگر اگر آپ متوجہ ہوں تو ایک پاکستانی بلاگرز کا ایوارڈ یہاں بھی ہو رہا ہے شرکت کر لیں! وضاحت کر دوں کہ ابتدا میں وہاں بھی اردو بلاگرز کو نطر انداز کر دیا گیا تھا! پھر ایک جذباتی قسم کی میل ماری تو اب انہوں نے Topic Area Categories میںbest urdu blogger شامل کر لیا ہے! وہاں توجہ دیں تاکہ اگلی مرتبہ اردو بلاگر کو نظر انداز کیا جانا ممکن نہ رہے!
باقی آپ حضرات کی مرضی!!

12/29/2009

خود اپنے دشمن!

کراچی میں محرم کے مرکزی جلوس میں بم دھماکا ہو گیا! شہیدوں کی گنتی چار پانچ سے شروع ہو کر اب تک چالیس کے قریب تک پہنچ چکی ہے اور زخمی بھی ستر کے قریب ہیں!
اس عاشورہ کے جلوس میں شامل دوست کا فون آیا پہلے تو اُس نے مجھے گالیاں دی کہ خبیث میرا خیال تھا کہ تو میری خیریت کا پوچھے گا مگر تو بھی لعنتی ہے! پھر سے آگاہ کیا! اُس کا فون ختم ہونے کت بعد ہم نے دیگر دوستوں کو فون کر کے اُس کی خیریت دریافت کی سب اللہ کے کرم سے ٹھیک تھے، مگر چند ایک کے قریبی اس میں زخمی ہوئے تھے۔
ملک میں دہشت گردی کی ایک خاص لہر جاری ہے چند ایک مخصوص وجوہات کی بنا ء پر میں یہ سمجھتا تھا (اور اب بھی قائم ہوں) کراچی اس دہشت گردی کی لہر کا شکار نہیں ہو گا! مگر بہر حال کل کا المناک حملہ ہوا ہے، یہ کتنا خود کش تھا اور کتنا ہم نے خود بنا دیا ہمارے سامنے ہے! قوم متحد ہو تو کوئی لاکھ چاہئے اُسے مات نہیں دے سکتا مگر جب وہ ہجوم بن جائے تو کوئی بھی رہنما اس کی رہنمائی نہیں کرسکتا!
متحد قوموں کی تاریخ بتاتی ہے کہ وہ اپنے اندر موجود شرپسندوں کو خود قابو کر لیتی ہیں! مگر دوسری صورت میں شر پسند ہجوموں کو منتشر کر لیتے ہیں! اور تباہی کا سبب بنتے ہیں! بم حملے کے بعد کل بھی کچھ ایسا ہی ہوا!
واقف حال بتاتے ہیں کہ کل دوکانوں کو جلانے کا انداز بہت پیشہ ورانہ تھا اس میں اشتعال کا عنصر نظر نہیں آتا تھا دوکانوں کو جلانے کے لئے Potassium کا استعمال ہوا ہے نیز جلانے سے قبل اُس دوکانوں و دو بینکوں کو لوٹ لیا گیا تھا، مظلوم کربلا کے ماتم کرنے والوں نے ابتدا میں ان شرپسندوں کو روکا مگر بعد میں وہ پسپا ہوگئے۔
قریب ڈھائی ہزار دوکانیں جل کر خاکستر ہو گئی ایک مکمل معاشی بازار ختم ہوا! پہلے حملے میں اگر چالیس شہید ہوئے تھے تو رد عمل میں کتنے زندہ لاشیں بن چکے ہو گے؟ اگر اول دھماکے میں ستر زخمی ہوئے تھے تو ہجوم نے بعد میں کتنے خاندانوں کو معاشی طور پر لہو لہان کیا؟
اگر ایک دوکان ایک خاندان کی روزی کا سبب تھی تو بھی ڈھائی ہزار خاندان تو معاشی طور پر تباہ ہو گئے! صبح دوکاندار اپنی اپنی دوکانوں کے باہر اپنی تباہی پرآنسو بہا رہے رہے تھے!
ڈھائی ہزار دوکانیں اور پچس ارب کا نقصان خود اپنے ہاتھوں سے!
کوئی ہمارا دشمن کیوں نہ ہو جب ہم خود اپنے دشمن ہیں؟
ہم سے بڑا دہشت گرد اور کون ہو گا؟

12/27/2009

درباری خوشامدی

بڑوں سے سنا ہے دربار میں ان کی ضرورت نہیں ہوتی تھی ان کے بغیر کام چل سکتا تھا بلکہ بہتر طور کر کام چلتا، مگر یہ ہوتے ضرور تھے۔ مختلف شکلوں و روپ میں! یہ شاعر بھی ہوتے تھے، نثر نگار بھی، تاریخ دان بھی ، فنکار بھی، تخلیق کار بھی اور دیگر کرداروں میں بھی ہوتے تھے۔ دراصل یہ لوگ اس بات سے مکمل طور پر آگاہ ہوتے تھے کہ اگر سامنے والا یہ جان بھی لیں کہ ہمارا کہا سچ نہیں تو بھی فائدہ ہے کہ تعریف ایک ایسی برائی ہے کہ جس کی بھی کی جائے وہ اسے جھوٹا جان کر بھی پسند کرتا ہے۔ یہ حاکم کی تعریف کرنے کے لئے اپنا قد چھوٹا کرنے میں کوئی جھجک محسوس نہیں کرتے، ان کا اولین مقصد بس خوشنودی حاصل کرنا ہوتا تھا!
بادشاہوں کا دور ختم ہوا اور جمہوریت نے قوموں میں اپنی جگہ بنائی مگر دربار اب بھی ہیں خوشامدیوں کی فراوانی ہے! یہ جگہ جگہ حاکم کا قد بڑھانے کے لئے اپنا قد مزید چھوٹا کرنے سے ہر گز نہیں کتراتے تازہ مثال ذیل میں ہے!




12/26/2009

انوکھی دعا!

آپ کو خوشیا ں اتنی ملیں جتنی مشرف کو گالیاں!
آپ کی زندگی سے غم ایسے ختم ہوں جیسے پاکستان سے آٹا!
خدا اپ کو ایسا صبر عطا کرے جیسا اُس نے ڈاکٹر قدیر صاحب کو دیا ہے۔
خدا آپ کی قسمت قابلیت کی غیر موجودگی میں بھی ایسے بدلے جیسے زرداری کی!
خدا آپ کی کمزوریوں کو یوں آپ کے دشمن سے اوجھل رکھے جیسے نواز شریف کی کرپشن عوام سے اوجھل ہے۔
خدا کرے آپ کے ساتھی آپ کے گناہوں کو ایسے ہی دوسروں کے کھاتے میں ڈالیں جیسے الطاف بھائی کے کرتوتوں پر اُن کے کارکن ڈالتے ہیں۔
اور آپ کی قدروقیمت سپریم کورٹ کے ججوں جیسی نہیں! بلکہ پیٹرول و ڈیزل جیسی ہو!!
امین


12/23/2009

اسلام فوبیا اور افغانستان جنگ

ذیل میں نیویارک یونیورسٹی میں دیپا کمار کا لیکچر جو انہوں نے "اسلام فوبیا اور افغانستان جنگ" کے موضوع پر دیا ہے اگر قت اجازت دے تو دیکھ لیں!



12/07/2009

اب بلاگر ز ملاقات ایچ پی کی طرف سے

جی پہلے گوگل نے پاکستان میں بلاگرز کانفرنس یا ملاقات کروائی تھی! اب سنا ہے مشہور زمانہ کمپنی ایچ پی بلاگر میٹ اپ کروا رہی ہے؟ لاہور میں دس دسمبر کو ، اسلام آباد میں گیارہ کو اور کراچی میں تیرا دسمبر کو ہو گی!!! کیا آپ شرکت کے خواہش مند ہیں؟ اگر ہاں تو یہاں اپنی رجسٹریشن کروا لیں! اور ہاں سنا ہے کوئی تحفہ بھی مل سکتا ہے۔
اپ ڈیٹ:: جناب رجسٹریشن بند ہو چکی ہے  لہذا ہون آرام کرو۔۔ ویسے کس کس نے رجسٹریشن کوا لی تھی؟
اپ ڈیٹ:: ویسے یہاں خود کو رجسٹر کروا  لیں! شرکت کے چانس بن سکتے ہیں!۔


12/05/2009

انجمن حقوق کرپشن

این آر او ایسی ہدی بنا کہ نہ کھانے کا نہ اُگلنے کا، اس کے سب سے بڑے مخالف وہ بنے جنہوں نے سب سے ذیادہ فائدہ اُٹھایا۔ اب این آر او اُس مریض کا سا ہے جس کے نماز جنازہ کی تیاری بھی اُس ہی مولوی کے ذمہ ہے جس نے مریض کے بچ جانے پر شکرانے کے نفل پڑھنے کی خدمت انجام دینی ہے۔
مریض بچ پاتا ہے یا نہیں! مگر ایک بات ہے کرپشن نہیں مرتی! قانونی تحفظ ممکن ہے نہ ملےمگر قانون کی گرفت کا امکان بھی روشن نہیں ہے! !! کم از کم اس حکومت میں تو نہیں!
“کیا کرپشن پر ہمارا حق نہیں ہے؟ اوروں کا ہے!جب ایک کلچر بن چکا ہو! بلکل ہے! دیکھے جنہوں نے کیا، اب یہ کلچر بن گیا ہے، جونہیں کرتا وہ نقصان کر رہا ہے اپنا! ہزار میں سے ایک آدمی نہیں کرتا تو وہ نقصان کر رہا ہے اپنا" یہ الفاظ غصے یا مذاق میں کہے جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر یہ الفاظ اس مملکت خداداد کے وفاقی وزیر کے ہیں! جناب سردار عبدالقیوم خان جتوئی کے! یقین نہ آئے تو ذیل میں ویڈیو دیکھ لیں! جناب کی ذاتی ویب سائیٹ کا لنک یہ ہے! کر لو رابطہ!


کر لو گل!! ویسے انہوں نے اپنی ویسے انہوں نے اپنی ویب سائیٹ کے پہلے پیچ پر لکھا ہے
As your MNA and Federal Minister for Defence Production I am dedicated to work hard for you, and for people of Pakistan .

اس کا مطلب کیا ہے؟؟



12/04/2009

چیک کر لیں۔۔۔

آغاز تو اس کا امریکہ سے ہوا تھا کہ عوام کو دہشت گردوں کے خوف میں مبتلا کر کے ماروں مگر یہ فن اس وقت پاکستان میں اپنے عروج  پر ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اب یہ خوف اندر کہیں بیٹھ بھی گیا ہے کہ کہیں کوئی خود کش حملہ آور نہ آ جائے، بلکہ ایک دوست تو ہر بُرے کام کو دیکھ کر یہ کہتے پائے گئے “میں تو کہتا ہو وہاں ایک خُود کش دے مارو” ۔
بہر حال  ایک خوف یہ بھی ممکن ہے کہ کہیں آپ کے نام پر کوئی دستاویزی کام نہ ہو چکا ہو کہ کرے کوئی اور بھرے آپ اس میں سے ایک موبائل سیم کی رجسٹریشن ہے آپ یہاں سے چیک کر سکتے ہیں کہ پاکستان میں آپ کے شناختی کارڈ پر کتنے فون کنکشن ہیں! تو کر لیں چیک۔



11/30/2009

آخر یہ کیا ہے؟

یار لوگوں نے یہ خبر سن لی ہو گی کہ سوئٹزرلینڈ والوں نے اپنے ملک میں مساجد کے مینار کی تعمیر کے خلاف ووٹ دیئے ہیں، اس سے مراد ہر گز جمہوریت کو کوسنے کا کوئی جواز تلاش کرنا نہیں ہے بلکہ یہ دیکھنا ہے کہ آیا یہ ریفرنڈم صرف مینار کے تعمیر کے خلاف تھا یا پس پردہ دیگر وجوہات ہیں؟
سب سے پہلے یہ ریفرنڈم میں استعمال ہونے والا پوسٹر دیکھے!

خاتون کو برقعہ اور سوئٹزرلینڈ کے جھنڈے پر بنے ہوئے مینار! کیا پیغام ہے اس میں؟ دلچسپ بات یہ ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں کُل 150کے قریب مساجد ہیں جن میں سے صرفف تین کے مینار ہیں یاد رہے کہ ایک عبادت گاہ قادیانیوں کی ہے جس کے مینار ہیں عالمی میدیا اپسے بھی مسجد بتاتا ہے جس کے مینار ہیں اور ایک اور بننے جا رہا تھا کہ ۔۔۔۔، سوئٹزرلینڈ کی کل آبادی کا صرف پانچ فیصد(قریب چار لاکھ) مسلمان ہیں ، اُن کی بھی نوے فیصد آبادی یورپ ہی سےتعلق رکھتی ہے مختصر کافی ماڈرین ہے اس کے باوجود یہ ریفرنڈم ہوا!
کہنے والے کہتے ہیں کہ سوئٹزرلینڈ میں ابتدا میں جانوروں کو ذبح کرنے کے خلاف تحریک چلائی جانی لگی تھی کہ مسلمان بڑی بے رحمی سے جانور کو ذبح کرتے ہیں مگر درمیان میں یہودی آ گے کہ اُن کا طریقہ بھی ایسا ہی ہے، یوں توپوں کا رُخ مساجد کے مینار کی تعمیر کی طرف ہو گیا وہ بھی اس لئے کہ یہ "مذہبی" نہیں "سیاسی" علامت ہے! اس لئے کہ یہ درجہ با درجہ اسلام آئزیشن یا اسلامی نظام کی تشکیل کا نشان ہے، یہ وہ وجہ ہے وہ اس ریفرینڈم کی حامی جماعت نے بتائی ہے!! یہ ہی وجہ اُس کے حمایتی ووٹر بیان کرتے ہیں ، نیٹ و نیوز میں کئی ایک کے تاثرات جاننے کا موقعہ ملا یوں معلوم ہوا دراصل اسلام دشمنی نہیں تو کم از کم مسلم طرز عمل کے کسی نا کسی شکل و سطح پر نفرت ضرور ہے خاص کر وہ طرز عمل جو علاقائی (جہاں سے اُس مسلمان کا تعلق ہے)نہیں بلکہ جو اسلام کی وجہ سے ہے ۔
مسلمان کے بچوں کا زیادہ ہونا، ان کی عورت کا اسکاف لینا جیسی وجوہات پر ووٹر مینار کو بین کرنے کے حق میں ووٹ ڈالے تو یہ کیا ہے؟ اسلام دشمنی یا اسلام فوبیا ہے یا کچھ اور؟


11/09/2009

شاعر مشرق اور اُن کا پڑپوتا

آج اقبال ڈے ہے سارا پاکستان چھٹی منا رہا ہے۔ اقبال کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے وہ شخص جس پر کئی کتابیں لکھیں گئی، وہ شاعر ہی نہیں فلاسفر و مدبر بھی تھے، مگر اب بھی بہت کچھ ہے لکھنے کو مگر ہم نہیں لکھتے آج اُن کے بارے میں۔ اس بار میڈیا کے لئے یہ دن بھی باقی دنوں کی طرح کمرشلائز ہو گیا ہے موبی لنک بنیادی اسپانسر ہے ورنہ پہلے چند ایک سرکاری ادارے ہی اقبال ڈے کی مناسبت سے اشعار و پیغامات اپنے اپنے وزیر کے بیان کے ساتھ چھپاتے تھے ہمیں اس کے کمرشلائز ہونے پر ہر گز کوئی اعتراض نہیں کچھ نہیں تو شاید اس طرح ہی ممکن ہے نوجوانوں میں یہ دن ویلنٹائن یا اس جیسے دوسرے ایام کے طرح مشہور ہو جائے اور یار دوست اس دن کو نیند پوری کرنے یا برائے تفریح سمجھ کر ضائع نہ کریں۔
اتور کو سنڈے برانچ میں پی ٹی وی والوں نے جاوید اقبال کو علامہ اقبال پر گفتگو کے لئے مدعو کیا تھا، دوران گفتگو ایک کتاب جو کہ بچوں کے لئے لکھی گئی تھی اور اردو زبان میں تھی جاوید اقبال صاحب نے اُس کی افادیت بیان کرتے ہو کہا "ایسی کتاب انگریزی میں بھی لکھی جانی چاہئے کیونکہ اب اردو چھوٹے بچے اسے کیسے سمجھیں اب میرا Grandchild اس کتاب کی کو نہیں پڑح سکتا کیونکہ یہ اردو میں ہے"
میرا سوال یہ ہے کہ اگر اقبال جو اردو و فارسی کے شاعر ہیں کا پڑپوتا اپنے پڑدادا کی شاعری کی زبان سے نا واقف ہے تو کیا عام نوجوان پر اقبال نا واقف ہو تو اُسے قصور وار ٹھرانا درست ہو گا؟

11/03/2009

ایک شریف آدمی۔۔۔۔

وہ  بزرگ دفتر میں داخل ہوئے تو اُس وقت میں اور میرا دوست ایک کیس کے بارے میں آپس میں مختلف زاویوں سے تبادلہ خیال کر رہے تھے۔ انہیں کوٹ میں سے کسی نے ہماری طرف refer کیا تھا، ہم نے اُن سے اُن کے کیس کے بارے میں سوال کیا تو اُن کے کہانی سے معلوم ہوا کہ جوان بیٹے پر چار مختلف کیس بنے ہیں جن کی بناء  پر وہ جیل میں ہے اور اُن کی پہلی خواہش اُس کی ضمانت  کروانا ہے وہ بھی جلد از جلد۔ ہم نے اس سلسلے میں اُن کے بیٹے کے خلاف بننے والے کیسوں کی کاپیاں مانگی جو اُن کے پاس نہیں تھیں لہذا وہ لانے کا کہا جواب میں انہوں نے پوچھا کہاں سے ملیں گی؟
ہم نے اس سلسلے میں اُنہیں دو طریقے بتائے اول قانونی دوئم غیر قانونی (بمعہ رشوت)، یہ بھی وضاحت کردی کہ جناب قانونی طریقہ اول تو طویل ہے دوسرا کئی کاغذات کی کاپیاں نہیں مل سکے گی۔
بزرگ نے قانونی طریقے سے کاغذات نکالنے کو بہتر جانا۔اس کے بعد بات آگے بڑھی تو  ہم نے  اُن کے بیٹے کے کیس کی وہ تفصیلات جاننا چاہی جو ابتدائی طور پر ہمیں معاملات کو جاننے کے لئے درکار تھی۔
آخر میں جب وہ جانے لگے تو ہم نے ایک بار پھر اُنہیں تلقین  کی کہ قانونی طور پر ہم درست راہ تب ہی متعین کر سکتے ہیں جب کیس کے کاغذات موجود ہوں لہذا آپ جلد از جلد اُن کا بندوبست کردیں۔ وہ جاتے جاتے رُک گئے اور دوبارہ بیٹھ گئے۔
 کہنے لگے “آج کل کے یہ جو تم نوجوان ہو ناں  تم لوگوں نے بہت مایوسی کیا  ہم بوڑھوں کو، تم ہر آنے والے کو دونمبری کا طریقہ ہی بتاتے ہو یا یہ کہہ لو بھی بتاتے ہو؟”
ہم، میں اور میرے ساتھی، نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور نہ سمجھنے والے انداز میں دوبارہ اُن بزرگ کی طرف سوالیہ انداز میں دیکھنے لگے۔
اب اُن بزرگ نے باقاعدہ ایک کلاس (بے عزتی)لینے کے انداز میں معاشرے کی برائیوں کا تذکرہ کرنا شروع کیا اور اُس کا اصل محرک  آج کے نوجوان کو بتایا، خاص کر سرکاری دفاتر (جن میں بلخصوص عدلیہ میں کلرک و پیشکار وغیرہ)  میں موجود رشوت کلچر  ہے، ابھی اُن بزرگ کی گفتگو(لیکچر)  زور و شور سے جاری تھی کہ ہمارے دوست نے اُن سے الٹا سوال کر ڈالا کہ  “آپ کی عمر کتنی ہے”
اول تو اس سوال پر سٹپٹا گئے پھر گویا ہوئے “72 سال”
پھر دوسرا سوال تھا”عدالتوں کے چکر میں کب سے پڑے؟”
کہنے لگے” کوئی لگ بھگ چار پانچ سال ہو گئے ہیں جب سے میرا چھوٹا بیٹا پکڑا گیا ہے”
ہمارے دوست نے کہا   “انکل ابتدائی عمر کے بیس سال اور یہ پانچ سال کُل ہو گئے پچس سال، ان پچس سالوں کو  اگر  آپ کی عمر سے نکال دیا جائے تو کُل تقریبا 47 سال شعور کے آپ نے اس معاشرے کے درمیان گزارے ہیں، کیا اس دوران  آپ نے کبھی کوئی احتجاج کیا؟ کوئی جلوس نکالا؟ کوئی تحریک نکالی؟ کوئی اور ایسی کوشش کہ یہ جو معاشرے میں مختلف بُرائیاں موجود ہیں یا جنم لے رہی ہیں اُس کو روکا جائے! کبھی کوئی بھوک ہرتال کی ہو پریس کلب میں؟ کیا  آپ نے ایسا کیا؟”
بزرگ کا کہنا تھا  “بھائی میں شریف  آدمی ہوں ساری عمر خاموشی سے نوکری کی ہے۔ میری تو آدھی عمر تو آپریشن ٹھیٹر میں گزری ہے نوکری کی اور سیدھا گھر! مجھے کیا معلوم تھا معاشرے میں کیا ہو رہا ہے”
ہمارے دوسرے دوست جو اس گفتگو کے دوران  آ گئے تھے مخاطب ہوئے “یہ ہی تو !  آپ نے کوئی کوشش  نہیں کی ناں،  اچھا یہ بتائے کہ  آپ نے کتنے سال آپریشن ٹھیٹر میں گزرے”
بزرگ گویا ہوئے “کوئی 36 سال”
دوسرے دوست نے اب اُن سے کہا “ساری عمر  آپ نے آپریشن ٹھیٹر میں گزار دی، میں خود شاہد ہوں، یہ اسپتال والے کسی کا بیٹا، کسی کا باپ، کسی کا شوہر، کسی کی بیٹی، ماں یا کوئی اور پیارا  اگر مر جائے تو میت کو اُس وقت تک اُس کے ورثا کے حوالے نہیں کرتے جب تک کہ وہ ہسپتال کے تمام واجبات ادا نہیں کرتا، اور ایسے بل کئی مرتبہ لاکھوں میں بھی چلے جاتے ہے، اب وہ شخص اپنے پیارے کو دفن کرنے کا بندوبست کرے یا ہسپتال والوں کے بل اُتارنے کے لئے بھاگ ڈور کرے؟ کیا آپ نے وہاں کبھی اس پر آواز اُٹھائی؟”
بزرگ کچھ دیر خامو ش رہنے کے بعد گویا ہوئے “بھائی میں مزدور ، نوکر بندہ تھا کیا بولتا ایک نوکری تھی اگر وہ بھی چلی جاتی تو بھوکھا مرتا میں کون سا ڈاکٹر تھا کہ اپنا کلینک کھول کر بیٹھ جاتا”
دوست بولا  “آپ اپنی مثال لے لیں ہر ایک جب خود پرپڑتی ہے تو ہی بولتا ہے ورنہ خاموش رہتا ہے، اس سے ہی بگاڑ پیدا ہوتا ہے، آپ بھی عدالتی معاملات میں خود پھنسے تو  سب برائیاں نظر  آنے لگی ورنہ سب اچھا تھا۔ وہ کیا ایک لطیفہ ہےکہ  ایک سیاست دان ایک جلسے میں تقریر کررہا تھا کہ میں  آپ سب کی تمام  پریشانیاں دور کر دوں گا مگر آپ مجھ سے عوام کی بات مت کریں وہ تو بے وقوف ہے، جاہل ہے اور جلسے میں  تمام حاضرین  یہ سوچ کر تالیاں بجانے لگ پڑے کہ  میں تو عوام نہیں یہ جو میرے دائیں بائیں ہیں یہ ہیں عوام۔”
بزرگ یہ کہتے ہوئے اُٹھ کھڑے ہوئے “یار تم لوگ تو مجھ بوڑھے پر ہی وکالت  جھاڑنے لگ پڑے ہو، یہ کام عدالت میں کرنا، میں تمہیں کل پرسوں تمام کیسوں کے کاغذات لا دوں گا”

اور میں سوچ رہا تھا کہ یہ بھی سچ ہے شاید کہ ایک شریف آدمی دامن بچانے کے چکر میں پورے معاشرے کو گندہ کر دیتا ہے! یا نہیں ؟

10/24/2009

احساس مر رہا ہے؟

سنا ہے ایک دور تھا کہ جب کسی علاقے میں کوئی معصوم یا بے قصور مارا جاتا تھا تو ماحول ایسا افسردہ ہو جاتا تھا کہ کوئی ناواقف بھی محسوس کر لیتا تھا کہ کچھ بُرا ہو گیا ہے۔ ہم نے تو کبھی نہیں دیکھا مگر بزرگ تو یہاں تک بتاتے ہیں کہ آسمان پر لالی آ جاتی تھی اور ہواوں کے جکڑ چلا کرتے تھے۔ اور قریب کے دیہات کے رہائشیوں کو بھی ظلم ہونے کی خبر ہو جاتی تھی۔ ہم نے ایک ایسا ہی قصہ سنا کہ ایک عورت کو قتل کیا گیا تھا اُس کی لاش کئی دن کے بعد ملی اُس کی موت کا اندازہ لوگوں نے ایک ایسی سی آندھی کے گزرے دن سے منسوب کر کے کیا اور بعد میں پکڑے جانے والے قاتل نے بھی اقرار کیا کہ وہ ہی دن دراصل اُس کی بربریت کا دن تھا۔ اب یہ تو اللہ ہی جانتا ہے کہ آیا واقعی معصوم کے قتل پر ہواوں کے جکڑ چلا کرتے تھے یا قاتل ہی اُس دن جوش میں آجاتے تھے مگر جو حقیقت ہے وہ یہ کہ انسان کی زندگی کی درحقیقت بہت تھی انسان ہی کی نظر میں۔
اب کیا حال ہے؟ اب سب کو اپنی جان ہی صرف عزیز معلوم ہوتی ہے۔ گزشتہ کئی دنوں سے میڈیا پر آنے والی خود کش بمبار اور حملہ آوروں کی خبروں اور دیگر اس طرح کی خبروں پر عام افراد کے تبصرے نہایت حیرت انگیز ہیں۔ جیسے ایک مرتبہ ہم گلی میں لڑکوں کو کرکٹ کھیلتے دیکھ رہے تھے کہ ایک اور لڑکا جو ابھی گھر سے آیا تھا نےآتے ہی اپنے ساتھوں کو ایک خود کش حملے کی خبر سنائی۔
جو لڑکا بیٹنگ کر رہا تھا اُس نے پوچھا "کتنے مرے؟"
جواب آیا "27 ہیں اب تک کی خبروں کے مطابق"
 تو اُن کا تبصرہ تھا " لگتا ہے آج نصف سینچری ہو جائے گی، چلو چھوڑو یار چلو آو کرکٹ کھیلوں ماجد یہ تمھاری ٹیم میں ہے اب دونوں ٹیمیں برابر ہو گئی ہیں اور تمہاری ٹیم کا کوئی بندہ دو باریاں نہیں لے گا" اور کرکٹ کا میچ شروع ہو گیا۔
 یہ ایک ہی مثال نہیں ہے ایسی کئی مثالیں ہمارے سامنے ہیں روز بروز ایسے حملوں پر ہمارا رد عمل واجبی سا ہوتا جارہا ہے ہم اپنے حکمرانوں پت تنقید کرتے ہیں کہ انہیں احساس ہی نہیں بس وہ ایک مذمتی بیان جاری کرنے سے ذیادہ کچھ نہیں کرتی مگر سچ تو یہ ہے کہ اب عام آدمی بھی اس کو المیہ سمجھنے کے بجائے صرف حادثہ سمجھنے لگ پڑے ہیں۔
 یہ کیوں ہے؟ ہم شعور کی کس راہ پر گامزن ہیں یا کس سطح کے گمراہ؟

9/22/2009

پاکستان کا ہر فن مولا میڈیا

بی بی سی اردو پر علی سلمان کی یہ تحریر پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

7/27/2009

دیہاڑی دار

اِک دیہاڑے انکّھاں والا اک مزدور
سڑک کنارے
وانگ کبُوتر اکھّاں مِیٹی
تِیلے دے نال ماں دھرتی دا سینہ پھولے
خورے کنک دادا نہ لبھّے
رمبّا کہئی تے چِھینی ہتھوڑا
گینتی اپنے اَگے دھر کے
چوری اکھّیں ویکھ کے اپنے آل دوالے
کر کے مُوہنہ اسماناں ولّے
ہولی ہولی بھیڑے بھیڑے اَکھّر بولے
اُچّی اُچّی
اُچیا ربّا، سچیا ربّا، چنگیا ربّا
تو نہیوں ڈبیاں تارن والا
ساری دنیا پالن والا
جتّھوں کل اُدھار اے کھاہدا
اُوتھے وی اے اج دا وعدہ
میری اج دیہاڑی ٹُٹّی
میرے دل چُوں تیری چُھٹّی
اُچیا ربّا سچیا ربّا چنگیا ربّا
پنجاں کلیاں مگروں جہیڑا
میرے ویہڑے کھِڑیا پُھل
باہحھ دوائیوں
پُونی ورگا ہوندا جاوے
میرے مستوبل کا دیوا
ویکھیں کِدھرے بُجھ نہ جاوے
اُچیا ربّا سچیا ربّا چنگیا ربّا
اَج نئیں جانا خالی ہتھ
ویچاں بھانویں اپنی رت
شاعر: بابا نجمی

7/12/2009

کیا یہ بھی کوئی انقلاب ہے؟؟

میں نے کافی پہلے یہ لطیفہ سنا تو اسے اپنے بلاگ پر آپ لوگوں سے شیئر کر لیا، دوبارہ شیئر کر لیتا ہوں لطیفہ کچھ یوں تھا ۔
"ایک ملک میں انقلاب آیا۔اس ملک کا ایک باشندہ جو انقلاب سے قبل بیرونی ملک کے دورے پر تھا واپس آیا تو ائرپورٹ سے نکل کر اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا "کسی نزدیکی دکان پر ٹھہرجانا، مجھےسگریٹ خریدنا ہے"۔
"سگریٹ خریدنے کے لئے آپ کو چرچ جانا پڑے گا"۔ڈرائیور نے جواب دیا ۔
"کیا؟ چرچ تو وہ جگہ ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے "۔
"لوگ عبادت کے لئے یونیورسٹی جاتے ہیں"۔
"کیا؟ یونیورسٹی میں تو وہ لوگ نہیں ہوتے جو پڑھتے ہیں؟"۔
"نہیں پڑھنے والے تو جیل مہں ہوتے ہیں"۔
ڈرائیور نے کہا "جیل میں تو مجرم ہوتے ہیں"۔
"اوہ نہیں، وہ تو برسر اقتدار ہیں"۔
ہمیں نہیں معلوم تھا یہ لطیفہ کبھی حقیقت بھی بن سکتا ہے اس حقیقت سے واسطہ کہیں اور نہیں اپنے ملک میں ہی ہمارا پڑے گا۔ 
پہلی مرتبہ اس انقلاب کا علم اُس وقت ہوا جب بلوے کے کیس میں مطلوب ملزم ایک صوبے کا گورنر بن گیا، دوسری مرتبہ اُس وقت ہوا جب ایک امر کی جگہ پارلیمنٹ میں نیا صدر منتخب کیا گیا۔ اب ایک بار پھر احساس ہونے لگا ہے کہ پاکستان ہی وہ ملک ہے جہاں یہ انقلاب آنا تھا۔ تازہ خبر پنجاب کی رکن اسمبلی محترمہ (کیا محترمہ کہنا بنتا ہے؟) شمیلہ انجم رانا، جو مسلم لیگ نون کی کی رُکن ہیں، کی کریڈٹ کارڈ چوری کی کہانی ہے۔ انہوں نے اپنی ہیلتھ کلب کی ساتھی زائرہ ملک کے دو کریڈٹ کارڈ چوری کرنے کے بعد فورا ہی قریب کی دوکان سے اسی ہزار مالیت کے زیورات اور تین مردانہ جوڑے خریدے، اس تمام کاروائی خریداری کی فلم بن چکی ہے۔


محترمہ اسمبلی میں مذہبی امور اور اوقاف کمیٹی کی ممبر ہیں، IDPs کی کوآرڈینیٹنگ کمیٹی کی ممبر ہیں (خدا خیر کرے)، پارٹی کی و دیگر تقریبات میں نعتیں پرھنے کی شوقین ہیں مگر اب معلوم ہوا کہ ایک چور بھی ہیں۔
ہمارے ملک میں اب شاید چور و ڈاکو ہی منتخب نمائندے ہوں گے تبھی گزشتہ دنوں ہمارے موبائل پر کچھ ایسا ایس ایم ایس آیا۔
"گیارہ سال جیل میں رہنے والا ہمارا صدر، چھ سال جیل میں رہنے والا ہمارا وزیر اعظم، دس سال جلاوطن رہنے والا خادم پنجاب، انیس سالوں سے بھتہ پر لندن میں عیاشی کرنے والا ہمارا بے تاج بادشاہ۔۔۔۔۔ ارے دو چار سال آپ بھی جیل کی ہوا کھا آئیں ایمان سے زندگی بن جائے گی"
کہتے ہیں حکمران عوام کے اعمال کا آئینہ ہوتے ہیں، اگر یہ سچ ہے تو خدا رحم کرے، عوامی اعمال سے کہیں زرد انقلاب تو نہیں آ گیا؟

6/30/2009

پاکستان بننے کے نقصانات

جب ہم ایل ایل بی سال دوئم کے طالب علم تھے تب کی بات ہے ہمارے کالج کے پرنسپل جناب خورشید ہاشمی جو ہمیں بین الاقوامی قانون پڑھاتے تھے نے ایک دن ایک قصہ یا واقعہ کہہ لیں ہم طالب علموں سے شیئر کیا، محترم نے بتایا کہ ایک بار وہ ایک یورپی یونیورسٹی {معذرت مجھے نام بھول گیا} میں لیکچر دینے گئے تو انہوں نے دوران لیکچر سوال کیا کہ یہاں موجود کتنے طالب علموں کا تعلق پاکستان سے ہے؟ تو قریب بارہ سے تیرہ نوجوانوں نے اپنے ہاتھ کھڑے کئے۔ اس کے بعد اُن کا اگلا سوال یہ تھا کہ کتنے طالب علم بھارت سے تعلق رکھتے ہیں تو بھی قریب اتنے ہی ہاٹھ جواب میں اٹھے ، جب اُن میں مسلمان طلباء کی تعداد دریافت کی تو وہ صرف ایک تھی۔

یہ ایک چھوٹی سی مثال ہے کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا۔ ہماری کامیابیوں کی تمام وجوہات کا ہر سرا اس کے وجود کے مرہون منت ہے خواں وہ کامیابیاں اس ملک سے باہر ہی کیوں نہ ملی ہوں۔مگر ملک کی تیسری بڑی پارٹی کے سربراہ فرماتے ہیں کہ برصغیر کی تقسیم نے مسلمانوں کو اجتماعی طور پر صرف نقصان ہی نقصان ہوا ہے۔ جی نہیں میں آج سے پانچ سال پہلے والے بھارت میں جناب کی تقریر کی بات نہیں کررہا کل رات کے تازہ "____" کا کہہ رہا ہوں۔ ویڈیو ذیل میں ہے یوں تو تمام ویڈیو دیکھ لیں مگر ساتویں منٹ سے جو بات شروع ہوتی ہے جس کا میں ذکر کر رہا ہوں۔

Altaf interview

اس کے جواب میں ایک بہت لمبی حقائق پر مبنی پوسٹ لکھ پر جناب کے دعوی کو غلط ثابت کرنا نہایت آسان ہے۔ مگر جو نہیں سمجھنا چاہتے اُن کے لئے صرف خاموشی۔ ویسے جناب کی اپنی سیاست بھی اس ہی تقسیم کا نتیجہ ہے۔

6/29/2009

قائد کی تصویر اور جمہوریت کے خلاف سازش

اگر آپ کراچی کے رہائشی ہیں تو گزشتہ ماہ کے آغاز میں یقین آپ نے شہر کی گلیوں و سڑکوں پر ایسے بینر دیکھے ہوں گے جن پر درج تھا "خود بھی جیو اور جینے دو، خدارا ملک میں بی بی کی قربانی کی بناء پر آنے والی جمہوریت کے خلاف سازشیں بند کر دو" منجانب پیپلز پارٹی فلاں فلاں۔ آپ سمجھ سکتے ہیں اس کا مطلب کیا تھا؟ اگر نہیں تو آپ بھی میرے بھائی /بہن ہیں۔ اس بینر کو دیکھ کر یہ مھسوس ہوتا تھا جیسے منت سماجت ہو رہی ہو، ویسے تو ترلوں میں بڑی جان ہوتی ہے، سنا ہے دو طرح کے لوگ کرتے ہیں اول جو کمزور ہو دوئم جو جھوٹے ہوں، حکومت وقت کمزور ہو تی ہے کیا؟

یار لوگوں کا دعوی ہے کہ پاکستان اب قائد کا پاکستان نہیں رہا، البتہ وہ خود کنفیوز ہیں کہ آیا اب یہ پیپلزستان ہے یا جیالستان؟ یہ الجھن بھی ہے کہ یہ بھٹوستان ہے یا درحقیقت زردارستان؟ چند ایک احباب اپنے کافی وزنی دلائل سے یہ ثابت کرنے میں کامیاب نظر آتے ہیں کہ یہ اب امریکستان بن چکا ہے، کم از کم حکمرانوں کے لئے۔

موجودہ حکومت ایک جمہوری حکومت ہے، جس نے ایک "آمر" کی چھٹی کر وائی، کہ "آ" "مر"۔

اس جمہوری حکومت کے خلاف سازشیں جاری ہیں۔ اب یار لوگوں نے الزام لگایا ہے کہ ایوان صدر سے محمد علی جناح جنہیں ایک قوم ہوا کرتی تحی پاکستانی وہ قائد اعظم بھی مانتی تھی کی تصویر ہٹا دی گئی ہے۔ سازشیوں نے ثبوت کے طور پر چند ایک مثالیں بھی دی خاص کر کے ذیل کو تصویر کو پیش کرتے ہیں

June 25 – A group photograph of President Asif Ali Zardari with T-20 World Cup winning Pakistani Cricket Team at Aiwan-e-Sadr.

اب کوئی ثبوت دے کہ یہ اصلی ہے، خواں یہ سچ ہی کیوں نہ ہو کہ 26 جون کو سرکاری طور پر جاری کی گئی تھی، یہ اس کے اصلی ہونے کی کوئی وجہ تو نہیں ناں؟ اس سازش میں دراصل انگریزی اخبار "دی نیوز" کا ہاتھ ہے وہاں سے جیو و جنگ نے اسے اُٹھایا۔ بقول جیو کے

قانون کیا ہے بس روایت ہے، بقول فرخ نسیم کے

ممکن ہے کہ آپ کو ایسی پریس ریلیز ملتی" یہ جمہوریت کے خلاف سازش ہے، اس میں "_____" کا ہاتھ ہے، ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں، ہم کسی کو ایسی سازش کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دے گے، اب ایسے سازشی عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹے گے۔ان عناصر کو بے نقاب کیا جائے گا، قوم جانتی ہے کہ ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ میں عالمی جیمپین بننا بھی دراصل بی بی کی سالگرہ کے دن کے مرہون منت ہے، قوم ان سازشوں کا شکار نہیں ہو گی"۔ مگر سادہ سی تردید ہوئی ہے وہ بھی صرف وزیراعظم ہاوس کی، ایوان صدر کی نہیں۔

ایوان صدر کی کیا بات ہے۔ ویسے بھی قائد کا پاکستان نہیں رہا تو قائد کی تصویر کیوں؟ بھٹو نے اپنی ایک ساتھی سے کہا تھا دیکھ پورے کراچی کی جو زمین اچھی لگے بے شک اُس کا سودا کر لینا مگر یہ جو "بابے" کو زمین کا ٹکڑا دیا ہے اس پر اپنی نظر بند نہیں ڈلنا ورنہ قوم تجھے نہیں چھوڑے گی اور بھٹو کا داماد جانتا ہے اب قوم کچھ نہیں کہتی لہذا قائد کی تصویر کو "ٹاٹا"۔

6/27/2009

گوگل ٹرانسٹریشن

گوگل ٹرانسٹریشن ایک نہایت عمدہ فیچر ہے مجھے ابھی عالمی بلاگ کی ایک پوسٹ سے یہ علم ہوا کہ یہ اردو زبان کے لئے بھی ہے۔ یعنی آپ رومن اردو میں تحریر کریں اور یہ اُسے عربی رسم خط میں بدل کر یونیکورڈ اردو میں بدل دے گا؟ اب دیکھنا یہ ہے کہ بلاگر کے لئے کب آئے گا؟

6/25/2009

وعدہ کی پاسداری

جی جناب، ملک میں عوامی حکومت ہے۔ عوام کا کیال رکحنے والی، وعدوں کا پاسدار، بھولتی نہیں ہے، اس کے نمائندے پارٹی کا وعدوں کو پورا کرنے کی ہر ممکن کو شش کرتی ہیں خواہ کسی بھی پوزیشن پر پہنچ جائیں تازہ مثال اپنے حاجی مظفر علی شجرہ صاحب کی ہے۔ جناب نے فرمایا ہے کہ "ہم نے جیل اصلاحات کی ہیں۔ پیپلزپارٹی روٹی‘ کپڑا اور مکان دینے کے وعدے پر قائم ہے جسے ان چیزوں کی ضرورت ہے وہ جیل آ جائے۔"
اور کچھ؟؟؟ ہون آرام اے؟

6/23/2009

خود کش بمبار لڑکے سے

سُرخ سیبوں جیسے گالوں والے خوبصورت لڑکے

تمھارا نام کیا ہے؟

کیا کہا عبدلقیوم ؟

ارے میرے منے کا بھی تو یہی نام ہے

وہ جو صبح اسی رستے سے اسکول گیا ہے

جس پہ تم جیکٹ پہنے جا رہے ہو

تمہیں کہیں ملا تو نہیں

شکر ہے اس وقت تک تو وہ اسکول پہنچ گیا ہو گا

اُس کے ابو اسی سڑک کی

ایک پولیس چوکی پہ پہرہ دے رہے ہیں

عبدلقیوم اُن سے روز گلے مل کے جاتا ہے

تم نے انہیں دیکھاتو نہیں؟

خدارا انہیں اپنا نام نہ بتا دینا

کہیں وہ تمہیں بھی گلے سے نہ لگا لیں

 

شاعر: نیلم بشیر _________________  بشکریہ: جہان رومی

6/22/2009

پاگل کون ہے؟؟؟

یار لوگوں کا کہنا ہے یہ دنیا اب کمرشلائزہو گئی ہے۔۔۔ معلوم نہیں کتنی ہو گئی ہے اور کتنی نہیں مگر یہ فیکٹ ہے کہ میڈیا میں کمرشل کی بہت اہمیت ہے، آخر سب کو پیٹ لگا ہے۔ ہم میں مختلف کمپنیوں کی آپس میں کمرشل کی شکل میں ہوتی چپقلش ہوتی دیکھی ہے۔ اب تازہ چپقلش پاکستان کی موبائیل سروس فراہم کرنی والی کمپنیاں یو فون اور زونگ کے درمیان ہے اول اول زونگ نے یہ اشتہار لانچ کیا۔

جواب یوفون کی جانب سے پاگل کے فتوی کے ساتھ یوں آیا۔۔

جوابی حملہ آج صبح یوں آیا ہے۔۔

آگے آگے دیکھے ہوتا ہے کیا۔

6/21/2009

عرب بچوں کے قتل کی دھمکی خبر کیوں نہیں؟

امریکا کے یہودی جنگجو دانشور ڈینیل پائپس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ وہ وقت گیا جب فتح وشکست کے فیصلے میدان جنگ میں ہواکرتے تھے‘ اب جنگوں کے فیصلے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوز رومز اور ادارتی صفحوں پر ہوتے ہیں۔ یہ صرف پائپس کی سوچ نہیں بلکہ ہر یہودی اس کا ادراک رکھتا ہے کہ دنیا پر تسلط کا خواب معاشی غلبے اور میڈیا پر قبضے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دنیا پر غلبہ کے لیے درکار ان دونوں چیزوں پر آج یہودیوں کاکنٹرول ہے۔ دنیا کا 98 فیصد میڈیا براہ راست یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ باقی پر بھی مختلف طریقوں سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستانی میڈیا خصوصاً باثر ابلاغی گروپوں پر بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ یہودیوں کے زیرکنٹرول ہیں۔ یہ غیرذمہ دارانہ بیان ہوسکتا ہے کیوں کہ الزام لگانے سے پہلے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔

اب اگر پاکستانی میڈیالاعلمی میں یہودی مقاصد کو پورا کرتا ہے تو صرف اس بنیاد پر اس کو یہودیوںکے زیر کنٹرول قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ہوسکتا ہے کہ بڑے ابلاغی گروپوں کے پالیسی ساز عہدوں پر ایسے افراد فائز ہونے میں کامیاب ہوگئے ہوں جو یا تو معاشی منفعت کی خاطر یا پھرآزاد خیالی کے شوق میں ایساکرتے ہوں۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اس وقت ملک کے کئی ٹی وی چینلز کے پالیسی سازاور نیوز کے شعبے میں کلیدی عہدوں پر وہ لوگ فائز ہیں جو بہت فخریہ انداز میں دین سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں گو کہ ان کے نام مسلمانوں کے سے ہیں۔ یہ بہترین پروفیشنل ہونے کے سبب ان جگہوں تک پہنچ کر نہ صرف نیوز اور ویوز یعنی خبر اور تجزیہ کے ذریعے اپنی ساری توانائیاں اسلام اور اسلام کے نام لیواوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں صرف کرتے ہیں بلکہ اس سے نچلی سطحوں پر بھرتی کا اختیار رکھنے کے سبب ایسے ہر فرد کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جو وضع قطع یا سوچ سے ذرا سا بھی اسلامی لگتا ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ مالکان کو اس کا ادراک نہیں ہے‘ ورنہ غیر جانب دار ہونے کا دعویٰ کرنے والے بے شک اپنے اداروں میں بھرتی کے غیر جانبدارانہ معیار کو یقینی بناتے۔ جب صورت حال یوں ہوتو ایسے میں پاکستانی ٹی وی چینلز سے پورا دن نام نہاد طالبان کی طرف سے عورت پر تشدد کی جعلی ویڈیو دکھانے کی شرمناک حرکت پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔

گزشتہ دنوں کسی بندہ خدا نے برطانیہ اور امریکا کے اخبارات میں خبروں کے تجزیہ پر مشتمل ایک ای میل بھیجی جس میں دکھایا گیا تھا کہ اگر کوئی عیسائی یا یہودی اپنی بیوی بچوں کو مار دے تو لکھا جاتا ہے کہ ”ایک آدمی نے بیوی‘ بچوں کا مار ڈالا“ لیکن جب مسلمان ایسا کرتا ہے تو سرخی جمتی ہے کہ”ایک مسلمان باپ نے بیوی بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا“ جبکہ بعض اخبارا ت میں مسلمان کے ساتھ دہشت گرد کا لفظ بھی لکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ وجہ وہی ہے۔ اس لیے جعلی ویڈیو دکھا کر مسلمانوں کو وحشی ‘ درندے اور ظالم ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے میڈیا نے جب ایک جنونی ربی کے بیان کو جگہ نہیں دی تو مجھے ذراسی بھی حیرت نہیں ہوئی۔ مانیٹرنگ کا اعلیٰ ترین نظام رکھنے والے اردو اور انگریزی زبان کے بڑے اخبارات اور معروف ٹی وی چینلز نے خبرنشر تو نہیں کی تاہم مجھے یقین ہے کہ ان اداروں میں بننے والی مسِنگ کی لسٹ میں بھی یہ خبر شامل نہیں ہوگی۔ ایک ربی کی صورت میں وحشی‘ درندہ اور دہشت گرد کا کہنا ہے کہ ”جنگ جیتنے کے لیے یہودیوں کو عرب مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو قتل کردینا چاہیے“ عمر البشیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والی‘ امریکا کے گھر کی لونڈی اقوام متحدہ ایسے بیانات کا نوٹس نہ لے تو کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن کوئی مسلمانوں کی نسلی کشی کا اعلان کرے اور مسلمان مذمت کے دو لفظ ادا نہ کریں تو اسے شرمناک اور افسوس ناک قرار دینا غلط نہ ہوگا۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز ‘ کے مطابق موومنٹ میگزین کے ایک سوال کے جواب میں شبد( فرقے کی) ربی ’فرائیڈ مین‘ نے کہا ہے کہ” اخلاقی جنگ لڑنے کا واحد طریقہ یہودی طریقہ ہے۔ان (عربوں)کے مقدس مقامات تباہ کرو۔ (ان کی) آدمی ‘عورتیں اور بچے ماردو“ ممکن ہے بعض لوگ کہیں ” یہ تو ایک آدمی کی سوچ ہے‘ اسے یہودیوں کی نمائندہ سوچ نہیں کہا جاسکتا‘ اس لیے ہم نے اسے اپنی خبروں میں جگہ نہ دی ‘ہم صرف مولوی عمر اور مسلم خان کو اپنی خبروں میں جگہ دیتے ہیں جو اسکول تباہ کررہے ہیں۔ہم ان کے Beepers لیتے ہیں۔ہیڈلائز میں رکھتے ہیں کیوں کہ ان کی کہی بات خبر ہوتی ہے۔ ابلاغ عامہ میں پڑھا تھا کہ ’کتا کاٹے تو خبر نہیں ‘انسان کتے کو کاٹے تو خبر ہے‘ عملی صحافت میں آکر سب کچھ مختلف پایا۔ جو لوگ تعداد میں چند تھے ان کو اہم بنادیاگیا اور جو نمائندہ تھے‘ انتخابات سے عوامی نمائندگی ثابت کرچکے تھے ‘ ان کے لیے جگہ نہیں۔ معصوم بچوں ‘ عورتوں کے قتل کی ترغیب دینے کی خبر کے لیے بھی جگہ نہیں کیوں کہ اس سے یہود وہنود کی دوستی سے انکاری اسلام پسندوں کو فائدہ پہنچے گا ۔یا پھر یہودو ہنود کی وکالت کرنے والے دہریوں کو نقصان پہنچے گا‘ اس لیے یہ خبر نہیں۔“ دلیل کیا ہوگی؟ ایک غیر اہم آدمی کی پاگل پن کی بات۔ توآپ کو بتاتے چلیں کہ فرائیڈ مین کون ہیں؟ فرائیڈ مین 1772ءمیں شروع کی گئی سب سے بڑی یہودی تحریک Chabad کے سب سے موثر ربی ہیں۔ عام آدمی نہیں۔ ایک ٹی وی شو کے میزبان اور بسٹ سیلر ‘ایک کتاب کے مصنف ہیں‘ جس کو چار دفعہ شائع کیاجاچکا ہے اور ہر دفعہ کاپیاں ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ان کے دیے گئے لیکچرز کی ڈیڑھ لاکھ سی ڈیز خریدی جاچکی ہیں۔فرائیڈ جس تحریک سے وابستہ ہیں اس کی چار ہزار چھ سو برانچز ہیں۔کیا یہ غیر موثر ہی؟ نہیں جناب ! یہ وہ تحریک ہے جس کے منشور پر امریکااور اسرائیل کی حکومتیں عمل درآمدکرہی ہیں۔ اتنے موثر آدمی کی مسلمانوں کو دھمکی کی خبر نہ بنے تو اس سے اپنے پاکستانی ٹی وی چینلز کو غیرپاکستانی چینلز قراردینے والوں کو تقویت ملے گی۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان خصوصاً بڑے ابلاغی گروپ کے مالک اس بات پر غور کریں کہ کہیں ان کے پالیسی سازعہدوں پر ایسے لوگ براجمان ہونے میں کام یاب تو نہیں ہوئے ہیںجو ان کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو پاکستان ‘ اسلام اور پاکستانیوں کا نمائندہ بنانے کے بجائے اپنی مخصوص سوچ کی ترویج کا ذریعہ بنارہے ہیں۔ اخبار اور ٹی وی چینلز ان کا کاروبار ہے‘ معاشی مفاد اپنی جگہ اہم اور یہ ان کا حق ہے لیکن میڈیا کا ایک فرض یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ملک اور مذہب کی ترجمانی کرے۔یقین جانیے یہ لبرل انتہا پسند مٹھی بھر ہیں۔ ناظرین کی اکثریت اسلام پسند اور محب وطن ہے۔ ملک وقوم کی ترجمانی چینلز کی پسندیدگی کا سبب بنے گی اور معاشی فائدہ کا بھی۔

تحریر: ابو سعود _________________________بشکریہ: جسارت

6/16/2009

احتیاط لازم ہے ورنہ

باپ کے جیل جاتے ہی یوں تو بی بی سیاست میں لیڈر کے طور پر داخل ہو گئی تھیں، مگرباپ کی موت اور دوبارہ وطن واپسی پر انہوں نے اپنی سیاست کا سنجیدگی سے آغاز کیا تو انہیں پنکی سے محترمہ بینظیر بھٹو بننا پڑا۔ نہ صرف لباس میں بلکہ اطوار کو بھی تبدیل کرنا پڑا خواہ عوام کو دیکھانے کے لئے ہی سہی جس میں سے ایک عادت جو اپنانی پڑی وہ خاص ہاتھ ملانےسے اجتناب تھا۔ ویسے یہ مختلف بات ہے کہ جیالے و پیپلزپارٹی کے لیڈر اُن کے مشرقی ہونی کی گواہی قسمیں کھا کھا کر مختلف فورم پر دیتے آئیں ہیں اور جبکہ کئی احباب یہ دعوی کرتے ہیں کہ بی بی گھر میں اکثر مغربی لباس زیب تنگ کرتی تھیں، اُن کی ایک ایسے ہی لباس میں موجود تصویر کو اصلی نہ ماننے پر بھی جیالوں کی اکثریت میدان میں موجود پائی جاتی ہے، بی بی ایک عالمی سطح کی سیاست دان بنی تو دہشت گردی کا شکار ہو گئی، یہ الگ سوال کہ کہ اُس مارا کس نے بیت اللہ نے یا ڈک چینی کے اسکواڈ نے؟ ہمارے ہاں جو مر جاتا ہے اُس کی صرف اچھائی کرنے کا رواج ہے لہذا بی بی ایک عظیم و نیک عورت تھی۔

بی بی کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی بھاگ دوڑ عملی اعتبار سے آصف زرداری کےہاتھ میں آ گئی ہے، اور اُن کےشریک بنے اُن کے بیٹے بلاول۔۔ بلاول نا سمجھ تھا تب ہی جناب کی اپنی ہم جنس پرست دوست کی ساتھ چند تصاویر نیٹ پر پائی گئی، مگر یار دوست زرداری کو سمجھ دار بتاتے ہیں۔ مگر پہلے انہوں نے سارہ پالین سے لپٹ جانے کی فرمائش کر ڈالی تھی، اب جناب سے کسی اور کے لپٹنے کی تصویرمنظر عام پر آئی ہے، جناب کی مسکراہٹ قابل غور ہے۔

Asif_Ali_Zardari_and_Daphne

بقول شخصے خلاف کرنے کے لئےکچھ اور بتانے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ یہ اسرائیلی صحافی ہے نام ہے Daphne Barak اور کزن ہیں سابق اسرائیلی وزیراعظم Ehud Barak کی۔ جناب احتیاط لازم ہے تصویر پر اعتراض نہیں انداز پر ہے، ورنہ پھر الزام بھی تو لگ سکتا ہے مردوں کی دنیا ہے۔۔۔۔۔

6/15/2009

خوابِ محبت کی ایک متروک تعبیر

محبت کب کتابوں میں لکھی کوئی حکایت ہے؟
محبت کب فراقِ یار کی کوئی شکایت ہے؟


محبت ایک آیت ہے جو نازل ہوتی رہتی ہے
محبت ایک سرشاری ہے، حاصل ہوتی رہتی ہے


محبت تو فقط خود کو سپردِ دار کرنا ہے
انالحق کہ کے اپنے عشق کا اقرار کرنا ہے


محبت پر کوئی نگران کب مامور ہوتا ہے؟
محبت میں کوئی کب پاس اور کب دور ہوتا ہے؟


میں تنہائی میں تیرے نام کے ساغر لنڈھاتا ہوں
محبت کے نشے میں ڈوب کر میں لڑکھڑاتا ہوں


مرا دل ، عشق کے شعلے میں مدغم ہونے لگتا ہے
محبت کے سمندر میں تلاطم ہونے لگتا ہے


مجھے لگتا ہے جیسے ابرِ اُلفت چھانے والا ہے
میں جس کا منتظر رہتا ہوں ، شاید آنے والا ہے


محبت میری فطرت ہے، محبت میرا جیون ہے
محبت میرے ہاتھوں کی امانت، تیرا دامن ہے


شاعر: مسعود منور

6/14/2009

آہ

 

 تحریر: محمد اعجاز الحق               بشکریہ: اردو پوائنٹ

6/11/2009

بندروں کی ٹونٹی ٹونٹی کرکٹ

آج کل ہر کوئی تو کر کٹ کی بات نہیں کر رہا مگر کئی کر بھی رہے ہیں، اپنے ملک کی ٹیم کے کپتان کے اُس بیان کی کافی شہرت ہے ے جس میں جناب نے کہا ہے کہ ٹوئنٹی ٹوئنٹی محض ایک تفریح ہے اور بین الاقوامی کرکٹ ہونے کے باوجود یہ تماشائیوں کو خوش کرنے کے لیے ہے۔ اس کا فیصلہ تو تجریہ نگار ہی کرتے اچحے لگتے ہیں کہ کرکٹ کھیل ہے یا تفریح؟ کھیل و تفریح کا بنیادی فرق کیا ہے؟ اور بندر کی ذات تفریح کا کتنا سبب بنتی ہے؟ آیا کرکٹ سے ذیادہ یا کم؟ جی میں بندر کی بات کر رہا ہوں؟ آپ ناراض تو نہیں ہیں ناں؟ اور یہ کہ بندر و کرکٹ میں کیا تعلق ہے؟

شاید اس ویڈیو کو دیکھ کر کچھ رائے آپ قائم کر سکیں؟

6/07/2009

ڈالر

1951 وہ سال تھا جب تک پاکستان روس کی دعوت کو مسترد کر کے امریکہ سے یاری پالنے کے شوق میں آگے بڑھ چکا تھا،  دلچسپ بات یہ کہ سرحد میں مسلم لیگ کی حکومت بنانے کے لئےنوٹوں کے  بریف کیس  وفاداری کی خرید کے ضمن میں ادا کئے گئے تھے اب یہ معلوم نہیں وہ نوٹ ڈالر کی شکل میں تھے یا روپے کی؟؟ بہر حال  یہ کوئی واقف حال ہی بیان کر سکتا ہے مگر ڈالر کی کارستانی کا آغاز ہو ہی چکا تھا۔ تب ہی تو اُس وقت نعیم صدیقی مرحوم کی ذیل کی نظم "ڈالر" 1951 میں کراچی کے ایک مقامی رسالے میں چھپی تھی ناں، آپ نظم پر ایک نظر ڈالےتو پھر بتائیں کہ کیا شاعر کے وجدان کا قائل ہونا بنتا ہے یا نہیں؟؟

ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو ظلم کا حاصل
تو سحر ملو کانہ کا شعبدہ خاص
سرمائے کی اولاد
تو جیب تراشوں کے کمالات کا اک کھیل
تو سود کا فرزند!
افلاس کی رگ رگ کا نچڑا ہوا خوں ہے
بیواوں کی فریاد!
ہے کتنے یتیموں کی فغان خاموش
توضعیف کی اک چیخ
تو کتنے شبابوں کا ہے اک نوحہ دل گیر
تو کتنی تمناوں کی ایک قبر سنہری
تاریخ کا اک اشک
تو جنگ کی پرہول نفیروں کا تجسم
تو موت کی پریوں کا فسوں کارترتم
تو برق جہاں سوز کا خوں خوار تکلم
لاشوں سے کمائی ہوئی دولت
تہذیب کوتو  زخم لگانے کی   ہے اجرت
اف کتنی ہی اقوام کے نیلام کی قیمت
بچھو کا ترا ڈنگ
سانپوں کا ترا زہر
انگاروں کا ہے سوز
ہے سونے کے لفظوں میں لکھی تلخ حقیقت
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
اے سونے کے ڈالر!
اس فاقہ و افلاس پہ تو رحم نہ فرما
بھوکے ہیں یہاں پیٹ
ننگے ہیں یہاں جسم
پھر روگ ہیں اور درد
جو چارہ گری کے نہیں شرمندہ احساں
یہ ٹھیک ! "چچا سام" کے اے راج دلارے
لیکن مری اس بات سے ناراض نہ ہونا
بھوکے ہیں اگر پیٹ تو ہم بھوکے ہی اچھے
ننگے ہیں اگر جسم تو ہم ننگے ہی اچھے
بیمار ہیں بیچارے، تو ہم مرتے ہیں اچھے
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو آئے تو ڈالر!
سو عیش تو ہوں گے، سکھ چین اڑیں گے
زرخیز ہیں گوکھیت، پر قحط اُگیں گے
کھیت تو بھریں گے، ہم فاقت کریں گے
جامے تو سلیں گے، تن کم ہی ڈھکیں گے
آمد تو گرے گی، اور بھاو چڑھیں گے
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
اس دیس میں تو آئے تو اے سونے کے ڈالر!
آئے کا زبا بھی
پھیلے کا جوا بھی
چھائے گا زنا بھی
اُڑ جائے گا ہر پھول سے پھر رنگ حیا کا
اخلاق پہ منڈلائے گی ہر گندی ہوا بھی
تو  آئے تو ڈالر
یاں لائے گا اک اور ہی افتاد یقینا
ہاں پھیلے گا نظریہ الحاد یقینا
ہو جائیں گے ایمان تو برباد یقینا
انسان کو بنا دے گا تو جلاد یقینا
پس جائے کی یہ ملت آزاد یقینا
عبرت کا بنا نقش ترے فیض سے
برباد فلسطین
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
تو آئےتو پھر ہم میں حمیت نہیں رہے گی
اس قوم میں، اس دیس میں غیرت نہ رہے گی
اشراف میں کچھ بوئے شرافت نہ رہے گی
رشتوں میں کہیں روح اخوت نہ رہے گی
ڈرتا ہو میں اسلام کی عزت نہ رہے گی
تو آئے تو ڈالر
تقلید کی بو آ کے رہے گی
احساس کی آواز رکے گی
افکار کی پرواز رکے گی
کچھ اور عنایات بھی ساتھ آئیں گی
کچھ خفیہ ہدایات بھی ساتھ آئیں گی
مغرب کی روایات بھی ساتھ آئیں گی
ادبار کی آیات بھی آئیں گی
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا
یہ خاک مقدس!
اک قوم کا گھر ہی نہیں
اسلام کا گھر ہے
یہ حق کے لئے وقف ہے مسجد کی طرح
مخصوص جو قرآں کے اصولوں کے لئے ہے
اللہ کے لئے ، اُس کے رسولوں کے لئے ہے
کانٹوں کے لئے یہ کب ہے؟ پھولوں کے لئے ہے
اس دیس میں اب بزم نئی ایک سجے گی
اس دیس سے تہذیب نئی ایک اٹھے گی
انساں کو نئی روشنی اب یاں سے ملے گی
پھر مطلع خورشید ہے شعلہ بداماں
رنگوں کے یہ گرداب، کرنوں کے یہ طوفاں
اک صبح  کے ساماں
یہ آدم خاکی کے لئے آخری امید
یہ جنت اخلاق کی تاسیس، یہ تمہید
مستقبل انسان کی تاریخ کی تسوید
یہ آخری امید
ڈالر!مرے اس دیس کو ناپاک نہ کرنا

5/28/2009

ہو گا کیا؟؟

ہم تو اُس دور میں پیدا نہیں ہوئے تھے! مگر اپنے بڑوں سے سنا اور کتابوں میں پڑھا ہے کہ جب 1965 میں پاک بھارت جنگ شروع ہوئی تو جتنے دن ملک میں جنگ ہوتی رہی! اتنے دن نہ تو کوئی ملک میں کوئی چوری ہوئی نہ ڈاکا پڑا لاہور جیسے بڑے شہر پر دشمن قبصہ کرنا چاہتا تھا مگر لاہور راتوں کو جاگ اور دن میں کاروبار زندگی چل رہا تھا! باقی ملک کا کیا حال ہو گا؟ پنجاب صوبے کا گورنر نواب آف کالا باغ تھا جس نے تمام تاجروں کو اپنے بلا کر کہہ دیا تھا کسی چیز کی کوئی کمی نہیں ہونے چاہئے! لہذا بازار کھلے تھے اوراشیاء خردونوش کی کوئی کمی نہیں تھی! اور پاکستان اُس وقت جنگ جیت گیا (یہ الگ بات ہے کئی کی رائے ہے کہ پاکستان وہ جنگ ہارا تھا!)
اب سوال یہ ہے کہ آج جب پاکستانی فوجیں حالت جنگ میں ہیں! جن علاقوں میں جنگ ہورہی ہے وہاں سے جان بچا کر بھاگنے والے ہم وطنوں کو وہ اپنے علاقوں میں قبول کرنے کو تیار نہیں جن کے نبی نے ہجرت کی، اور اُس نبی کے پیروکاروں نے ایک ہجرت کے بعد انصار و مہاجرین کی محبت کی عظیم داستانیں رقم کی اُس ملک کے باسی اپنے ہم وطنوں کی میزبانی سے انکاری ہے جن کی میزبانی ایک نئی مملکت کے شہریوں نے کی۔ اس بات ہر اختجاج کر رہے ہیں! ہرتال کر رہے ہیں! اپنے لوگوں کو مار رہے ہیں! اپنی املاک کو جلا رہے ہے! آپس میں نفرت کا بیج بو رہے ہیں! سیاست چمکا رہے ہیں! ملک میں لسانیت، عصبیت، فرقہ واریت، صوبائیت عروج پر ہے۔ ملک میں مرنے والوں کو یہ نہیں معلوم کہ اُن کا قاتل کون ہے؟ کیوں ہے؟ اس ملک میں جب پوری قوم کو ایک ہو جانا چاہئے! قوم منقسم ہے!
حکمرانوں کا یہ حال ہے کہ وہ بیرونی دوروں میں مصروف ہیں! وہ اہل بننے کے بجائے قرار دئے جانے پر جشن مناتے ہیں! وہ ملک کو بھیک میں قرضہ ملنے کو کامیابی بتاتے ہیں! وہ کروڑوں کا فائدہ بتا کا اربوں کا نقصان پنچاتے ہیں! وہ نجکاری کے نام پر ملکی املاک فروخت کرتے ہیں! وہ جدیدیت کے نام پر نظریات گروی رکھتے ہیں! وہ سفر کے نام پر عیاشی کرتے ہیں!
یہ معاملات امن میں ملکوں کو تباہ کر دیتے ہیں اور ہم تو حالت جنگ میں ہیں!
سوچیں!
یوم تکبیر پرکہ
آخر ان حالات میں اس ملک کا ہو گا کیا!!

اپارٹمنٹ نمبر 1455 اور تین لڑکیاں

یک امریکی خاتون ماہر نفسیات کے پاس گئی اور اپنی ذہنی حالت بیان کرتے کہا کہ میں ہر غلطی اور گناہ کا مورد الزام خود کو ٹھہراتی ہوں۔ اپنے تمام مسائل کا ذمہ دارہ خود کو سمجھتی ہوں۔ میں زندہ نہیں رہنا چاہتی۔ ماہر نفسیات نے کہا کہ تم خود کو مجرم سمجھنا چھوڑ دو گی تو تمہاری پریشانی ختم ہو جائیگی۔ خاتون بولی کہ پھر میں کس کو لعن طعن کروں، کس پر اپنا غصہ اتاروں؟ ماہر نفسیات نے مشورہ دیا کہ ’’تم شیطان کو Curse کیا کرو۔ گاڈ نے شیطان پیدا ہی اس لئے کیا ہے کہ اسکے بندے اپنے تمام جرائم اور گناہوں کا ذمہ دار شیطان کو ٹھہرائیں‘‘۔ پاکستانیوں کا بھی یہی حال ہے۔ امریکہ نہ ہوتا تو اپنے مسائل اور محرومیوں کا ذمہ دار کس کو ٹھہراتے؟ علماء کرام، مذہبی، سماجی اور سیاسی تنظیمیں اپنی کمزوریوں کا مورد الزام کس کو ٹھہراتیں۔ امریکہ جسے شیطان بھی بولا جاتا ہے اس پرلعن طعن اور بددعائوں سے پاکستانی اپنا غم و غصہ ٹھنڈا کر لیتے ہیں۔ امریکہ نہ ہوتا تو حکمران دوروں کو جواز بنا کر عیاشی کیلئے کہاں جاتے؟ امریکہ نہ ہوتا تو اقتدار کیلئے کس کا دروازہ کھٹکاتے؟ جرنیلوں کا کیا بنتا؟ امریکہ نہ ہوتا تو ابلیس کا کاروبار بھی ٹھپ ہو جاتا۔ پاکستانیوں کی تسلی کیلئے ابلیس کبھی امریکہ بن جاتا ہے کبھی بھارت، کبھی روس، کبھی اسرائیل اور کبھی حامد کرزئی کا روپ دھار لیتا ہے۔
ایک پاکستانی حج کو گیا‘ وہاں سے پلٹا تو افسردہ تھا‘ کہنے لگا کہ جب شیطان کو کنکریاں مارنے گیا تو اپنے تما م گناہ، جرائم اور کمزوریاں میرے سامنے آکھڑی ہوئیںکہ اتنی مسافت اور تھکاوٹ کی کیا ضرورت تھی یہ کام تم گھر بیٹھے بھی کر سکتے تھے۔ شیطان تیرے اندر ہے باہر نہیں، اپنے وجود کو کنکریوں سے لہو لہان کر لیا کرو، گھر بیٹھے تمہارا حج ہو جائیگا۔ لوگ شیطان کے سامنے کھڑے ہو کر بھی امریکہ کو بددعائیں دے رہے ہوتے ہیں۔ امریکہ کتنا خوش نصیب ہے کہ لوگ اسے اللہ کے گھر جا کر بھی یاد کرتے ہیں بالخصوص مذہنی پیشواء اور سیاسی جماعتوں کی زندگی کا آسر ہی امریکہ کو لعن طعن کرنا ہے جبکہ صاحب اقتدار ’’امریکہ امریکہ‘‘ کی تسبیح جپتے ہیں۔ صدر زرداری نے بھی دورہ امریکہ کے دوران پاکستانیوں کو یقین دلانے کی کوشش کی ہے کہ امریکہ ہمارا ہمدرد ہے۔ ہمارا دوست ہے۔ ہمارا خیر خواہ ہے۔ اسکے ساتھ نبھا کر رکھنا ہے تو اسے Curse کرنا چھوڑ دو۔
امریکہ کو شیطان سمجھنا اور لعن طعن کرنا حکمرانوں کا نہیں ہمیشہ اپوزیشن کا مرض رہا ہے۔ نواز لیگ کا مسئلہ وکھری ٹائپ کا ہے۔ انہیںابھی تک واضح نہیں ہو سکا کہ امریکہ اور حکومتی پارٹی میں بڑا شیطان کون ہے۔ اس تذبذب کا شکار وہ کبھی اپوزیشن میں ہوتے ہیں اور کبھی حکومت کیساتھ۔ امریکہ میں کارکنان کو بھی یہی حکم ہے کہ بحیثیت اپوزیشن پی پی کیساتھ فاصلہ رکھیں لیکن اسکے خلاف مظاہروں میں شرکت سے بھی گریز کریں۔
واشنگٹن کے بعد نیویارک میں صدر زرداری کیلئے استقبالیہ دیا گیا۔ پاکستان سفارتخانہ کی جانب سے واشنگٹن میں دیئے گئے عشایہ میں قریبََا دو ہزار پاکستانی مدعو تھے جس پر پانچ لاکھ ڈالر کا خرچہ ہوا۔ یہ سارا پیسہ عوام کا ہے جسے امریکہ میں عیاشیوں اور تقریبات پر لٹایا جاتا ہے‘ سترہ کروڑ عوام بجلی کو ترس رہے ہیں‘ دس لاکھ سے زیادہ بے گھر ہے‘ لاکھوں بھوکے مر رہے ہیں جبکہ پاکستان کا دوسرا امیر ترین شخص انکا صدر ہے اور اسے رومال بھی خریدنا ہو تو سرکار کے خزانے سے خریدتا ہے۔ صدر زرداری کو ’’مشکوک دورہ نیویارک‘‘ میں بھی پاکستانی سفارتخانہ کی جانب سے استقبالیہ دیا گیا جسے پیپلز پارٹی کا شو کہنا زیادہ مناسب ہو گا جو کہ جیالوں کی بدتمیزی اور بدنظمی کی نظر ہو گیا۔ ہوٹل کے ہال میں موجود چار سو بندوں نے تماشہ دیکھا۔ امریکہ میں رہتے ہوئے بھی مہذب نہ بن سکے۔ صدر اوبامہ اپنے نائب صدر کے ساتھ ڈی سی کے ریستوران میں اچانک پہنچ گئے۔ عام شہری کی طرح قطار میں کھڑے ہو کر برگر کا آرڈر دیا۔ گورے اپنے لیڈر کو اپنے درمیان دیکھ کر حیران ہوگئے لیکن نظم و ضبط نہیں توڑا۔ کسی نے آگے بڑھ کر اوبامہ سے ہاتھ نہیں ملایا‘ ہنگامہ ہوا نہ ہلڑ بازی ہوئی‘ جذبات بے قابو ہوئے اور نہ ہی نعرے بازی ہوئی‘ ڈسپلن قائم رہا جبکہ پاکستان کا صدر اپنی ہی پارٹی کے دنگا فساد سے خوفزدہ سٹیج چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ ہم گوروں کو لعن طعن کرتے ہیں اور یہ ہم پر ہنستے ہیں۔ صدر پاکستان کے اعزاز میں منعقد کی گئی تقریب میں قومی ترانہ بجا اور نہ ہی بابائے قوم کی تصویر وہاں موجود تھی۔ پی پی کی تقریبات میں جئے بھٹو کے نعرے ہی اول و آخر رہے۔ تقریب میں مسلم لیگ نے بھی شرکت کی البتہ یہ مظاہرے میں شامل نہیں ہوئے۔ ہوٹل کے باہر امریکی پالیسی، ڈرونز حملے، کراچی میں بارہ مئی کا واقعہ، پشتونوں کا واقعہ، سوات کے حالات، بلوچستان کی صورتحال کیلئے مظاہرہ بھی ہوا جسکی کوریج نہیں ہوئی‘ نیویارک میں سرکاری وفد کی رنگ رلیاں لوکل صحافیوں سے ڈھکی چھپی نہیں ہوتیں اور نہ ہی اسے ’’ذاتی فعل‘‘ کہہ کر نظرانداز کیا جا سکتا ہے۔ یہ لوگ اسلامی مملکت پاکستان کے نمائندے ہیں۔ ایک باریش وفاقی وزیر کی نیویارک کے نامور علاقے فاٹی سیکنڈ سٹریٹ کی ایک معروف بار میں ایک گورے کیساتھ تلخ کلامی ہو گئی۔ اس سے پہلے کہ بات بڑھتی میزبان دوست ’’عوام کے خادم‘‘ کو بار سے نکال کر لے گئے۔ وزیر نے خبر کی تردید کرنا چاہی تو مخبروں نے لائٹ برائوں رنگ کی جیپ پلیٹ نمبر 08268MS جس میں وزیر صاحب بار سوار تھے کی معلومات پیش کیں تو تردید سناٹے میں تبدیل ہو گئی۔ عوام کے خادم جب فاٹی سیکنڈ سٹریٹ کی چکا چوند روشنیوں میں غرق ہوتے ہیں تو وطن کے اندھیروں کو بھول جاتے ہیں۔
اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر کا نیویارک کے پرل کانٹی نینٹل ہوٹل کے اپارٹمنٹ 1455 میں پانچ روز قیام رہا۔ ملاقاتوں اور سرگرمیوں کو میڈیا سے مخفی رکھا گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ غیر ملکی طاقتوں نے اپنی عورتوں اور پالیسیوں کو آلہ کار بنا کر مسلمان حکمرانوں کو نقصان پہنچایا اور انکے ملک و قوم کو بدنام کیا۔ سکیورٹی والوں نے مشرقی یورپ سے تعلق رکھنے والی تین لڑکیوں کو اپارٹمنٹ میں جانے سے روکا لیکن حسین حقانی کے کہنے پر انہیں بلا پوچھ گچھ آنے جانے کا اجازت نامہ بھی بنوا دیا۔ عام انسان ذاتی زندگی کے قول و فعل ذمہ دار خود ہے لیکن ایک حساس اور ذمہ دار عہدہ پر فائز شخصیت اپنے لوگوں کے سامنے کھلی کتاب کی طرح ہونا چاہئے۔ وہ اپنے عوام کو جوابدہ ہے۔ اسکے کردار، افعال، معاملات ذاتی نہیں بلکہ سترہ کرور عوام کیساتھ منسلک ہیں۔ سرکار کا 5 روزہ دورہ واشنگٹن 9 دن تک جاری رہا جبکہ پاکستان میں گھمسان کی جنگ جاری ہے۔ عوام کی زندگی اور موت کا مسئلہ بنا ہوا ہے ’’آر یا پار‘‘ ’’اب نہیں تو کبھی نہیں‘‘ کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔ لاکھوں انسان بے گھر ہیں اور حکمران گھر سے باہر ہے؟ ملک کے سنگین حالات میں سرکاری وفد کا دورہ امریکہ اور ’’نجی مصروفیات‘‘ پر پاکستانی کمیونٹی ناخوش ہے۔ امریکی میڈیا بھی طنز کر رہا ہے۔ امریکی چینل کے مشہور مزاحیہ شو کے میزبان Jon Stewart, نے صدر زرداری کے سی این این چینل میں دیئے جانیوالے انٹرویو کو تضحیک کا نشانہ بناتے اور اسکی چند جھلکیاں دکھاتے ہوئے کہا کہ اس وقت جبکہ پاکستان میں آگ اور خون کی ہولی کھیلی جا رہی ہے۔ طالبان اسلام آباد سے ساٹھ کلو میٹر دور ہیں، پاکستانی صدر امریکہ آیا ہوا ہے اور کہتا ہے کہ اسکے ملک کو طالبان سے کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ ہم سے امداد کا مطالبہ بھی کرتا ہے۔ صدر کے دورہ امریکہ کے بارے میں لکھنے اور بولنے کو اور بھی بہت کچھ ہے لیکن

تحریر: طیبہ ضیاء

5/24/2009

انتہا پسندوں یا طالبان کی ایک اور شکل!

ڈاکٹر عنیقہ ناز نے اپنے بلاگ پر ندیم ایف پراچہ کے مضمون سے تحریک پا کر ایک تحریر لکھی جس میں “طالبانی“ رویہ پر روشنی ڈالی، اور اس سلسلے میں دو مزید واقعات بھی شیئر کئے! یہ بھی عجب اتفاق ہے کہ “طالبانی“ رویوں کہ کے یہ کردار بھی “پٹھان“ ہی تھے! عوامی میں طالبان کے تصور کے عین مطابق!!  میں اسے ہر گز حسن اتفاق نہیں کہوں گا! اور ایس بھی نہیں ہے کہ ایسے واقعات نہیں ہوتے! ایسے طالبان اکثر گھروں میں کسی بزرگ کے روپ میں، یا بھائی و باپ یا کسی اور رشتے کے روپ میں موجود ہوتے ہیں!

کسی خاتون کو غلط لباس پر کسی غیر مرد کے ہاتھوں بازار میں سخت رویئے کا سامنا کرنے کا ایک واقعہ ہمارے محلے کا ہے، وہ خاتون لباس کے معاملے میں درحقیقت کچھ مخضوص قسم کی “لاپرواہ“ ہیں! یہاں تک کہ ایک بار جب اُن کے ایک مرد عزیز انہیں ایئرپورٹ سے ریسیو کر کے گھر لے کر آئے اور آئندہ ان کے ساتھ بھی آنے جانے سے انکار کیا کہ اُن کے لباس کی بناء پر وہ شرمندہ ہوتے رہے!! خیر اُن خاتون نے شام میں چہل قدمی اسٹارٹ کی وجہ انہیں محسوس ہوا کہ وہ موٹی ہوتی جا رہی ہیں! کہ ایسے ہی ایک دن ایک بابا جی نے انہیں منہ پر دو تھپڑ دے مارے کہ بی بی کو شرم حیا نام کی بھی کوئی چیز ہو تی ہے اپنے لباس کو درست کرو! وہ اس قدر خوف زدہ ہوئیں کہ پھر “جاگنگ“ سے دستبردار ہو گئی! انہیں تھپڑ پڑا یہ واقعی اُن کی ساس کی زبانی ہماری والدہ اور پھر ہمارے علم میں آیا!! بہر یہ طالبانی رویہ اُس دور کا کہ جب امریکہ نے تازہ تازہ “القاعدہ“ کا بت ڈرنے و ڈرانے کے لئے تراشا تھا! طالبان کو القاعدہ کا میزبان مانا جاتا تھا۔۔
بہر حال ایک طرف یہ رویہ دوسری طرف ہمارے معاشرے کا ایک نہایت عجیب رویہ ہے جو قابل توجہ ہے، ہمارے علاقے کی ایک مسجد ہے مسجد حرا، یوں تو میرا مسلکی اختلاف ہے مسجد انتظامیہ سے لیکن ہم وہاں اکثر نماز پڑھا کرتے تھے بلکہ کچھ عرصہ اُن کے مدرسے سے بھی منسلک رہا، تو وہاں ایک موذن آئے (بعد میں خطیب و امام کی زمہ داری بھی اپنے کندھوں پر اُٹھائی) نوجوان تھے اور کافی علم تھا، چونکہ ابھی جوان تھے اس لئے کئی معاملات میں باقی انتظامیہ سے مختلف تھے جس کی بناء پر کئی احباب کے لئے عجوبہ تھے! سچی بات ہے اُس دور میں ہمیں بھی اُن کی یہ باتیں عجیب لگتی تھیں! اور آج اُس وقت کی اپنی سوچ۔۔ خیر معاملہ یہ تھا کہ وہ فجر کے بعد باقاعدہ ٹریک سوٹ پہن کر “جاگنگ“ کے لئے جاتے تھے، علاقے کے کئی لوگ یہ ہی دیکھنے کہ مولوی صاحب “جاگنگ“ کرتے ہیں صبح سویرے جاگنگ کے مقام پر پہنچ جاتے، مدرسے کے لڑکوں کو عصر سے مغرب کے درمیان کرکٹ کھلنے کی اجازت انہوں نے ہی سب سے پہلے دی تھے۔ ایک دن ہم اپنے دوستوں کے ساتھ چہل قدمی کر کے آ رہے تھے تو دیکھا کہ مسجد حرا کے سامنے والے میدان آج معمول سے زیادہ رش ہے وہاں جا کر دیکھا تو مولوی صاحب بیٹنگ کر رہے تھے! اور مجھ سمیت کئی احباب کے لئے یہ ایک عجوبہ تھا۔ ہماری تو اتنی ہمت وسوچ نہیں تھی مگر ایک ساتھ کی کھڑے ہم سے بڑے لڑکے نے کہا “ابے مولوی کو کہو جا کر نمازیں پڑھائے! یہ ان کا کام نہیں ہے“۔ جناب نے کافی اچھی بیٹنگ کی!
بہرحال بعد میں وہ کہیں اور چلے گئے! وہ خراسان والی اور کالے جھنڈوں والی حدیث سب سے پہلے ہم نے اُن ہی سے سنی تھے!
یہ ہی نہیں ایسے کئی معاملات میں ہمارا رویہ بہت تنگ نظر ہوتا ہے! ابھی پچھلے دنوں فیس بُک پر ایک ویڈیو ہم نے دیکھی جس میں ایک شخص اسپورٹ کار چلا رہا تھا حلیہ کے اعتبار سے اُس نے شرعی داڑھی رکھی ہوئی تھی، سفید شلور قمیض میں ملبوس تھا ویڈیو بنانے والوں کا نقطہ نظر یہ تھا کہ دیکھو مولوی کیا کر رہا ہے! جیسے کوئی انوکھا کام ہو! ایسے ہی ہمارے علاقے نے ایک لڑکی نے ایک رشتہ سے اس لئے انکار کر دیا کہ لڑکے نے داڑھی رکھی ہوئی ہے!!
وہ ضمیر جعفری نے اس معاملے کو یوں بیان کیا ہے!

مولوی اونٹ پہ جائے ہمیں منظور مگر
مولوی کار چلائے، ہمیں منطور نہیں
وہ نمازیں تو پڑھائے ہمیں منظور مگر
پارلیمنٹ میں آئے، ہمیں منظور نہیں
حلوہ خیرات کا کھائے تو ہمارا جی خوش
حلوہ خود گھر میں پکائے، ہمیں منظور نہیں
علم و اقبال و رہائش ہو کہ خواہش کوئی
وہ ہم سا نظر آئے، ہمیں منظور نہیں
احترام آپ کو واجب ہے مگر مولانا
حضرت والا کی رائے، ہمیں منظور نہیں

اب کہیں کراچی میں شرعی داڑھی کے حامل افراد کو جینز کی پینٹ شرٹ میں لوگ دیکھ کر کسی حد قبول کرتے نظر آتے ہیں ورنہ تو یہ معاملہ بھی قابل تنقید ہوا کرتا تھا وجہ شائد نوجوان نسل کے نیا رجحان ہے، مگر سچ یہ ہے کہ بیمار ذہنوں کی ایک بڑی تعداد ہمارے درمیان موجود ہے جن میں ایک گروہ زبردستی دوسروں کو اچھا مسلمان بنانے پر بصد ہے اور دوسرا بلاوجہ دینی معاملات پر عمل پیرا افراد کو جاہل سمجھتا ہے!
کیا کبھی آپ نے کسی بحث میں یہ جملہ سنا ہے۔۔۔ “اگر ایسی بات ہے تو تم چھوڑ کیوں نہیں دیتے ان بسوں میں سفر کرنا، یہ موبائل فون کا استعمال، یہ بھی تو ۔۔۔۔۔۔۔“

5/21/2009

یہ حفاظت کو بنایا ہے

یہ اُس دور کی بات ہے جب ہم نے تازہ تازہ پی اے ایف انٹر کالج ملیر میں داخلہ لیا تھا! ہم اُن چند طالب علموں میں سے تھے جن کے والد فوجی میں نہیں تھے، کلاس فیلوز کی اکثریت فوجی پس منظر رکھتی تھی۔ ایسے ہی ایک دن گفتگو مختلف انداز میں جاری تھی، ہم اُس میں کوئی حصہ نہیں ڈال رہے تھے ساتھ بیٹھے دوست سے کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں سے متعلق خیالات کا تبادلہ کر رہے تھے۔
تب اتنے میں محفل کے دوسرے حصے میں ایک لڑکے نے اپنی علمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ اگر ایک ٹینک کی رقم جو فوج اُس کی خریداری پر لگاتی ہے کو تعلیم پر خرچ کریں تو قریب تین سو افراد ماسٹر تک اپنی تعلیم مکمل کر لیں! اس ہی طرح اُس نے ایک کلاشنکوف سے لے کر ہوائی جہاز ااور ایک فوجی کی تنخواہ سے لے کر پوری بٹالین کے اخراجات کا موازنہ تعلیمی اخراجات تک کرتے ہوئے یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کی کہ اگر فوج نہ ہوتی تو ملک میں خواندگی کی شرح سو فیصد نہیں تو نوے فیصد ضرور ہوتی، ایٹم بم کا دھماکا اُس وقت نہیں کیا تھا پاکستان نے ورنہ اُس بارے میں بھی وہ کچھ نا کچھ روشنی ڈالتے جبکہ اُس کے والد خود افواج پاکستان کا حصہ تھے۔ ہم اپنی کرکٹ کی گفتگو چھوڑ کر اُس کی گفتگو سننے لگ پڑے تھے اپنے دلائل کے اختتام پر اُس نے داد طلب نگاہوں سے سب کی جانب دیکھا۔ ہم نے اُس سے جزوی اتفاق کیا کہ تعلیم قوم کے ہر فرد کے لئے ضروری ہے اور یہ سب سے بہترین دفاع ہے مگر یہ کہنا کہ فوج کا ہونا ناخوادگی کی وجہ ہے یا یہ کہ فوج کم کی جائے، اس سے ہمیں اختلاف ہے ہاں جس ملک کی عوام تعلیم یافتہ ہو جائے تو اُس ملک کی فوج بھی اُس پوزیشن میں آ جاتی ہے کہ معاشی لحاظ سے خود کمانے لگ پڑے۔ لیکن بہرحال ایسی قسم کی بحث کا جو انجام ہوتا ہے ہو ہی ہوا کہ نہ وہ میری بات کا قائل ہوا اور نہ مجھے اُس کا فلسفہ سمجھ میں آیا۔
اب جب کہ پاکستان ایٹمی قوت بن چکا ہے، جہاں قوم کا ایک بڑا حصہ ایٹمی قوت ہونے پر فخر کرتا ہے، اسے کارنامہ مانتے ہوئے مختلف شکلوں میں اس کا کریڈٹ اپنی اپنی جماعت کے سر ڈالتا ہے کوئی اپنے لیڈر کو اس کے شروع کرنے پر ہیرو بتاتا ہے اور کوئی اپنے لیڈر کو دھماکے کرنے کا فیصلہ کرنے کی بناء پر اُسے قوم کا مسیحا بتاتا ہے تو ایک طرف کئی ایسے احباب ہیں جو اسے ایک غلطی قرار دیتے ہیں! نہ صرف غلطی بتاتے ہیں بلکہ یہ دعٰوی بھی کرتے ہیں کہ یہ ایٹمی قوت ہونا ہی دراصل تمام مصیبتوں کی جڑ ہے، اس سلسلے میں ایسی ہی ایک کالمی بحث کا آغاز بزرگ کالم نگار حقانی صاحب نے اپنے کالم کے ذریعہ ہوا جناب نے اپنے فیصلے کو درست قرار دیا جس میں انہوں نے ایٹمی دھماکا کرنے کی مخالفت کی تھی، جواب میں مجید نظامی نے ایک کالم لکھ دیا۔
دشمن پر قابو پانے کے لئے ضروری ہوتا ہے اُس کی طاقت کو ختم کیا جائے! اُس کی جس قوت سے ڈر لگتا ہو اُس کو اُس سے جدا کرنے یا چھین لینے کو سہی کی جائے۔ اُسے اپنا محتاج بنانا ہو، اُسے اپنے رحم و کرم پر رکھنا ہو، اُسے فتح کرنا ہو، اُسے زیر کرنا ہو تو لازم ہے کہ اُسے اُس خصوصیت، اہلیت، قابلیت و ہنر سے محروم کر دیا جائے جس کی بنیاد پر ایسا کرنا دشوار و ناممکن ہو۔ آج ہمارا ایٹمی طاقت ہونا ہماری بقا کی کنجی ہے۔ اگر کبھی یہ شور اُٹھتا ہے کہ یہ “مذہبی انتہا پسندوں“ کے ہاتھ لگ سکتا ہے اس کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم ہمارے حوالے کر دو تو یہ وہ طاقت ختم کرنے کی ہی کوشش ہے، یہ جو خبر آتی ہے ناں کہ امریکی فوج کا ایک دستہ افغانستان پہنچ گیا ہے پاکستان کے ایٹمی پلانٹ پر قبصہ کرنے (یہ خبر فوسک بیوز نے چلائی تھی) یا کہ پاکستان امدادی رقم ایٹمی اسلحہ کی پیداوار پر خرچ کرے گا لہذا نظر رکھی جائے یہ وہ نفسیاتی حملہ ہیں جو کسی کو اپنے قابو میں لانے کے لئے کئے جاتے ہیں ورنہ سچ تو یہ ہے انہیں یہ بھی علم نہیں کہ کہ پاکستان کا ایٹمی پلان کیسے چل رہا ہے! کہاں کہاں ہے! کون سی یا کس قسم کی پروسیسنگ کہاں ہو رہی ہے، البتہ یہ اُن کے علم میں ہے کہ ہم نے اپنے ایٹمی پلانٹ کی موبائل یونٹیں بنا رکھی ہیں! اور مختلف کام مختلف مقامات پر ہوتے ہیں! لہذا اب اسے کسی بھی حملے سے تباہ اور فوجی کاروائی سے اپنے قبصہ میں نہیں لیا جا سکتا۔
شکر ہے ہم نے یہ بنا لیا اور ہمیں فخر ہے کہ ہم دنیا کا جدید ترین و سستا ترین طریقہ یورینیم کی افزائش کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ دشمن یہاں سے ہی ہماری طاقت کا اندازہ لگا چکا ہے اور وہ جانتا ہے ایٹم بم ہم نے اپنی حفاظت کے لئے بنایا ہے! اور ہم جانتے ہیں حفاظت کس طرح کی جاتی ہے!

5/19/2009

وطنی مہاجر

پرائی جنگ جب اپنی ہو،
آنگن میں جب اپنے مریں،
دشمن دوست سمجھے جائیں،
گھر تب تباہ ہوتے ہیں،
اپنے بے گھر ہوتے ہیں،

رہنما جب جھک جائیں،
حکمراں بک جائیں،
اپنوں کی ہو قیمت وصول،
وہ زخم خود ہی لگتے ہیں،
بھیک جن پر ملتی ہے،

محافظ جب ہو بے یقین،
خود ہی پر وار کرتے ہیں،
اپنوں سے ہی ڈرتے ہیں،
انہی کو تباہ حال کرتے ہیں،
لوگ وطن میں مہاجر بنتے ہیں،

(میں اسے شاعری تو نہیں کہوں گا مگر یہ ایک خیالات کا تسلسل تھا جو آج ذہین میں آیا اور میں نے تحریر کر لیا)

5/12/2009

شرپسندوں کی ہرتال اور حکومت کی چھٹی

شر پسند وہ ہی ہوتے ہیں جنہیں “شر“ پسند ہو! شریر ہر گز نہیں ہوتے! مگر شرارت کرتے رہتے ہیں! اچھے تو ہر گز نہیں ہوتے! مگر اچھے کہلاتے ہیں۔ یہ اِیسے ہی شر پسندوں کی کارستانی تھی جس کی بناء پر آج تمام سندھ چھٹی منا رہا تھا۔ ہمیں شر پسندوں کو پہچانے میں کافی ذیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑا یہ کام خود شرپسندوں و حکومت وقت نے سرانجام دیا۔
قصہ مختصر یہ ہے کہ مئی کے مہینے کے آغاز سے قبل کراچی شہر کے حالات کافی خراب ہو گئے!اہل بصیرت نے آگاہ کیا کہ ایسا اس بناء پر ہوا ہے کہ “کراچی کے طالبان اور شر پسندوں کا ایک  گروہ“ بارہ مئی کو “عوامی طاقت“ کا سوگ منانا چاہتا تھا! لہذا “اہلیان کراچی“ کے سکون کو غارت کرنے کی اس کاوش کو ناکام بنانے کے لئے “ذمہ دار“ ہاتھ حرکت میں آئے اور اس دوران میں پنتیس افراد اپنی جان سےگئے، “صاحب علم حضرات“ نے آگاہ کیا نہ صرف یہ جانی نقصان شرپسندوں کے ہاتھوں ہوا بلکہ شہر میں خوف وحراس پھیلانے کے لئے مختلف املاک کو آگ لگانے کی کاروائی بھی شرپسندوں کی تھی۔ ہم شرپسندوں کی تلاش میں تھے جب حکومتی نمائندے نے شرپسندوں کے سربراہوں کے ہمراہ یہ نوید سنائی کہ دونوں پارٹیاں شہر میں امن ومان قائم کرنے پر راضی ہو گئی ہیں دونوں سربراہوں نے اپنے بیان میں شرپسندوں کو ناکام بنا دینے کی سارش اوہ معافی چاہتا ہوں عزم کیا۔ ہمارے دوست کا کہنا ہے یہ واحد تاریخی دعوٰٰی تھا جہاں فریقین نے خود کو ناکام کرنے کا عہد کیا ہو۔
حکومت نے شرپسندوں کی آپس میں صلح تو کروا دی مگر شر پسند اپنے مطالبات سے دستبردار نہیں ہوئے! لہذا حکومت یہ نے اس سے قبل کہ عوام کو علم ہو جائے کہ کراچی جیسے شہر میں بھی رٹ نہیں شرپسندوں کی رٹی رٹائی مان لی! چونکہ شرپسندوں کی چھٹی نہیں ہو سکتی تھی حکومت خود ہی چھٹی دے بیٹھی!! اب بیٹھی ہوئی حکومت تو یہ ہے نہیں! آپ کچھ اور سمجھ رہے ہیں!! “شر“ یر نہ ہو تو!!!

5/10/2009

نیا سانچہ!

ہر گز نہیں! میں عوام کو کسی نئے سانچے میں جکڑنے کی بات نہیں کر رہا! میں ملک کو طالبان کے سانچے میں آنے کی بات کرنے لگا ہوں! میں تو آپ لوگوں سے اپنے بلاگ کے اس نئے سانچے سے متعلق رائے جاننا چارہا تھا! مزید بہتری کے لئے کیا کیا جائے؟؟ جن دوستوں نے پہلے ہی پسندیدگی کا اظہار کر دیا اُن کا شکریہ، ویسے یہ  ایسا سانچہ کسی اور اردو بلاگر نے ہم سے پہلے بھی اپنے بلاگ پر لگا رکھا ہے ذرا بتائیں کون؟؟

5/02/2009

بلوچستان کا خلفشار؟؟؟؟

پچھلے تقریباً ڈیڑھ سال میں بلاچ مری کی ہلاکت سمیت بلوچستان میں کافی تبدیلیاں آ چکی ہیں اور تین بلوچ قائدین کی حالیہ ہلاکتوں کے بعد حالات مزید خراب ہوئے ہیں ۔ میرے ایک گزشتہ کالم سے کچھ اقتباسات ملاحظہ ہوں ۔
خطے کے چند صحافیوں جن کا تعلق اشک آبا ماسکو زہدان‘ قند ھار اور کوئٹہ سے ہے نے سابقہ سویٹ یونین کے دو سابقہ کے جی بی کے افسروں سے ملکر اس چیز کا سراغ لگا نے کی کوشش کی ہے کہ بلوچستان میں کیا ہو رہا ہے۔ اس سلسلے میں ان کی رپورٹ جو سات ہفتوں میں تیار ہوئی اور 13صفحوں پر مشتمل ہے انٹر نیٹ پر اس موضوع سے موجود ہے۔ " The stunning investigation story on Birth of Balochistan Liberation Army"  اس رپورٹ میں زیادہ تر مواد KGB کے دو افسروں جو آجکل ماسکو میں retired زندگی گزار رہے ہیں اور سویٹ یونین کے افغانستان پر حملے اور قبضے کے ایام میں اس خطے میں موجود تھے سے انٹر ویو کرکے حاصل کیا گیا۔ اس رپورٹ کا مختصر خلاصہ قارئین کے پیش خدمت ہے۔ سویت یونین نے جب افغانستان پر یلغار کی تو پاکستان اور اسکے اتحادیوں کی طرف سے موثر دفاعی حکمت عملی نے اس سپر طاقت کو حیران کر دیا ۔ سویت KGBنے اس وقت بھی یعنی 1983-82ء میں پاکستان کو اندر سے کھوکھلا کر نے کیلئے بلوچستان لبریشن آرمی (BLA) کی بنیاد رکھی تھی جس میں بنیادی طور پر کچھ بلوچ سٹوڈنٹ آرگنائزیشن (BSO) کے لوگ استعمال ہوئے BLA سویت یونین کے افغانستان سے نکلنے کے بعد غائب ہوگئی لیکن 9/11 کے بعد جب روس اور امریکہ نے بلوچستان میں ایک دوسرے سے تعاون پر رضا مندی ظاہر کی تو جنوری 2002ء میں بلوچستان میں پہلا ٹریننگ کیمپ قائم ہو گیا۔
اس گروپ میں دو ہندوستانی اور دو امریکن تھے جن کے پاس ایک بھورے رنگ کی ٹو یوٹا ہائی لکس ڈبل کیبن تھی جس کو افغان ڈرائیور چلا تے ہوئے رشید قلعہ کے مقام سے افغانستان سے پاکستان میں داخل ہوئے اور پھر مسلم باغ سے ہوتے ہوئے 17جنوری کو کولہو پہنچے وہاں سے دو ہندوستانی اور دو امریکن ڈیرہ بگٹی گئے اور پھر کچھ دنوں کے بعد واپس کو لہو آگئے ۔رپورٹ کیمطابق بلاچ مری جو کہ نواب خیر بخش مری کا بیٹا ہے اور جس نے ماسکو سے الیکٹرونک انجینئرنگ کی ڈگری حاصل کی ہوئی ہے کا اس گروپ سے رابطہ تھا چونکہ کولہو اور کوہان کے درمیان پہاڑیاں مری قبائل کی ہیں اور بلاچ مری کے ہندوستان اور روس سے رابطے ہیں اسلئے اسکو رپورٹ کیمطابق BLA کا سر براہ مقرر کیا گیاتھا۔ اس کیمپ میں تقریبا ً بیس نوجوانوں کو جن مضامین پر ٹریننگ دی گئی اس میں بلو چستان کا تصور ‘ سیاسی جدو جہد کیلئے تخریب کاری کا استعمال پنجاب کی زیادتیا ں اور اجتما عی احتجاج کے مختلف طریقے شامل تھے۔ کے ۔جی ۔ بی کے آفیسر ز کی رپورٹ کیمطابق انکے پاس ہر طرح کی تربیت کیلئے مواد موجود رہتا ہے ۔ ساتھ ہی افغانستان سے اسلحہ اور گو لہ بارو د آنا شروع ہو اسکے علاوہ گولہ بارود کی سپلائی کا دوسرا راستہ کشن گڑھ جو بلوچستان اور سندھ کے ملاپ پر پاکستان ہندوستان کے بارڈر سے صرف 5 کلومیٹر کے فاصلے پر ہندوستان میں واقعہ ہے ۔ وہاں سپلائی ڈپو اور ٹریننگ کیمپ کیساتھ رابطے میں رہتے ہیں۔ اسکے علاوہ ہندوستان کا شیر شاہ گڑھ جو کہ کشن گڑھ سے تقریباً 90 کلو میٹر دور ہے سے بھی ہندوستانی سپلائیز اور ماہرین کیساتھ رابطہ رہتا ہے۔ اسلحہ اور گولہ بارود کشن گڑھ اور شاہ گڑھ سے اونٹوں پرپاکستان لایا جا تا ہے اور وہاں سے ٹرکوں کے اندر دوسرے عام ضرورت کے سامان کے نیچے ڈال کر اور اوپر تر پال دے کر سوئی اور کوہلو پہنچا یا جاتا ہے ۔ گولہ بارود زیادہ تر روسی ساخت کا ہو تا ہے اس راستے سے کشمور‘ اوچ ‘ ملتا ن اور سوئی۔
سکھر والی پاکستانی گیس پائپ لائین کو بھی نقصان پہنچا یا جا سکتا ہے۔ اس علاقے میں تخریبی کاروائی کی ٹریننگ ہندوستان کی ایجنسی کی ذمہ داری ہے BLAکو قائم کر نے کیلئے (RAW) کی مدد بہت مفید ثابت ہوئی کیونکہ (RAW) کے بہت سے رابطے بلوچستان میں ہیں اس وقت بلوچستان میں 45سے 55ٹریننگ کیمپ ہیں ۔ ہر کیمپ میں 300سے 550 تخریب کار موجود ہیں ۔ KGB کے آفیسر نے بتا یا :

"A massive amount of cash is flowing into these camps from Afghanistan through U.S. Defence contractors (Pantagon Operatives in civvies), CIA foot soldiers, (instigators in double guise), fortune hunters, rehired ex soldiers and free lancers."

ان پیسوں سے دالبندین ‘ نوشکی ‘ کوہلو ‘ سبی ‘ خضدار اور ڈیرہ بگٹی میں نئے گھر بنا ئے گئے ہیں۔ ہندوستانی قونصلیٹ نے ایران کے شہر زاہد ان میں واقع ہو ٹل امین کے پاس گھر کر ائے پر لیا ہو ا ہے ۔ یہ گھر لوگوں کے افغانستان سے پاکستان اور پاکستان سے ایران آنے جانے کیلئے استعمال ہو تا ہے۔ انٹر نیٹ پر دی گئی اس رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بلوچستان کے اندر تخریب کاری میں ملوث ہندوستانی ‘ افغانی اور ایرانی باشندوں کی انکی اپنی حکومتوں سے وابستگی کی بات تو شائد و ثوق سے نہیں کہی جا سکتی لیکن اس میں کوئی شک نہیں کہ امریکنوں اور روسیوں کو پینٹا گان اور کریملین کی آشیرباد حاصل ہے کے جی بی کے افسروں کیساتھ انٹر ویو کے دوران مختصر ً ایہ واضح ہو ا ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کا بڑا مقصد براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانی تک رسائی تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے وہ عظیم بلو چستان بنا نا چاہتے تھے۔  BLA  کو اب دوبارہ زندہ کر نے کی ذمہ داری پینٹا گان اور کریملین پر ہے جس کیلئے ان کو RAW  کی مدد حاصل ہے۔ امریکن روسیوں پر پورا اعتماد نہیں کر رہے۔ KGB  کے افسروں سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ اپنے Front line ally پاکستان کیلئے مصائب کیوں کھڑے کر یگا اس پر KGB  کے افسروں کا جواب یہ تھا :۔
ـ ’’صف اول کا اتحادی؟ آپ مذاق تو نہیں کر رہے ؟ امریکہ پاکستان کو صرف استعمال کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو ابھی تک اگر یہ چیز سمجھ نہیں آئی تو جلد آ جائیگی۔ اگر امریکہ کا اس خطے میں کوئی موذوں اتحادی ہے تو وہ ایک مختلف حکومت کے نیچے ایران ہے اور امریکن اس مقصد یعنی ایران میں (Regime Change) کیلئے کام کر رہے ہیں ۔ بلوچستان کے علاوہ باقی پاکستان امریکنوں اور اسکے اتحادیوں کیلئے بے فائدہ ہے۔ KGB کے افسر نے کہا کہ اس علاقے میں امریکہ کے دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاء سے توانا ئی کا حصول اور دوسرا چین کیخلاف گھیرا تنگ کر نا۔ اس مقصد کیلئے بلوچستان اور اسکی گوادر اور پسنی کی بندر گاہیں اہمیت کی حامل ہیں
کے جی بی کے افسروں کے ساتھ انٹر ویو کے دوران مختصر ً ایہ واضح ہو ا ہے کہ سوویت یونین کی افغانستان میں آمد کا بڑا مقصد براستہ بلوچستان سمندر کے گرم پانی تک رسائی تھا۔ اس مقصد کے حصول کیلئے وہ عظیم بلو چستان بنا نا چاہتے تھے۔ BLAکو اب دوبارہ زندہ کر نے کی ذمہ داری پینٹا گان اورکریملین پر ہے جس کیلئے ان کو RAWکی مدد حاصل ہے۔ امریکن روسیوں پرپورا اعتماد نہیں کر رہے۔ KGBکے افسروں سے جب یہ پوچھا گیا کہ امریکہ اپنے Front line ally پاکستان کیلئے مصائب کیوں کھڑے کر یگا اس پر KGBکے افسروں کا جواب یہ تھا :۔
۔ “صف اول کا اتحادی؟……. آپ مذاق تو نہیں کر رہے ؟ امریکہ پاکستان کو صرف استعمال کر رہا ہے اور پاکستانیوں کو ابھی تک اگر یہ چیز سمجھ نہیں آئی تو جلد آ جائیگی۔ اگر امریکہ کا اس خطے میں کوئی موذوں اتحادی ہے تو وہ ایک مختلف
حکومت کے نیچے ایران ہے اور امریکن اس مقصد یعنی ایران میں (Regime Change) کے لیے کام کر رہے ہیں ۔ بلوچستان کے علاوہ باقی پاکستان امریکنوں اور اسکے اتحادیوں کے لیے بے فائدہ ہے
KGBکے افسر نے کہا کہ اس علاقے میں امریکہ کے دو مقاصد ہیں ایک وسط ایشیاء سے توانا ئی کا حصول اور دوسرا چین کے خلاف گھیرا تنگ کر نا۔ اس مقصد کیلئے بلوچستان اور اس کی گوادر اور پسنی کی بندر گاہیں اہمیت کی حامل ہیں۔ امریکن جنوبی ایشیاء کی معیشت اور وسط ایشیا کی توانا ئی کو خود استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ اسی لئے امریکہ چین کو بلوچستان سے دور رکھنا چاہتا ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ بلوچستان میں تخریب کاری موجود رہے تا کہ وسط ایشیاء کا تیل اور گیس اس راستے سے دنیا میں تقسیم ہو نا شروع نہ ہو جائیں جو پہلے صرف روس کے ذریعے باہر دنیا کو جا سکتا ہے اس لئے روس اپنی اجارہ داری قائم رکھنا چاہتا ہے۔ اسکے علاوہ ہندوستان نہیں چا ہتا کہ پاکستان وسط ایشیا کی ریاستوں کے ساتھ بلاواسطہ تجارتی راستہ کھول لے انکی دلچسپی یہ بھی ہے کہ انکی ایران کے گیس کے ذخائر تک رسائی ہو خواہ اس کیلئے پاکستان کا علاقہ ہی کیوں نہ استعمال کر نا پڑے ۔ اسکے علاوہ ہندوستان افغانستان پر اپنا اثرورسوخ اس لئے بڑھا رہا ہے تا کہ وہ وسط ایشیا ء کی تیل سے مالا مال ریاستوں کیساتھ براہ راست رابطے میں ہو ۔ ایران نے اپنی چاہ بہار بند گاہ اور اس سے منسلک سٹرکیں اور ریلوے لائن پر بہت رقم خرچ کی ہے۔ ایران کو یہ ڈر ہے کہ بلوچستان میں امن ہو نے اور گوادر کی بند گاہ کھلنے سے چاہ بہار کی اہمیت کم ہو جا ئے گی چونکہ وسط ایشیاء کی ریاستوں سے گوادر کے ذریعے سمندر تک پہنچنا زیادہ مفید ہو گا اسکے علاوہ KGBکے آفیسر نے کہا کہ ایران اپنے و عدوں کی پاسداری میں بھی کمزور ہے۔ مجھے یہ افسوس سے کہنا پڑرہا ہے لیکن یہ میری ذاتی رائے ہے جہاں تک افغانستان کا تعلق ہے اسکے اندر بہت سے طاقت کے دائرے ہیںجن میں سے کچھ پاکستان کے حق میں ہیں لیکن کچھ موقع ملنے پر پاکستان کو نقصان پہنچا نے میں پیش پیش رہتے ہیں۔ ہندوستان ایران اور افغانستان کے کچھ نمائندوں نے اپنا ایک معاشی تجارتی اور مواصلا تی اتحاد بنا یا ہو ا ہے جس میں سے پاکستان کو باہر رکھا جا رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق بلو چستان کے اندر BLAکے علاوہ بلو چ اتحاد پونم اور کچھ چھوٹے گروپ بھی سر گرم عمل ہیں لیکن یہ سارے گروپ اور بلوچی سر دار بلوچستان کی عوام کے خیر خواہ بالکل نہیں ۔ سر دار مہر اللہ مری نے 1885ء میں خاطان کے علاقے کے پٹرولیم سے متعلق حقو ق حکومت بر طانیہ کو صرف 200روپے ما ہا نہ پر بیچ دئیے ۔ 1861ء میں جام آف لسبیلہ نے برطانوی حکومت سے صرف 900روپے ما ہوار لیکر ٹیلی گراف لائن لگانے کی اجازت دے دی ۔ 1883ء میں خان آف قلات نے کوئٹہ کا ضلع اور اس سے ملحقہ علاقہ برطا نیہ کو صرف25ہزار روپے میں فروخت کر دیا ۔اسی سال بگٹی سر داروں کو بر طانوی حکومت نے 5500روپے ادا کر کے کچھ فوائد حاصل کئے رپورٹ میں کہا گیا ہے

Any positive development would go against the Sardars and any fool would expect them to do any thing for the good of their people.” ”

موجو دہ حالات میں اگر صحیح اقدام نہ اٹھائے گئے تو پاکستان کی سا لمیت خطرے میں پڑ جائیگی KGBکے افسر نے کہا ابھی تک میں نے کوئی ایسی پاکستانی کوشش نہیں دیکھی جس کا مد عا عام بلوچیوں سے رابطے بڑھا نا ہوا بھی بھی حکومت صرف
سرداروں کو خوش کر نے میں لگی ہوئی ہے جو پاکستان بننے سے اب تک بلیک میلنگ میں مصروف رہے ہیں ۔ پا کستان جس طریقے سے اس مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس سے حیرانی ہو تی ہے۔ KGBکے آفیسر نے کہا کہ میں جب چند سال افغانستان میں رہا تو میں نے یہ دیکھا کہ جہان بلوچ سر دار پیسے لیکر اپنی وفا داریاں بیچ دیتے تھے وہاں عام بلوچی بے وقوفی کی حد تک محب وطن تھا انکو خریدنا اور اپنے لئے استعمال کرنا نہایت مشکل تھا اگر میراتعلق پاکستانی حکومت سے ہوتا تو میں عام تعلیم یا فتہ بلوچوں کو اکٹھا کر کے سر دااروں کا اثر ور سوخ ختم کر دیتا ۔ ایک سوال کے جواب میں رپورٹ میں کہا گیا ہے۔ کہ روس و افغا ن جنگ میں BLAکی قیادت نوجوانوں کے ہاتھ میں تھی لیکن اب یہ قیادت سر داروں کے ہاتھ میں ہے۔ موجود ہ قیادت میڈیا کو استعمال کر نا چاہتی ہے اس لئے انہوں نے سوئی گینگ ریپ کیس کی با ت شروع کی حکومت پاکستان کو چاہئے تھا کہ اس جرم میں ملوث افراد کو لٹکا دیتی تو BLAکی مہم بیٹھ جا تی ۔ موجود حالات میں حکومت پاکستان کیلئے بہترین حکمت عملی یہ ہو گی کہ سر داری نظام کو فوری طور پر ختم کیا جائے اور پرائیویٹ ARMIESتوڑ دی جائیں۔ عام بلو چیوں سے رابطے قائم کئے جائیں جن میں مری اور مینگل کے قبائل بھی شامل ہوں علاقہ بدر کئے ہوئے بگٹی قبیلے کے لوگوں کو بھی واپس بلایا جائے ‘ تر قیاتی منصوبوں پر کام تیز کر کے روز گار کے ذرائع بڑھائے جائیں اور ایسی حکمت عملی اختیار کی جائے جس سے تخریب کاروں کو پیسہ اور اسلحہ نہ پہنچ سکے ۔ اس سے حالات پر قابو پا یا جا سکتا ہے ۔ ۔۔ ”
قارئین پاکستان کے مفادات کیخلاف کام کر نے والوں کی طرف سے بلوچ قوم اور عام بلوچیوں کی حب الوطنی کو سلام پیش کر نا کوئی چھوٹی بات نہیں۔KGBکے جاسوسوں کی طرف سے یہ کہنا کہ:

“Ordinary Baloch are stupidly patriotic. They are hard to buy and harder to manipulate”

۔بلوچ قوم کیلئے بہت بڑا اعزاز ہے جو پوری پاکستانی قوم کے لیے قابل فخر ہے۔

تحریر ؛ لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبدالقیوم

اپڈیٹ: جس رپورٹ کا زکر ہے اُسے اپ یہاں پڑھ سکتے ہیں!

دل دریا

لوگوں نے کہا
اس در سے کبھی
کوئی نا اُمید نہیں لوٹا
کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا
میں بھی لوگوں کے ساتھ چلا
چہرے پر گرد مِلال لیے
اک پر امید خیال لیے
جب  قافلہ اس در پر پہنچا
میں اس گھر کو پہچان گیا
پھر خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا
اس در  سے مجھے کیا ملناتھا
وہ گھر تو میرا اپنا تھا

شاعر: سرشار صدیقی

4/26/2009

سوات معاہدہ اور نظام عدل!

جب سے حکومت و صوفی محمد میں معاہدہ ہوا ہے یار لوگوں نے خیالات کے گھوڑے ڈوڑانا شروع کر دیئے ہیں کسی نے حمایت کی اور کوئی مخالف ہے۔  معاملات کو اُس وقت تک سمجھنا ناممکن ہو گا جب تک فریقین کے درمیان ہونے والے معاہدہ و اُس کے نتیجے میں جاری ہونے والے نظام عدل کا نہ دیکھ لیا جائے!!
معاہدہ کے اعلان پر کُل نو افراد کے دستخط ہیں، جن میں چھ (صوبائی) حکومت کے نمائندے اور تین تحریک تنظیم نفاذ شریعت کے ممبران کے! دلچسپ یہ ہے کہ ملکی تاریخ میں یہ انوکھا واقعہ ہے کہ حکومت وقت نے ایک ایسی تنظیم سے معاہدہ کیا جسے وہ کالعدم قرار دیتی ہے۔
اگر اعلان کے متن کو دیکھے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ نیا عدالتی نظام رائج کیا جائے گا!
“ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ کے نظام عدالت کے تعلق میں جتنے غیر شرعی قوانین یعنی قرآن اور حدیث کے خلاف ہیں وہ موقوف اور کالعدم تصور ہونگے یعنی ختم ہونگے۔ اسی نظام عدالت میں شریعت محمدی جس کی تفصیل اسلامی فقہ کی کتابوں میں موجود ہے اور اس کے ماخذ چار دلائل ہیں، کتاب اللہ، سنت رسول، اجماع، قیاس و جو اب بافذالعمل ہونگے اس کے خلاف کوئی فیصلہ قبول نہیں ہو گا۔ اس کی نظرثانی یعنی اپیل کی صورت میں ڈویژن کی سطح پر درالقضاء یعنی شرعی عدالت بینچ قائم کر دیا جائے گا جس کا فیسلہ حتمی ہو گا۔“
یعنی دونوں فریقین ضلعی سطح پر نظرثانی کے لئے حتمی عدالت کے قیام پر متعفق ہیں جسے وہ دارلقضاء کا نام دیا گیا!۔ نیا نظام عدل حکومت تنہا لاگو نہیں کرے گی درج ہے کہ
“حضرت صوفی بن حضرت حسن کے باہمی مشورے سے عدالتی شرعی نظام کے ہر نقطے پر تفصیلی غور کرنے کے بعد اس کا مکمل اطلاق ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ میں امن قائم کرنے کے بعد باہمی مشورے سے کیا جائے گا۔“
مطلب یہ کہ جو بھی عدالتی نظام نافذ ہو گا وہ جناب کے مشورے سے ہو گا! اور شرط امن ہے شاید تب ہی امن ہو گیا! اس اعلان کے علاوہ کسی اور دستاویز پر میرے علم کے مطابق دونوں فریقین میں سے کسی نے کوئی دستخط نہیں کئے!! لہذا غیر مسلح ہونے والی بات نامعلوم کیوں کی جاتی ہے؟ کہیں اور باتیں بھی منسوب کی جاتی ہیں اگر کوئی ہے تو منظرعام پر کیوں نہیں لایا جاتا؟
اب اگر اس اعلان (معاہدہ) کے نتیجے میں نافذ ہونے والے “نظام عدل ریگولیشن“ پر ایک نظر ڈالے تو بھی کافی دلچسپ باتیں سامنے آتی ہیں! مثلا دفعہ 2 (b)  کے تحت “دارلدارلقضاء“ سپریم کورٹ کے بنچ کو کہا گیا!  دفعہ 2 (c) کے تحت “دارلقضاء“ دراصل ہائی کورٹ کا بنچ ہو گا!  دفعات ذیل میں ہیں!

دفعہ 2 (b)

Dar-ul-Dar-ul-Qaza” means the final appellate or revisional court, in the said area, designated as such, under this Regulation in pursuance of clause 2 of Article 183 of the Constitution of the Islamic republic of Pakistan

دفعہ 2 (c)

“Dar-ul-Qaza” means appellate or revisional Court constituted by Governor of North West Frontier Province in the said area, under clause 4  of the Article 198 of the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan

دفعہ 2 (g) کے تحت جج کو قاضی کہا گیا ہے، اس دفعہ کی روشنی میں District and Sessions Judge  کو ضلع قاضی، Additional District and. Sessions Judge  کو اضافی ضلع قاضی، Senior Civil Judge/Judicial  کو اعلیٰ علاقہ قاضی اور Civil Judge/Judicial Magistrate  کو علاقہ قاضی کہا جائے گا! یوں درحقیقت ایک طرح سے لگتا ہے کہ یہ انگریزی اصلاحات کو اردو ترجمہ کیا گیا! مگر اصل اضافی خاصیت (لازمی نہیں) جو اس رکھی ہے جج (قاضی) کے لئے وہ یہ کہ اُس نے شریعہ کا کورس کیا ہو دفعہ 6 (1) میں درج ہے

Any person to be appointed as Illaqa Qazi in the said area shall be a person who is a duly appointed judicial officer in the North-west Frontier Province and preference shall be given to those judicial officers who have completed Shariah course from a recognised institution


اور دفعہ 2 (h) میں یہ بیان کر دیا گیا ہے تسلیم شدہ ادارے سے مراد وہ ادارہ جو بین الاقوامی اسلامک یونی ورسٹی آردینس 1985 کے تحت بنے یا کوئی بھی دوسرا ادارہ جسے حکومت تسلیم کرتی ہو! اورقاضی اپنے فیصلوں کے سلسلے میں نہ صرف دیگر قوانین (جن کی فہرست نظام عدل ریگولیشن کے شیڈول اول کے کالم دو میں دی گئی ہے)  کا پابند ہو گا بلکہ دفعہ 9 (1)  کے تحت وہ پابند ہو گا کہ وہ کیس کا فیصلہ قرآن کریم، سنت رسول، اجماع اور قیاس کی روشنی میں کرے دفعہ میں درج ہے!

A Qazi or Executive Magistrate shall seek guidance from Quran Majeed, Sunna-e-Nabvi (PBUH), Ijma and Qiyas for the purposes of procedure and proceedings for conduct and resolution of cases and shall decide the same in accordance with Shariah. While expounding and interpreting the Quran Majeed and Sunna-e-Nabvi (PBUH) the Qazi and Executive Magistrate shall follow the established principles of exposition and inter2001pretation of Quran Majeed and Sunna-e-Nabvi (PBUH) and, for this purpose, shall also consider the expositions and opinions of recognised Fuqaha of Islam


اور (قاضی) عدالتی کاروائی کی جانچ پرتال دفعہ 6 (3) کے تحت دارلقضاء (ہائی کورٹ) اور ضلع قاضی ماتحت عدالتوں کرے گے! یاد رہے قاضی عدالتوں کا قیام دفعہ 5 کے تحت عمل میں آئے گا اور دفعہ 11 کے تحت نظام عدل کے نفاذ کے بعد جتنی جلد ممکن ہو حکومت عدالتیں قائم کرے گی (جو قائم ہو چکی ہیں بس دارلقضاء کا قیام باقی ہے جس کی پہلے آخری تاریخ 23 اپریل تھی اب مزید وقت بڑھا دیا گیا ہے)۔ اور دفعہ 12 کے تحت دارلقضاء کے فیصلوں کے خلاف اپیل دارلدارلقضاء (سپریم کورٹ) کے پاس ہو گی دفعہ میں درج ہے

Subject to the Constitution of the Islamic Republic of Pakistan, appeal or revision against the orders, judgment or decrees of the Dar-ul Qaza shall lie to the Dar-ul-Dar-ul-Qaza established for the purposes of this Regulation.


اس قانون کی دفعہ 19 کے تحت نظام عدل کے نفاذ کےساتھ ہی ضابطہ فوجداری آرڈینس 2001 ختم ہو جائے گا اور مزید جو میرے لئے دلچسپ تھا کہ سابقہ شرعی نظام عدل ریگولیشن 1999 بھی ختم یعنی کہ پہلے بھی جو قانون نافذ تھا اُس کا نام شرعی نظام عدل ہے!
“نظام عدل ریگولیشن“ کا اطلاق آئین پاکستان کے آرٹیکل 247 کے تحت عمل میں آیا ہے! یاد رہے آئین کے آرٹیکل 246 کے تحت سوات کا شمار “قبائیلی علاقے“ میں کیا جاتا ہے۔ اور آرٹیکل 247 قبائیلی علاقوں میں انتظامی امور سےمتعلق ہے۔ آرٹیکل 247 (3) میں صاف درج ہے کہ مجلس شورٰی (پارلیمنٹ) و صوبائی اسمبلی کے دار اختیار سے وفاقی و صوبائی قبائیلی علاقے باہر ہیں اور صوبے کا گورنر صدر کی ہدایت یا اجازت سے کوئی قانون یا حکم کسی قبائلی علاقے پر نافذ کرے گا!

No Act of Majlis-e-Shoora (Parliament)] shall apply to any Federally Administered Tribal Area or to any part thereof, unless the President so directs, and no Act of Majlis-e-Shoora (Parliament)] or a Provincial Assembly shall apply to a Provincially Administered Tribal Area, or to any part thereof, unless the Governor of the Province in which the Tribal Area is situate, with the approval of the President, so directs; and in giving such a direction with respect to any law, the President or, as the case may be, the Governor, may direct that the law shall, in its application to a Tribal Area, or to a specified part thereof, have effect subject to such exceptions and modifications as may be specified in the direction


مزید آرٹیکل 247 (4)  کے تحت صدر کسی ایسے معاملے سے جس کے متعلق پارلیمنٹ کو قانون سازی کا اختیار ہو اور گورنر صدر کی اجازت سے کسی اسے معاملے سے جس کے متعلق صوبائی اسمبلی کو قانون سازی کا اختیار  ہو ایک ریگولیشن بنا کرصوبائی  قبائلی علاقے میں لاگو کر سکتا ہے! (اس سلسلے میں پارلیمنٹ یا صبوبائی اسمبلی کی اجازت کی ضرورت نہیں)۔

Notwithstanding anything contained in the Constitution, the President may, with respect to any matter within the legislative competence of Majlis-e-Shoora (Parliament)], and the Governor of a Province, with the prior approval of the President, may, with respect to any matter within the legislative competence of the Provincial Assembly make regulations for the peace and good government of a Provincially Administered Tribal Area or any part thereof, situated in the Province


اور ایسا ہی اختیار وفاقی قبائلی علاقوں سے متعلق صدر کو  آرٹیکل 247 (5) کے تحت حاصل ہے۔ یاد رہے  آرٹیکل 247 (3) (4) کے تحت ہی نظام عدل ریگولیشن کا نفاذ عمل میں آیا ہے! اور  آرٹیکل 247 کے تحت بنائے جانے والے اور نافذ کئے جانے والے حکم سے متعلق پارلیمنٹ یا صوبائی اسمبلی سے تو نہیں البتہ متعلقہ قبائلی علاقے کے رہائشیوں کی مرضی معلوم کرنا ضروری ہے  آرٹیکل 247 (6) میں درج ہے۔

Provided that before making any Order under this clause, the President shall ascertain, in such manner as he considers appropriate, the views of the people of the Tribal Area concerned, as represented in tribal jirga


لہذا صدر کا اس ریگولیشن کو اسمبلی میں پیش کرنے کا مقصد اسے ایکٹ آف پارلیمنٹ بنانا نہیں بلکہ بین الاقوامی دباؤ سےبچنے کا ایک راستہ معلوم ہوتا ہے کیونکہ ریگولیشن جاری کرنے کے لئے پارلیمنٹ سے اجازت کی ضرورت نہیں مگر اب یہ کہ جا سکات ہے کیا کریں پارلیمنٹ نے اسے منظور کیا ہے! ورنہ یہ مکمل صدر کا صوابدیدی اختیار تھا۔
اچھا ایک اور دلچسپ بحث ملک میں متوازی عدالتوں کے قیام سے متعلق سننے کو ملتی ہے کہ حکومت کی رٹ قائم نہیں رہتی اور الگ عدالتی نظام رائج ہو رہا ہے! اس سلسلے میں آئین کا آرٹیکل  247 (7) دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے اُس میں درج ہے

Neither the Supreme Court nor a High Court shall exercise any jurisdiction under the Constitution in relation to a Tribal Area, unless Majlis-e-Shoora (Parliament)] by law otherwise provides


یعنی آئین پاکستان پہلے ہی کہہ رہا ہے سپریم کورٹ و ہائی کورٹ اپنے اختیارات قبائیلی علاقوں میں استعمال نہیں کر سکتے۔ سوائے اس کے کہ پارلیمنٹ اس سے متعلق کوئی راہ نہ نکالے۔۔۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کیا رزلٹآتا ہے؟ حکومت نے نظام عدل کے ذریعے ہائی کورٹ (دارلقضاء) اور سپریم کورٹ (دارل دارلقضاء) کا اختیار سماعت ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ تک قائم کیا ہے مگر صوفی محمد سے ہونے والے معاہدہ (اعلان) کی روشنی میں دارلقضاء وہ شرعی عدالت ہوگی جو ملاکنڈ ڈویژن بمشول ضلع کوہستان ہزارہ کی سب سے بڑی عدالت ہو گی۔ فیصلہ وقت پر ہے ۔

نظام عدل ریگولیشن ۲۰۰۹

آئین پاکستان کی دفعات 246, 247۔

swat-agreement