اور سڑک بن گئی!!!!

یہ قریب بیس سال قبل کی بات ہے میرے رہائشی علاقے ماڈل کالونی کی ایک نہایت مصروف سڑک ماڈل کالونی روڈ مکمل طور پر تباہ تھی۔ ہم یار دوست اکثر مذاق میں کہتے کہ جس نے جھولے لینے ہیں وہ بائیک لے کر اُس طرف چلا جائے۔ مگر پھر ایک دن صبح صبح اس سڑک پر کارپیٹنگ ہوئی ہوئی تھی مکمل سڑک نئی نئی سی معلوم ہوتی تھی دیکھ کر حیرت اس لئے ہوئِی کہ ایک دن قبل جب وہاں سے گزر ہوا تھا تو "جھولے" لے کر آئے تھے مطلب سڑک خستہ حالت میں تھی۔ معلومات لینے پر معلوم ہوا کراچی کی مشہور زمانہ پارٹی کے لیڈران نے ایک جلسہ کی سلسلے میں تشریف لانا تھا س لئے ایک ہی رات میں انتظامیہ نے "فرض شناسی" کا ثبوت دیا جو اہل علاقہ کے لئے چند دنوں کی "سہولت" کی شکل میں برآمد ہوا۔
تب یہ جانا کہ اگر آپ کے علاقے میں بہتری چاہے وقتی یا مستقل ان "جلسوں" کے مرہون منت ہوتی ہے جن کے سبب انہیں آپ کے محلے آنا پڑے۔ یوں وہ سڑک ہر جلسے و سیاسی ایکٹیوٹی پر "نئی " سی ہو جاتی مگر اب پھر دو سالوں سے وہ دوبارہ اجڑی ہوئی ہے۔
قریب ڈھائی سال قبل عمرکوٹ میں تعیناتی ہوئی تو میرپور خاص سے عمر کورٹ تک کی روڈ کی حالت زار دیکھ کر افسوس بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا کہ یہ ہماری صوبائی حکومت کام کیوں نہیں کرتی۔ مگر ڈیڑھ ماہ قبل اس سڑک کی قسمت جاگی اور یہ سڑک بہتر انداز میں کارپیٹ ہونا شروع ہوئی چونکہ سیاسی جماعتوں کے جلسے پہلے بھی ہوتے رہے مگر اس روڈ کی حالت جوں کی توں رہی اس لئے اول خیال یہ آیا کہ ممکنہ طور پر یہ الیکشن سے قبل کیا جانے والا کام ہے مگر جب گزشتہ اتوار مقامی رہنما کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے مختلف "رہنماؤں" اور خاص کر صوبے کے حاکم جماعت کے تمام وہ لیڈر جن کا تعلق سندھ سے تھا کی آمد ہوئی تو معلوم ہوا یہ "ترقیاتی پروجیکٹ" اس شادی کی بدولت ہے۔
ایسی ہی خبر اس سے قبل لاہور سے "بنت مریم" کے گھر اپنی والدہ کی آمد پر تعمیر کی جانے والی سڑک سے جڑی ہے۔ یوں یہ بات پکی ہو گئی ہے کہ ہمیں اپنے اپنے علاقے کی بہتری کے لئے یقین کوئی ایسی ہی تقریب رکھنی پڑے گی ورنہ کوئی امید بر نہیں آتی۔

تھر کا قحط

یار کیا پروگرام ہے چلے گا
"کہاں؟"
تھرپارکر
"کون کون جا رہا ہے؟"
سارے یار چلے رہے ہیں یہ سمجھ پورا قافلہ ہے
"امداد لے کر جا رہے ہو؟"
ہاں لازمی ہے امداد بھی لے کر جائیں گے وہاں کے لوگوں کے لئے.
"کیا کچھ اور بھی لے کر جا رہے ہو؟"
نہیں میں نے تو یوں کہا چلیں گے تھر بھی دیکھ لیں گے سیر ہو جائے ہے اور تفریح بھی.
"شرم کر یار وہاں لوگ مر رہے ہیں اور تو تفریح کی نیت رکھے ہوئے ہیں "
غلطی ہو گئی میرے باپ جو تجھ سے پوچھ لیا معاف کر دے
" تم بھی اس سے کم تو نہیں جو وہاں مچھلی کی ضیافت کر کے آیا تھا "
چلنا ہے تو چل یہ جیو اور اے آر وائے والی رپورٹنگ نہ کر. شام کو تو بھی اونچی آواز میں جسٹ ان بے بی سن رہا ہو گا. تیری جیسے مجھے خبر نہیں ناں.

سیاست کا دل اور دماغ

یار لوگوں کو اعتراض ہے! یہ کیا ہو گیا؟ وہ گئے اُن کے در پر جن کو وہ دُھتکارتے تھے! وقت وقت کی بات ہے! اور ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔
چوہدری کو مزارعوں پر حکومت کرنے کو علاقے کے بدمعاشوں و غنڈوں کا ساتھ چاہئے ہوتا ہے! اب یہ ساتھ وہ چاہے اُن کو اپنے ڈیرے کر بلا کر حاصل کرے یا خود اپنے بندے اُن کے ٹھکانے پر بھیج کر!! اور بدمعاش کو تو اپنی جان بچانی ہوتی ہے کل کو وہ اپنے فائدہ و قانون کے شکنجے سے بچنے کو جس کے لئے بدمعاشی کرتا تھا ،آج خود اپنے لئے کسی اور کا اتحادی بن کر پہلے کے خلاف کام کرتا ہے!! کیا کرے ،جان کی امان اور روزی روٹی کا معاملہ ہے۔ سیاست کے سینے میںایسا دل ہوتا ہے جو صرف اپنے لئے دھڑکتا ہے اور دماغ وہ جو اپنے بارے میں سوچتا!!
اصول زندگی کا حصہ ہوتے ہے اور اصول یہ ہے کہ اپنے فائدہ کا سوچوں !

درمیانہ اُمیدوار!

یار الیکشن کی تیاری کیسی ہے؟
“ہم نے کیا تیاری کرنی ہے، ملک میں چھٹی ہو گی اور ہم جا کر ووٹ ڈال آئیں گے”
اچھا جی تو پھر انتخاب کر لیا اُمیدوار کا؟
“ہاں یار جب ووٹ ڈالنا ہے تو کسی نہ کسی کا انتخاب تو کرنا پڑے گا ناں”
تو کس پارٹی کو ووٹ ڈال رہے ہو؟
“یار آزاد امیدوار کو ڈالوں گا کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ نہیں ڈال رہا”
اچھا! لگتا ہے کوئی جاننے والا تمھارا کھڑا ہے انتخاب میں؟
“نہیں نہیں!یار میں تو اُسے جانتا بھی نہیں! چھ مہینے پہلے ہمارے گھر آیا تھا جب امجد کے ہاں بچی ہوئی تھی بس اُس کے بعد اب ووٹ مانگنے آیا ہے”
اوہ خیر تیرے گھر آتا جاتا ہے اور تو کہہ رہا ہے تو جانتا بھی نہیں ہے اُسے ! بڑا ڈرامے باز ہے تو! کون ہے وہ؟
“ابے میرا کوئی رشتے داری نہیں ہے بندیا رانا سے”
اوئے تو کھسرے کو ووٹ دے گا؟
“ہاں! کیوں کیا مسئلہ ہے؟”
ابے کسی مرد کو نہ سہی کسی عورت کو ہی ڈال دے یہ کیا کہ تو ہجڑے کو ووٹ دینے لگا ہے! کیسا لگے گا ایک ہجڑا اسمبلی میں؟
“اور میاں تمہارا مطلب ہے پچھلی اسمبلی میں کوئی ہجڑا نہیں تھا؟”
ہاں نہیں تھا ناں!
“ اچھا جی! تمھارے ملک میں ڈرون حملے ہوئے، دوسرے ملک کی فوج اندر آ کر آپریشن کر کے چلی گئی، وہ اپنے بندے کو قاتل ہونے کے باوجود بچا کر لے گئے، تمہاری فوج سے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کروا رہے ہیں، اور کسی پارلیمنٹیرین کو اس پر منافقت سے پاک بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، تم کہتے ہو سابقین ہجڑے نہیں تھے.”
حد ہوتی ہے تم کسی اور کو موقع دو اور بھی کئی جماعتیں ہیں، ہجڑا منتخب کرنا کیا ضروری ہے؟
" اب رہنے دو! شیر بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے دھارتا ہے اور بلا جو ہے وہ بیبیوں سے میک اپ کر کے سونامی لانے کو نکلتا ہے باقی رہ گئے ترازوں والے تو اُن کی مردانگی یہاں سے نظر آتی ہے کہ جس قوم کی بیٹی کے نام پر کئی ماہ سے سیاست ہو رہی تھی اُس کی بہن کے مقابلے بندہ اُتارا ہوا ہے. اور باقی تو ہیں ہی سابقہ حکمران. اس لئے ایک خواجہ سرا ہی بہتر انتخاب کہ اُس میں کچھ نا کچھ مردانگی ہے اور مردانگی جن میں ہو مسئلہ وہ ہی نظر آتی ہے، ذہنی ہجڑوں سے بہتر ہے جسمانی ہجڑا منتخب کر لیا جائے!”
جا یار تو جس کو مرضی ووٹ ڈال! میرے سے غلطی ہوئی جو تجھ سے پوچھ لیا!

ووٹ کس کو؟

الیکشن کا زور ہے! میڈیا ہو یا شوشل میڈیا، گھر ہو یا گلی، دفتر ہو یا بازار، ہر طرف سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں! ہر ایک کا لیڈر عمدہ و با کمال ہے۔ اُس سے اچھا و اصولوں والا کوئی اور نہیں ہے۔ جس سے پوچھو وہ اپنے رہنما کو ہی قابل بتاتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے کسی جگہ ہونے والی کسی بچث میں یہ ثابت ہو جائے کہ اُس کی چنے گئے لیڈر میں کوئی خامی یا کمزوری ہے یا ماضی میں وہ کوئی غلط کام کر چکا ہے تو جواب میں سامنے والا آپ کے ممکنہ انتخاب میں کیڑے نکالے گا یا کیڑے ڈالنے کی کوشش کرے گا!
ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جو ووٹ ڈالتے ہوئے شخصیت پسندی کے شکار ہیں! انتخاب یقین شخصیت کے نام پر کیا جانا ہے مگر شخصیت ہی کا انتخاب کیوں؟
الیکشن ہم میں سے کتنے جانتے ہیں کہ منشور واقعی اہم ہے؟ اور ہم میں سے کتنے آگاہ ہیں کہ سابق حکمرانوں نے پہلے کیا منشور دیا تھا؟ اور اُس میں سے انہوں نے کون سا منشوری نقطہ یا وعدہ پورا کیا؟
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کی سیاسی جماعت کا تعلیم ، صحت، مواصلات، و دیگر شعبہ زندگی سے متعلق کیا منشور ہے؟ مجھے یقین ہے اکثریت نا واقف ہو گی! بلکہ سچ کہو تو سابقہ تجربہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے منشور پیش کرنے والے خوداُسے ایک کاغذ کے ٹکڑے سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ایسے میں میں اب تک کم از کم ووٹ دینے سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کر رہا ہوں!

خرچہ الیکشن!

آؤ جی جناب کیسے ہیں جناب!
“یار الیکشن کے سلسلے میں آیا ہوں”
سر ہم حاضر ہیں ہم آپ کو ہی ووٹ ڈالیں گے پریشان نہ ہوں
“ابھی ووٹ کے لئے نہیں آیا کسی اور کام سے آیا ہوں”
جی جی بھائی حکم!
“دیکھو گزشتہ تین سال سے میرا آپ سے ایک تعلق بن گیا ہے جو کام آپ تین سال سے کرتے آ رہے ہو ناں اُس کا اُلٹ آپ نے ان تین ماہ میں کرنا ہے”
مطلب کیا کرنا ہے؟
“یار پہلے سرکاری تقریبات کے اخراجات میں آپ ہر چیز و معاملے کی رسید اصل خرچے سے ذیادہ کی دیتے تھے ناں”
جی بھائ
“ہم نے آپ کا خیال کیا تھا تب بھی اب بھی کرے گے”
بھائی آپ حکم کرے
“بس اب کے رسیدوں میں چیزوں کی قیمت آدھی اور کبھی اُس سے بھی کم لکھ دینا”
بھائی وہ تو ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔
“یاراصل قیمت سمیت تیرا کمیشن تجھے مل جائے گاا بس اُس کی تصدیق کر دینا کر دینا کہ رسید والے چارجز درست ہیں جب الیکشن کمیشن والے آئیں! ویسے وہ نہیں آئیں گے! “
جو حکم بھائی کوئی مسئلہ نہیں!

ہر گھر سے بھٹو نکلے گا!!

اڑے سنا کچھ تم نے کیا؟
“کیا کچھ نیا ہو گیا ہے؟”
نہیں کچھ نیا تو نہیں ہے مگر نئے نئے جیسا ہی سمجھو!!
“اچھا! کیا ہوا اب کے “
سنا ہے کہ ایوان صدر سے قائداعظم کی تصویر اُتارنے کی ناکام کوشش کی بعد سرکار نے اب پمز اسپتال کا نام بھٹو کے نام پر رکھنے کا ارادہ کیا ہے
“اوہ! اس معاملے کی بات کر رہے ہو”
تو تمہارے لئے یہ کوئی بات ہی نہیں؟
“بات تو ہے مگر ٹیشن کیو ں لیتا ہے”
کیوں نہ لو؟
har gar say bhutto nikly ga
“ابے نام تبدیل کرنے والوں نے یہ کام اپنے گھر سے شروع کیا ہے اور اس کا کوئی مقصد ہے جناب!”
کیا کہہ رہا ہے؟ گھر سے کیسے شروع کیا اُنہوں نے؟
“یار سب سے پہلے ایوان صدر والوں نے اپنی سب سے اہم شے پر بھٹو کا لیبل لگایا تھا”
کیا شے؟
“اوہ! اللہ کے بندے اولاد کی بات کر رہا ہوں! اُس کا نام بھی بدل کر بھٹو کیا تھا ناں”
اور مقصد؟
“یار تجھے ان کا نعرہ نہیں یاد کیا؟”
کون سا وہ روٹی کپڑا اور مکان والا؟
“نہیں یار وہ ہر گھر سے بھٹو نکلے گا والا”
اچھا!! ویسے یہ اولاد سے لے کر اداروں اور اداروں سے عمارتوں تک کے نام بھٹو کرنے والے اپنے روش بندل لےتو اچھا ہے کہیں ایسا نہ ہو ہر گھر سے واقعی بھٹو نکل باہر ہو!!

مقاصد ڈی چوک انقلاب؟

اکثر دوستوں کا خیال ہے کہ قادری کو آسان فرار مل گیا! انقلاب جس بند گلی تک جا پہنچا تھا وہاں ایسا راہ فرار ایک نعمت ہے مگر کیا یہ سچ ہے؟ کیا طاہر القادری اپنے مقصد کے حصول میں ناکام رہا ہے؟
اخباری اطلاعات بمعہ شوشل میڈیا کی افواہوں سمیت پاکستان واپسی سے لے کر انقلاب کے اختتام تک کے کُل اخراجات قریب تین ارب روپے پاکستانی تھے رقم ممکن ہے اتنی ذیادہ نہ ہو مگر سرمایہ گارکو کیا اُس کے سرمائے کا اجر ملا کیا؟
طاہر القادری نے اسلام آباد آنے والے لوگوں کو چار دن ایسے ڈیل کیا جیسے ایک پیر اپنے مریدوں کو ڈیل کرتا ہے اپنے ہُجرے سے ہی پیغام اور درس!بڑے دعوے کرنا اور اور کچھ بھی ایسا ہونا جو اپنے فائدہ کا ہو اُسےمعجزہ بتانا! آدھی تقریر میں آدھا کام ہو گیا جیسے دعوے۔ مقصد انقلاب نہیں تھا! انقلاب لانے والے حاکموں سے مکالمہ نہیں کرتے! انہیں باہر کی دنیا کو خطاب سنانے کی فکر نہیں ہوتی! انقلاب رہنماؤں کے مرہون منت نہیں آتا بلکہ عوام کی خواہشوں پر ہوتا ہے۔
ہمیں پہلے دن کی جناب کی تقریر سے شک ہوا کہ جناب ممکنہ طور پر نگران سیٹ اپ میں حصہ چاہتے ہیں! اب یہ جناب ہی چاہتے ہیں یا اُن کا سرمایہ کا یہ تو کنفرم نہیں مگر یہ گول ڈی-چوک پر لوگوں کو بیٹھا کر انہوں نے وقتی طور پر بظاہر حاصل کر لیا ہے! کہ معاہدے کی دوسری شرط یہ ہی ہے۔
The treasury benches in complete consensus with Pakistan Awami Tehreek (PAT) will propose namesof two honest and impartial persons for appointment as Caretaker Prime Minister.

لہذاجناب کا بنیادی مقصد حاصل ہوا اب دیکھنا یہ ہے کہ آگے کھیل کس طرف جاتا ہے؟

زندگی مفلوج ہو تو زندگی محفوظ ہے!!!

دہشت گردی کا خطرہ  ہے! دہشت زدہ کون ہے؟ حکومت  چلانے والوں کو حکمرانی تب ہی زیب دیتی ہے جب وہ بے خوف ہو۔ اگر صاحب اقتدار ہی  خوف میں مبتلا ہوں تو عوام کا بے خوف رہنا کم ہی ممکن ہوتا ہے۔ بڑے بتاتے ہیں کہ جب 1965 میں پڑوسیوں سے  لڑائی ہوئی تو اُس وقت کے گورنر نے تاجروں کو  کہا کہ بازار بند نہ ہوں، اشیاء عوام کی پہنچ سے دور نہ ہوں تو عوام سرحد پر ہونے والی جنگ کے خوف سے بے نیاز لاہور شہر کی گلیوں میں موجود تھی اور فضاء میں جنگی جہازوں کے آپسی مقابلوں کو یوں دیکھتی تھی  جیسے بسنت سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔
زمانہ بدلہ حاکم بدلے! بدلا اصول حکمرانی! پہلے شکایت تھی حکمران حکومت کے لالچی ہیں! کم ہی نے اُنہیں نااہل کہا اور اُن سے بھی کم نے انہیں کرپٹ!! اب کون ہے جو اہل ہو، چلو نااہل ہی سہی مگر کرپٹ نہ ہو؟
آپ نا اہلیت کی انتہا دیکھیں! کہ حل یہ نکالا گیا ہے کہ سب کچھ ٹھپ کر کے رکھ دیا جائے نہ کچھ ہو گا نہ کچھ خراب ہو گا!! شاباش ہے ایسے حکمرانوں کے! موبائل بند، موٹر سائیکل بند، بازار بند،  ماشاءاللہ۔
اب یہ حال ہے کہ دہشت گردی کے مجرم اگر پکڑے گئے تو اِن کی حکمت عملی سے نہیں  بلکہ اپنی ناکس حکمت عملی کے باعث پکڑ میں آئیں گے۔ اب ان کا ایک ہی کمال باقی رہ گیا ہے وہ ہے بے شرمی۔ جن کی مدد سے یہ جمہوری  حکومت    کے پانچ سوال  پورے کریں گے! یہ کارنامہ ہے کافی ہے اب ان پانچ سالوں عوام کا کیا ہو گا، ملک کا کیا ہو گا یہ ان کا درد سر نہیں!! بس ان دوہرے چہرے والے دوہرے کردار والوں کو بس دوہری شہریت کی منظوری چاہئے!!

بلا عنوان

میں ملک کے لئے اپنی جان تک دے سکتا ہوں! یہ جھوٹ نہیں سچ ہے ایسے دعوی وہ کرتے رہے ہیں جو عمل سے ایسا نہیں کر سکتے۔ دوسرے کو یہ تاثر دینے کے لئے کہ میں سچا ہو بات کے آغاز میں کلمہ پڑھنے والے اکثر جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔ جو کہتے ہیں اخلاقیات بہت اہم ہیں وہ خود اس کی تردید اکثر اپنے عمل سے کرتے ہیں اور سوال کرنے پر اپنے اشارے، عمل اور کئی بار زبان سےہی کہہ دیتے ہے کتابی باتیں کتابوں میں اچھی لگتی ہے۔
اُوپر سے منظور شدہ “میرٹ” لیسٹ میں سے اب چناؤ اہلیت و قابلیت کا نہیں ہوتا جہالت کا ہوتا ہے جو کم جاہل ہو گا نوکر ہو جائے گا البتہ کم جہاہل کے چناؤ کے عمل میں کئی اہل و قابل افراد کو اس لئے مدعو کر لیا جاتا ہے کہ اُن میں مایوسی کے بیج کو بو کر اُن کو کسی قابل نہ رہنے دیا جائے۔
قانون معاشرتی اخلاقیات و رواجات سے جنم لیتے ہیں، جب اخلاقیات و رواجات بہتر تھے تو جو قانون بنے وہ اب اہل اقتدار کے راہ میں دشواریاں پیدا کرتے ہیں لہذا نئے “میعار” کی روشنی میں ترمیمات کی جائیں گی کہ کوئی “گرفت” میں نہ آئے۔

قانون کو بدل دیتے ہیں!

کیا کریں طاقت ہاتھ میں ہیں! اہل اقتدار ہیں! جو چاہے آپ کی کابینہ کرے! آپ نہیں ہوں گے تو آپ کے بچے ہوں یہ ملک بنا ہی آپ کی حکمرانی کے لئے ہے انگریز نہ سہی انگریز کے ملک کی شہریت ہی سہی!! ایسے ہی تو نہیں ہم کہتے کالے انگریز!! آپ میں اور اُن میں ایک ہی فرق ہے وہ باہر سے گورے ہیں اندر سے تو دونوں کا حال ایک سا ہی لگتا ہے! جی بلکل ایسا جیسا ہمارا باہر سے ہے، کالا!! اندر کا رنگ دیکھنے کے لئے کوئی خاص ٹوٹکا نہیں کرنا پڑتا بس سامنے والے کے قول و فعل کو دیکھا و پرکھا جاتا ہے۔
اب آپ سے کیا پردہ! بلکہ یہ کہہ لیں آپ کا کیا پردہ سب صاف صاف نظر آ رہا ہے مگر کوئی نا سمجھ بچہ ہجوم میں نظر نہیں آ رہا جو کہہ سکے “بادشاہ بے لباس ہے” ہم تو یہ ہی کہیں گے نہایت عمدہ لباس ہے جو آپ نے پہن رکھا ہے، واہ واہ سرکار واہ واہ۔
قانون کا شکنجہ سب کے لئے ہوتا ہے یہ سب میں سب ہی تھوڑا شامل ہیں۔ سب سے مراد تو عوام ہے عوام! عوام یعنی ہے عام۔
وہ قانون جو اپنی گردن پر فٹ ہوتا ہو جو تو نظام میں فٹ نہیں لہذا قانون بدل دو لہذا فیصلہ ہوا بدل دیا جائے گا!
دوسری ملک کے شہری یہاں کی شہریت لے کر اور یہاں کے "اہل وفا" اُن سے عہد وفا کر کے بھی حکمرانی کا حق رکھیں گے اور وہ عدلیہ کی حکم عدولی پر قابل سزا نہ ہو گے!

عقیدت و نفرت

ہمارے رویے ہمارے معاشرتی و نظریاتی سوچ کا عکاس ہوتے ہیں! آپ لاکھ چاہے مگر اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے! جسے ہم اچھا جانے اُس کی برائی سے آگاہی کے باوجود اُس وقت تک اُس فرد سے بدظن نہیں ہوتے جب تک کہ اُس کی ذات سے ہمیں خود یا ہمارے کسی نہایت عزیز کو نقصان نہ ہو۔

اپنے معاشرے میں پائے جانے والے سیاسی کرداروں کو ہم رہبرو رہنما سے آگے کا درجہ دے دیتے ہیں اور جو نا پسند ہو اُسے بُرے القاب سے نوازتے ہیں!

آج والد صاحب نے ایسے ہی رویے سے متعلق ایک تازہ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا! کہنے لگے کل میں دفتر سے واپس آنے رہا تھا تو ایک صاحب نے لفٹ مانگی! میرے ڈپارٹمنٹ کا تو نہیں تھا مگر چونکہ وہ بھی یونیفارم میں تھا لہذا میں نے اُسے لفٹ دے دی راستے میں ایک جگہ “بے نظیر بھٹو” کی تصویر دیکھ کر جناب نے دونوں ہاتھ اُٹھا اور انکھوں سے لگا کر عقیدت سے بولے “رانی! شہید ہے!” اور ہاتھوں کو چوم لیا! کچھ اور آگے گاڑی بڑھی تو زرداری صاحب کے پوٹریٹ کو دیکھ کر بولے “تھو! یزید ہے”

کیا کہتے ہیں؟

یادداشت یعنی memo

اؤئے یہ میمو گیٹ والا کیا معاملہ ہے؟
“کیوں؟ تجھے اس سے کیا لینا ہے؟”
یار ویسے ہی پوچھ رہا ہوں ہر بندہ ہی اس کی بات کرتا ہے، اس لئے پوچھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہے بس ذرا فوج و حاکم مل کر 'مخول' کر رہے ہیں”
کیا مطلب ہے تمھارا؟ حسین حقانی کو سفارت سے ہٹا دیا، فوج کی مرضی کا سفیر بھیجنے کے بجائے وہ شیری رحمان کو اسمبلی سے استعفیٰ لے کر سفیر بنا کر بھیج دیا، اس مراسلے پر تفتیش ہو رہی ہے اور تمہیں یہ مخول لگتا ہے؟
“اُس میمو یا مراسلے کو چھوڑ، یہ دیکھ جہاں فوجی جرنیل و حاکم ملک میں ہونے والے ڈراؤن حملے نہ روک سکیں، دوسرے ملک کے کی فوج ملک میں داخل ہو کر فوجی کاروائی کر جائے انہیں خبر نہ ہو، دوسری فوج کے طیارے سرحدی چوکیوں پر حملہ کر کےاپنے فوجی مار جائے اور اپنی فوج کا سربراہ صرف مذمتی بیان جاری کرے۔ ابے وہاں ایک مراسلے پر تماشہ لگےیہ مخول ہی تو ہے”
تمہارا مطلب ہے کہ جرنیل و حاکم آپس میں مخول کر رہے ہیں؟
“نہیں تو”
یہ کیا مذاق ہے آپس میں تو کس سے؟ تو نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟
“ابے مخول تو یہ تیرے و میرے سے کر رہے ہیں، یعنی عوام سے۔ آپس میں تو ان کی یہ لڑائی سوکنوں والی ہے جو پیا من کو بھانے کو لڑتی ہیں، بس پیا کو یقین آ جائے میں اُس کی سکی ہوں دوسری تو ڈرامے باز۔کام ہو جائے آج جو یاداشت دجہ تنازعہ ہے وہ کل کسی کی یاداشت میں نہ ہو گی”

ابے تو بھی بڑا “زرداری” ہے

گزشتہ چند ماہ سے بلکہ یوں کہہ لیں ڈھائی سال سے موبائل پر اسپیم ایس ایم ایس آتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ابتدا ہفتہ مین ایک دو ایس ایم ایس سے ہوئی مگر اب تو روزانہ درجن بھر آنے لگ گئے ہیں۔ اول اول تو ہم اس قدر اس سے بیزار نہیں تھے مگر اب دیکھ کر غصہ چھڑ جاتا ہے اگر ہم مصروف ہوں۔

آج کل ہمارے (وکلاء) کے الیکشن ہو رہے ہیں سپریم کورٹ کے الیکشن میں تو ہمیں تنگ نہیں کیا گیا تھا کہ ہم اُس مقابلہ میں ہماری ضرورت نہیں تھی وجہ صاف ہے ہم سپریم کورٹ کے وکیل تو نہیں ہیں ناں اب تک ! مگر ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کی الیکشن میں تو بذریعہ ایس ایم ایس ووٹ مانگنے والوں نے مت مار دی ہے، وہ الگ بات ہے ان ایس ایم ایس میں بھیجے جانے والے اقوال نہایے عمدہ ہوتے ہیں۔ اپنے وکلاء کے الیکشن تک تو بات ٹھیک تھی مگر نامعلوم کس نے ہمارا فون نمبر پریس کلب کراچی اور آرٹ کونسل والوں کو دے دیا؟ ممبر نہ ہونے کے باوجود وہاں سے الیکشن لڑنے والوں کے ووٹ کی درخواست کے ایس ایم ایس آتے ہیں اُن کے الیکشن کے دنوں میں۔

پہلے پہل آنے والے پیغامات میں کراچی میں فروخت ہونے والے مکان، فلیٹ،دفتر، گاڑی، کار، موٹر سائیکل اور دیگر قابل فروخت اشیاء کےنقد و آسان اقساظ پر دستیابی کے پیغامات آتے تھے۔ مگر اب زیر تعمیر مسجد و مدرسے کے چندے، یتیم بچیوں کی شادی میں مدد، استخارہ کرنے والے کا پتہ، رشتوں کی تلاش، ٹیوٹر (ٹیوشن سینٹر) کی دستیابی، پرائیویٹ اسکولوں و سینٹروں میں ڈاخلے کا اعلانات، پلمبر، مستری، رنگ والا، موٹر مکینک و بورنگ والے کی دستیابی بمعہ موبائل نمبر، ریسٹورینٹ و ہوٹل کا پتہ بمعہ مینو بلکہ یہاں تک کہ ایک بار ہمین ایک ایس ایم ایس آیا جس میں ڈلیوری کے وقت لیڈی ڈاکٹر کی دستیابی سے آگاہ کیا گیا تھا اور ساتھ یہ بتایا گیا تھا کہ ختنے کرنے کا معقول انتظام ہے۔ جبکہ اُس وقت ہم کنوارے تھے اور دوسری آفر بھی ہمارے لئے کار آمد نہیں تھی کہ وہ کام مین نمٹ گیا تھا۔ اس سلسلے میں 2009 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کر دیا تھا جس کا نام “تحفظِ صارفین ریگولیشن 2009” ہے۔

اس ہی کی روشنی میں 14 نومبر کو پی ٹی اے نے تمام موبائل کمپنیوں کو ایک لیٹر یا سرکولر جاری کیا جس کے تحت “اسپیم فلٹر” پالیسی کے تحت اُن الفاظ کی لسٹ جاری کی گئی جن پر پابندی لگائی ہے۔ رومن اردو اور انگریزی الفاط کی یہ لسٹ نہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور انگریزی تو خیر ہماری ویسے بھی ملکی کی اکثریتی آبادی کی طرح نہایت “عمدہ” ہے مگر جاری کردہ رومن اردو کے الفاظ کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ ہم تو اردو زبان سے بھی قریب “نابلد” ہی ہیں۔

دیگر سرکاری کاموں کی طرح ان جاری کردی بین الفاظ کی فہرستوں نے بھی عوام کو ہنسنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ کل 586 اردو کے الفاظ اور 1109 انگریزی کے الفاظ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اردو الفاظ کی بین لسٹ کے مطابق سیریل نمبر 13 پر “Mangaithar”(یعنی منگیتر) ، سیریل نمبر 35 پر “kutta”(یعنی کتا), سیریل نمبر 205 پر “mango” (جو آم کی انگریزی) , سیریل نمبر 214 پر لفظ “taxi”، سیریل نمبر 197 پر “kuti”(یعنی کتی) اور سیریل نمبر 195 پر “kuta”(یعنی کتا) جیسے الفاظ موجود ہے۔

اگر آپ رومن اردو میں ایس ایم ایس نہیں کرتے تو آپ اردو کی فہرست سے گالیوں کے تازے نمونے کسی کو ایس ایم ایم کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور ہاں بوقت ضرورت غصہ آنے پر اس پوسٹ کے “عنوان” کو لکھ کر جسے چاہے بھیج دیں۔ ٹھیک ہے ناں؟ کیونکہ اس لفظ پر تو بین نہیں لگ سکتا۔ ویسے اگر آپ کو عنوان کی سمجھ نہین آئی تو آپ علم کے آضافے کے لئے "اس ڈکشنری/لغت" پر نظر ڈالیں۔

جمہوریت کی پٹری

اجی کچھ سنا تم نے؟
ارے کیا سنانے چلی ہو اس عمر میں
ہمسائی بتا رہی تھی ایم کیو ایم پھر حکومت میں شامل ہو رہی ہے، اپنے غداری نے اُنہیں آفر کی ہے آ جاو
ہاں میں نے بھی سنا ہے کچھ ایسا 
کیوں کیا مزرا کا بولا سچ نہیں ہے کیا؟ کیا وہ لندن والا ملک نہیں توڑ رہا؟
ہو سکتا ہے توڑ رہا ہو، مگر جمہوریت کو پٹری پر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کر کھائے اوہ مطلب ملک کر حکومت میں رہے۔
اجی اس عمر میں کیا بہکی بہکی باتیں کرتے ہو، جمہوریت ملک سے ذیادہ اہم ہے کیا؟
مجھے کیا معلوم؟ مگر دیکھ لو جمہوریت کو نقصان ہو تو سب تو تکلیف ہوتے ہے ملک کی کسی کو کیا فکر آج اہم سیاست ہے ریاست کی فکر کو رہاستی کرتے ہیں ناں۔
مطلب؟
مطلب سادہ ہے، پاکستان میں پاکستانی ہوتا تو فکر کرتا ناں جہاں پنجابی، سندھی، بلوچی، پچشتوں، سرائیکی، مہاجر اور ناں معلوم کون کون رہ رہا ہوں وہاں توجمہوریت ہی اہم ہو گی ناں۔
کیا کہہ رہے ہو؟

نوبت یہاں تک کیوں آن پہنچی

ایک اب تک کی غیر مصدقہ خبر چونکہ غیر مصدقہ ہے اس لئے آپ اسے افواہ کہہ لے یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں واپسی کی شرط یہ رکھی تھی کہ ذوالفقار مرزا سندھ کی سیاست سے آؤٹ ہو جائے اور اس ہی شرط کو پورا کرنے کے لئے آصف علی زرداری نے گذشتہ تین چار (جب کراچی میں گیلانی صاحب آئے تھے اور رحمان ملک پر مرزا صاحب پھٹ پڑے تھے تب سے) روز سے ذوالفقار مرزا کو اپنے پاس بلا کر بٹھا رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا موبائل فون بھی اُن سے لے لیا تھا! اور اُنہیں اُن کی پسند کے ملک میں سفیر بنانے کی پیش کش ہوئی مگر مرزا نہ مانے تو استعفی مانگ لیا اور مرزا نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ نہ نگلے بنے اب اور نہ اگلے!
ذولفقار مرزا نے اس پریس کانفرنس کی تیاری کن کے ساتھ کی یہ ایک الگ معاملہ ہے! اور جو مواد دوران پریس کانفرنس اُن کے پاس تھا وہ تفتیشی مواد وہ ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے یہ ایک الگ قانونی بحث ہے۔ اُن کے تمام الزامات یوں بھی غلط ثابت کرنا ایم کیو ایم کے لئے ممکن نہیں کہ ان کے تمام دستاویزی ثبوت درحقیقت اُن کے پاس تھے سوائے ایک الزام کے جو انہوں نے سب سے اخر میں قرآن پاک کو اپنے سر پر رکھ کر لگایا۔ ایم کیو ایم و الطاف کا امریکی مدد سے پاکستان توڑنے کا! اس پر امریکی وضاحت بھی جلد آ جائے گی

اے لڑکی تو روتی ہے؟ دختر کراچی کے نام۔۔۔

اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
وہ باپ جو سر کا سایہ تھا
جو تم سب کا سرمایہ تھا
قربان ہوا زرداروں پر
عصبیت کے دلالوں پر
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
جو باپ سراپا شفقت تھا
جو الفت کا ایک پیکر تھا
اب لوٹ کے گھر نہ آئے گا
بس تم سب کو تڑپائے گا
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ہاں تیری یہ آہ و فغاں
چلی ہے سوئے آسماں
سارے شہر کے بام و در
انسانیت پہ نوحہ خواں
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
یہ سسکیاں، یہ ہچکیاں
کیسے سنیں صاحب صدر
سب ساتھ ہیں قاتل انہی کے
کیسے ہو انصاف ادھر؟
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ذرداری، الطاف و اسفندیار ہیں
خون ناحق پہ سبھی تیار ہیں
ان سے ناطہ توڑ لو، لوگو سنو
ورنہ یونہی خوف و دہشت میں جیو
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے


وقاراعظم (اردو بلاگر و شاعر

ہم کہیں گے تو شکایت ہو گی

امریکی اسٹیٹ ڈپاٹمنٹ کی ویب سائیڈ پر اگر "سفارت کار ہو حاصل استہقاق" والی دستاویز کے صفحہ 164 پر درج ہے

In order to understand  that some control must be retained, one need only  recall the sense of outrage expressed by U.S. Citizens  whenever diplomatic immunity thwarts prosecution of  a serious crime by a diplomat assigned to the United  States. For this reason, the principle developed that  all persons enjoying privileges and immunities also  have the obligation and duty to respect the laws and  regulations of the receiving state. This principle is  expressly stated in both the VCDR and the VCCR

یعنی کہ امریکی حکومت کے بیان کردہ اصولوں میں یہ بات تو تسلیم کی گئی ہے کہ 'استہقاق کے حامل افراد کی یہ ذمہ داری و فرض ہے کہ وہ متعلقہ ریاست کے اصول و ضوابط اور قوانین کا احترام کریں'

اردو محفل کی اس پوسٹ سے معلوم ہوا کہ اسلام آباد میں موجود امریکی سفارت خانے میں پاکستان میں ہم جنس پرستوں کے جشن کی تقریب منعقد کی، پاکستان میں امریکی تعاون سے منعقد ہونے والی یہ پہلی ہم جنس پرستوں کی محفل تھی۔ یہ تقریب گزشتہ ماہ 26 جون کو منعقد کی گئی۔
یعنی گزشتہ ماہ کے آخری عشرے میں کم و بیش اس طرح کی دو تقریبات ہوئی اور ایک کو مقامی اخبارات میں من چاہی کوریج ملی! انگریزی و اردو دونوں اخبارات میں۔ پہلی تقریب جو نتھیا گلی مین ہوئی اُس کو بی بی سی نے کوریج دی۔
ہم جنس پرستی اور جنسی بے راروی ہمارے معاشرے میں درست طور پر غلط سمجھے جاتے ہیں اور ہمارا مذہب ان واہیاتیوں کی اجازت بھی نہیں دیتا اور اس ہی لئے ہمارے ملک میں موجود قوانین کے تحت یہ قابل گرفت عمل ہے۔ بات یہاں تک ہی نہیں بلکہ بین الاقوامی سطح پر ہر فورم پر پاکستان نے ایسے کسی بھی عمل و قانون کی حمایت سے انکار کیا جس سے ہم جنس پرستی کی حمایت کرنا مقصود ہو۔ اس کی تازہ ترین مثال بھی گزشتہ ماہ اقوام متحدہ کے فورم پر امریکہ کی جانب سے ہم جنس پرستی کی حمایت میں پیش کردہ قرارداد کے موقع پر پاکستان کے نمائندہ ضمیر اکرام نے صاف طور پر کہا تھا یہ "ہم جنس پرستی کسی طور پر بنیادی انسانی حق نہیں ہے" اس کے باوجود امریکی سفارت خانے کا یہ عمل کہ پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی تقریب منعقد کرنا اور  امریکی سفارت کار رچرڈ ہوگلینڈ کی طرف مکمل حمایت کا یقین دلانہ ایک غیر مہذب عمل اور اپنے کی بیان کردی سفارتی آداب کے خلاف ہے۔ پریس ریلیز کا متعلقہ حصہ

Addressing the Pakistani LGBT activists, the Chargé, while acknowledging that the struggle for GLBT rights in Pakistan is still beginning, said “I want to be clear: the U.S. Embassy is here to support you and stand by your side every step of the way.

جہان ہم سمجھتے ہیں کہ امریکی حکومت اور اُس کا سفارت خانہ اپنی اعمال پر خود توجہ دے اور پاکستانی عوام کے جذبات اور قوانین کا احترام کرے وہاں حکومت وقت سے بھی یہ امید رکھتے ہیں تعاون و تعلقات کو غلامی کی حدود سے باہر رکھے اور ایسے معاملات میں سخت موقف اختیار کرے۔ مگر لگتا یہ ہے کہ دونوں کام نہیں ہونے۔

حلالہ

"ابے  کچھ جانا تم نے کیا ہو رہا ہے اب"
کیا ہوا بے؟
"ابے اب کے لندن والی سرکار نے  حکومت سے علیحدگی کے بعد واپسی کے تمام امکانات کو رد کر دیا ہے"
تو یہ تو پرانی بات ہو گئی کوئی نئی بات بتاو
"نئی بات یہ کہ  اب لندنی گدھی نشین اگلے الیکشن کے بعد ہی مسند اقتدار میں آنا ہے"
مشکل ہے یہ
"کیا مشکل ہے؟"
اتنا لمبا وقفہ۔
"تو پھر کیا ہو گا"
حلالہ
"مطلب؟"
جناب  چھ بار کی علیحدگی کے بعد تو اب تجدید نکاح پر واپسی نہیں ہو سکتی اب کے تو حلالہ ہی کرنا پڑے گا وہ بھی ابے خصم کے دشمن یعنی مسلم لیگ نون سے
"ابے ابے مسلم لیگ نون سے کیوں؟؟ اپنے مولانا ڈیزل سے کیوں نہیں اگر حلالہ کرنا ہی ہے تو؟"
تو بھی بچہ ہے مولوی  نکاح کروانے کے لئے ہی ٹھیک رہتا ہے اُس سے نکاح کرلو تو چھوڑتا نہیں اگر چھوڑ دے تو کہیں کا نہیں چھوڑتا اب دیکھ لو مولانا نے قاضی کو کہیں کا چھوڑا جبکہ وہ قاضی تھا
"کیا بات ہے بھائی تو اب حلالہ کا انتظام ہو رہا ہے کہ انتظار ممکن نہیں۔۔ہمم"


خیبر پختون خواہ

"جناب کیسے ہیں؟"
اللہ کا کرم ہے محترم! آپ سنائیں کیسے آنا ہوا۔
"ویسے ہی گزر رہا تھا سوچا آپ سے ملاقات کر لی جائے۔"
اچھا کیا جو چکر لگا لیا ہمارا بھی دل کر رہا تھا آپ کی صورت دیکھنے کو۔
"محترم سنائے کیا حالات ہیں! کل آپ کے گھر سے کافی ہلے گلے کی آوازیں آ رہی تھی!۔"
ہاں وہ 'ساجد اقبال راحت' کی پہلی سالگرہ تھی ناں۔
"محترم! ہمارے علم میں تو اس نام کا کوئی بچہ یا بڑا آپ کے گھر پر نہیں ہے۔"
ارے جناب یہ 'ماجد' کا نیا نام ہے۔
"کیا؟ خیر سے!۔"
بھائی اُن کی پیدائش سے ہی جھگڑا شروع ہو گیا تھا نام کا یہ تو اپ کے علم میں ہو گا ناں۔
"جی جی محترم۔"
اُن کی نانی اُن کا نام 'ساجد' رکھنا چاہتی تھی، دادی 'اقبال' کے لئے بضد تھی۔ ہم نے جھگڑا ختم کرتے ہوئے اُس وقت نام 'ماجد' رکھ دیا مگر کل سالگرہ پر وہ ہنگامہ ہوا خدا کی پناہ ننیال والے 'یپی برتھ ڈے ساجد' اور  ددھیال والے 'ہیپی برتھ ڈے اقبال' کا شور مچانے لگ پڑے۔ ہم کہا یہ کیا بہودگی ہے؟ مگر دونوں طرف کے افراد اپنی ضد پر قائم تھے۔ لہذا ہم نے اعلان کر دیا اج کے بعد سے 'ماجد' کو 'ساجد اقبال راحت' پکارا، لکھا اور بتایا جائے گا۔
"یہ آپ نے اچھا کیا! جھگرا ختم کر دیا۔"
ارے میرا ماجد بیٹا کیسا ہے؟
"محترم ابھی تو آپ کہہ رہے تھے کہ یہ اب'ساجد اقبال راحت' ہو گئے ہیں۔"
ہاں بھائی مگر مارے لئے تو ماجد ہی ہے ناں۔
"محترم بُرا نہ منائے تو ایک بات کہو۔"
جی فرمائے۔
"جتنا جھگڑا نام پر کیا ہے اتنی توجہ تربیت پر دے دیں تو نام کی عزت رہ جائے گی ورنہ۔۔۔۔۔۔"