شاہ رخ جتوئی کی رہائی کیوں ممکن ہوئی؟؟؟

شاہ رخ جتوئی ضمانت پر رہا ہوچکا ہے اس کی رہائی کے ساتھ ہی سوشل اور روایتی میڈیا پر فیصلہ پر تنقید جاری ہے ۔عام افراد پاکستانی قانون سے نا واقف ہیں سو ان کو بس یہی نظر آرہا ہے کے ہمیشہ کی طرح ایک دولت مند شخص سزا سے بچ گیا ۔
پاکستان میں کچھ جرائم نا قابل راضی نامہ ہیں اور کچھ قابل راضی نامہ ہیں۔ قتل کا مقدمہ دفعہ 309 اور 310 تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری دفعہ 345 ذیلی دفعہ 2 کے تحت عدالت مجاز کے اجازت سے قابل راضی نامہ ہوتا ہے ۔ مگر چونکہ اس قتل سے عام لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا تھا (جو دراصل میڈیا کوریج کا نتیجہ تھا) اس لیے مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں جو کہ ناقابل راضی نامہ ہے ۔شاہ رخ کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہو گئی مگر اپیل کے دوران شاہ زیب کے وارثان سے راضی نامہ ہوگیا، مگر اس کے باوجود شاہ رخ کی رہائی ممکن نہ تھی۔ اس کی دو وجوہات تھیں. 1 ۔دہشت گردی کی دفعہ کی موجودگی میں راضی نامہ ممکن نہ تھا۔
2۔۔دفعہ 338 ای (2) تعزیرات پاکستان کے تحت اگر کسی قبل راضی نامہ کیس میں سزا ہو جائے اور اپیل میں راضی نامہ ہو تو عدالت کی صوابدید ہوگی کہ اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے جس کے الفاظ یوں ہیں!
“All questions relating to waiver or compounding of an offence or awarding of punishment under Section 310, whether before or after the passing of any sentence, shall be determined by trial Court”

مزید براں دفعہ 311 تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کے کیس میں راضی نامہ ہونے کے باوجود عدالت اصول "فساد فی الآ رض" کے تحت تعزیر میں ملزم کو سزا دےسکتی ہے۔
اس سلسلے میں ذیل کا فیصلہ ایک نظیر ہے۔
“Ss. 302(b)1149, 186/149, 353/149, 148/149 & 311---Anti-Terrorism Act (XXVII of 1997), S.7---Criminal Procedure Code (V of 1898), S.345(2)---Constitution of Pakistan (1973), Art.185(3)---Parties had compromised the matter and compensation had already been received by the complainants---Permission to compound the offence, therefore, was accorded under S.345(2), Cr.P.C.---Accused, however, had committed the murder of two young boys who were confined in judicial lock-up in a brutal and shocking manner, which had outraged the public conscience and they were liable for punishment on the principle of "Fasad-fil-Arz"---Accused had taken the law in their hands without caring that police stations or Court premises were the places where law protected the life of citizens---Consequently, in exercise of jurisdiction under S.311, P.P.C. death sentence of two accused was reduced to imprisonment for life under S.302(b), P.P.C. and under S.7 of the Anti-Terrorism Act, 1997 on both the counts---Similarly, sentences of imprisonment for life awarded to two other accused under S.302(b), P.P.C. was reduced to fourteen years' R.I., but their life imprisonment awarded under S.7(b) of the Anti-Terrorism Act, 1997, was maintained on both the counts with benefit of S.382-B, Cr.P.C.---Remaining sentences awarded to accused were kept intact---All sentences were directed to run concurrently. (P L D 2006 Supreme Court 182)

ایسا ہی ایک فیصلہ PLD 2006 Peshawar page 82 ہے باقی عموما عدالتیں فساد فی الآ رض کی تعریف میں عموما سفاکی کے جز کو دیکھی ہیں۔ . مگر سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں دہشت گردی کی دفعات ختم کردی کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ذاتی دشمنی کی وجہ سے کیا گیا جرم دہشت گردی کے ذمرے میں نہیں آتا۔
“Ss. 6 & 7---Act of terrorism---Scope---Occurrence which resulted due to a personal motive/enmity for taking revenge did not come within the fold of "terrorism"---Mere fact that crime for personal motive was committed in a gruesome or detestable manner, by itself would not be sufficient to bring the act within the meaning of terrorism or terrorist activities---Furthermore, in certain ordinary crimes, the harm caused to human life might be devastating, gruesome and sickening, however, this by itself would be not sufficient to bring the crime within the fold of terrorism or to attract the provisions of Ss. 6 or 7 of the Anti-Terrorism Act, 1997, unless the object intended to be achieved fell within the category of crimes, clearly meant to create terror in people and/or sense of insecurity. (2017 S C M R 1572)

اب ٹرائل کورٹ راضی نامہ کو تسلیم کرنے کی پابند تھی ۔جس سے شاہ رخ جتوئی کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ۔ مگر اب بھی سرکار سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ اپیل دائر کرسکتی ہے۔ جو یقیناً وہ نہیں کریگی مگر پرائیویٹ سطح پر دائر کر دی گئی ہے۔اس مقدمہ سے ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت ملی کہ پاکستان میں امیر آدمی کے سزا سے بچنے کے بہت سے راستے ہوتے ہی,مگر درحقیقت ایسا بالکل نہیں ہے اس قانون کے تحت ہر طبقے کے افراد فیض یاب ہوئے ہیں اور یہ قانون خاندانوں کی دشمنوں کے کے اختتام کا سبب بھی بنتا ہے. مگر اگر اس قانون سے کسی کو اختلاف ہے تب اس کی تبدیلی اسمبلی سے ہی ممکن ہے بذیعہ ترمیم کیونکہ فیڈریل شریعت کورٹ (PLD 2017 page 8 FEDERAL-SHARIAT-COURT ) سے ایسی ایک پٹیشن جس میں متعلقہ دفعات 306 (b) اور (c), 307(1) (b) اور (c), 309(1), 310(1) کوچیلنج کیا گیا تھا رد کر دی گئی ہے ۔

قابض فوج بمقابلہ محافظ فوج

فوج جب سرحدوں کی حفاظت کے بجائے اپنی عوام کو بندوق کے روز پر فتح کرنے نکلے تو تاریخ بتاتی ہے کہ ملک کی فاتح بیرونی طاقتیں ہوتی ہیں! ایسے ملکوں کی عوام عموما بیرونی حملہ آوروں کی آمد پر اگر قوم نہ بنے تو اُن کی رخصتی کے بعد اقوام میں بدل جاتی ہیں! حملہ آور ایسے موقعوں پر "لوٹ کا مال" جسے مال غنیمت مانا جاتا ہے سے آگے اگر حاصل کرنا چاہے تو اتنا کہ اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت اُن نئی آزاد "اقوام" سےایسے کرواتے ہیں جیسے مالک نوکر سےاپنے کام!
قابض کا قبضہ اگر لمبا ہو تو آزادی کی جدوجہد بغاوت ہوتی ہے۔ حملہ آور جب حاکم کا روپ اپنا لے تو عموما مقامی کارندے اپنوں سے غداری کو حاکموں سے وفاداری جان کر اپنی پہچان کو داغدار کر کے اپنوں کی محکومی کو طوالت بخشتے ہیں! بہادری کی داستانیں صرف بغاوتوں سے ہی جنم نہیں لیتی بلکہ آزادی کی داستانوں کو کچلنے والوں کی بہادریاں بھی بطور مثال پذیرائی پاتی ہیں!بہادر جان پر ہی نہیں کھیلتا بلکہ جانوں سے بھی کھیل جاتا ہے۔!
اچھائی و برائی کا فیصلہ عام طور پر اعمال سے نہیں نیتوں سے ہوتا ہے! کاوش سے نہیں مقصد سے ہوتا ہے! مگر منزل کے تعین کو منتخب راستہ کامیابی کا ہو تو تب بھی راستے اہم ہیں! صرف نتائج ہی نہیں طریقہ کار بھی بتاتا ہے قابض کون ہے اور محافظ کون۔ !
(لکھا تو میں نے ہی ہے مگر اگر آپ کو سمجھ آ جائے تو مجھے بھی سمجھا دینا)

سیاست کا دل اور دماغ

یار لوگوں کو اعتراض ہے! یہ کیا ہو گیا؟ وہ گئے اُن کے در پر جن کو وہ دُھتکارتے تھے! وقت وقت کی بات ہے! اور ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔
چوہدری کو مزارعوں پر حکومت کرنے کو علاقے کے بدمعاشوں و غنڈوں کا ساتھ چاہئے ہوتا ہے! اب یہ ساتھ وہ چاہے اُن کو اپنے ڈیرے کر بلا کر حاصل کرے یا خود اپنے بندے اُن کے ٹھکانے پر بھیج کر!! اور بدمعاش کو تو اپنی جان بچانی ہوتی ہے کل کو وہ اپنے فائدہ و قانون کے شکنجے سے بچنے کو جس کے لئے بدمعاشی کرتا تھا ،آج خود اپنے لئے کسی اور کا اتحادی بن کر پہلے کے خلاف کام کرتا ہے!! کیا کرے ،جان کی امان اور روزی روٹی کا معاملہ ہے۔ سیاست کے سینے میںایسا دل ہوتا ہے جو صرف اپنے لئے دھڑکتا ہے اور دماغ وہ جو اپنے بارے میں سوچتا!!
اصول زندگی کا حصہ ہوتے ہے اور اصول یہ ہے کہ اپنے فائدہ کا سوچوں !

فاصلہ رکھیں ورنہ!!!!

باقی شہروں کا تو ہمیں علم نہیں مگر شہر کراچی میں تنظیم اسلامی نے ویلنٹائن ڈے کے خلاف انگریزی زبان میں BillBoard پر اشتہارات لگائے ہیں اس سے قبل یہ شہر میں خواتین کے لباس سے متعلق بھی ایسی اشتہاری مہم چلا چکے مگر اُس وقت چونکہ یہ اصل نام سے سامنے نہیں آئے تھے اس لئے ایک مخصوص طبقہ نے اسے نوٹس کیا اور دونوں طرح کے رد عمل سامنے آئے تھے مگر اس کی کاوش سے یوں بے خبر رہا کہ یہ کون ہے جس سے اصل مقاصد پس پشت چلے گئے۔
BillBoard پر درج قرآنی آیات و احادیث ایسی ہیں جو صاحب شعور کو یہ سمجھا دیتی ہیں کہ دینی تعلیمات سے کی رو سے یہ دن ہمارے معاشرتی اقدار سے ٹکراؤ کا سبب بنتا ہے ۔ جیسے سورۃ النور میں بیان ہے “اور جو لوگ اس بات کو پسند کرتے ہیں کہ ایمان والوں میں بے حیائی پھیلے اُن کے لئے دنیا اور آخرت میں دردناک عذاب ہے” اور یہ فرمان رسول اللہ “جب تم حیا نہ کرو تو جو جہ چاہئے کرو”۔
بات یہ ہے جیسے ہدایت منتخب لوگوں کو نصیب ہوتی ہے ایسی ہی کچھ ایسے بھی ہوں گے جہیں گمراہی کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا ہو گا۔
جن لوگوں کے دلوں پر قفل لگ جائیں انہیں ہدایت نصیب نہیں ہوتی اور ایسے لوگ نہ صرف یہ کہ احکامات ماننے سے انکاری ہوتے ہیں بلکہ اُن کا مذاق بناتے ہیں اُن کا یہ مذاق اُڑانا اُن کے باطل کو پہچاننےمیں مدد دیتا ہے ایسے لوگوں پر غصہ نہیں کرنا چاہئے یہ قابل رحم لوگ ہوتے ہیں کہ اللہ انہیں ہدایت دے۔
سبین محمود اینڈ کمپنی نے ان آیات و احادیث والے BillBoards کے ساتھ کھڑے ہو کر ٹرک آرٹ بنانے والا حیدر علی کے بنائے بینر کے ساتھ کُل آٹھ سے دس تصاویر اُتار کر اپنی فیس بک وال پر یہ تصاویر چپسا کی جہاں سے بلال لکھانی نے انہیں ایکسپریس ٹریبون کے فیس بک اکاؤنٹ پر لگایا۔

قرآنی آیات و احادیث کی غلط تشریح کر کے لوگوں کو گمراہ کرنے والے اور ان آیات کا مذاق اُڑانے والے دونوں ایک ہی صف میں ہیں دونوں کے اسپانسر و آقا بھی ایک ہی ہیں!ایک دین دار بن کر اور دوسرے دین سے بیزار ہو کر خود کو گمراہی کے راستے پر ڈالتے ہیں۔ روشنی کے نام پر اندھیرے پھیلانے والے اور آگاہی کے نام پر بھکانے والےیہ لوگ اس قابل نہیں کہ ان پر اپنا وقت برباد کیا جائے ہاں یہ ضرور ہے کہ ان سے فاصلہ رکھا جائے ورنہ دل بیمار ہو جائے گا! اور یہ بیماری پیار نہیں کرواتی گمراہی لاتی ہے!!
فاصلہ رکھیں ورنہ !!!! دل گمراہ ہو جائے گا
ہمیں تو یہ ہی لگتا ہے آپ کو نہیں لگتا کیا؟

زندگی مفلوج ہو تو زندگی محفوظ ہے!!!

دہشت گردی کا خطرہ  ہے! دہشت زدہ کون ہے؟ حکومت  چلانے والوں کو حکمرانی تب ہی زیب دیتی ہے جب وہ بے خوف ہو۔ اگر صاحب اقتدار ہی  خوف میں مبتلا ہوں تو عوام کا بے خوف رہنا کم ہی ممکن ہوتا ہے۔ بڑے بتاتے ہیں کہ جب 1965 میں پڑوسیوں سے  لڑائی ہوئی تو اُس وقت کے گورنر نے تاجروں کو  کہا کہ بازار بند نہ ہوں، اشیاء عوام کی پہنچ سے دور نہ ہوں تو عوام سرحد پر ہونے والی جنگ کے خوف سے بے نیاز لاہور شہر کی گلیوں میں موجود تھی اور فضاء میں جنگی جہازوں کے آپسی مقابلوں کو یوں دیکھتی تھی  جیسے بسنت سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔
زمانہ بدلہ حاکم بدلے! بدلا اصول حکمرانی! پہلے شکایت تھی حکمران حکومت کے لالچی ہیں! کم ہی نے اُنہیں نااہل کہا اور اُن سے بھی کم نے انہیں کرپٹ!! اب کون ہے جو اہل ہو، چلو نااہل ہی سہی مگر کرپٹ نہ ہو؟
آپ نا اہلیت کی انتہا دیکھیں! کہ حل یہ نکالا گیا ہے کہ سب کچھ ٹھپ کر کے رکھ دیا جائے نہ کچھ ہو گا نہ کچھ خراب ہو گا!! شاباش ہے ایسے حکمرانوں کے! موبائل بند، موٹر سائیکل بند، بازار بند،  ماشاءاللہ۔
اب یہ حال ہے کہ دہشت گردی کے مجرم اگر پکڑے گئے تو اِن کی حکمت عملی سے نہیں  بلکہ اپنی ناکس حکمت عملی کے باعث پکڑ میں آئیں گے۔ اب ان کا ایک ہی کمال باقی رہ گیا ہے وہ ہے بے شرمی۔ جن کی مدد سے یہ جمہوری  حکومت    کے پانچ سوال  پورے کریں گے! یہ کارنامہ ہے کافی ہے اب ان پانچ سالوں عوام کا کیا ہو گا، ملک کا کیا ہو گا یہ ان کا درد سر نہیں!! بس ان دوہرے چہرے والے دوہرے کردار والوں کو بس دوہری شہریت کی منظوری چاہئے!!

ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے






ہم نہ مہاجر ہیں، نہ پٹھان ہیں، نہ میمن ہیں،یہ لوگوں نے ناں بہت فرق نکال لئے ہیں ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہم سب مسلمان ہیں۔ فرقہ ایک ہی ہونا چاہیئے، لوگوں نے بول دیا تو ہم سے دور رہ تو پختون ہے تو مہاجر ہے، یہ سب غلط بات ہےہم سب مسلمان ہیں!

یہ بی بی سی کی رپورٹ (1:20 سے 1:45 منٹ تک) میں شامل اُس لڑکے کے تاثرات تھے جو کرکٹ کھیل رہے تھے اور ساتھی لڑکوں نے اس بات کی حمایت میں تالیاں بجائی نیر ویڈیو میں نظر آنے والے پشتون لڑکے نے اُس ساتھی لڑکے کو سینے سے لگا لیا!!! اگر کسی کو یہ شکایت ہے کہ یار دوست تحریر حذف کر کے شیئر کرتے ہیں تو مجھے بھی یہ افسوس ہے کہ کم عمر لڑکوں کی اس قدر لسانیت مخالف تاثرات کو بی بی سی نے بوقت تحریر قلم بند نہیں کیا!! مگر شکریہ کہ بعد میں ویڈیو لگا دی اور بات پہنچ گئی۔


منجانب اہلیان کراچی

لو جی ہمیں آج تک اہلیان کراچی و کراچی کے شہریوں کی سمجھ نہیں آئی! بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ دراصل اہلیان کراچی و کراچی کے شہری ہیں کون؟؟
کیا آپ کو سمجھ ہے؟ یا آپ بھی میری طرح ہی ہیں! نا سمجھ؟ اب دیکھے ناں ایک دن آپ صبح صبح دفتر کے لئے یا کام سے نکلتے ہیں تو شہر میں بینر لگے ہوتے ہیں،
شہر میں طالبانائزیشن نا منظور منجانب اہلیان کراچی!
کبھی
لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا نامنظور اہلیان کراچی!
کہیں!
کراچی کے شہری بھتہ مافیاں اور دہشت گردوں کی بدمعاشی برداشت نہیں کرے گے!
یہ بینر کالے یا سفید رنگ کے کپڑے پر ہوتے ہیں! حیران کن بات یہ کہ یہ "نامعلوم" اہلیان کراچی چار سے آٹھ گھنٹے میں تمام کراچی میں بینر نصب کر دیتے ہیں اور ان کا پتہ بھی نہیں چلتا! اور کہیں کراچی بچاؤ تحریک کے پوسٹر لگے ہوتے ہیں!! جس میں کراچی کے شہریوں کو مخاطب کیا ہوتا ہے۔
جیسے ہی کراچی کے حالات کسی بھی ABC وجہ سے خراب ہوں! نام نہاد لیڈر، رہنما، سیاستدان اور بھائی کراچی کے شہریوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں جبکہ کہ حقیقت میں کراچی کے شہری خود امن کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں! جان بچا کر بھاگ رہے ہوتے ہیں! اپنی گاڑیوں کو جلنے سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں!نہ کہ امن کو تباہ کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کر رہے ہوتے ہیں!
خدا کرے کل کو واقعی اصلی والے اہلیان کراچی پورے کراچی میں بینرز بنا کر لگا دیں! جس پر درج ہوں
تمام سیاسی ، مذہبی و لسانی جماعتوں و گروہوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اپنی ذاتی سوچ و خیال اور ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات براہ راست ایک دوسرے تک پہنچاؤ ہمارا نام استعمال نہ کیا جائے منجانب اہلیان کراچی!



دھنک

کراچی میں پیٹ (طوفان) آتے آتے رہ گیا دت تیرے کی!! کل شام میں ہم سمندر کنارے بھی گئے تھے تب ہی سمندر نے ہمیں مایوس کیا تھا! پھر بھی لگا کہ شاید ہم توفان سے آمنا سامنا کر لیں مگر !!!! چلو جان دو فیر کدی سہی!
اس طوفان کو ہمارے سروں پر میڈیا نے سوار کیا تھا!!! ہمارے گھر میں تو کیبل نہیں مگر جن کے گھروں میں ہے اور خاص کر جو کراچی سے باہر ہیں انہوں نے تو اتنا گھر والوں کو ڈرا دیا تھا کہ لگتا تھا کہ ہفتہ دو ہفتہ عدالت کشتی پر آنا جانا ہو گا ۔ ویسے جس قدر ڈرایا گیا طوفان کو القاعدہ کا ممبر یا پنجابی طالبان کا ساتھی بتا دینا چاہئے!! ٹویٹر پر صبح سے یار لوگ آگاہ کر رہے تھے کہ اتنا دور رہ گیا اتنے وقت میں پہنچ جائے گا اور یہ اور وہ۔ مگر ہماری قسمت میں ہی طوفان ہے جو طوفان سے آمنا سامنا نہ ہو سکا ورنہ۔۔۔۔۔۔ کچھ نہیں! طوفان کے نہ آنے کا الزام روشن خیال بہن کی زبانی معلوم ہوا لوگوں نے سمندر کنارے والے بابا پر لگایا ہے۔
پیٹ کی وجہ سے کراچی میں بارش ہوئی کافی ہوئی رات کو جب ہو رہی تھی تو ہم خواب خرگوش کے مزے لے رہے تھے! دن میں اس سے کچھ لطف اندوز ضرور ہوئے ہیں! بارش کے بعد کراچی میں دھنگ دیکھی گئی ہے چند تصاویر ذیل میں ہیں اس دھنک کی۔



بشکریہ ایم شعیب یاسین


بشکریہ محمد ایاز


بشکریہ رابعہ


بشکریہ علی رضا عابدی

کتاب چہرہ بندش کا نقصان؟؟

ہمارے اکثر دوستوں کو شکایت تھی یا یوں کہہ لیں کہ ہے فیس بک کی بندش کا کیا فائدہ؟ اور یہ وہ نا معلوم کیا کیا!! بلکہ جوان کے بچے یہاں تک کہتے ہیں کہ بندش کی وجہ سے تو اس صحفہ کی مشہوری ہوئی مگر اگر بندش نہ ہوتی تو شاید فیس بک والے از خود پاکستان میں یہ ناپاک صحفہ بند کرتی مگر ایسا اب وہ کرنے پر مجبور ہے دیکھ لیں جہاں جہاں ردعمل سامنے آیا فیصلوں پر نظر انداز ہوا ہے۔ آپمیں سے شاید اب بھی بُرا منہ بنائے مگر جان لیں کہ ردعمل ایسا ہو جو دوسرے کو ایک بار ہلا دے اور اس کرنے کے لئے جگرا چاہئے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ آپ میں سے کوئی کہے کہ یہ تو کوئی حل نہیں مگر کچھ نہ کرنے سے کچھ کرنا بہتر۔ ممکنہ ایسے بین کے خوف سے بھارت میں بھی فیس بک نے یہ ہی پالیسی اپنائی نیر اب بنگلادیش سے متعلق می اپس نے از خود بندش والی پالیسی اپنائی ہے۔
 خبر کا حوالہ دینا ضروری ہے کیا؟؟؟ پی سی ورلڈ دیکھ لیں۔ اور کچھ مالی مفاد پاکستان سے وابستہ تھے تو عدالت میں فیس بک نے اپنا وکیل کھڑا کیا تھا ناںآآآآ

کمال ہم بھی کرتے ہیں!

دو ماہ قبل بھارتی اخبارات میں پاکستانی ایئرچیف مارشل کا کی تصویر شائع ہوئی تھی ضروری تھا ۔ ایک اُدھار ہو گیا تھا حکومت پر کہ جواب دے خدا خدا کر کے اس احسان کا بدلہ اُتار دیا گیا ہے آج کے پنجاب کے اخبارات میں پنجاب پولیس پاکستان کی جانب سے اپیل والے اشتہار میں انہوں نے اپنالوگو بھارتی پنجاب پولیس کے لوگوں سے بدل دیا ! یو ں احسان ختم۔ اشتہار ذیل میں ہے۔


یا ممکن ہے طالبان کے خلاف اشتہار سرحد پار سے اسپانسر ہوا ہو

طالبانی لیگ

"اوئے کچھ سنا تو نے؟"
کیا ہوا؟
"سنا ہے شہباز شریف پنجاب کا خادم اعلی طالبان بن گیا ہے"
کیوں؟ کیا اُس نے کہیں خود کش حملہ کر دیا کیا؟
"نہیں کہتا ہے ہمارا اور طالبان کا دشمن ایک ہے لہذا طالبان ہم پر حملہ نہ کریں"
مشترکہ دشمن؟ کون
"امریکہ کا ذکر کیا تھا اُس نے"
اچھا بڑا لعنتی ہے؟ امریکہ کو دشمن سمجھتا ہے!۔
"ہاں ناں"
چلو خیر ہے اُسے یہ تو پتہ نہیں چلا ناں طالبان کون ہیں؟

تحفظ و برہنگی

ہمیں نہیں معلوم کبھی برہنگی کو قبول کیا گیا ہو! یہ ہی نہیں بلکہ یہاں تک کہ ننگاپن ہمیشہ گالی ہی رہی ہے، خواہ کوئی معاشرہ ہو یا تہذہب! قریب ہر زبان میں کسی کی بےعزتی کے لئے عام طور پر جو جملے بھی کےجائے اُن میں ایک آدھ ایسا ہوتا ہے جو برہنگی کو ظاہر کرے جیسے ہماری زبان میں "تمہاری اس حرکت میں تمہیں سب کے سامنے ننگا کر دیا"۔ یا خود اس انگریزی زبان کے اس محاورے سے اندازہ لگائے "need makes naked man run" یعنی برہنہ ہونا لامحالہ ایک ناپسندیدہ عمل ہے۔
لباس کا اصل مقصد جسم کو ڈھاپنا ہی رہا ہے باقی تمام فیکٹر ثانوی ہیں۔ جسم کی بےپردگی کسی طور پر تنہائی میں بھی جائز نہیں یعنی خود سے پردہ بھی ضروری ٹہرا اس کے کئی اخلاقی و نفسیاتی پہلو ہیں۔ ہمارے دین میں تو علاج کے لئے بھی ضرورت سے ذیادہ برہنہ ہونا درست نہیں! حیاء ایمان کا حصہ ہے۔ ایسے میں کسی اور شکل میں ایسا کرنا کیسے ٹھیک ہو سکتا ہے؟
دوسروں کو برہنہ دیکھنے کا شوق رکھنا ایک بیماری بھی ہے! ہم نے ایسے لوگوں کو لوگوں کو برہنہ دیکھنے والے آلہ (چشمہ) کے ہونے اور اُس کو خریدنے کی خواہش کرتے دیکھا ہے لگتا ہے اسی شوق کے مکمل کرنے کے سلسلے میں آج کل امریکہ و چند ایک مغربی ممالک میں ایئرپورٹ پر ایسے سکینر لگائے ہی جو لباس کے بغیر جسم دیکھ لیتے ہیں! دہشت گردی کی جنگ میں ہم جن کے اتحادی ہیں انہوں نے خاص کر پاکستانیوں کو ننگا کرنے کا انتظام اپنے ایئرپورٹ پر کر رکھاہے۔ کئی یار دوست اس اسکینر سے گزرنے سے انکار کر چکے ہیں جن میں چند ہمارے سینیٹر تو امریکہ میں داخل ہوئے بغیر ہی انکار پر واپس آ گئے! ایک ہندوستانی اداکار شاہ رخ اپنے ان اسکینرز سے گزرنے کی داستان سنا چکا ہے۔
اس اسکینر سے انسانی جسم کے خدوخال اور اُس پر سادہ سا Nagatrive ٹول کے استعمال سے اس شکل یوں ہو جاتی ہے۔ کیا اس کو ایک سالم رنگین تصویر میں بدلنا مشکل ہو گا؟

یوں تو اسکینر اسکرین پر جسمانی خدوخال دیکھتے ہوئے اگر کوئی سیکورٹی آفسر غیر مہذب حرکت میں پایا گیا تو اُسے سزا دی جئے گی جو 90 ڈالر تک جرمانے کی شکل میں بھی ہو سکتی ہے، دوسری جانب اسکین سے انکار کرنے والے مسافر کو اپنی سفری اخراجات کا نقصان برداشت کرنا پڑے گا۔
کیا آپ اس اسکینر سے گزرنے میں اجتناب کرے گے؟ یا نہیں؟ خاص کر اُس وقت آپ کا رد عمل کیا ہو گا جب مخالف جنس اسکینر کی اسکرین پر نظر رکھے ہوئے ہو اور ایسا ہی اپنے خاندان کے دوسرے افراد کے ساتھ ہونا منظور کریں گے؟
ہمارے دوست کہتے ہیں کہ لو کر لو گل اب امریکہ ملک داخل کرتے ہوئے بھی اور نکالتے وقت بھی ننگا کرے گا!۔ ویسے اپنے تحفظ کے نام پر ہمارے تحفظ پر وار نہیں کیا گیا کیا؟

منصف امریکن اور انصاف

سنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو سزا سنا دی گئی ہے ہے اُسے امریکی میرین پر قاقلانہ حملہ کرنے کے جرم میں‌سزا سنائی گئی اس کے علاوہ دیگر چھ جرائم میں‌ بھی مجرم تھرایا گیا ہے۔
ایک عورت یعنی قیدی نمبر 650 کے امریکی قید میں‌ہونے کا انکشاف ایک پریس کانفرنس میں‌نومسلم صحافی Yvonne Ridley نے اپنی 6 جولائی 2008 کو کیا جس میں‌انہوں‌نے وعویٰ‌کیا کہ یہ گرے لیڈی چار سال سے امریکیوں‌کی قید میں‌ ہے جبکہ زار کے افشاء‌ ہونے پر امریکیوں‌نے 17 جولائی 2008 کی تاریخ‌کو ڈرامائی کہانی کے ذریعے اس کی گرفتاری دیکھائی یعنی کہ 11 دن بعد باحثیت وکیل میں‌یہ سمجھتا ہو کہ صرف یہ ایک فیکٹ ایسا ہے جو گرفتاری کو مشکوک ہی نہیں‌ بلکہ باقاعدہ جعلی قرار دینے کے لئے کافی ہے اور فطری انصاف کی رو سے اگر گرفتاری جعلی ہو تو الزام بھی جھوٹے تصور ہوں‌گے خاص‌کر جبکہ وہ الزام خاص طور پر مجموعی طور پر گرفتاری کے بعد کے واقعات پر مشتمل ہوں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟‌کیسا لگا یہ انصاف آپ کو؟‌ سابقہ ملکی روایات کے مطابق صرف مذمت ہی ناں‌ یا وہ بھی نہیں؟

مستقبل سے کھیلنے کی قیمت

"بھائی آج پارک میں کیا کر رہے ہو؟"
"کچھ نہیں دیکھو معصوم بچے کتنے پیارے لگتے ہیں ناں یوں کھیلتے ہوئے"
"ہاں ماشاءاللہ، عمر کا یہ حصہ زندگی کا بہت پیارا دور ہے"
"یہ ہماری قوم کا مستقبل ہیں"
"بلکل"
" میں سوچ رہاں ہوں وہ ظالم جو اب معصوموں کا برین واش کر کے دہشت گردی میں استعمال کرتے ہیں کیسے سخت دل ہیں اُن کے اپنے بچے نہیں ہوتے"
"بھائی کہتے تو تم ٹھیک ہوں بس دعا کرو رب ہمارے بچوں کو انسان دشمنوں سے بچائے"
"آمین"
"اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری غیرتوں کو جگائے کہ ہم اپنے بچوں کی جانوں و خوشیوں کی قیمت وصول کرنے سے انکار کر سکے"
"کیا مطلب ہے تمہارا؟ ہہم نے کون سی قیمت وصول کی ہے؟"
"ہم نے کئی طرح سے اور کئی شکلوں میں قیمت وصول کی ہے"
" مثًلا"
" مثال کے طور پر افغان وار میں جہاد کے نام پر کئی سیاسی مولویوں نے اُس وقت کی نسل سے مجاہدین کی کھیپ کے نام پر فی نوجوان قیمت وصول کی"
" وہ ایک اسلامی فریضہ تھا، نوجوان اُس وقت خود جہاد کے لئے جاتے تھے"
" جاتے ہوں گے مگر سب نہیں، تم خود مطالعہ کر کے دیکھ لو"
"یہ ایک اختلافی مثال ہے کوئی اور مثال دو"
”چلو ٹھیک ہے، ہم نے سیاسی جماعتوں خواہ وہ لسانی ہوں یا مذہبی یا کسی اور شکل کی، اُن کے اسٹودنٹ ونگ بنائے جنہیں اسلحہ و تشدد سے لیس کیایوں اپنے تعلیمی اداروں کو سیاسی تربیت کی جگہ کے بجائے غنڈوں و بد معاشوں کی آماہ گاہ بنایا، جو آج ایک ناسور بن چکے ہے"
”یار یہ کیا مثالیں ہے معاشرتی کمزوریاں و خامیاں ان کی وجوہات ہے، کبھی بھی سرکاری سطح پر ایسا کچھ ہم نے نہیں کیا"
”حکومتوں کی خاموشی، کو میں تو سرکاری سرپرستی ہی کہوں گا"
”یار کوئی تُک کی مثال دینی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اپنی یہ بکواس بند کرو"
”چلو حالیہ مثالیں دیکھ لو یہ ڈرون حملوں میں جو معصوم بچے مارے جاتے ہیں اُس پر حکومت کی خاموشی کہ انکل سام کے آگے شکایت نہ کی جائے کہیں کیری لوگر بل جیسی مونگ پھلی ملی بند نہ ہو جائے یہ بھی تو غیرتوں کا سو جانا ہے"
”وہ حادثاتً ہوتا ہے وہ بھی اُن طالموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جو ہمارے بچوں کا برین واش کر کے خود ہمارے خلاف ہی استعمال کرتے ہیں"
”اچھا وہ حادثاتً ہوتا ہے تو یہ جو ہم قیمت وصول کر کے شکریہ ادا کرتے ہیں سرکاری سطح پر یہ کیا ہے؟"
”کون کی قیمت وصول کی ہم نے اپنے ان پھولوں کی؟"
”ابھی تازہ تازہ قیمت وصول کی ہے آپ نے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ادائیگی کا محترم وزیر داخلہ صاحب نے، ممکن ہے کل ستائشی سرٹیفکیٹ بھی دے دیں کہ بچوں کو اونٹ ریس میں بہتر طور پراستعمال کیا ہے، پھر اعتراض پر بلیک واٹر کی طرح اس کے وجود سے انکاری بھی ہو جائے"
”تم لوگ بلاوجہ الزام لگاتے رہتے ہو تمہارے پاس بیٹھا وقت کی بربادی ہے، میں چلا"

خبر
لنک اول
لنک دوئم

کمال ہو گیا

"تم کہاں ہوتے اگر تمہاری ماؤں کو پیدا ہونے نہ دیا جاتا"

یہ جملہ اُس بھارتی اشتہار کا حصہ ہے جو آج تمام بڑے ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ اشتہار اس وقت بھارتی میڈیا میں زیر بحث ہے وجہ یہ کہ اس میں کپل دیو، وریندر سیواگ اور امجد علی کے ساتھ پاکستان کے سابق ایئر مارشل جناب تنویر محمود کی تصویر بھی بطور قومی ہیرو کے شائع کی گئی۔ اب وزیر وزارت بہبود خواتین و بچوں کرشنا تیرتھ صاحبہ پر وضاحتیں دے رہی ہیں۔ اشتہار ذیل میں ہے۔






ممکن ہے کہ یہ تحریک طالبان ہندوستان یا لشکر طیبہ کی سازش ہوں، اس سلسلے میں پاکستانی آئی ایس آئی نے اُن کی تربیت کی ہو، وہ رات کے اندھیرے میں کسی اُڑن طشتری میں بیٹھ کر ڈیپارٹمنٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلسیٹی میں داخل ہوئے ہوں اور وہاں پہنچ کر انہوں نے لاہور و کراچی میں بیٹھے اپنے "کمانڈر" کے حکم کے تحت یہ سب کیا ہو، آپ کیا کہتے ہوں؟