ابے آج کل کیا کر رہا ہے
"کچھ نہیں بس فارغ ہو وقت برباد کر رہا ہوں"
اچھا! ایسا کر پھر یو ٹیوب پر ڈاکومینٹری دیکھا کر یا کسی اچھے موٹیویشنل اسپیکر کو سنا کر
"کوئی اچھا نام بتا بتا اس سلسلے میں"
یار ایک لاہور کا ہے قاسم علی شاہ یا کراچی کا ہے عاطف احمد اچھے ہیں ویسے
"ٹھیک ایک ہندوستانی کا نام بھی سنا ہے سندیپ کر کے نام ہے وہ کیسا ہے"
وہ بھی ٹھیک ہے اسے بھی سنا جا سکتا ہے
"ویسے ان کو سننے سے موٹیویشن ملتی ہے کیا؟"
ابے موٹیویشن ان اسپیکروں سے نہیں ملتی بس باتیں کرنا آ جاتی ہے یہ فائدہ ہے سننے کا
معذور ہیں اسپیشل یا اسپیشل دراصل معذور؟
ابے بڑا خوش ہیں خیر ہے ناں؟
“ابے خوش کیوں نہ ہوں، آج اسپیشل اولیمپکس میں شمولیت و شاندار کارکردگی کے بعد اپنے ملک لوٹ آئے ہیں! کل 57 میڈل پاکستانی کھلاڑیوں نے جیتے ہیں"
ابے ہاں کارکردگی واقعی عمدہ تھی۔
“ہاں! اور اولیمپکس کا سب سے تیز ترین ایتھلیٹ بھی ایک پاکستانی ہے!! کیا پیارا سا نام تھا اُس کا۔۔۔۔۔۔ذہن مین نہیں آ رہا"
شایدعدیل امیر!!
“ہاں ہاں یہ ہی نام تھا!! کُل تین سونے کے میڈل تو اس اکیلے نے ہی جیتے ہیں"
واقعی یار دلی خوشی ہوئی اپنے ان ذہنی معذوروں کی اس اعلی پرفارمنس پر
“محترم ذہنی معذور نہیں اسپیشل!! اور اس عمدہ کارکردگی دیکھانے والے تو نہایت اسپیشل سمجھے!”
او کے بابا اوکے
“ذہنی معذور تو وہ ہیں جنہیں تم اسپیشل کہتے ہوں اور وہ ملک کے لئے کھیلنے کو ذہنی اذیت سمجھتے ہیں!!! سمجھے؟"
حلالہ
دفعہ 144
“ابے سنا کچھ اپنے شہر قائد میں دفعہ 144 لگ گئی"
ابے کیا اب کے سائیکل پر ڈبل سواری پر پابندی لگی ہے؟
“اڑے نہیں بے! وہ شہر میں سیاسی بینر، جھنڈے ،پوسٹرلگانے اور دیوار پر سیاسی نعرہ وغیرہ پر پابندی لگ گئی ہے"
نہ کر یار! کس کس پر پابندی ہے؟
“ابے سب سیاسی جماعتوں پر"
چل اوئے! کیا چھوڑو بندہ ہے تو سب پر کیسے لگ سکتی ہے؟
“کیوں!!! کیوں نہیں لگ سکتی"
ابے آدھا شہر بی بی کی سالگرہ منانے کی دعوتوں پر مشتمل بینر، پوسٹروں اور پارٹی کے جھنڈوں سے بھر گیا ہے اور تو پابندی کی بات کر رہا ہے
“اچھا!!! ایسا ہے"
پھر ہو سکتا ہے کہ اپنے شہر کے رحمان بابا نے "مشروب حیات" کے سرُور میں سالگرہ منانے کی منادی کو 144 لگائی ہو؟
چل اوئے!!۔
جہالت بمقابلہ دہشت گردی کی جنگ
جگر کیسا ہے؟
“زخمی"
کیوں کیا ہوا؟
“ابے تو نے بجٹ نہیں دیکھا جو پیش ہوا ہے"
ہاں دیکھا تھا! یار کمال کر دیا اپوزیشن نے وزیر خزانہ کو چوڑیاں تک پیش کر دین تھی مزا آ گیا!!۔
“ابے یہ حال ہے اس قوم کا جہالت پر قائم رہنا!! یہ کون سا اپوزیشن نے جمہوری عمل کیا شور کر کے؟"
تو کیا کرتے؟
“اگر اصل میں جمہوریت پر یقین ہے تو اب اسمبلی میں بجٹ پر بحث کر کے اُسے عوامی بنائیں"
مثلا جناب کیا کرے؟
“اب تم یہ دیکھو کیا بجٹ آیا ہے صحت کی مد میں 16 ارب 90 کروڑ روپے یعنی فی پاکستانی صرف 85 روپے!!! مذاق ہے کہ نہیں"
ہاں!! کم ہیں۔
“اور تعلیم کی مد میں صرف 16 ارب روپے یہ بھی کوئی رقم ہے؟ "
ابے نہیں ہیں ناں پیسے اپنا ملک غریب ہے ناں!!کیا ہوا؟؟ اور ویسے بھی وفاق ہی کی ذمہ داری تو نہیں یہ اب صوبے کی ذمہ داری ہے
“واہ واہ!! دہشت گردی کی جنگ کے لئے قریب 495 ارب رکھے ہیں!! غریب ملک نے یعنی تعلیم کے مد میں پورے سال کا بجٹ دہشت گردی کی جنگ کے ایک دن کے بجٹ کے برابر!!!”
تو کیا ہو!! ہر ایک کی اپنی اہمیت ہے!!!۔
“تو تمہارا خیال ہے جہالت کے اندھیروں سے پھوٹنے والی جنگ پر اربوں خرچ کرنا بہتر ہے مگر جہالت کو ختم کرنے کے لئے کرچ کرنا اہم نہیں؟؟"
یار پتا نہیں تم کیا کہہ رہے ہو!!! خدا حافظ
سچ اور بوری
بیٹا ہمیشہ سچ بولا کرو، کیونکہ جو جھوٹ بولتا ہے اُس کی زبان کالی ہو جاتی ہے۔
"بس رہنے دیں!!! امی جو سچ بولتا ہے اُس کی بوری بند لاش ملتی ہے"
32 سال کی محلت
بس یار نہ پوچھ! واقعی پریشان ہوں
“کیوں کیا ہوا"
یار وہ بھٹو کا کیس کھل گیا ہے اُس پر پریشان ہوں
“کیوں کیا تیرا نام بھی قاتلوں میں ہے کیا"
ابے نہیں یار مین تو تب پیدا بھی نہیں ہوا تھا یہ 32 سال پرانا کیس ہے اور میں تو صرف 29 کا ہوں
“تو پھر تجھے کیا مسئلہ ہے"
یار میں یہ سوچ کر پریشان ہوں اس کا مطلب یہ ہے کہ بڑے صاحب نے بی بی کے قاتلو.ں کو بھی 32 سال کا وقت دے دیا ہے۔
“کیا! کیا! کیسے"
یار دیکھ نان اگر ایک بھٹو کا کیس کو 32 سال بعد دوبارہ کھولا ہت تو دوسرء اور تیسرے بھٹو کے قاتلوں کو بھی تو 32، 32 سال ملیں گے
"اوئے اوئے! یہ دو بھٹو اور کہاں سے آ گئے؟"
بی بی اور اُس کا بھائی!!!
“اوہ"
غریب، برگر بچے اور انقلاب
“غریب بہت ہی غریب ہوتا ہے، اُس کے پاس پینے کو Nestle کا پانی بھی کم مقدار میں ہوتاہے، وہ پیسے بچانے کے لئے Nestle کی بڑی بوتل خریدتا ہے، یہاں تک کہ ذیادہ گرمی میں وہ جوس پینے کے بجائے اس پانی پر ہی گزارہ کرتا ہے، غریب کے پاس ایک ہی گاڑی ہوتی ہے، اُس کا گھر بھی چھوٹا ہوتا ہے، غریب کے گھر میں سب سے ذیادہ مظلوم اُس کی بیوی ہوتی ہے کیوں کہ وہ بیوٹی پارلر بھی کم ہی جاتی ہے، اور اُسے کئی سوٹ دس سے پندرہ بار سے ذیادہ پہننے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں۔ غریب نہ صرف خود غریب ہوتا ہے بلکہ اُس کے نوکر، ڈرائیور، مالی، باورچی اور چوکیدار تک غریب ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں مل کر غربت کے خاتمے کے لئے اپنی جدوجہد کرنے چاہئے"
ہم سوچتے تھے کہ غریب کے لئے جدوجہد ایسے مضامین لکھنے والے ممکنہ بچے کیسے جدوجہد کریں گے؟ تب ہم نے ایک ایسے ہی بچے کی انقلاب کی کاقش سے متعلق یہ ویڈیو دیکھی آپ سے جانے کہ انقلاب کیوں نہیں آ رہا!!
“جلسے کے لئے آپ دیکھے ہماری بہنوں، mothers کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ہم سارے اچھی فیملی کے لوگ ہیں، ہم سڑکوں پر آئے ہیں نعرہ لگانے کے لئے، عمران خان کے لئے، ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہیں، ہمیں دھکے دے رہی ہے، ہم انقلاب کے لئے آئے ہیں، اپ کے ملک کے لئے آئے ہیں، ہر بندہ اپنے ملک کے لئے نکل کر آیا ہے، اس گرمی میں کون اتنا جلوس کرتا ہے؟ پولیس والے ہمیں دھکے دے رہے ہیں! کس کے لئے؟ ایک انگریز کے لئے! ریمنڈ ڈیوس کے لئے؟ لاہور میں وہ خون خرابے کر کے بھاگ گیا اپنے ملک! ہماری عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا ہوا؟ اتنا انصاف تو کسی میں نہیں ہے! ہم سارے سڑکوں پر آئے ہیں، ہمارے گھروں میں بھی پردے ہوتے ہیں! ہماری عورتیں بھی پردے کرتی ہیں مگر جب انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے گھر میں ہر بندہ نکل آتا ہے۔ کیوں؟(لوگوں سے سوال) میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ میں صحیح بول رہا ہوں ناں؟ (آوازیں : جی جی) سارا بندہ نکل آتا ہے! سر ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہے ہم انقلاب کیسے لائے گے؟ آپ بتائیں! آپ میڈیا والے ہیں آپ ہمارے ساتھ اگر ہوں گے تو تب انقلاب آئے گا! اگر پولیس والے ہمیں مارے گے نہیں تب انقلاب آئے گا! آپ دیکھے عمران خان اُس کا کیا ضرورت ہے؟ وہ تو بہت امیر بندہ ہے، وہ اوپر کھڑا ہوا ہے وہ بھی جلسے جلوس دے رہا ہے اُس کو بھی دھکے لگ رہے ہیں۔ ہر ببدے کو Left, Right, Central دھکے دے رہے ہیں! یہ میرے بھائے گرمی میں خراب ہو گئے ہیں! ہمیں کوئی ضرورت ہے یہاں آنے کی"
کر لو گل!!! اے کی اے؟؟؟ مجھے ذاتی طور پر اس لڑکے کے خلوص پر شبہ نہیں! یہ سچے جذبے سے ممکن ہے سرشار ہو مگر زندگی کی حقیقت نے نا واقف ہے!!
ممکن ہے ایسے ہے پولیس کی دنڈے کے ڈر سے انقلاب سے بھاگنے والے کارکنان سے مایوس ہو کر عمران خان نے لندن والی سرکار کو فون کیا ہو "پیر صاحب! ہمارے بندے تو پولیس سے جان کی امان مانگتے ہیں وہ منتر مجھے بھی دے دو جس سے آپ کے کارکنان پولیس کو جان سے آہو!!!!”
اپ ڈیٹ:- اس جذباتی جذبے والے لڑکے کا رد عمل:
اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟
“تو آپ لوگ وکیل ہیں"
ہم "جی جناب، کوئی قصور اس میں ہمارا؟"
رکشہ والا "نہیں جناب قصور آپ کا کیا ہونا ہے، مین نے تو ویسے ہی پوچھ لیا کہ آپ نے ابھی پولیس والوں کو اپنا تعارف کروایا تھا ناں اس لئے"
ہم "اچھا"
رکشہ والا "ویسے صاحب میں مکمل ان پڑھ بندہ ہو مگر یہ جانتا ہوں کہ جس کو قانون آتا ہے ناں وہ بڑا تیز بندہ ہوتا ہے، دوسرا ہم تو ویسے ہی وکیل کا گرویدہ ہے"
ہم "یار گرویدہ تو ہم ہے آپ لاہوریوں کے آپ نے جو ڈیوس کو پکڑا"
رکشہ والا "صاحب ہم نے کیا پکرنا تھا، اُس کی قسمت ہی بری تھی قابو آ گیا"
ہم " نہین یار بڑا کام کیا تم لوگوں نے"
رکشہ والا "صاحب ویسے ایک بات ہے جب سے وہ پکڑا گیا ہے ناں ایک عجیب سا اطمینان ہے اندر، یہ پولیس والے بھی اب مطمین نظر آتے ہیں ذیادہ تنگ نہیں کرتے ورنہ پہلے تو بہت سوال کرتے تھے"
ہم " کیا اطمینان؟ اور پولیس والے کیسے مطمین ہو گئے؟"
رکشہ والا " ارے صاحب، جب کوئی مجرم مکمل ثبوت کے ساتھ پکڑا جائے اور مناسب تشہیر سے یہ احساس ہو کہ اسے قرار واقعی سزا ہو گی تو ہم غریبوں کو اندر سے اطمینان ہوتا ہے کہ انصاف ہو گا، اور پولیس بھی اچھی لگتی ہے محافظ معلوم ہوتی ہے ورنہ تو دشمن۔ صاحب اُس دن سے ہمارا روزگار بھی بڑھا ہے"
ہم "کیا بات ہے آپ تو بہت گہری باتیں کرتے ہوں"
رکشہ والا "ارے صاحب کیوں مذاق اُڑاتے ہوں"
آج ریمنڈڈیوس کی رہائی کی خبر سن کو جو دوسرا شخض ہمارے ذہن میں آیا وہ وہی رکشہ والا تھا۔۔۔۔ اب سوچتا ہوں اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟ اور سچی بات بتاؤ اب تو خود مجھے بھی عدم تحفظ کا احساس ہو رہا ہے کیا معلوم کب کہاں کوئی ریمنڈڈیوس کسی گاڑی سے مجھ پر بھی فائر کر دے؟
دلچسپ قصہ
پھر اُس سے مخاطب ہوا "سر میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے"
وہ شخصیت کچھ تذذب کا شکار ہوئے اتنے میں اُن کے برابر میں بیٹھے اُن کے اسسٹنٹ حرکت میں آئے اور اُن شخصیت کے بارے میں گویا ہوئے "یہ 'فلاں' شخص ہیں"
وہ بندہ بولا "نہیں میں نام سے نہیں شکل سے پہچان رہا ہوں"
(اُس وقت میری ہنسی چھوٹنے والی تھی مگر عدالت کے احترام میں خود پر قابو پانا پڑا)
وہ پی اے پھر گویا ہوا "یہ سابق چیف منسٹر سندھ رہ چکے ہیں! وہ فلاں فلاں وزارت بھی ان کے پاس رہی ہے"
وہ اُس بندے نے کہا "اچھا اچھا تب ہی ان کی شکل کچھ دیکھی دیکھی لگی، ٹی وی پر دیکھا ہو گا پھر، سمجھ گیا!! ابھی والے چوروں سے پہلے آپ کو بھی ایک موقعہ مل چکا ہے"
(یہ سننا تھا اور میں عدالت سے باہر آ گیا وجہ صاف تھی میرے لئے اب ہنسی کو قابو رکھنا ممکن نہیں ہو رہا تھا)