اور سڑک بن گئی!!!!

یہ قریب بیس سال قبل کی بات ہے میرے رہائشی علاقے ماڈل کالونی کی ایک نہایت مصروف سڑک ماڈل کالونی روڈ مکمل طور پر تباہ تھی۔ ہم یار دوست اکثر مذاق میں کہتے کہ جس نے جھولے لینے ہیں وہ بائیک لے کر اُس طرف چلا جائے۔ مگر پھر ایک دن صبح صبح اس سڑک پر کارپیٹنگ ہوئی ہوئی تھی مکمل سڑک نئی نئی سی معلوم ہوتی تھی دیکھ کر حیرت اس لئے ہوئِی کہ ایک دن قبل جب وہاں سے گزر ہوا تھا تو "جھولے" لے کر آئے تھے مطلب سڑک خستہ حالت میں تھی۔ معلومات لینے پر معلوم ہوا کراچی کی مشہور زمانہ پارٹی کے لیڈران نے ایک جلسہ کی سلسلے میں تشریف لانا تھا س لئے ایک ہی رات میں انتظامیہ نے "فرض شناسی" کا ثبوت دیا جو اہل علاقہ کے لئے چند دنوں کی "سہولت" کی شکل میں برآمد ہوا۔
تب یہ جانا کہ اگر آپ کے علاقے میں بہتری چاہے وقتی یا مستقل ان "جلسوں" کے مرہون منت ہوتی ہے جن کے سبب انہیں آپ کے محلے آنا پڑے۔ یوں وہ سڑک ہر جلسے و سیاسی ایکٹیوٹی پر "نئی " سی ہو جاتی مگر اب پھر دو سالوں سے وہ دوبارہ اجڑی ہوئی ہے۔
قریب ڈھائی سال قبل عمرکوٹ میں تعیناتی ہوئی تو میرپور خاص سے عمر کورٹ تک کی روڈ کی حالت زار دیکھ کر افسوس بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا کہ یہ ہماری صوبائی حکومت کام کیوں نہیں کرتی۔ مگر ڈیڑھ ماہ قبل اس سڑک کی قسمت جاگی اور یہ سڑک بہتر انداز میں کارپیٹ ہونا شروع ہوئی چونکہ سیاسی جماعتوں کے جلسے پہلے بھی ہوتے رہے مگر اس روڈ کی حالت جوں کی توں رہی اس لئے اول خیال یہ آیا کہ ممکنہ طور پر یہ الیکشن سے قبل کیا جانے والا کام ہے مگر جب گزشتہ اتوار مقامی رہنما کے بیٹے کی شادی میں شرکت کے لئے مختلف "رہنماؤں" اور خاص کر صوبے کے حاکم جماعت کے تمام وہ لیڈر جن کا تعلق سندھ سے تھا کی آمد ہوئی تو معلوم ہوا یہ "ترقیاتی پروجیکٹ" اس شادی کی بدولت ہے۔
ایسی ہی خبر اس سے قبل لاہور سے "بنت مریم" کے گھر اپنی والدہ کی آمد پر تعمیر کی جانے والی سڑک سے جڑی ہے۔ یوں یہ بات پکی ہو گئی ہے کہ ہمیں اپنے اپنے علاقے کی بہتری کے لئے یقین کوئی ایسی ہی تقریب رکھنی پڑے گی ورنہ کوئی امید بر نہیں آتی۔

سیاست کا دل اور دماغ

یار لوگوں کو اعتراض ہے! یہ کیا ہو گیا؟ وہ گئے اُن کے در پر جن کو وہ دُھتکارتے تھے! وقت وقت کی بات ہے! اور ہر بات کا ایک وقت ہوتا ہے۔
چوہدری کو مزارعوں پر حکومت کرنے کو علاقے کے بدمعاشوں و غنڈوں کا ساتھ چاہئے ہوتا ہے! اب یہ ساتھ وہ چاہے اُن کو اپنے ڈیرے کر بلا کر حاصل کرے یا خود اپنے بندے اُن کے ٹھکانے پر بھیج کر!! اور بدمعاش کو تو اپنی جان بچانی ہوتی ہے کل کو وہ اپنے فائدہ و قانون کے شکنجے سے بچنے کو جس کے لئے بدمعاشی کرتا تھا ،آج خود اپنے لئے کسی اور کا اتحادی بن کر پہلے کے خلاف کام کرتا ہے!! کیا کرے ،جان کی امان اور روزی روٹی کا معاملہ ہے۔ سیاست کے سینے میںایسا دل ہوتا ہے جو صرف اپنے لئے دھڑکتا ہے اور دماغ وہ جو اپنے بارے میں سوچتا!!
اصول زندگی کا حصہ ہوتے ہے اور اصول یہ ہے کہ اپنے فائدہ کا سوچوں !

دھاندلی کی کارکردگی!

ہیلو یار کہاں تک کام پہنچا!
“سر کام جاری ہے”
جلدی کرو آگے نتیجہ بھی دینا ہے بھائی بے چین ہے!
“سر ساتھی لگے ہوئے ہے”
اچھا ٹھیک ہے چلو یہ بتاؤ کتنے کا عدد آگے دو! کچھ تو کارکردگی دیکھاؤ آگے
“سر میرے پاس سوا لاکھ پرچی ہے! بارہ بجے تک ہم سب ساتھ ضرور کام مکمل کر لیں گے!”
تو میں آگے یہ پھر سوا لاکھ کا نمبر دے دوں؟
“سر دوسروں کا خیال نہیں کرنا کیا، کہیں عجیب سا رزلٹ نہ لگے؟”
ت کیا چاہتا ہے! کیا منہ دیکھائے گا تو بھائی کو ! اچھا یار میں آگے یہ فیگر دے رہا ہوں! لوگوں نے گھر جانا بھی ہے! اور اتنی پرچیاں میں یہاں سے الگ کروا دیتا ہوں، اپنی پرچی جتنی جلدی ہو بھیجو”
“ٹھیک ہے!”

(یہ ایک خیالی تحریر ہے! اس سے کسی بھی قسم کی مماصلت دراصل الہام ہو گا)

ہرتال سے سوگ تک؟

ایک دور تھا شہر میں زندگی مفلوج کرنے کو شام پانچ چھ بجے کے بعد ہر علاقے میں ایک دو دکانیں یا بس جلا دی جاتی! یوں یہ حکمت عملی اگلے دن زندگی مفلوج کر دیتی اور سیاسی جماعت اپنے “زور بازو” سے شہر کی نمائندہ جماعت بن کر اپنا سیاسی قد بھی اونچا کر لیتی اور عوام کے خوف کو وہ “عوامی حمایت” بتا شہر کی نمائندہ جماعت بتاتے ! فارمولا ا س قدر کامیاب ہوا کے بعد میں آنے والوں میں نہ صرف اس کو اپنایا بلکہ پرانے نمائندہ نے شہر میں اپنی کم ہوتی “مقبولیت” کو اس ہی فارمولے سے بچانے کی کوشش کی! یوں جمہوریت کا یہ حُسن بھی اہل شہر کے سامنے آیا کہ بدمعاشوں کا خوف ہی مینڈیٹ ٹھہرا!اور یوں کامیاب ہرتال کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت وقت سے منظور ہو جاتے تھے۔
اب خود حاکم ہو کر آئے ہیں! اب میڈیا کا دور ہے! میڈیا والوں سے یاری بھی پکی ہو گئی ہے! پہچان میں آ کر بھی نا معلوم ہوتے ہیں۔ حاکم ہرتال نہیں کرتے مگر کیا کرے مینڈیٹ تو زندگی مفلوج ہوتا ہے لہذا سوگ کا اعلان کر کے مینڈیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ خوف کی تشہیر کو میڈیا جو ہے ، جان کی امان کو سب گھروں میں مقید ہو جاتے ہیں۔
سوگ کا اعلان کرنے والے مانے یا نہ مانے یہ سوگ دراصل خود ان کی زبانی اپنی نا اہلیت کا ثبوت ہے۔ آپ پانچ سال حکومت میں رہے جب سندھ کی حکومت میں آپ کو حصہ نہیں مل رہا تھا تو آپ نے شہر کو آگ لگا کر بلیک میل کر کے حصہ لیا۔ ہمارا کراچی جیسا نعرہ لگایا! شہر آپ کی جاگیر رہا اب اگر جل رہا ہے تو آپ مانے کہ یہ آپکی نا اہلی ہے یا پھر یہ ہی آپ کی اہلیت ہے۔ بڑوں سے سنا ہے اپنی نالائقی پر افسوس کرنا واجب ہے مگر یہ افسوس خود تک محدود ہونا چاہئے نہ کہ سوگ کو پورے شہر پر مسلط کیا جائے۔
گیارہ مئی فیصلے کا دن ہے خدا کرے بارہ مئی کا سورج کراچی کے اعتبار سے کراچی کے دشمنوں کے لئے ایسا ہی ہو جیسا کبھی اُن کے ہاتھوں اہل شہر نے بھگتا تھا!

خرچہ الیکشن!

آؤ جی جناب کیسے ہیں جناب!
“یار الیکشن کے سلسلے میں آیا ہوں”
سر ہم حاضر ہیں ہم آپ کو ہی ووٹ ڈالیں گے پریشان نہ ہوں
“ابھی ووٹ کے لئے نہیں آیا کسی اور کام سے آیا ہوں”
جی جی بھائی حکم!
“دیکھو گزشتہ تین سال سے میرا آپ سے ایک تعلق بن گیا ہے جو کام آپ تین سال سے کرتے آ رہے ہو ناں اُس کا اُلٹ آپ نے ان تین ماہ میں کرنا ہے”
مطلب کیا کرنا ہے؟
“یار پہلے سرکاری تقریبات کے اخراجات میں آپ ہر چیز و معاملے کی رسید اصل خرچے سے ذیادہ کی دیتے تھے ناں”
جی بھائ
“ہم نے آپ کا خیال کیا تھا تب بھی اب بھی کرے گے”
بھائی آپ حکم کرے
“بس اب کے رسیدوں میں چیزوں کی قیمت آدھی اور کبھی اُس سے بھی کم لکھ دینا”
بھائی وہ تو ٹھیک ہے مگر ۔۔۔۔
“یاراصل قیمت سمیت تیرا کمیشن تجھے مل جائے گاا بس اُس کی تصدیق کر دینا کر دینا کہ رسید والے چارجز درست ہیں جب الیکشن کمیشن والے آئیں! ویسے وہ نہیں آئیں گے! “
جو حکم بھائی کوئی مسئلہ نہیں!

نوٹس ملیا تے کراچی ہلیا

کون نہیں جانتا کہ سیاست دان جو کہتا ہے وہ نہیں کرتا!! اور بدمعاش اپنے “کارکنان” کو جب صبر کی تلقین کرنے کو کہے تو مطلب جو ہوتا ہے اُس کو اہل شہر پندرہ منٹ میں جان جاتے ہیں اور باقی ملک اُس کا گواہ بن جاتا ہے۔ِ
اہل علم نے بتایا ہے کہ امن دو جنگوں کا درمیانی وقفہ ہوتا ہے اِن اہل دانش کے دور میں “ہمارا کراچی” جیسا شہر نہ تھا تو ایسے شہر میں ٹیلیفوں پر خطاب بھی نہیں ہوتا تھا ، سائنس نے اتنی ترقی جو نہ کی تھی، ورنہ تو ماہرین بتا دیتے کہ امن کی ایک قسم وہ ہے جو ٹیلیفونک خطاب سے صبر کی تلقین سے پہلے پائی جاتی ہے۔
طاقت کا حصول طاقت ہی کے مرہون منت ہوتا ہے؟
طاقت دیکھانے والا سامنے والے کو خوف میں مبتلا کرتا ہے! خوف میں مبتلا ہونے والا کوئی بھی ہو ڈھیر تو ہو سکتا ہے، ہار تو مان سکتا ہے مگر یہ ممکن نہیں ہے کہ خوف جان و مال میں مبتلا کرنے والے کو چاہے۔ عوام کو خوف سے آزاد کرنا اور رکھنا منتخب نمائندوں کا کام ہے اور جو انہیں اس خوف جان و مال میں ڈال دیں وہ حاکم نہیں قابض ہوتے ہیں۔
خود دیکھیں کون قابض ہے!
قابصین عدالتوں کا احترام نہیں کرتے بلکہ عوام کو حراساں کر کے منصفوں کو بلیک میل کرنے کی کاوش کرتے ہیں!

زندگی مفلوج ہو تو زندگی محفوظ ہے!!!

دہشت گردی کا خطرہ  ہے! دہشت زدہ کون ہے؟ حکومت  چلانے والوں کو حکمرانی تب ہی زیب دیتی ہے جب وہ بے خوف ہو۔ اگر صاحب اقتدار ہی  خوف میں مبتلا ہوں تو عوام کا بے خوف رہنا کم ہی ممکن ہوتا ہے۔ بڑے بتاتے ہیں کہ جب 1965 میں پڑوسیوں سے  لڑائی ہوئی تو اُس وقت کے گورنر نے تاجروں کو  کہا کہ بازار بند نہ ہوں، اشیاء عوام کی پہنچ سے دور نہ ہوں تو عوام سرحد پر ہونے والی جنگ کے خوف سے بے نیاز لاہور شہر کی گلیوں میں موجود تھی اور فضاء میں جنگی جہازوں کے آپسی مقابلوں کو یوں دیکھتی تھی  جیسے بسنت سے لطف اندوز ہو رہی ہو۔
زمانہ بدلہ حاکم بدلے! بدلا اصول حکمرانی! پہلے شکایت تھی حکمران حکومت کے لالچی ہیں! کم ہی نے اُنہیں نااہل کہا اور اُن سے بھی کم نے انہیں کرپٹ!! اب کون ہے جو اہل ہو، چلو نااہل ہی سہی مگر کرپٹ نہ ہو؟
آپ نا اہلیت کی انتہا دیکھیں! کہ حل یہ نکالا گیا ہے کہ سب کچھ ٹھپ کر کے رکھ دیا جائے نہ کچھ ہو گا نہ کچھ خراب ہو گا!! شاباش ہے ایسے حکمرانوں کے! موبائل بند، موٹر سائیکل بند، بازار بند،  ماشاءاللہ۔
اب یہ حال ہے کہ دہشت گردی کے مجرم اگر پکڑے گئے تو اِن کی حکمت عملی سے نہیں  بلکہ اپنی ناکس حکمت عملی کے باعث پکڑ میں آئیں گے۔ اب ان کا ایک ہی کمال باقی رہ گیا ہے وہ ہے بے شرمی۔ جن کی مدد سے یہ جمہوری  حکومت    کے پانچ سوال  پورے کریں گے! یہ کارنامہ ہے کافی ہے اب ان پانچ سالوں عوام کا کیا ہو گا، ملک کا کیا ہو گا یہ ان کا درد سر نہیں!! بس ان دوہرے چہرے والے دوہرے کردار والوں کو بس دوہری شہریت کی منظوری چاہئے!!

جمہوریت کی پٹری

اجی کچھ سنا تم نے؟
ارے کیا سنانے چلی ہو اس عمر میں
ہمسائی بتا رہی تھی ایم کیو ایم پھر حکومت میں شامل ہو رہی ہے، اپنے غداری نے اُنہیں آفر کی ہے آ جاو
ہاں میں نے بھی سنا ہے کچھ ایسا 
کیوں کیا مزرا کا بولا سچ نہیں ہے کیا؟ کیا وہ لندن والا ملک نہیں توڑ رہا؟
ہو سکتا ہے توڑ رہا ہو، مگر جمہوریت کو پٹری پر رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم ملک کر کھائے اوہ مطلب ملک کر حکومت میں رہے۔
اجی اس عمر میں کیا بہکی بہکی باتیں کرتے ہو، جمہوریت ملک سے ذیادہ اہم ہے کیا؟
مجھے کیا معلوم؟ مگر دیکھ لو جمہوریت کو نقصان ہو تو سب تو تکلیف ہوتے ہے ملک کی کسی کو کیا فکر آج اہم سیاست ہے ریاست کی فکر کو رہاستی کرتے ہیں ناں۔
مطلب؟
مطلب سادہ ہے، پاکستان میں پاکستانی ہوتا تو فکر کرتا ناں جہاں پنجابی، سندھی، بلوچی، پچشتوں، سرائیکی، مہاجر اور ناں معلوم کون کون رہ رہا ہوں وہاں توجمہوریت ہی اہم ہو گی ناں۔
کیا کہہ رہے ہو؟

نوبت یہاں تک کیوں آن پہنچی

ایک اب تک کی غیر مصدقہ خبر چونکہ غیر مصدقہ ہے اس لئے آپ اسے افواہ کہہ لے یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں واپسی کی شرط یہ رکھی تھی کہ ذوالفقار مرزا سندھ کی سیاست سے آؤٹ ہو جائے اور اس ہی شرط کو پورا کرنے کے لئے آصف علی زرداری نے گذشتہ تین چار (جب کراچی میں گیلانی صاحب آئے تھے اور رحمان ملک پر مرزا صاحب پھٹ پڑے تھے تب سے) روز سے ذوالفقار مرزا کو اپنے پاس بلا کر بٹھا رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا موبائل فون بھی اُن سے لے لیا تھا! اور اُنہیں اُن کی پسند کے ملک میں سفیر بنانے کی پیش کش ہوئی مگر مرزا نہ مانے تو استعفی مانگ لیا اور مرزا نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ نہ نگلے بنے اب اور نہ اگلے!
ذولفقار مرزا نے اس پریس کانفرنس کی تیاری کن کے ساتھ کی یہ ایک الگ معاملہ ہے! اور جو مواد دوران پریس کانفرنس اُن کے پاس تھا وہ تفتیشی مواد وہ ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے یہ ایک الگ قانونی بحث ہے۔ اُن کے تمام الزامات یوں بھی غلط ثابت کرنا ایم کیو ایم کے لئے ممکن نہیں کہ ان کے تمام دستاویزی ثبوت درحقیقت اُن کے پاس تھے سوائے ایک الزام کے جو انہوں نے سب سے اخر میں قرآن پاک کو اپنے سر پر رکھ کر لگایا۔ ایم کیو ایم و الطاف کا امریکی مدد سے پاکستان توڑنے کا! اس پر امریکی وضاحت بھی جلد آ جائے گی

ٹونی بلیر کو لکھا گیا الطاف حسین کا خط

آج اپنی تباہ کن پریس کانفرنس میں ذولفقار مرزا نے الطاف حسین کے ٹونی بلیر کو لکھے گئی جس خط کا حوالہ دیا ذیل میں اُس کی کاپی آپ سے شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں انہوں نے کیا مطالبات کئے وہ پڑھ لیں!


خبر ہوئی کیا خبر ہے؟

شہر میں افواہ چل رہی ہو تو تمام نہ سہی یار لوگ کہتے ہین کچھ تو سچ ہوتا ہے ہے۔ اب کیا کریں کہ ایک خبر کے ساتھ ہی وکلاء برادری میں بھی افواہ چل پڑی ہے! خبر کیا ہے؟
خبر یہ ہے کہ جناب سندھ ہائی کورٹ کے جسٹس محترم طفیل ایچ ابراہیم صاحب نے استعفی دے دیا ہے! خبر میں "حقیقی" و "آفاقی" حوالہ تو ہے مگر یہ نہیں بتایا گیا کہ محترم کے پاس "اہلیان کراچی" اور "کراچی لورز" نامی دیواری چاکنک کے اصل ماں باپ کے مخالف کے کیس کی نہ صرف تنسیخ کی درخواست دائر ہے بلکہ ضمانت بھی مانگی گئی ہے۔ "آفاق" میاں گزشتہ آٹھ دس سال سے جیل میں ہیں باقی کیسوں مین ضمانت مل چکی مگر اب ایک ہی کیس رہ گیا ہے! اب جبکہ 21 اپریل کے گزٹ میں یہ قانونی ترمیم متعارف ہو چکی کہ اگر قتل کے کیس کے مجرم کا مقدمہ دو سال مین ختم نہیں ہوتا تو اُسے ضمانت پر رہا کر دیا جائے گا۔
اب افواء عام ہے کہ محترم جسٹس صاحب کی ذاتی وجوہات دراصل "خطرہ جان ہے" کیونکہ ضمانت تو بنتی ہے مگر جو "بیان" پر مشتعل ہوتے ہیں، شہر میں مئی کے مہینے میں "عوامی طاقت" کا مظاہرہ کرتے ہیں! اُن کا پریشر جسٹس صاحب برداشت نہ کر سکے!
سچ کیا ہے یہ تو اللہ ہی جانتا ہے۔ ہم تو بس افواہ کی بات کر رہے ہیں۔

اپ ڈیٹ؛ لیں جناب ایک اور جج نے کیس کی سماعت سے انکار کر دیا۔ یہ ہے مافیا کی طاقت خاص کر جب وہ سیاست میں بھی ہو اور اقتدار کا حصہ بھی۔ مگر لوگ ہیں کہ مانتے ہی نہیں۔

اے لڑکی تو روتی ہے؟ دختر کراچی کے نام۔۔۔

اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
وہ باپ جو سر کا سایہ تھا
جو تم سب کا سرمایہ تھا
قربان ہوا زرداروں پر
عصبیت کے دلالوں پر
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
جو باپ سراپا شفقت تھا
جو الفت کا ایک پیکر تھا
اب لوٹ کے گھر نہ آئے گا
بس تم سب کو تڑپائے گا
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ہاں تیری یہ آہ و فغاں
چلی ہے سوئے آسماں
سارے شہر کے بام و در
انسانیت پہ نوحہ خواں
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
یہ سسکیاں، یہ ہچکیاں
کیسے سنیں صاحب صدر
سب ساتھ ہیں قاتل انہی کے
کیسے ہو انصاف ادھر؟
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے
.
ذرداری، الطاف و اسفندیار ہیں
خون ناحق پہ سبھی تیار ہیں
ان سے ناطہ توڑ لو، لوگو سنو
ورنہ یونہی خوف و دہشت میں جیو
.
اے لڑکی تو روتی ہے؟
کیوں اپنے باپ کو روتی ہے


وقاراعظم (اردو بلاگر و شاعر

حلالہ

"ابے  کچھ جانا تم نے کیا ہو رہا ہے اب"
کیا ہوا بے؟
"ابے اب کے لندن والی سرکار نے  حکومت سے علیحدگی کے بعد واپسی کے تمام امکانات کو رد کر دیا ہے"
تو یہ تو پرانی بات ہو گئی کوئی نئی بات بتاو
"نئی بات یہ کہ  اب لندنی گدھی نشین اگلے الیکشن کے بعد ہی مسند اقتدار میں آنا ہے"
مشکل ہے یہ
"کیا مشکل ہے؟"
اتنا لمبا وقفہ۔
"تو پھر کیا ہو گا"
حلالہ
"مطلب؟"
جناب  چھ بار کی علیحدگی کے بعد تو اب تجدید نکاح پر واپسی نہیں ہو سکتی اب کے تو حلالہ ہی کرنا پڑے گا وہ بھی ابے خصم کے دشمن یعنی مسلم لیگ نون سے
"ابے ابے مسلم لیگ نون سے کیوں؟؟ اپنے مولانا ڈیزل سے کیوں نہیں اگر حلالہ کرنا ہی ہے تو؟"
تو بھی بچہ ہے مولوی  نکاح کروانے کے لئے ہی ٹھیک رہتا ہے اُس سے نکاح کرلو تو چھوڑتا نہیں اگر چھوڑ دے تو کہیں کا نہیں چھوڑتا اب دیکھ لو مولانا نے قاضی کو کہیں کا چھوڑا جبکہ وہ قاضی تھا
"کیا بات ہے بھائی تو اب حلالہ کا انتظام ہو رہا ہے کہ انتظار ممکن نہیں۔۔ہمم"


طالبانی لیگ

"اوئے کچھ سنا تو نے؟"
کیا ہوا؟
"سنا ہے شہباز شریف پنجاب کا خادم اعلی طالبان بن گیا ہے"
کیوں؟ کیا اُس نے کہیں خود کش حملہ کر دیا کیا؟
"نہیں کہتا ہے ہمارا اور طالبان کا دشمن ایک ہے لہذا طالبان ہم پر حملہ نہ کریں"
مشترکہ دشمن؟ کون
"امریکہ کا ذکر کیا تھا اُس نے"
اچھا بڑا لعنتی ہے؟ امریکہ کو دشمن سمجھتا ہے!۔
"ہاں ناں"
چلو خیر ہے اُسے یہ تو پتہ نہیں چلا ناں طالبان کون ہیں؟

مستقبل سے کھیلنے کی قیمت

"بھائی آج پارک میں کیا کر رہے ہو؟"
"کچھ نہیں دیکھو معصوم بچے کتنے پیارے لگتے ہیں ناں یوں کھیلتے ہوئے"
"ہاں ماشاءاللہ، عمر کا یہ حصہ زندگی کا بہت پیارا دور ہے"
"یہ ہماری قوم کا مستقبل ہیں"
"بلکل"
" میں سوچ رہاں ہوں وہ ظالم جو اب معصوموں کا برین واش کر کے دہشت گردی میں استعمال کرتے ہیں کیسے سخت دل ہیں اُن کے اپنے بچے نہیں ہوتے"
"بھائی کہتے تو تم ٹھیک ہوں بس دعا کرو رب ہمارے بچوں کو انسان دشمنوں سے بچائے"
"آمین"
"اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری غیرتوں کو جگائے کہ ہم اپنے بچوں کی جانوں و خوشیوں کی قیمت وصول کرنے سے انکار کر سکے"
"کیا مطلب ہے تمہارا؟ ہہم نے کون سی قیمت وصول کی ہے؟"
"ہم نے کئی طرح سے اور کئی شکلوں میں قیمت وصول کی ہے"
" مثًلا"
" مثال کے طور پر افغان وار میں جہاد کے نام پر کئی سیاسی مولویوں نے اُس وقت کی نسل سے مجاہدین کی کھیپ کے نام پر فی نوجوان قیمت وصول کی"
" وہ ایک اسلامی فریضہ تھا، نوجوان اُس وقت خود جہاد کے لئے جاتے تھے"
" جاتے ہوں گے مگر سب نہیں، تم خود مطالعہ کر کے دیکھ لو"
"یہ ایک اختلافی مثال ہے کوئی اور مثال دو"
”چلو ٹھیک ہے، ہم نے سیاسی جماعتوں خواہ وہ لسانی ہوں یا مذہبی یا کسی اور شکل کی، اُن کے اسٹودنٹ ونگ بنائے جنہیں اسلحہ و تشدد سے لیس کیایوں اپنے تعلیمی اداروں کو سیاسی تربیت کی جگہ کے بجائے غنڈوں و بد معاشوں کی آماہ گاہ بنایا، جو آج ایک ناسور بن چکے ہے"
”یار یہ کیا مثالیں ہے معاشرتی کمزوریاں و خامیاں ان کی وجوہات ہے، کبھی بھی سرکاری سطح پر ایسا کچھ ہم نے نہیں کیا"
”حکومتوں کی خاموشی، کو میں تو سرکاری سرپرستی ہی کہوں گا"
”یار کوئی تُک کی مثال دینی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اپنی یہ بکواس بند کرو"
”چلو حالیہ مثالیں دیکھ لو یہ ڈرون حملوں میں جو معصوم بچے مارے جاتے ہیں اُس پر حکومت کی خاموشی کہ انکل سام کے آگے شکایت نہ کی جائے کہیں کیری لوگر بل جیسی مونگ پھلی ملی بند نہ ہو جائے یہ بھی تو غیرتوں کا سو جانا ہے"
”وہ حادثاتً ہوتا ہے وہ بھی اُن طالموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جو ہمارے بچوں کا برین واش کر کے خود ہمارے خلاف ہی استعمال کرتے ہیں"
”اچھا وہ حادثاتً ہوتا ہے تو یہ جو ہم قیمت وصول کر کے شکریہ ادا کرتے ہیں سرکاری سطح پر یہ کیا ہے؟"
”کون کی قیمت وصول کی ہم نے اپنے ان پھولوں کی؟"
”ابھی تازہ تازہ قیمت وصول کی ہے آپ نے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ادائیگی کا محترم وزیر داخلہ صاحب نے، ممکن ہے کل ستائشی سرٹیفکیٹ بھی دے دیں کہ بچوں کو اونٹ ریس میں بہتر طور پراستعمال کیا ہے، پھر اعتراض پر بلیک واٹر کی طرح اس کے وجود سے انکاری بھی ہو جائے"
”تم لوگ بلاوجہ الزام لگاتے رہتے ہو تمہارے پاس بیٹھا وقت کی بربادی ہے، میں چلا"

خبر
لنک اول
لنک دوئم

کراچی والے بمقابلہ اُلو کے پھٹے!

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں تازہ تازہ وکیل بنا تھا ہمارے سینئر ہم سے وکالت کا کام کم لیتے اور متفرق کام ذیادہ!
یہ 2006 کے آخر کی بات ہے، جمشید ٹاؤن کے ناظم سے ایک طلاق نامہ کی تصدیقی سند لینی تھی ہماری ڈیوٹی لگائی گئی۔ ہم جا پہنچے اُن کے دفتر ! اُن سے تو ملاقات نہ ہوئی نائب ناظم سے ملاقات ہوگئی ہم نے اپنا مدعا بیان کیا انہوں نے بیٹھنے کو کہا، ہم اُن کے ساتھ بیٹھ گئے، اُنہوں نے اپنے پنجاب سے آئے ہوئے ایک دوست سے ملاقات کروائی کہنے لگے یہ ہمارے ساتھی بھائی ہیں فیصل آباد سے آئے ہیں وہاں قائد کے پیغام و ایم کیو ایم کی ترویج کے لئے کافی کام کر رہے ہیں ہم نے قابل ستائش نظروں سے دیکھا! یہاں یہ بتا دوں نائب ناظم صاحب نے ہم سے پوچھا آپ کا تعلق کہاں سے ہے تو ہم نے انہیں کہا تھا کہ ہم کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں! پھر ہم نے دوران گفتگو اُن سے پوچھا کہ آپ کتنی تنخواہ لیتے ہے؟ جواب آیا بھائی ہم تو قائد کے حکم پر عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، جواب متاثر کن تھا لہذا ہم نے سراہا! فنڈ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اُس کے ملنے و بہتر انداز میں خرچ کرنے کا کہا۔ جواب میں ہم نے مزید کریدہ تو اُن کے الفاظ کچھ یوں تھے "ہم تو قائد کے حکم کے مطابق بلا امتیاز فنڈ خرچ کرتے ہیں صرف اپنے علاقوں میں ہی نہیں بلکہ اقلیت کا بھی بہت خیال کرتے ہیں" ہم نے اُن سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے علاقے میں ہندو یا عیسائی آبادی ہے؟ تو جواب تھا نہیں۔ اقلیت کا مطلب پوچھنے پر اُن کے الفاظ تھے " یار جو ہمارے شہر میں غیر مہاجر رہتے ہیں"۔ ہم نے اُن سے اقلیت کے ان معنوں سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا! ورنہ ہم تو پاکستان میں صرف غیر مسلم کو ہی اقلیت سمجھ رہے تھے، یہ تقسیم و تعریف تو ذہن میں تھی ہی نہیں۔
اُس دن مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ" کراچی والا " کی تعریف پر پورا اترنے کے معیار بہت مختلف ہیں! بعد میں بھی مختلف واقعات اور ان "کراچی والوں" سے مختلف روابط میں یہ معلوم ہوا کہ بے شک آپ کی پیدائش کراچی کی ہو، آپ کی تعلیم کراچی کی ہو، آپ کے پاس کراچی کا Domicile ہو، کراچی کا پتہ آپ کے شناختی کارڈ پردرج ہو، آپ کا گھر کراچی ہو! آپ کا جینا مرنا اگرچہاس شہر میں ہو مگر آپ کراچی والے نہیں ہو سکتے!! آپ کیا ہو سکتے ہیں یہ جواب طلب سوال تھا! اب جواب مل گیا ہے،اور تازہ انکشاف سے معلوم ہوا کہ ہم "اُلو کے پٹھے" ہیں! ثبوت ذیل میں ہے۔




انوکھی دعا!

آپ کو خوشیا ں اتنی ملیں جتنی مشرف کو گالیاں!
آپ کی زندگی سے غم ایسے ختم ہوں جیسے پاکستان سے آٹا!
خدا اپ کو ایسا صبر عطا کرے جیسا اُس نے ڈاکٹر قدیر صاحب کو دیا ہے۔
خدا آپ کی قسمت قابلیت کی غیر موجودگی میں بھی ایسے بدلے جیسے زرداری کی!
خدا آپ کی کمزوریوں کو یوں آپ کے دشمن سے اوجھل رکھے جیسے نواز شریف کی کرپشن عوام سے اوجھل ہے۔
خدا کرے آپ کے ساتھی آپ کے گناہوں کو ایسے ہی دوسروں کے کھاتے میں ڈالیں جیسے الطاف بھائی کے کرتوتوں پر اُن کے کارکن ڈالتے ہیں۔
اور آپ کی قدروقیمت سپریم کورٹ کے ججوں جیسی نہیں! بلکہ پیٹرول و ڈیزل جیسی ہو!!
امین


انجمن حقوق کرپشن

این آر او ایسی ہدی بنا کہ نہ کھانے کا نہ اُگلنے کا، اس کے سب سے بڑے مخالف وہ بنے جنہوں نے سب سے ذیادہ فائدہ اُٹھایا۔ اب این آر او اُس مریض کا سا ہے جس کے نماز جنازہ کی تیاری بھی اُس ہی مولوی کے ذمہ ہے جس نے مریض کے بچ جانے پر شکرانے کے نفل پڑھنے کی خدمت انجام دینی ہے۔
مریض بچ پاتا ہے یا نہیں! مگر ایک بات ہے کرپشن نہیں مرتی! قانونی تحفظ ممکن ہے نہ ملےمگر قانون کی گرفت کا امکان بھی روشن نہیں ہے! !! کم از کم اس حکومت میں تو نہیں!
“کیا کرپشن پر ہمارا حق نہیں ہے؟ اوروں کا ہے!جب ایک کلچر بن چکا ہو! بلکل ہے! دیکھے جنہوں نے کیا، اب یہ کلچر بن گیا ہے، جونہیں کرتا وہ نقصان کر رہا ہے اپنا! ہزار میں سے ایک آدمی نہیں کرتا تو وہ نقصان کر رہا ہے اپنا" یہ الفاظ غصے یا مذاق میں کہے جائے تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر یہ الفاظ اس مملکت خداداد کے وفاقی وزیر کے ہیں! جناب سردار عبدالقیوم خان جتوئی کے! یقین نہ آئے تو ذیل میں ویڈیو دیکھ لیں! جناب کی ذاتی ویب سائیٹ کا لنک یہ ہے! کر لو رابطہ!


کر لو گل!! ویسے انہوں نے اپنی ویسے انہوں نے اپنی ویب سائیٹ کے پہلے پیچ پر لکھا ہے
As your MNA and Federal Minister for Defence Production I am dedicated to work hard for you, and for people of Pakistan .

اس کا مطلب کیا ہے؟؟