1/28/2010

مستقبل سے کھیلنے کی قیمت

"بھائی آج پارک میں کیا کر رہے ہو؟"
"کچھ نہیں دیکھو معصوم بچے کتنے پیارے لگتے ہیں ناں یوں کھیلتے ہوئے"
"ہاں ماشاءاللہ، عمر کا یہ حصہ زندگی کا بہت پیارا دور ہے"
"یہ ہماری قوم کا مستقبل ہیں"
"بلکل"
" میں سوچ رہاں ہوں وہ ظالم جو اب معصوموں کا برین واش کر کے دہشت گردی میں استعمال کرتے ہیں کیسے سخت دل ہیں اُن کے اپنے بچے نہیں ہوتے"
"بھائی کہتے تو تم ٹھیک ہوں بس دعا کرو رب ہمارے بچوں کو انسان دشمنوں سے بچائے"
"آمین"
"اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری غیرتوں کو جگائے کہ ہم اپنے بچوں کی جانوں و خوشیوں کی قیمت وصول کرنے سے انکار کر سکے"
"کیا مطلب ہے تمہارا؟ ہہم نے کون سی قیمت وصول کی ہے؟"
"ہم نے کئی طرح سے اور کئی شکلوں میں قیمت وصول کی ہے"
" مثًلا"
" مثال کے طور پر افغان وار میں جہاد کے نام پر کئی سیاسی مولویوں نے اُس وقت کی نسل سے مجاہدین کی کھیپ کے نام پر فی نوجوان قیمت وصول کی"
" وہ ایک اسلامی فریضہ تھا، نوجوان اُس وقت خود جہاد کے لئے جاتے تھے"
" جاتے ہوں گے مگر سب نہیں، تم خود مطالعہ کر کے دیکھ لو"
"یہ ایک اختلافی مثال ہے کوئی اور مثال دو"
”چلو ٹھیک ہے، ہم نے سیاسی جماعتوں خواہ وہ لسانی ہوں یا مذہبی یا کسی اور شکل کی، اُن کے اسٹودنٹ ونگ بنائے جنہیں اسلحہ و تشدد سے لیس کیایوں اپنے تعلیمی اداروں کو سیاسی تربیت کی جگہ کے بجائے غنڈوں و بد معاشوں کی آماہ گاہ بنایا، جو آج ایک ناسور بن چکے ہے"
”یار یہ کیا مثالیں ہے معاشرتی کمزوریاں و خامیاں ان کی وجوہات ہے، کبھی بھی سرکاری سطح پر ایسا کچھ ہم نے نہیں کیا"
”حکومتوں کی خاموشی، کو میں تو سرکاری سرپرستی ہی کہوں گا"
”یار کوئی تُک کی مثال دینی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اپنی یہ بکواس بند کرو"
”چلو حالیہ مثالیں دیکھ لو یہ ڈرون حملوں میں جو معصوم بچے مارے جاتے ہیں اُس پر حکومت کی خاموشی کہ انکل سام کے آگے شکایت نہ کی جائے کہیں کیری لوگر بل جیسی مونگ پھلی ملی بند نہ ہو جائے یہ بھی تو غیرتوں کا سو جانا ہے"
”وہ حادثاتً ہوتا ہے وہ بھی اُن طالموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جو ہمارے بچوں کا برین واش کر کے خود ہمارے خلاف ہی استعمال کرتے ہیں"
”اچھا وہ حادثاتً ہوتا ہے تو یہ جو ہم قیمت وصول کر کے شکریہ ادا کرتے ہیں سرکاری سطح پر یہ کیا ہے؟"
”کون کی قیمت وصول کی ہم نے اپنے ان پھولوں کی؟"
”ابھی تازہ تازہ قیمت وصول کی ہے آپ نے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ادائیگی کا محترم وزیر داخلہ صاحب نے، ممکن ہے کل ستائشی سرٹیفکیٹ بھی دے دیں کہ بچوں کو اونٹ ریس میں بہتر طور پراستعمال کیا ہے، پھر اعتراض پر بلیک واٹر کی طرح اس کے وجود سے انکاری بھی ہو جائے"
”تم لوگ بلاوجہ الزام لگاتے رہتے ہو تمہارے پاس بیٹھا وقت کی بربادی ہے، میں چلا"

خبر
لنک اول
لنک دوئم

4 تبصرے:

  1. طلبا کے تعلیمی اداروں میں سیاسی ونگ بنا کر جو ظلم نوجوانوں پر ڈھایا گیا ہے اس کی تلافی ممکن نہیں ہے ۔ اس نے نہ صرف پاکستان کو تعلیمی میدان میں لولا اور لنگڑا کر دیا ہے بلکہ تعصب اور جہالت کے ایک ایسے کلچر کو فروغ دیا ہے جو کینسر کی طرح پھیلتا جا رہا ہے حتی کہ جو شریف نوجوان واقعی پڑھنا چاہتے ہیں وہ بھی اپنے آپ کو مجبور اور بے بس پاتے ہیں اور اس طرح تعلیم غریب طبقے کی پہنچ سے مزید دور ہوتی جا رہی ہے ۔ اور کوی بھی سیاسی اور اسلامی پارٹی اپنے ان ونگز کو ختم کرنے پر تیارنہیں ہے ۔
    رہی بات گورنمنٹ کے اعمال کی تو ہمیں ہر فورم پر ان کے کسی بھی غیر قانونی اور غیر انسانی افعال کے خلاف آواز اٹھانی چاہے خصوصا اس وقت جب الیکشن میں لوگ جوش جذبات ، خوف ،معاشی لالچ ،برادری اور فوری ذاتی فاءدے کی خاطر ووٹ دیتے ہیں ۔ یقینا اس سے کوی فوری ماہیت قلب تو ہونے کا امکان نہیں مگر قطرہ قطرہ مل کر ہی دریا بناتا ہے

    جواب دیںحذف کریں
  2. بی بی سی نے بھی اسی موضوع پر ایک سیریز کی تھی!یہ پڑھنے اور سننے سے تعلق رکھتی ہے!
    لنک موجود ہے،سوال یہ ہے کہ وہ تو یہودیوں کے ایجینٹ ہیں (حالانکہ جب وہ ایم کیو ایم کے خلاف لکھتے ہیں تو ان سے سچا کوئی نہیں ہوتا)مگر کیا جن لوگوں سے انہوں نے گفتگو کی ہے وہ بھی یہودیوں کے ایجینٹ ہیں؟
    http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2010/01/100125_punjab_ijaz4_uk.shtml

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہو سکتا ہے سارا قصور اُن محاوروں کا ہو جو جدید تعلیم کے نام پر نصاب سے خارج کر دیئے گئے یا پھر اُنہیں پڑھنا وقت کا ضیا ع سمجھ لیا گیا ۔ ایک محاورہ ہوا کرتا تھا "جو بوئیں گے سو کاٹیں گے "

    جب پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی گئی تب تک پورے مغربی پاکستان میں جو اب پاکستان کہلاتا ہے کسی سکول کالج یا یونیورسٹی میں کبھی فساد نہ ہوتا تھا ۔ ایوب خان کی حکومت کے خلاف تحریک چلانے کیلئے ہر کالج سے چند تیز طرار طلباء اور طالبات چُنے گئے جنہیں دو ہزار رو٫یہ ماہانہ دیا جاتا رہا ۔ یہ منتخب طالب علم ساتھی طالب علموں کو تو ہوٹل میں کھانا کھلاتے اور عام طالب علموں کو آئس کریم کھلانے یا کوک پلانے کے بہانے اپنے ساتھ جلوس میں شامل کرتے تھے ۔ یہ تقسیم ہونے والا پیسہ یقیناً ذوالفقار علی بھٹو کی جیب سے نہیں آتا تھا

    جب ذوالفقار علی بھٹو ملک کا بادشاہ بن گیا اُس وقت تک سکولوں کالجوں میں مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن ۔ اسلامی جمیعت طلباء اور ڈیموکریٹک سٹوڈنٹس فیڈریشن ہوا کرتی تھی ۔ مؤخرالذکر کا نام بدلتا رہتا تھا ۔ پہلی دو میں کبھی جھگڑا نہ ہوا تھا لیکن ان دونوں کا اکٹھے یا انفرادی جھگڑا کبھی کبھار مؤخرالذکر سے ہوتا رہتا تھا لیکن صرف زبانی کلامی ۔ پیپلز پارٹی نے پیپلز سٹوڈنٹ فیڈریشن بنائی اور ان کے چیدہ ارکان کے پاس شروع میں پستول یا ریوالور ہوتے تھے بعد میں پنجاب یونیورسٹی میں انہوں نے بندوقیں بھی استعمال کیں ۔ حکومت نے بجائے اسلحہ برداروں کو پکڑنے کے پنجاب سٹوڈنٹس یونین کے صدر عثمان غنی کو گرفتار کر لیا جس کا تعلق اسلامی جمیعت طلباء سے تھا اور وہ نہائت شریف صلح جُو اور محنتی طالب علم تھا ۔ اس کے بعد درسگاہوں میں کئی پارٹیاں بن گئیں اور ہر پارٹی میں اسلحہ بردار بھی شامل ہو گئے اور درسگاہوں میں کھُلے بندوں گولیاں چلنے لگیں

    جواب دیںحذف کریں
  4. میرے خیال میں مسئلہ یہ ہے کہ ہم ہر صحیح کام غلط طریقوں سے کرتے چلے جاتے رہے ہیں۔ افغان وار میں ہم نے انتہاپسندی کو ہتھیار بنایا۔ بغیر اس ہتھیار کے بھی افغان مجاہدین کو زبردست سپورٹ فراہم کرسکتے تھے۔ مگر ہمارے اسٹریٹجک دماغوں نے مزید آگے کی سوچی اور دیوبند ازم پر مبنی مذہبی حکومت کے وسطی ایشیا تک پھیلادینے کے خواب بن لئے۔

    اسٹوڈنٹ آرگنائزیشنز جمہوریت کی نرسری کہلاتی ہیں۔، ساری دنیا میں پائی جاتی ہیں۔ ہمارے پڑوسی ملک ایران اور بھارت میں بھی اسٹوڈنٹ آرگنائزشنز ہیں اور بہت متشدد بھی ہیں۔ لیکن قانون کا ڈنڈا اگر بھاری رکھا جائے تو تشدد کو قومی مزاج بننے سے روکا جاسکتا ہے۔

    اگر ہم نے پہلی افغان جنگ میں انتہاپسندی کو ہتھیار نہ بنایا ہوتا تو یقینا ہم وہ فصل نہ کاٹ رہے ہوتے جو ہم نے بوئی ہے۔ نہ پھر ڈرون حملوں کی ضرورت رہتی نہ کسی کو جرات ہوتی۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔