ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: February 2010

انٹرنیٹ کی نسل اور گمراہ قدم

ہم اب ایک جدید دور کا حصہ ہیں، یہ ایسا دور ہے جہاں اہل عقل کو بات سمجھنے میں کم ہی دشواری ہوتی ہے۔ اس جدید دور کا کمال ہے نئی ٹیکنالوجی، جس میں دن بدن تبدیلی رونما ہو رہی ہے۔
ہمیں یاد ہے ہمارا پہلا تعارف جس شخص یعنی دوست نے انٹرنیٹ سے کروایا تھا ہم نے اُس کا مذاق اس بات پر اُڑایا کہ وہ ہمیں بے وقوف بنا رہا ہے یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم اپنے گھر میں کمپیوٹر آن کریں اور دوسرا بندہ اپنے گھر میں! تب وہ ایک ٹیلی فون کی تار کی وجہ سے جان جائے کہ میں نے کمپیوٹر آن کیا ہے اور یہ ہی نہیں وہ مجھ سے تحریری گفتگو کر سکتا ہے۔ مگر پھر اپنے علاقے میں موجود واحد و قریب تب ہفتہ قبل ہی افتتاح ہونے والے کمپیوٹر انسٹیٹیوٹ کے اُستاد سے اجازت لے کر وہاں انٹرنیٹ چلاکر تصدیق کی تو یقین آیا۔
بعد میں ہم نے اس ایجاد کی جو تباہ کاریاں دیکھیں خدا کی پناہ، سچ تو یہ ہے ہم خود بھی اس کا شکار رہے تھے۔ نیٹ کیفے پر ای میل تو کیا یار لوگ چیک کرتے اصل میں تو اُس دور میں کئی بابا، بابو نام کےدیسی ویب ایڈریس ہمارے ہم عمروں میں مشہور تھے جو فحاشی کا مکمل سامان لئے ہوئے تھیں جن پر وقت برباد کیا جاتا اور دماغ خراب۔ درمیان میں ہم بقول شخصے مذہبی "انتہا پرستوں"کے قریب نہ جاتے تو شاید اس تباہ کاری سے کافی متاثر ہو چکے ہوتے مگر کہتے ہیں ناں جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے۔
اس میں کوئی شک شبہ نہیں انٹرنیٹ و جدید ٹیکنالوجی اپنے مثبت استعمال میں اپنے منفی استعمال کے مقابلے میں کئی گنا ذیادہ اہمیت کی حامل ہے وہ کیا چھڑی کے استعمال کی مثال بزرگ اس موقعے پر دیتے ہیں مگر اس سےبھی انکار ممکن نہیں ایسا اُس وقت ہی ممکن ہے کہ کوئی اُس ناسمجھ ذہن کو اس کے منفی استعمال کے خطرات سے آگاہ کر دے یا وہ ماحول مہیا کرے کہ عمومی رجحان مثبت سرگرمی کی طرف رہے! اخلاقی تربیت اس سلسلے میں بہت اہم ہے۔
انٹرنیٹ سے ہر شے اچھی و بُری اب آپ کی پہنچ میں ہے، ان میں ایک شے جو ہماری تہذیب میں داخل ہو رہی ہے وہ ایک عجیب قسم عریانی ہے جو زندگیاں اور سماج دونوں کو تباہ کر رہی ہے۔ مجھے یاد ہے راولپنڈی والے کیفے اسکینڈل کے بعد جب چند لڑکیوں اور اُن کے خاندان کی زندگیاں تباہ ہوئی تھی تو کہیں جا کر نیٹ کیفے میں مخصوص ملاقاتوں کا رجحان کم ہوا تھا اُس وقت تنہائی کی ملاقاتوں کو کیفے مالک میں خفیہ طور پر ریکارڈ کیا تھا مگر اب عجیب صورت حال ہے دونوں خود مرضی سے موبائل کیمرے میں اپنی ایسی غیر اخلاقی سرگرمیوں کو محفوظ کرتے ہیں اس میں عموما لڑکیوں کی معصومیت اور لڑکوں کی شیطانیت کا ہاتھ ہوتا ہے مگر کچھ لڑکے و لڑکیاں ایسا شوق میں بھی کرتے ہیں شیئر کرنے کی نیت سے،ہمیں یاد ہے ایسے ہی چند کیس جب خفیہ ایجنسیوں کے ہاتھ آئے تھے ریمبو سینٹر کے تو کافی تھر تھلی مچی تھی مگر ایجنسیوں نے حکمت عملی سے یہ معاملہ میڈیا سے دور رکھ کر ختم کیا! جو احسن قدم تھا دیکھنایہ ہےیہ اخلاقی گڑواہٹ ہم میں آئی کیوں؟
انٹرنیٹ پر یہ اخلاقی گڑواہٹ ایک مکمل صنعت کی شکل اختیار کر چکی ہے، انڈیا اور پاکستان کے چند گروپ مل کر یہ کاروبار چلا رہے ہیں! کئی بلاگ، فورم اور ویب سائیٹ موجود ہیں دس میں سے چار موبائلوں میں ایسا کوئی ناں کوئی فحش مواد پایا جاتا ہے جو انٹرنیٹ سے ڈالا ہوتا ہے۔ ایسی ہی اخلاقی پستی کی شکار ایک لڑکی کا قصہ ذیل میں ہے۔



ایسے موضوعات پر لکھنے سے ڈر لگتا ہے، یہ کئی اعتبار سے!

آئی پیڈ کے بعد!

ہم نے اب تک ایپل والوں کی کوئی بھی پراڈکٹ استعمال نہیں کی! وہ بس ایک گوری آئی تھی پاکستان اُس کے پاس ایپل والوں کا لیپ ٹاپ تھا اُس پر کچھ انگلیاں مار لی تھی ایک پروجیکٹ کے سلسلے میں جو اُس کے ساتھ مل کر بنایا! مگر سنا ہے اب آئی پیڈ آیا ہے دیکھنے میں کمال کی شے معلوم ہوتا ہے ہو گا سانو کی؟ مجھے تو یہ ذیل میں تصویری جوک اچھا لگا سوچا شیئر کر لو۔

عید میلاد النبی مبارک


اہم یا احمق؟

عام طور پر یہ کہا اور بتایا جاتا ہے کہ جو ووٹ لے کر (یا ڈالوا کر) سربراہ بنتے ہیں وہ خادم ہیں حاکم نہیں؟ مگر یہ باتیں زبانی زبانی سچی ہوں تو ہوں ورنہ میں VIP یا VVIP Movement کے نام پر عوام کے ساتھ جو سلوک ہوتا ہے وہ سب کے سامنے ہے اس VIP میں I کا مطلب کیا ہے شایدایک کے لئے important اور دوسرے کے لئے idiotاب اہم کون اور احمق کون آج کے اخبار کی ان خبروں کے تراشے کی روشنی میں بتائیں۔






شاید جب حکمران اہم ہو جائیں تو عوام احمق ہی ہوتے ہیں تب ان کا سڑکوں پر مرنا اور پیدا ہونا ہی مقدر ہے۔

اتنی چھٹی کا مطلب؟

یہ ایک سوالیہ پوسٹ ہے۔ سوال یہ کہ حکومت سندھ نے کل جمعہ کی چھٹی کا اعلان کیا ہے! نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جان قربان، میری اس بات کو کوئی غلط رنگ نہ دیا جائے جو میں پوچھنے جا رہا ہوں۔ کیا جبکہ ہفتہ 12 ربیع الاول کو وفاقی حکومت نے عام تعطیل کا اعلان کیا ہوا تھا تو صوبائی حکومت کا یہ فیصلہ کیسا ہے 11 ربیع الاول کو بھی چھٹی کا؟ ذاتی طور پر مجھے تو یہ بہتر معلوم نہیں ہوتا کیونکہ میں سمجھتا ہوں کہ ہم اتنی چھٹیوں کے متہمل نہیں ہو سکتے ہم نے کچھ بلا ضرورت چھٹیاں اپنے سالانہ کیلنڈر میں بلاوجہ شامل کر لی ہیں آپ کچھ کہیں گے یا خاموش رہیں گے؟

میری زبان، ہمارا مستقبل

تحریر: اوریا مقبول جان

معاشرہ اور ۔۔۔۔۔۔۔

1

پورے پانچ سال

میرے علم میں تو تھا مگر ذہن میں نہیں تھا مگر تین مبارک باد کے ایس ایم ایس آئے تو خوشی بھی ہوئی اور اچھا بھی لگا۔ مبارک باد کسے اچھی نہیں لگتی۔ آغاز میں یہ احساس ہی نہیں تھا کہ ایک نشے کی ماند میں اس کا شکار ہو جاؤں گا یہاں تک ہوا کہ اب اس سے جان چُھڑاناممکن نظر نہیں آتا، اور پانچ مستقل سال،جیسے کل کی بات ہوں۔اُ س وقت جب ہم نے شروعات کی تو ہم طالب علم تھے ویلے مصروف کوئی کام نہیں تھاسوائے کالج جانے و آنے ۔ اور اب تو وکیل ہیں مصروف ویلا۔
بہر حال آج پانچ سال کا ہو گیا ہے ہمارا بلاگ، ہمیں یاد ہے کہ پہلا تبصرہ ہمارے بلاگ پر دانیال کا تھا وہ بندہ اب نیٹ کی دنیا سے غائب میرا کہنا ہے بندہ غائب نہیں ہوا یہ نام غائب ہوا ہے، خود مجھے آصف نامی بلاگر کا بلاگ اولین پسند آیا تھا، خود اپنی یہ اولین پوسٹ لکھی تھی (یجس میں سےاب تصویر غائب ہو گئی ہے)اور پہلی پوسٹ یہ تھی (ایک نظم)۔

یہ بھی مغرب کی سازش ہے؟

کر لو گل آج کے اخبارات میں یوم محبت منائے جانے کی خبروں کے ساتھ اس کی مخالفت میں بھی بے تحاشہ بیان آئے ہیں ایک پارٹی نے تو یوم محبت کو یوم حیا کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا ہے بقول اُن کے یہ دل کا نہیں دین کا معاملہ ہے۔
نوجوان شادی شدہ جوڑے بہتر ہو گا احتیاط کے طور پر اپنے ساتھ نکاح نامہ رکھ لیں نہیں تو امکان ہے کہ یوم حیا والے اپنے آج کے "منشور" پر عمل کرنے میں جلد بازی کا مظاہرہ کر لیں ، لہذا نکاح نامے یا نکاحی رشتہ کے غیر موجودگی میں "کزن ہے کزن ہے" کی رٹا لگانے کی مشق کر لیں ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔ خالی خودپُرلیں اندازہ تو ہو گا آپ کو، اس کے علاوہ جیب میں چند پیسے پارک کے چوکیدار و ریسٹورنٹ کے ویٹرکے علاوہ قانون کے "محافظوں" کے لئے بھی رکھ لیں کہ ضرورت پڑ سکتی ہے۔
ایک تو یہ دن آیا بھی چھٹی والے دن ہے یار لوگوں کے لئے تو مسئلہ نہیں مگر "قوموں کی عزت جن سے ہے" اُن کے لئے کارگر بہانے کی تلاش دشوار ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں انجمن عاشقین نے کوئی دس دن پہلے ہی ممکنہ بہانوں کی ایک فہرست بذریعہ ایس ایم ایس انجمن کے اراکین و ہمدردوں تک پہنچا دی تھی۔
اب آتے ہیں سنجیدہ بات کی طرف ہم بعض مرتبہ ضرورت سے زیادہ رد عمل دیکھاتے ہیں یا یوں کہہ لیں درست طریقے سے ردعمل نہیں کرتے بات کو لوجیکل طریقے سے کرنے بجائے جذباتی انداز میں پیش کرتے ہیں، ہر معاملہ کو بلاوجہ مغربی سازش قرار دے دیتے ہیں یہ بات سمجھ سے قاصر ہے کہ وہ اپنے تہواروں کو کسی بھی سازش کے تحت کیوں کر متعارف کروائے گے؟، بے شک محبت ایک اچھا جذبہ ہے مگر یہ انداز محبت ہمارا نہیں یہ بات ہمیں سمجھنے و سمجھانے کی ضرورت ہے۔ کورٹ میں کورٹ میرج کے لئے آنے والے جوڑوں میں نہ نہ کرتے ساٹھ فیصد وہ افراد ہوتے ہیں جو اپنی "بھول" کو نکاح کا شیڈ دینا چاہتے ہیں۔ میڈیا کو احتیاط کرنا تو چاہئے ہی کیونکہ کم عمر بچے ٹی وی پروگرام دیکھنے کے بعد اس طرح کے سوالات کے ساتھ وارد ہوتے ہیں کہ جواب دینا مشکل ہو جاتا ہے۔ نا پختہ ذہن صحیح و غلط کا فیصلہ کرنے میں ناکام رہتے ہی اور برائی میں بہت کشش ہے۔
اگر ہمارا معاشرہ جس میں کسی دور میں میاں بیوی خاندان کے بزرگوں کی موجودگی میں ایک چارپائی پر بیٹھنے تک سےاحتیاط کرتے تھے اور نوبیہاتے جوڑے آپسی گفتگو سے، اور بزرگ آج بھی ان باتوں کو بتاتے ہوئے خوبیوں میں گنتے ہیں، اگر آج اُس سطح پر پہنچ گیا ہے جہاں نوجوان لڑکی لڑکے تعلق کو جائز سمجھنےکی روایت پڑ چکی ہے تو آپ ایسے دنوں کو نہ منانے کا کوئی جواز پیش کر دیں رد سمجھا جائے گا جو اپنی ثقافت و روایات اور دینی معاملات کوجان کر بھی ایسے دنوں کے حامی ہیں وہ کسی دلیل سے ماننے والے نہیں۔ ہاں آپ اُن کی نظر میں قدامت پسند، تنگ نظر،مذہبی اور جاہل وغیرہ ضرور مانے جائے گے۔
ایک سوال آخر یوم محبت پر ایسا کیا ہوتا ہے کہ یار لوگ ٹھیک نو ماہ بعد بچوں کا دن مناتے ہیں؟

یوٹیوب کی واپسی


جی نہیں یو ٹیوب کہیں نہیں گئی تھی بس پاکستان میں آج بروز اتوار شام چھ بجے سے دس بجے تک بند تھی اب دوبارہ کھول دی گئی ہے مگر اپنے صدر صاحب کی ایک دیڈیو تک رسائی روکنے کے بعد کیا۔ جی وہ ہی والی
جمہوریت بکواس بند کرو” دیکھنے کی کوشش کریں گے تو لکھا ہو گا This Site is Restricted۔
ویسے میں اسے جائز سمجھتا ہوں۔ آپس کی بات ہے لیکن احتیاط ضروری ہے اس سے قبل صدر کے خلاف ایس ایم ایس پر مقدمہ رجسٹر ہو چکا ہے۔

امریکی میڈیا اور عافیہ کیس

ابراہیم ساجد ملک کے بلاگ سے ہمیں فہد یعنی ابو شامل نے آگاہ کیا تھا، بمعہ اس بندے کی میڈیا سے تعلق کی تاریخ کے رشتے سے۔ عافیہ صدیقی کیس میں امریکی میڈیا کے تعصبی کردار پر اپنی اس پوسٹ میں انہوں نے نہایت عمدہ روشنی ڈالی ہے ایک نظر دیکھ لیں۔

منصف امریکن اور انصاف

سنا ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کو سزا سنا دی گئی ہے ہے اُسے امریکی میرین پر قاقلانہ حملہ کرنے کے جرم میں‌سزا سنائی گئی اس کے علاوہ دیگر چھ جرائم میں‌ بھی مجرم تھرایا گیا ہے۔
ایک عورت یعنی قیدی نمبر 650 کے امریکی قید میں‌ہونے کا انکشاف ایک پریس کانفرنس میں‌نومسلم صحافی Yvonne Ridley نے اپنی 6 جولائی 2008 کو کیا جس میں‌انہوں‌نے وعویٰ‌کیا کہ یہ گرے لیڈی چار سال سے امریکیوں‌کی قید میں‌ ہے جبکہ زار کے افشاء‌ ہونے پر امریکیوں‌نے 17 جولائی 2008 کی تاریخ‌کو ڈرامائی کہانی کے ذریعے اس کی گرفتاری دیکھائی یعنی کہ 11 دن بعد باحثیت وکیل میں‌یہ سمجھتا ہو کہ صرف یہ ایک فیکٹ ایسا ہے جو گرفتاری کو مشکوک ہی نہیں‌ بلکہ باقاعدہ جعلی قرار دینے کے لئے کافی ہے اور فطری انصاف کی رو سے اگر گرفتاری جعلی ہو تو الزام بھی جھوٹے تصور ہوں‌گے خاص‌کر جبکہ وہ الزام خاص طور پر مجموعی طور پر گرفتاری کے بعد کے واقعات پر مشتمل ہوں۔
آپ کی رائے کیا ہے؟‌کیسا لگا یہ انصاف آپ کو؟‌ سابقہ ملکی روایات کے مطابق صرف مذمت ہی ناں‌ یا وہ بھی نہیں؟

بلاگنگ کی بناء پر۔۔۔۔۔

نوٹ ؛ یہ پوسٹ بقول م م مغل صاحب کے انجمن باہمی خود ستائشی کے تحت لکھی گئی ہے۔۔۔

وہ میرا محلے دار و دوست ہے اور ایک اتوارکو وہ میرے گھر کے دروازے پر موجود تھا، پیشہ کے اعتبار سے وہ ایک ویب ڈیزائنر ہے اور xpiderz کے نام سے اُس نے اپنا کام شروع کررکھا ہے، جس وقت وہ میرے گھر آیا وہ ایک بہترین وقت تھا مجھے اپنے گھر میں پکڑنے کا یعنی قریب ۱۲ بجے دوپہر ورنہ میں ایک بجے کے بعد عام طور پر اپنے آفس چلا جاتا ہو چھٹی کے دن  کہ کیسوں کی ڈرافٹنگ کا کام اس دن ہی بہتر طور پرممکن ہوتا ہے ۔
اُس نے مجھ سے ملنے  و سلام دعا کے بعد جو پہلی بات پوچھی وہ یہ تھی کہ کیا آپ کا کوئی جاننے والا اٹلی میں ہوتا ہے؟ میں نے کندھے اچکا کر صاف انکار کر دیا۔ تو اُس نے کہانی سنانا شروع کی؛
” بھائی میرے ایک دوست ہیں اسلام آباد میں انہوں نے مجھے کہا تھا کہ اُن کے دوست کا دوست ایک ویب سائیٹ بنوانا چاہتا ہے لہذا میں نے انہیں اپنا رابطہ نمبر دیا یوں ہوتے ہوتے جس نے ویب سائیٹ بنوانی تھی اُن سے رابطہ ہوا چیٹ کے دوران جب ویب سائیٹ کے متعلق تبادلہ خیال ہو رہا تھا تو نہوں نے کہا کہ میں اردو یونیکوڈ میں ویب سائیٹ چاہو گا میں نے اُس لمحے آپ کے بلاگ کے حوالہ دیا اور کہا کہ ایک ہمارے دوست کا اردو بلاگ ہے یونیکوڈ میں تو انہوں نے ربط مانگا لہذا میں نے آپ کے بلاگ کا ایڈریس دے دیا۔
میں نے کہا ”تو اُسے کیا کہنا ہے؟ یہ کہ یہ بلاگ کا ٹمپلیٹ آپ نے بنایا ہے؟ کہہ دوں گا۔“
”نہیں نہیں میں یہ تو نہیں کہہ رہا، نہ میں نے اُن سے کوئی ایسا جھوٹ نہیں کہا ہے، میں تو یہ بتانا چاہ رہا ہوں وہ آپ کو آپ کے بلاگ کے حوالے سے جانتے تھے۔“
ہمارا رد عمل حیرانگی والا تھا۔
اُس نے اپنی بات جاری رکھی اور کہا کہ” وہ اٹلی میں امیگریشن کا کام کرتے ہیں کہہ رہے تھے وہ آپ کے بلاگ کو پڑھ لیتے ہیں۔“
تو ہمیں فورا یاد آیا جناب راجہ افتخار کا نام اور ہم نےجب ان کا نام بتایا تو اُس نے تصدیق کی کہ یہ ہی ہیں ہمیں خوشی ہوئی کہ چلو بلاگ کی وجہ سے کسی محلے والے تک ہماری پہچان پہنچی۔
اس سے قبل بھی ایک بار اس بلاگ کی وجہ سے ہماری تعریف ہوئی تھی۔ ہوا یوں جس دن کراچی میں حکومت سندھ کی طرف سے بلاگر ز کانفرنس تھی اُس ہی دن ہماری نوجوان وکلاء کی تنظیم(ہم آُس کے عہدے دار ہیں) کے زیراہتمام ایک لیکچر پروگرام تھا جو کہ سابق وزیر قانون  محترمہ شاہدہ جمیل نے دیا، اس لیکچر کا اختتامی کا وقت ہم نے وہ رکھوایا جو بلاگرز میٹ اپ کے آغاز کا وقت تھا ، لیکچر کے اختتام پر بات چیت کا رُخ اُس وقت ہونے والے حکومت اور صوفی محمد کے درمیان ہونے والے امن معاہدے کی طرف ہو گیا ، میڈم اُس کے حق میں نہیں تھیں اور سلسلے میں انہوں نے جہاں چند قانونی حوالے دیئے وہاں ہی اپنی بات کی وضاحت کے لئے انہوں نے چند نیٹ سے کاپی کی ہوئی تحریروں کا بھی  ذکر کیا ، پروجیکٹر پر  تحریروں کے ربط دیکھ  و پہچان کر ہم نے سوال کیا کہ آپ بلاگ پڑھتی ہیں؟ انہوں نے مثبت جواب دیا تو ہم نے پوچھا  کہ پاکستانی تو کہا چند ایک۔ جس پر ہم نے انہوں بتایا کہ آج بلاگر کانفرنس ہے کراچی میں جس میں ہم بھی شرکت کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ جس پر انہوں نے مسرت کا اظہار کیا۔ وہاں سے نکلتے ہوئے ہم نے انہیں اپنے بلاگ کا ایڈریس دیا۔
چونکہ ہم اُن سے اختلاف رکھتے تھے اُس امن معاہدہ پر لہذا ہم نے اُس پر یہ پوسٹ تحریر کی جسے انہوں نے پڑھ لیا تھا۔ اُن کا اگلا لیکچر ہم نے اپنے سینئر کے آفس میں رکھا جہاں  پر انہوں نے پہلے دوران لیکچر  اور بعد میں جاتے جاتے انہوں نےہمارے سینئر سے  ہمارےاور بلاگ کے بارے میں چند سنائشی کلمات کہے اس لیول کی ملکی شخصیت کی طرف سے یوں تعریف میرے لئے ایک اعزاز ہے۔
یوں چند دیگر باتوں کے علاوہ ایک یہ بات بھی میرے لئے قابل فخر ہے کہ میں بلاگر ہوں اور خاص کر اردو بلاگر اور میں اس پر وہ لکھتا ہوں جسے میں درست سمجھتا ہوں جبکہ اس سے برخلاف بعض اوقات عام زندگی میں کسی نا کسی شکل میں منافقت سے کام لینا پڑتا ہے مگر بلاگنگ سے اب منافقت سے جان چھڑانے میں کافی آسانی ہو گئی ہے دوئم لکھنے سے پہلے پڑھنے اور کسی خبر کی تصدیق و تردید کی جستجو سے بات کا ایک درست رُخ سمجھنے میں مدد ملتی ہے جس سے اپنے سے بڑوں کی محفل میں بیٹھ کر جب حوالہ سے بات کرتے ہیں تو جواب میں اُن بزرگوں کی طرف سے ملنے والی عزت ایک الگ سرمایہ ہے۔
آخر میں یہ چند اردو بلاگر جو بلاگرز ایواڈ میں شامل ہیں کے لنک ذیل میں ہیں انہیں اپنی اپنی پسند کے مطابق ووٹ ڈال دیں۔
ابن ضیاء
ابو شامل
ادبستان
حال دل
صلہ عمر
فرحان دانش (یار اسے تو دے ہی دینا اس نے بہت ووٹ مانگا ہے)
محمد وارث
کامی
یاسر عمران مرزا
اور ہاں میرا بلاگ بھی
جن دوستوں کے نام درج نہیں ہیں وہ تبصرہ میں آگاہ کر دیں۔ اور جن لوگوں نے اپنے نام اس مقابلے میں نہیں ڈالے اُن کے پاس وہ اپنا اندراج کروا لیں ایک بار پہلے بھی گزارش کی تھی وجہ سادہ ہے کہ مقابلہ نہ بھی جیتیں مگر انہیں نئے بلاگ ریڈر مل سکتے ہیں۔ ہمیں محسوس ہوتا ہے جیسے ہمیں کچھ نئے ملیں ہیں نیز یہ کہ تمام دوست اپنا بلاگ بہترین اردو بلاگر کے ذمرے میں لے آئیں تو اچھا اور ایک ای میل پر وہ اچھا رسپانس دیں گے تجربہ ہے مجھے ۔
اچھا کیا آپ کا بلاگ آپ کی پہچان بنا یوں؟ یوں تو ہم میں سے کئی ایک دوسرے کو بلاگنگ کی وجہ سے جانتے ہیں ورنہ کیا ہم یوں آشنا ہوتے کیا؟ ابوشامل آپ اپنا قصہ تو تبصرہ میں لکھے گے ناں۔۔۔۔
اور ہاں یار بلاگ لکھنا آسان ہے مگر کالم لکھنا مشکل ایک شریف آدمی نے کہا ہے لکھنے کو کہ ہفتے میں ایک کالم لکھو مگر یقن جانیں ہفتہ تو ایک طرف پچھلے دس دنوں میں کچھ لکھ ہی نہیں پایا۔۔۔۔ ہم بلاگر ہی ٹھیک ہیں۔۔۔