ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: December 2005

آخری رابطہ

ہائے!! یہ میرا تم سے آخری رابطہ ہے، تمھارا میرا ساتھ خوب رہا! اس ساتھ میں کئی خوشی کے لمحے بھی آئے اور دکھوں کے پل بھی، مگر ہمارا آپس کا تعلق قائم رہا، اب تم سے دوری کا وقت آ گیا ہے،ہاں!میں تم سے دور جا رہا ہوں! مجھے نہیں معلوم تم خوش ہو یا غمگین، میں اپنی آخری سانسیں لے رہا ہوں! اگلے چند لمحوں میں مر جاؤ گا!میرے مرتے ہی ہمارے درمیان موجود رشتہ ٹوٹ جائے گا، تمہاری کوئی کوشش مجھے مزید زندگی نہیں دے سکتی، لمبے ساتھ کے بعد ایک پل کی مہلت کیا معنٰی رکھتی ہے؟ میری عمر ہی اتنی تھی ! یہ میں جانتا تھا، مجھے معلوم ہے کہ میرے جاتے ہی تم مجھے بھول جاؤ گے!!!! اس لئے میں تم سے یہ نہیں کہوں گا کہ تم مجھے یاد رکھنا! میرا جانا تمہیں یہ سمجھانے کہ لئے کافی ہے کہ ہر شے فانی ہے!!! میں بھی اور تم بھی!! فقط تمہارا سال دو ہزار پانچ ×××××××××××××× آج میں نے دوست سے کہا “بھائی نئے سال کی پیشگی مبارک“ جواب آیا “خیر مبارک!! ویسے میں مسلمان ہوں، میرے نئے سال کا آغاز ابھی نہیں ہوا“ لہذا اگر آپ ایسا نہیں سوچتے (یا سمجھتے) تو “نیا سال مبارک ہو آپ کو“

گڑیا


جی!!! گڑیا ۔۔۔۔ ویسے تو یہ نک نیم (کہنے کو پیار کا لیکن اصل میں بگڑا ہوا) اکثر گھروں میں کسی نا کسی بچی کا ہوتا ہے ۔۔۔ مگر یہاں اس سے مراد وہ گڑیا ہے جو بچیوں کا کھلونا ہے۔۔۔۔ پہلے پہل ہمارے یہاں مائیں خود سے اپنی بچیوں کو گڑیا بنا کر دیا کرتی تھیں۔۔۔ چونکہ وہ ہی اس گڑیا کی خالق تھی لہذا وہ ہی اس کے متعلق کہانیاں بتاتی۔۔۔ “اس گڑیا کو وہ بچیاں اچھی نہیں لگتی جو بڑوں کا کہنا نہیں مانتی“ ، “ارے! بڑی بہن سے بدتمیزی کرنے والوں سے یہ گڑیا ناراض ہو جاتی ہے“ ، “دیکھو! رات ہو گئی ہے گڑیا کو نیند آ گئی ہو گی تم دونوں اب سو جاؤ تمہاری وجہ سے گڑیا بھی نہیں سوئے گی اور وہ بھی بیمار ہو جائے گی“۔۔۔۔ یوں جو گڑیا بچی کے لئے ایک کھلونا ہے تو ماں کے لئے بچی کی تربیت کا ذریعہ۔۔۔۔ خواہاں کوئی بات ہو گڑیا کو ایک ٹول کے طور پر استعمال کر کے تربیت کا ذریعہ تھی۔۔۔ بیمار گڑیا کی تیمارداری، اچھی گڑیا کی نشانیاں،اس کے لئے کپڑے تیار کرنے اور آخر میں اس کی شادی اور رخصتی ۔۔۔۔ بات سمجھانے کے طریقے۔۔۔۔
پھر گڑیا گھر میں تیار ہونے کے بجائے بازار سے آنے لگی۔۔۔ نئی نسل کے لئے نئی طرح کی گڑیا! ۔۔۔ جو باتیں کرنے لگی ،لیٹتے ہی آنکھ بند کر لیتی، بغیر سہارے کے کھڑی ہوتی ،بیٹھ جاتی، گانے سناتی، ہنستی، روتی غرض ہر طرح کے کام کرنے لگی۔۔۔۔ پھر ایک گڑیا آئی باربی ڈول! ۔۔۔ آئی اور چھا گئی۔۔۔ اب کوئی عام گڑیا نہیں چاہیے اب باربی چاہئے۔۔۔ اس کا گھر،لباس،اس کی ضرورت کی اشیاء خود سے بنانے کی ضرورت نہیں بلکہ دکان سے خرید لیں۔۔ اس کی دوست بھی ہیں اور اس کا دوست بھی(کین)۔۔۔
چونکہ یہ یورپین گڑیا تھی لہذا اسے علاقائی کہانیاں منسوب نہیں ہو سکتی تھی۔۔۔ اس کا حلیہ مغربی تھا! لازما غیر اسلامی بھی۔۔۔ لہذا اسلامی گڑیا تخلیق کی جانے کی کوشش کی جانے لگی! کبھی سارہ کے نام سے، کبھی لیٰلی کے نام سے اور کبھی کسی اور نام سے۔۔۔
فلا وہ گڑیا ہے جس نے باربی کو مشرقی وسطیٰ نکال باہر کیا ہے۔۔۔ ساڑھے گیارہ انچ کی اس گڑیا کی جو خوبی سب کو اچھی لگی ہے وہ یہ کہ یہ گھر سے باہر سر پر اسکاف باندھے ہوئے ہے، ایک لمبا لبادہ لے کر باہر جاتی ہے، اپنے والدین کی عزت کرتی ہے، استاد کا حکم مانتی ہے اس کے دوستوں کی فہرست میں یاسمین اور نادہ شامل ہیں اس کا کوئی بوائے فرنڈ نہیں ہے! یہ تخلیق ہے شام کی کمپنی “نیو بوائے“ کی۔۔۔۔۔
مزے کی بات ہے ہانگ کانگ کی جو کمپنی باربی بناتی ہے اسے ہی “نیو بوائے“ نے فلا بنانے کے لئے منتخب کیا ہوا ہے۔۔۔ یعنی جائے پیدائش ایک ہی۔۔۔۔








قائد

فرینک مورس نے جو ایک ممتاز وکیل اور مصنف تھے عدالت کے کمرے میں قائد کے مقدمہ لڑنے کے بارے میں لکھا ہے کہ جب قائد مقدمے میں دلائل دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت انہیں دیکھنے میں لطف آتا ہے۔ بہت کم وکلاء کو مقدمہ لڑنے میں وہ مہارت حاصل ہو گی جیسی قائد کو حاصل تھی۔ ان کا مقدمہ لڑنے کا انداز ایک آرٹ ک حیثیت رکھتا تھا۔ قائد مقدمے کا گوشت چھوڑ کر اس کی جڑ اس کے گودے تک پہنچتے تھے۔ انہیں مقدمہ پیش کرنے میں کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ وہ مقدمہ پیش کرنے اور لڑنے میں استادانہ مہارت رکھتے تھے۔ جب وہ کسی مقدمے میں پیش ہوتے تو ان کی ممتاز شخصیت اور پر کشش انداز کو دیکھنے کیلئے عدالت کا کمرہ چھوٹے بڑے وکلاء سے بھر جاتا تھا۔ سننے والوں پر، چاہے وہ جج ہوں یا وکیل ہوں عجیب سحر طاری ہو جاتا تھا۔ وہ نڈر ترین وکیل تھے اور کوئی بھی انہیں مرعوب نہیں سکتا تھا
بشکریہ۔۔۔ نوائے وقت








ہم بھی خواب رکھتے ہیں

ہم بھی خواب رکھتے ہیں
نیم وار دریچوں میں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
جاگتی نگاہوں میں
ہم بھی چاہتے ہیں کہ
ہم بھی ایک دن آئیں
بس تیری پناہوں میں
دلنشین بانہوں میں
ہم بھی پیار کرتے ہیں
سے بے پناہ جاناں
اور اس محبت کا
اعتراف کرتے ہیں
روز تیرے کوچے کا
ہم طواف کرتے ہیں
ہم تو اس محبت میں
ایسا حال رکھتے ہیں
روز رنج لمحوں کو تم سے دور رکھتے ہیں
اور اپنے سر پر ہم
دکھ کی شال رکھتے ہیں
ہم تو یوں محبت کا
اہتمام کرتے ہیں
کرب زندگانی کو اپنے نام کرتے ہیں
تجھ کو خوش رکھیں گے کیسے
یہ خیال رکھتے ہیں
بس تیری محبت کے
ماہ سال رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں
ہم بھی خواب رکھتے ہیں








دو باتیں

میں نے کمرے میں پڑی چیزوں کو ایک نظر دیکھا اور اندازہ لگانے لگا کہ جب میں سیٹھ کو سچ بتاؤں گا تو وہ میرے سر پر گلدان مارے گا یا گلاس۔۔۔۔!!! اگر گلدان مارا پھر تو ٹھیک ہے ، لیکن اگر گلاس مارہ تو دو باتیں ہوں گی، یا تو میرا سر پھٹ جائے گا ،یا گلاس ٹوٹ جائے گا۔۔۔۔ اگر گلاس ٹوٹ گیا ، پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر میرا سر پھٹ گیا تو دو باتیں ہوگی۔۔۔۔ یا تو میں مر جاؤں گا ،یا مزید زخمی ہو جاؤں گا اور بے ہوش ہو جاؤں گا- اگر بے ہوش ہو گیا پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر مر گیا تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔۔ یا تو سیٹھ میری لاش گھر والوں کے حوالے کر دے گا، یا جنگل میں پھینکوا دے گا۔۔۔۔۔۔۔اگر گھر والوں کے حوالے کردی تو ٹھیک ہے لیکن اگر جنگل میں پھننکوا دی تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔ یا تو مجھے گدھ چاٹ جائیں گے یا کمیٹی والے اٹھا کر لے جائیں گے۔۔۔۔۔۔ گدھ چاٹ گئے ، پھر تو ٹھیک ہے لیکن اگر کمیٹی والے لے گئے تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔۔۔ یا وہ مجھے دفنا دیں گے، یا میرا کیمیکل بنا دیں گے۔۔۔ دفنا دیا تو ٹھیک ہے لیکن اگر کیمیکل بنا دیا تو دو باتیں ہوں گی۔۔۔ یا تو مجھے کسی تیزاب میں استعمال کیا جائے گا۔۔۔۔یا صابن میں۔۔۔ تیزاب میں استعمال کیا پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن اگر صابن میں استعمال کیا تو دو باتیں ہوں گی یا یہ صابن مرد استعمال کریں گے ۔۔۔۔۔ یا عورتیں۔۔۔۔ اگر مردوں نے استعمال کیا پھر تو ٹھیک ہے۔۔۔۔ لیکن اگر۔۔۔۔۔۔ اوئی اللہ ۔۔۔۔ میں شرم سے سرخ ہو گیا۔۔۔۔۔ “ہرگز نہیں۔۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔“ میں نے جلدی سے آنکھوں پر ہاتھ رکھ لیے۔

اقتباس؛ “ٹائیں ٹائیں فش“_______________تحریر؛“گل نو خیز اختر

جھولی بھر کے ذلت

پچھلے کچھ دنوں سے اخبار کا مطالعہ والے احباب کو علم ہو گا کہ کراچی بار میں الیکشن تھے۔۔۔ جن میں کچھ حد تک وہ ہی سیاسی رنگ نظر آیا جو ہماری سیاست کا روپ ہے ، لڑائی ۔۔جھگڑا۔۔۔ الزام۔۔۔ اور اور۔۔۔ قانونی بندے غیر قانونی حرکتیں۔۔۔ الیکشن والے دن جھگڑا بلکہ جھگڑے ٹھیک ٹھاک ہوئے۔۔۔ کئی بار (چار سے چھ بار) الیکشن روکنا پڑا۔۔۔۔ الیکشن میں ایک امیدوار کے ساتھ ہم بھی تھے (مگر مجال ہے جو کوئی غلط کام کیا ہو)۔۔۔ وہ تھے میرے سینئر(جنرل سیکریٹری کے لئے)۔۔۔ مگر جو آج ہوا وہ تو آخیر تھا۔۔۔۔ کراچی میں وکلاء کی تعداد ہے تیرہ ہزار۔۔۔ ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں چھ ہزار۔۔۔۔ الیکشن میں ووٹ ڈالے گئے اٹھائیس سو۔۔۔۔ ان میں میرا ووٹ نہیں تھا کیوں؟؟؟؟؟۔۔۔ جناب ابھی انرولمنٹ نہیں ہوئی نا!!!!! ۔۔۔۔۔ ہاں تو بات ہو رہی تھی آج کیا ہوا۔۔۔ آج یہ ہوا کہ کل دس یا بارہ وہ امیدوار جنہیں اپنے ہارے جانے کی پوری امید تھی وار (جھگڑے) پر اتر آئے۔۔۔۔ اور انہوں نے تمام بیلٹ پیپر کو پھاڑ دیا جس کمرے میں پیپر تھا اسے توڑ دیا۔۔۔ دس افراد نے کیا کیا۔۔۔ اٹھائس سو ووٹ کو ۔۔ افراد کی رائے کو۔۔۔ کچھ نہ جانا۔۔۔۔ مگر بدنامی ہوئی تمام وکلاء کی۔۔۔۔۔۔ اخباری رپوٹرز آئے۔۔۔ تصاویر لیں ۔۔۔ خبر حاصل کی اور چلے گئے۔۔۔ جنگ اخبار کے رپوٹر ( وہ میرے ہم نام ہی تھے) نے خبر حاصل کی ۔۔ جانے جانے کہنے لگا “ ایک بات کہتا ہو بری تو لگے گی، آپ لوگ کریم آف دی سوسائٹی ہیں مگر ساتھ آپ سے اچھے الیکشن تو مراثیوں کے ہوئے ہیں“ (آرٹ کونسل کے الیکشن کی طرف اشارہ)۔۔۔۔ اپنا حصہ جھولی بھر کے ذلت۔۔۔۔

الفاظ

جی چند الفاظ ہمارے اخبارات والے استعمال کرتے ہیں ان سے مجھے اختلاف ہے۔۔۔۔ جیسے “قوم پرست“ جماعت۔۔۔۔۔ اب یہ لفظ ان سیاسی جماعتوں کے لئے استعمال کیا جاتا ہے جو ملک میں عصبیت کو فروغ دیتی ہیں۔۔۔۔ جو ایک قوم کو تقسیم کر کے کئی قوموں میں منقسم کرنے کی کاوش میں لگی ہوئی ہیں۔۔۔ “کلعدم جہادی تنظیم“۔۔۔۔ کیا وہ جہادی تنظیم ہے ؟؟؟ اگر ہاں تو اسے کلعدم نہ کہا جائے اگر وہ جہادی نہیں تو اسے کلعدم تنظیم کہا جائے یا یہ بھی نہیں تو کم از کم اسے نام نہاد جہادی تنظیم لکھا جائے یعنی صرف نام کی جہادی ورنہ دہشت گرد۔۔۔ آپ کی نظر میں کوئی لفظ؟؟؟؟؟؟

خواب

میرا خواب ہے کہ میرا ملک دنیا کا سب سے اچھا ملک بن جائے۔۔۔۔ اس کی سب برائیاں ختم ہو جائے۔۔۔۔۔۔ اس میں انصاف کا بول بالا ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور اور۔۔۔۔۔ آواز“روکو تم سوئی ہوئی قوم کے فرد ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خواب سوئے ہوئے لوگ دیکھتے ہیں۔۔۔۔ پچاس سال سے خواب پر ہی گزارا کر رہے ہو۔۔۔۔عملا بھی کچھ کرو“

مت تھوکیں

ہائی کورٹ میں ایک جگہ یہ جملہ لکھا ہے "برائے مہربانی یہاں پر مت تھوکیں" دوست کہنے (مذاق) لگا جس کے پاس مت(عقل) نہ ہو وہ کیا تھوکے۔۔۔۔ ویسے کیا ہم میں اتنی بھی سمجھ بوجھ نہیں کہ ہم خود سے جانیں کہ کیا غلط ہے کیا درست۔۔۔ جو ایسی سادہ باتیں بھی اب لکھ کر حکم کی شکل میں لگائی جائیں۔۔۔۔۔ مزید افسوس یہ کہ اس پر بھی عمل نہیں ہوتا۔۔۔کیوں؟؟؟ کوئی جواب ہے آپ کے پاس