فرینک مورس نے جو ایک ممتاز وکیل اور مصنف تھے عدالت کے کمرے میں قائد کے مقدمہ لڑنے کے بارے میں لکھا ہے کہ جب قائد مقدمے میں دلائل دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت انہیں دیکھنے میں لطف آتا ہے۔ بہت کم وکلاء کو مقدمہ لڑنے میں وہ مہارت حاصل ہو گی جیسی قائد کو حاصل تھی۔ ان کا مقدمہ لڑنے کا انداز ایک آرٹ ک حیثیت رکھتا تھا۔ قائد مقدمے کا گوشت چھوڑ کر اس کی جڑ اس کے گودے تک پہنچتے تھے۔ انہیں مقدمہ پیش کرنے میں کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ وہ مقدمہ پیش کرنے اور لڑنے میں استادانہ مہارت رکھتے تھے۔ جب وہ کسی مقدمے میں پیش ہوتے تو ان کی ممتاز شخصیت اور پر کشش انداز کو دیکھنے کیلئے عدالت کا کمرہ چھوٹے بڑے وکلاء سے بھر جاتا تھا۔ سننے والوں پر، چاہے وہ جج ہوں یا وکیل ہوں عجیب سحر طاری ہو جاتا تھا۔ وہ نڈر ترین وکیل تھے اور کوئی بھی انہیں مرعوب نہیں سکتا تھا
بشکریہ۔۔۔ نوائے وقت
ایک مقدمہ میں قائداعظم کی دلیل نے پوری دنیا کو اپنے قانون میں ترمیم پر مجبور کر دیا تھا ۔ لمبی بات ہے تفصیل بعد میں لکھوں گا
جواب دیںحذف کریںاک پرانا کلپ ٹی وی پر دیکھا تھا قائد کا اور وہ واقعی بہت عمدہ قانون دان تھے اس کو دیکھ کر اور قائل ہو گیا تھا-
جواب دیںحذف کریںقائد کے طرزِ وکالت کی کیا بات ہے۔ اس پر ضرور کچھ تحقیقی کام ہونا چاہیے۔
جواب دیںحذف کریںhang him tell death
جواب دیںحذف کریںیہ جملہ تھا؟؟؟؟؟ جو ترمیم کر کے ڈالا گیا؟؟؟ شائد!!!