12/25/2005

قائد

فرینک مورس نے جو ایک ممتاز وکیل اور مصنف تھے عدالت کے کمرے میں قائد کے مقدمہ لڑنے کے بارے میں لکھا ہے کہ جب قائد مقدمے میں دلائل دے رہے ہوتے ہیں تو اس وقت انہیں دیکھنے میں لطف آتا ہے۔ بہت کم وکلاء کو مقدمہ لڑنے میں وہ مہارت حاصل ہو گی جیسی قائد کو حاصل تھی۔ ان کا مقدمہ لڑنے کا انداز ایک آرٹ ک حیثیت رکھتا تھا۔ قائد مقدمے کا گوشت چھوڑ کر اس کی جڑ اس کے گودے تک پہنچتے تھے۔ انہیں مقدمہ پیش کرنے میں کوئی خاص محنت نہیں کرنی پڑتی تھی۔ وہ مقدمہ پیش کرنے اور لڑنے میں استادانہ مہارت رکھتے تھے۔ جب وہ کسی مقدمے میں پیش ہوتے تو ان کی ممتاز شخصیت اور پر کشش انداز کو دیکھنے کیلئے عدالت کا کمرہ چھوٹے بڑے وکلاء سے بھر جاتا تھا۔ سننے والوں پر، چاہے وہ جج ہوں یا وکیل ہوں عجیب سحر طاری ہو جاتا تھا۔ وہ نڈر ترین وکیل تھے اور کوئی بھی انہیں مرعوب نہیں سکتا تھا
بشکریہ۔۔۔ نوائے وقت








4 تبصرے:

  1. ایک مقدمہ میں قائداعظم کی دلیل نے پوری دنیا کو اپنے قانون میں ترمیم پر مجبور کر دیا تھا ۔ لمبی بات ہے تفصیل بعد میں لکھوں گا

    جواب دیںحذف کریں
  2. اک پرانا کلپ ٹی وی پر دیکھا تھا قائد کا اور وہ واقعی بہت عمدہ قانون دان تھے اس کو دیکھ کر اور قائل ہو گیا تھا-

    جواب دیںحذف کریں
  3. قائد کے طرزِ وکالت کی کیا بات ہے۔ اس پر ضرور کچھ تحقیقی کام ہونا چاہیے۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. hang him tell death
    یہ جملہ تھا؟؟؟؟؟ جو ترمیم کر کے ڈالا گیا؟؟؟ شائد!!!

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔