آسیہ ملعونہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

قانونی اعتبار سے آسیہ بری ہو چکی ، ریویو داخل بھی ہوا تو بھی سزا بحال ہونا ممکن نہیں اب قانونی طور پر۔
اس کیس میں سزا برقرار رکھنے کے لئے بھی کافی مواد تھا اور یاد رہے ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھتے وقت عدالت سے باہر عوامی جرگہ میں ملزمہ کے اقبال جرم کو قانون کی روشنی میں پہلے ہی رد کر دیا تھا یوں اس فیصلے میں باقی تضادات کے مقابلے میں دو ہی تضاد ایسے ہیں جنہیں بریت کی وجہ بیان کیا جا سکتا ہے ایک مدعی (قاری ) تک اس توہین کی خبر کس طرح پہنچی؟ اس سلسلے میں مثل پر دو بیان ہیں ایک میں قاری کی بہن نے اسے بتا کہ اس کی شاگرد خواتین  کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا دوسرا وہ خواتین خود قاری صاحب کے سامنے پیش ہوئیں۔ دوسرا خواتین نے دوران جرح عدالت میں فالسے کے باغ میں پانی پینے والی بات پر ہونے والے جھگڑے کی صحت یا واقعی سے انکار کیا مگر باقی دیگر گواہان نے اس جھگڑے سے متعلق گواہی دی۔
باقی تضادات عوامی جرگہ کے گرد گھومتے ہیں۔

جسٹیس کھوسہ صاحب کو فوجداری مقدمات میں پاکستان میں سند مانا جاتا ہے۔ ان کے فیصلے بہت بہترین ہوتے ہیں ، جس قدر محنت سے انہوں نے اپنا اضافی نوٹ فیصلے کے حق میں لگایا ہے یقین جانے اس سے آدھی محنت وہ اختلافی نوٹ بھی لگا سکتے تھے یہ ہی نہیں اس سے بھی کم محنت میں وہ ممتاز قادری والے کیس میں سزائے موت کو عمرقید میں بدل سکتے تھے۔ (آسیہ اور عاصیہ کو ایک سمجھنا بھی عجب غلطی ہے معلوم ہوتا ہے صرف انگریزی کتاب سے ریفرنس لیا گیا ہے جو تلفظ ملنے سے یہ غلطی کر لی)

اور جس قدر محنت اور باریک بینی سے چیف صاحب نے آسیہ والی ججمنٹ لکھی ہے اس سے آدھی محنت سے بھی کم محنت میں شاہزیب والے کیس میں جبران ناصر کی پٹیشن/درخواست رد ہو سکتی تھی (فوجداری مقدمات میں تیسرے فریق کی درخواست پر فیصلہ بدلنے کی اس سے قبل کوئی مثال میری نظر سے نہیں گزری نہ کوئی سینئر ایسی کوئی مثال بیان کرتا ہے)۔

مختصر قانون یقین اہم ہے مگر جج کی منشاء بھی کہیں کہیں غالب ہوتی ہے۔ یہ منشاء ہی دلیل و تاویل کا فرق ہوتی ہے۔ اس ججمنٹ پر کسی جج نے اختلافی نوٹ نہیں لکھا ججمنٹ کے حق میں یہ ایک بہت بڑا آرگومنٹ ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔
مذہبی حلقوں میں ملک کی بڑی عدالت اپنا وقار اس ہی مقام پر لے آئی ہے جس مقام پر نظریہ ضرورت کو متعارف کروانے اور پی سی او حلف کے بعد سیاسی حلقوں میں پہنچ گئی تھی۔
اکتیس اکتوبر کو اب ہر سال انگریز دور کے غازی علیم الدین  شہید کے ذکر کے ساتھ ملک پاکستان کے ایوان اقتدار و عدلیہ بارے کیسے خطاب ہوا کرے گے گلی گلی کیا آپ انہیں آج ہی بیان کر سکتے ہیں۔

دعا، طلب اور شرف قبولیت

یوں لگتا ہے کچھ دعائیں منظور ہو کر نہیں دیتی چاہے کتنا رو کر مانگو اور کچھ خیالات ابھی طلب کی دہلیز پر پہنچتے بھی نہیں کہ پورے ہو جاتے ہیں۔ مطلوب کے نہ ملنے کا احساس بن مانگے ملنے والی نعمتوں پر شکر گزاری کے راستے بند کر دیتا ہے۔
بڑے بزرگ کہتے ہیں جو دعائیں قبولیت کا شرف نہیں رکھتی ان کے بدل میں ملنے والی نعمت دراصل انمول ہوتی ہیں مگر اس کی آگاہی صرف اس کو ہو پاتی ہے جو شکر گزار  و رب کی رضا پر مطمئن ہو بصورت دیگر بندہ ایسی راہ پر چل نکلتا ہے جس سے آخرت کی کھیتی و فصل دونوں تباہ ہو جاتے ہیں۔
دعا و شکر گزاری کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔  شکر گزاری دراصل دعا کی قبولیت کی سند ہے۔ خالق کی عبادات، اللہ کے بندوں کی مدد و ان پر احسان، ہر مشکل و تکلیف پر صبر، مختصر یہ کہ زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کو یاد رکھنا ہی شکرگزاری ہے۔
اسے اپنے بندے کا رو رو کر مانگنا پسند ہے مگر نہ ملنے پر اپنے بندے کا رونا نہیں۔ طلب کے پورا نہ ہونے پر شکایت کرنے والے عموماً ذہانت سے نہیں عقل سلیم سے مرحوم ہوتا ہے جس کی ایک شکل گمراہی کی وہ سطح ہے جب کوئی رب کی ذات سے مایوس ہو کر اس کے ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔
مانگو!! اس کی ذات سے یہاں تک خواہش کے پورے نہ ہونے پر مانگ بدل جائے مگر مایوسی تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے مانگ کا بدلنا بھی سند خوشنودی ہے۔

شاہ رخ جتوئی کی رہائی کیوں ممکن ہوئی؟؟؟

شاہ رخ جتوئی ضمانت پر رہا ہوچکا ہے اس کی رہائی کے ساتھ ہی سوشل اور روایتی میڈیا پر فیصلہ پر تنقید جاری ہے ۔عام افراد پاکستانی قانون سے نا واقف ہیں سو ان کو بس یہی نظر آرہا ہے کے ہمیشہ کی طرح ایک دولت مند شخص سزا سے بچ گیا ۔
پاکستان میں کچھ جرائم نا قابل راضی نامہ ہیں اور کچھ قابل راضی نامہ ہیں۔ قتل کا مقدمہ دفعہ 309 اور 310 تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری دفعہ 345 ذیلی دفعہ 2 کے تحت عدالت مجاز کے اجازت سے قابل راضی نامہ ہوتا ہے ۔ مگر چونکہ اس قتل سے عام لوگوں میں خوف و ہراس پھیلا تھا (جو دراصل میڈیا کوریج کا نتیجہ تھا) اس لیے مقدمہ میں دہشت گردی کی دفعات بھی شامل کی گئیں جو کہ ناقابل راضی نامہ ہے ۔شاہ رخ کو ٹرائل کورٹ سے سزا ہو گئی مگر اپیل کے دوران شاہ زیب کے وارثان سے راضی نامہ ہوگیا، مگر اس کے باوجود شاہ رخ کی رہائی ممکن نہ تھی۔ اس کی دو وجوہات تھیں. 1 ۔دہشت گردی کی دفعہ کی موجودگی میں راضی نامہ ممکن نہ تھا۔
2۔۔دفعہ 338 ای (2) تعزیرات پاکستان کے تحت اگر کسی قبل راضی نامہ کیس میں سزا ہو جائے اور اپیل میں راضی نامہ ہو تو عدالت کی صوابدید ہوگی کہ اس کو تسلیم کرے یا نہ کرے جس کے الفاظ یوں ہیں!
“All questions relating to waiver or compounding of an offence or awarding of punishment under Section 310, whether before or after the passing of any sentence, shall be determined by trial Court”

مزید براں دفعہ 311 تعزیرات پاکستان کے تحت قتل کے کیس میں راضی نامہ ہونے کے باوجود عدالت اصول "فساد فی الآ رض" کے تحت تعزیر میں ملزم کو سزا دےسکتی ہے۔
اس سلسلے میں ذیل کا فیصلہ ایک نظیر ہے۔
“Ss. 302(b)1149, 186/149, 353/149, 148/149 & 311---Anti-Terrorism Act (XXVII of 1997), S.7---Criminal Procedure Code (V of 1898), S.345(2)---Constitution of Pakistan (1973), Art.185(3)---Parties had compromised the matter and compensation had already been received by the complainants---Permission to compound the offence, therefore, was accorded under S.345(2), Cr.P.C.---Accused, however, had committed the murder of two young boys who were confined in judicial lock-up in a brutal and shocking manner, which had outraged the public conscience and they were liable for punishment on the principle of "Fasad-fil-Arz"---Accused had taken the law in their hands without caring that police stations or Court premises were the places where law protected the life of citizens---Consequently, in exercise of jurisdiction under S.311, P.P.C. death sentence of two accused was reduced to imprisonment for life under S.302(b), P.P.C. and under S.7 of the Anti-Terrorism Act, 1997 on both the counts---Similarly, sentences of imprisonment for life awarded to two other accused under S.302(b), P.P.C. was reduced to fourteen years' R.I., but their life imprisonment awarded under S.7(b) of the Anti-Terrorism Act, 1997, was maintained on both the counts with benefit of S.382-B, Cr.P.C.---Remaining sentences awarded to accused were kept intact---All sentences were directed to run concurrently. (P L D 2006 Supreme Court 182)

ایسا ہی ایک فیصلہ PLD 2006 Peshawar page 82 ہے باقی عموما عدالتیں فساد فی الآ رض کی تعریف میں عموما سفاکی کے جز کو دیکھی ہیں۔ . مگر سندھ ہائی کورٹ نے اپنے فیصلہ میں دہشت گردی کی دفعات ختم کردی کیونکہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ذاتی دشمنی کی وجہ سے کیا گیا جرم دہشت گردی کے ذمرے میں نہیں آتا۔
“Ss. 6 & 7---Act of terrorism---Scope---Occurrence which resulted due to a personal motive/enmity for taking revenge did not come within the fold of "terrorism"---Mere fact that crime for personal motive was committed in a gruesome or detestable manner, by itself would not be sufficient to bring the act within the meaning of terrorism or terrorist activities---Furthermore, in certain ordinary crimes, the harm caused to human life might be devastating, gruesome and sickening, however, this by itself would be not sufficient to bring the crime within the fold of terrorism or to attract the provisions of Ss. 6 or 7 of the Anti-Terrorism Act, 1997, unless the object intended to be achieved fell within the category of crimes, clearly meant to create terror in people and/or sense of insecurity. (2017 S C M R 1572)

اب ٹرائل کورٹ راضی نامہ کو تسلیم کرنے کی پابند تھی ۔جس سے شاہ رخ جتوئی کی رہائی کی راہ ہموار ہوگئی ۔ مگر اب بھی سرکار سندھ ہائی کورٹ کے فیصلہ کے خلاف سپریم کورٹ اپیل دائر کرسکتی ہے۔ جو یقیناً وہ نہیں کریگی مگر پرائیویٹ سطح پر دائر کر دی گئی ہے۔اس مقدمہ سے ایک بار پھر اس تاثر کو تقویت ملی کہ پاکستان میں امیر آدمی کے سزا سے بچنے کے بہت سے راستے ہوتے ہی,مگر درحقیقت ایسا بالکل نہیں ہے اس قانون کے تحت ہر طبقے کے افراد فیض یاب ہوئے ہیں اور یہ قانون خاندانوں کی دشمنوں کے کے اختتام کا سبب بھی بنتا ہے. مگر اگر اس قانون سے کسی کو اختلاف ہے تب اس کی تبدیلی اسمبلی سے ہی ممکن ہے بذیعہ ترمیم کیونکہ فیڈریل شریعت کورٹ (PLD 2017 page 8 FEDERAL-SHARIAT-COURT ) سے ایسی ایک پٹیشن جس میں متعلقہ دفعات 306 (b) اور (c), 307(1) (b) اور (c), 309(1), 310(1) کوچیلنج کیا گیا تھا رد کر دی گئی ہے ۔

بابے پھر بابے ہوتے ہیں

کہنے کو اس مضمون کا عنوان بزرگ بھی ہو سکتا تھا مگر بزرگی میں شرارت ہو سکتی ہے مسٹنڈاپن نہیں اس لئے بابے ہی ٹھیک لگتا ہے. ہمارے دور کے مسٹندے کچھ ذیادہ لوفر ہو گئے ہیں مگر پہلے کے لوفر بھی اتنے مسٹندے نہیں ہوتے تھے. یہ بابے اپنی جوانی کے دل لبھانے والے جھوٹے سچے قصے سنا کر جس طرح جوانوں کی چوری پکڑتے ہیں وہ ان کا کی حاصل ہے.


ایسے ہی ایک بابے کے منہ سے ایک بار سننے کو ملا کہ کیا دور آ گیا ہے ایک ہمارا دور تھا جب لڑکوں کے دوست اور لڑکیوں کی سہیلیاں ہوتی ہے اب تو لڑکوں کی سہیلیاں اور لڑکیوں کے دوست ہوتے ہیں. تب ہم کسی لڑکی کے قریب ہوتے تو وہ فٹ سے کہہ دیتی دیکھو مجھے دھوکہ نہ دینا ایسا نہ ہو کہ کل کو کسی اور سے شادی کر لو ہم لڑکیاں بہت حساس ہوتی ہیں کسی کو ایک بار اپنا کہہ دیا تو پھر ساری عمر اسی کی ہو کر رہ جاتی ہیں اور ایک آج کی چوکریاں ہیں دوستی کے دوسرے دن ہی نوٹ کروا دیتی ہیں کہ دیکھو سنجیدہ نہ ہو جانا میں بس ٹائم پاس کر رہی ہوں کل کو تو کون اور میں کون.


یہ بابے وقت کے بدلنے کے بارے میں بتاتے ہیں کہ پہلے گھر بناتے وقت گھر والوں کے ساتھ ساتھ مہمانوں کے لئے بھی ایک حصہ ہوتا تھا مہمان خانے میں مہمان کی خدمت کو ایک بندہ مختص ہوتا تھا آج کی طرح نہیں کہ صرف صوفہ سیٹ ہو بلکہ پلنگ یا چارپائی ہوتی کہ آنے والا مہمان آرام کرتا. پہلے مہمان کو رحمت تصور ہوتا تھا اور آج اپنے رویے سے رہ مت کہا جاتا ہے .


ان بابوں سے اس لئے بھی ڈر لگتا ہے کہ قصے سنا کر نصیحتیں کرتے ہیں. ان کے پاس ملا دوپیازہ ہے، ملا لٹن ہے، متایو فقیر ہے، جٹ مانا ہیں. یہ اپنے اپنے علاقوں کے کرداروں کے نام لے کر مختلف قصوں کی مدد سے مخصوص سبق سکھانے کے لئے ہنسی مذاق میں سنا ڈالتے ہیں. ہم جیسے لونڈے انہیں لاکھ کہیں کہا یہ کردار خیالی ہیں، یہ قصے جھوٹے ہیں. یہ بابے باز نہیں آتے پھر سے کسی اگلی نشست میں ان کرداروں کے قصوں کی مدد سے شخصیت کی تعمیر کرنے بیٹھ جاتے ہیں.


ایک محفل میں رشوت کی افادیت پر بحث ہو رہی تھی ایک بابا جوش میں دونوں ہاتھ ہوا میں کھڑا کر کے بولا مجھے ذیادہ نہیں معلوم بس اتنا جانتا ہوں کہ کچھ حرام کے تخم سے ہوتے ہیں کچھ کا تخم حرام کا ہوتا ہے اول ذکر جنتی ہو سکتا ہے اگرچہ اس کے ماں باپ جہنمی ہو مگر ثانی ذکر جہنم کی آگ کا ایندھن ہو گا . پوچھا بابیوں کہنا کیا چاہتے ہو کہنے لگے کچھ ماں باپ کی حرام کاری کی وجہ سے حرامی نسل ہوتے ہیں اور کچھ اپنی کمائی کی وجہ سے! یہ رشوت خور والے دوسری قسم کے حرامی ہیں جو اپنی نسل کو بھی حرامی بنا دیتے ہیں. ایسے سخت جملے سننے کے بعد ہمارے کئی دوستوں نے اس بابے سے ملنا چھوڑ دیا.


یہ بابے اپنی عمر کو اپنا تجربہ بتاتے ہیں. یہ سامنے والے کی نیت کو اس کے اعمال سے پرکھنے کے قائل معلوم ہوتے ہیں ان کے یہاں benefit of doubt بہت ذیادہ پایا جاتا ہے. ایسے ہی ایک بابا جی کہا کرتے ہیں کہ برا وہ جس کی برائی پکڑی جائے چاہے اس نے کی بھی نہ ہو اور اچھا وہ جو پکڑ میں نہ آئے. ہم نے کہا بابیوں اب تو بدنامی بھی نامور کر دیتی ہے تو کہنے لگے جیسے لوگ ویسا ان کا ہیرو ہوتا ہے ہر طبقہ و گروہ کا اپنا رول ماڈل (ہیرو) ہو گا ناں. بات پلے نہ پڑی تو ہم نے کندھے اُچکا دیئے، دھیمے سے مسکرا کر بولے وکیل ہو تم؟ ہم نے سر کی جنبش سے ہاں کی. کہنے لگے وکیلوں میں سے تمہارا آئیڈیل کوئی بڑا قانون دان یا جج ہو گا ایک ڈاکو نہیں ایسے ہی جو جس شعبے کا بندہ ہے اس کا رول ماڈل اس ہی شعبے کا بندہ ہو گا ہر فرد کسی اپنے ہم پیشہ یا ہم نظریہ و عقیدہ کو ہی ماڈل بناتے ہیں. ہم نے کہا کہ اگر کوئی کسی دوسرے شعبہ کے بندے کو اپنا رول ماڈل بنا لے تو! کہنے لگے وہ بہروپیا ہے جو ایسا کرتا ہے. ہم اس کی بات سے متفق نہیں تھے مگر کسی سخت جملے سے بچنے کے لیے خاموش رہے.


حالات و زمانے کا رونا رونے والی ایک محفل میں اہل محفل جب حاکموں کے برے کردار کو زیر بحث لائے تو ایک اور بابا جی رائےزنی کرتے ہوئے گویا ہوئے خود کو بدل لو اچھا حاکم میسر آ جائے گا چوروں کا سربراہ چوروں میں سے ہی ہو گا جیسے ہم ویسے ہمارے حاکم.


ہمارے دوست جوانی میں ہی بابا جی ہو گئے ہیں. ان کا پسندیدہ موضوع رویے ہیں. وہ لوگوں کے رویوں پر خیال آرائی کرتے رہتے ہیں؛ ہمارے علاوہ باقی سب ہی ان کے خیالات کو سراہتے ہیں. اولاد کی تربیت پر بات ہو رہی تھی کہنے لگے اگر گھر کے سربراہ کے مزاج میں سختی ہو تو اولاد باغی ہو جاتی ہے. ملک کا حاکم و خاندان کا سربراہ اگر ہر معاملہ میں اپنی مرضی مسلط کرنے لگ جائیں تو بغاوتیں جنم لیتے ہیں اور زندگی کی آخری سانسیں تنہائی میں گزرتی ہے اگر اولاد کی قربت نصیب بھی ہو تو صحبت نصیب نہیں ہوتی.


ہمارے ایک دوست ایک مشکل میں پھنس گئے تلاش ہو رہی تھی کسی اثر رسوخ والے بندے کی اسی سلسلے "غلطی" سے ایک بابا جی سے آمنا سامنا ہوا کہنے لگے جس کے پاس بھی جاؤ گے اس کے اثر رسوخ میں اضافہ کا باعث بنو گے! جو آج کام آئے گا کل کام بھی لے گا اور احسان مند تم ہی رہو گے اور جو کام کا آسرا دے گا وہ بھی کل کو کام نکلوا لے گا جو کرنا ہے خود کرو. ہمارے دوست بابے کی باتوں میں آ گئے اور اب وہ خود کافی اثر رسوخ والے بندے ہیں.


بابیوں کی کوئی عمر، نسل، عقیدہ اور تجربہ لازمی نہیں بقول ہمارے ایک بابا صفت دوست کہتے ہیں بابا وہ جو رمز کی بات کہہ دے. ہم نے تو سیکھ لیا ہے ان بابیوں کی بات کو ایسے اگنور کرو جیسے یو این او کشمیر کے مسئلہ کو اگنور کرتی ہے. ان کی قربت شخصیت میں موجود "ضروری" خامیوں کے نقصاندہ ہو سکتی ہے. کیا آپ کا کبھی کسی بابے سے واسطہ پڑا ہے؟


پاک وطن چاند ستارے والا!

اس سال بارہ اگست کو بنوریہ آرگنائزیشن و اردو سورس کے تعاون سے ہونے والے ایک تقریب میں شرکت کی جس میں امانت اللہ و نورجہاں کے گائے ہوئے گانے کا اسلامی ریمکس ورژن جاری کیا گیا. شاید یہ کسی مدرسہ کی جانب سے ملی نغمہ کی پہلی پروڈکشن ہے. آپ اسے ایک عمدہ پروڈکشن تو کہہ سکتے ہیں مگر تخلیقی کام نہیں.
اس سے قبل بنوریہ آرگنائزیشن نے علامہ اقبال کے کلام لب پہ آتی ہے دعا کا بھی اسلامی ریمکس ورژن کا اجراء کیا ہے دونوں پروڈکشن میں مفتی نعیم سمیت کئی دیگر علماء و طالبات کے محبت بھرے پیغامات ہیں.
Aye Watan Payare Watan (Pak Watan) - Binoria Media


پشاور آرمی پبلک اسکول کے سانحہ کے بعد مذہبی حلقے جس مخصوص دباؤ کا شکار ہیں اس دباؤ کو کم کرنے کی کوشش معلوم ہوتی ہے. اس پلیٹ فارم پر مقررین کا ذیادہ زور اس بات پر تھا کہ ہم مدرسہ والے ہیں بندوق والے نہیں، ایسے ہی جیسے کچھ مکتبہ فکر (میں ان میں سے ہوں) والے کہتا ہے کہ ہم دم درود والے مولوی ہیں بم برود والے نہیں. ذاتی طور پر مجھے مذہبی حلقوں کا یوں پچھلے قدموں پر جا کر ایسے اقدامات کرنا اور خود کے بنیاد پرست نہ ہونے کا اظہار کرنا اچھا نہیں لگا. اس قسم کے پروڈکشن جدت سے منسلک ہونے کی بناء پر کرنا ٹھیک ہے مگر ردعمل میں کرنا کمزوری و چوری کا اظہار لگتا ہے .

ہم ایک ایسا ہجوم ہے جس کو دوسروں پر تنقید کرنے اور ان کو دیوار سے لگانے میں خوشی ملتی ہے .
اب ایسے میں اس تنقید کے ممکنہ ڈر سے اور اپنے سافٹ امیج ابھارنے کو سامنے والا جو یہ قدم اٹھائے گا اب بھی اس پرتنقید ہو گی کہنے والوں کی زبان بندی ممکن نہیں، حلال موسیقی کی اصلاح کے پیچھے چھپے طنز کو سمجھنا ذیادہ مشکل نہیں. ہم غلط کو غلط جان کر اس میں پر قائم رہنے والہیں اور نیکی کی تلقین کرنے والے کی غلطیوں کو اس پر تنقید کرنے کا جواز مانتے ہیں.

نظریات کے اختلاف کو ذاتی نفرتوں و دوریوں کو سبب بنانے سے اجتناب کریں. قائل کرنے کی کوشش کو مسلط کرنے کی جدوجہد میں نہ بدلیں. کسی کی چوری پکڑنے کی خواہش سے ذیادہ بہتر اس بات پر شکر ادا کرنا ہے کہ اپنا پردہ و بھرم قائم ہے. یقین جانے زندگی سکون میں آ جائے گی.

  


چڑی روزے سے روزے تک

اب ہم بڑے ہیں اور بڑوں میں شمار ہوتے ہیں ایک وقت تھا کہ ہم چڑی کی سی جان ہوتے تھے. دین و دنیا دونوں کی سمجھ نہ تھی. یوں تو دین و دنیا کے بارے میں اب بھی جاہل ہیں مگر بچپن میں تو ہم ان کی فکر سے مکمل آزاد تھے. والد صاحب کے ساتھ بس جمعہ والے دن مسجد و مولوی کا دیدار ہوتا تھا باقی سارا ہفتہ گھر پر ہی اللہ اللہ ہوتی جس میں ڈنڈی مارنا ہمارا روزانہ کا معمول ہوتا بلکہ روزانہ ایک دو بار ڈنڈی مارنا معمول ہوتا.

یہ انسانی فطرت ہے کہ جس کام کا کہا جائے اس جانب راغب بے شک نہ ہو مگر جس سے روکا جائے اس طرف کھچاؤ محسوس ہوتا ہے. ایسی ہی کشش روزے کی جانب تھی. مجھے اپنی عمر، دن، مہینہ یاد نہیں بس سردیوں کا موسم،  سحری کا وقت، لحاف میں لیٹا ہونا اور کچن میں والدہ کا سحری تیار کرنا یاد ہے. والدین ہمیں روزہ کے لئے نہیں اٹھاتے تھے اور ہم بس وہی بستر پر لیٹے لیٹے قیاس کرتے اب پراٹھا پک رہا ہے ان کھا رہے ہیں اب اذان ہو گئی. سامان سمیٹنا جا رہا ہے، اب تلاوت قرآن و نماز پڑھنے لگ گئے ہیں پھر کب دوبارہ آنکھ لگتی ہمیں علم نہیں. کئی بار نہانے سے پانی پینے یا کوئی اور وجہ بنا کر اٹھے کہ شاید ہمیں روزہ رکھوا لیں مگر ناکام رہے.

نماز دین کا ستون ہے

امی سے روزہ رکھنے کی فرمائش کا اظہار کرتے تو کہتی کہ ابھی چھوٹے ہو بڑے ہو کر رکھنا. پھر ایک رمضان میں شرط عائد ہوئی نمازیں پوری پڑھو تو روزہ رکھوایا جائے گا. "من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن  سکا" روزہ دار بنے کی خواہش کے باوجود ہم چند نمازوں میں ڈنڈی مار گئے. تب جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی ایک جمعرات کو آگاہ کیا گیا کہ کل آپ روزہ رکھیں گے مگر مکمل نہیں چڑی روزہ.

چڑی روزہ ہم سے پہلے محلے کا ایک دوست رکھ چکا تھا لہذا ہمیں علم تھا کہ دوپہر کے وقت "روزہ کشائی" ہو جاتی ہے لہذا ہم نے احتجاج کیا نہیں پورا روزہ رکھنا ہے چڑی روزہ نہیں رکھنا تب ہمیں باور کرایا گیا کہ پورا روزہ رکھنے کو پوری نمازیں پڑھوں. ہمیں والدہ کی "چالاکی" پر بڑا غصہ آیا مگر کیا کرتے، دل میں یہ سوچ کر خاموشی اختیار کی کہ ہم نے نمازوں میں ڈنڈی ماری ہے تو بدلے میں والدہ ہمارے روزے میں ڈنڈی مار گئی ہیں.

سحری میں روزہ رکھنے کو اٹھے تو ناشتے والے لوازمات کے علاوہ میٹھی لسی ایک زائد ایٹم تھا. سحری کی اس کے بعد نماز فجر ادا کی (یہ ہماری پہلی فجر کی نماز تھی جو وقت پر پڑھی تھی). پھر سو گئے اسکول کی چھٹی تھی. دس بجے اٹھے پھر کب ایک بجا معلوم ہی نہیں ہوا بس روزہ کھلوا دیا گیا. یعنی دوپہر کا کھانا،  جس کے بعد والد کے ہمراہ جمعہ پڑھنے چلے گئے. اگلے دو جمعہ بھی ایسے ہی چڑی روزے رکھوائے گئے . آخری والے جمعہ کو والدین ہمیں مکمل روزہ رکھوانے پر تیار ہو گئے تھے اور بات وفا ہوئی.

کب روزہ کھلے گا؟

جمعہ کے بعد سہ پہر تک تو معاملات ٹھیک رہے مگر شام چار بجے پیاس شدت سے لگنا شروع ہو گئی. پانچ بجے کھیلنے جانے کی ہمت بھی نہ تھی لہذا نہیں گئے. امی کے ڈر سے نماز عصر پڑھی وہ بھی صرف فرض. جہاں دسترخوان لگاتے ہیں ہم وہاں ہی لیٹے ہوئے تھے ابو نے ایک دو بار پوچھا روزہ لگ رہا ہے ہم نے جھوٹ بولا کہ نہیں. ہم نہیں ہماری حالت سب بعید  کھول رہی تھی. امی  ابو عموماً افطاری کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا کرتے تھے بس اتنا کہ عشاء کے بجائے مغرب کے وقت رات کا کھانا کھا لیا جاتا اور ایک سردائی(سندھی زبان میں تھادل) کا شربت اضافی ہوتا اور عشاء کے وقت موسمی فروٹ کھایا جاتا . مگر ہمارے پہلے روزے پر بیکری کے کافی سارے لوازمات و فروٹ وغیرہ دسترخوان کا حصہ تھے. خدا خدا کر کے اذان ہوئی مگر لقمہ لینے سے پہلے ہم روزہ کھولنے کی یاد کی ہوئی دعا ہی بھول گئے. اب ہاتھ میں کھجور پڑے امی کی جانب دیکھنے لگے. پوچھنے پر بتایا دعا بھول گیا ہو جو پڑھ کر روزہ کھولنا ہے. مسکرا پر دعا بتانے لگی ابھی " ﻟَﻚَ ﺻُﻤْﺖُ" پر پہنچی تو ہمیں دعا یاد آ گئی ہم نے تیزی سے دعا پڑھی اور پھر کھجور منہ میں ڈالی اور پانی پینے لگے. مغرب کی نماز میں ڈنڈی مار گئے.

اگلے سال رمضان المبارک میں ہر جمعہ کو روزہ رکھوایا گیا ساتھ میں آخری عشرے کے چند طاق کے روزے رکھوائے گئے. جس دن ہمارا روزہ ہوتا تب روزہ کشائی پر لوازمات کی تعداد ذیادہ ہوتی. آہستہ آہستہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ہم مکمل روزہ دار ہو گئے مگر نمازی نہ ہو سکے. بچپن میں کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ہم یہ بھول جاتے کہ ہمارا روزہ ہے اسکول میں دوست سے لے کر کچھ کھا لیا تب یا تو کھاتے وقت یاد آتا کہ اوہ ہمارا تو روزہ ہے یا کھا پی کر کافی دیر بعد یاد آتا. ایک بار تو ایک دوست نے اس ہی بھول کر کھانے کی حرکت کی وجہ سے ہمارے روزہ دار ہونے کو جھوٹ قرار دیا تب پہلے تو ہم اس سے لڑ پڑے اور بے نتیجہ لڑائی کے بعد رو پڑے کہ ہمارا روزہ ہے یہ مانا جائے اب اس وقت کو یاد کرکے مسکرا جاتے ہیں.

جب وقت افطاری آیا نہ کوئی بندہ رہا نہ بندے کا پتر

روزے کے دوران ہماری غائب دماغی کے کئی قصے ہیں جو اب فیملی میں ہمیں تنگ کرنے کو مکمل تو نہیں دہرائے جاتے بس پنچ لائن کہہ دی جاتی ہے وجہ یہ کہ قصے ازبر ہوچکے سب کو، مثلاً ایک بار ہم گھر میں ہی بہنوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے تو دوران کھیل گیند کچن کی طرف گئی ہم گیند پکڑ کر  کچن میں داخل ہوئے امی پکوڑے بنا رہی تھیں ہم نے سوال کیا "روزہ کھلنے میں کتنا وقت ہے؟" جواب آیا بیس منٹ ہیں. ہم نے کہا ٹھیک ہے چلیں پھر ایک پکوڑا ہی دے دیں. اب بھی اکثر "ایک پکوڑا ہی دے دیں" کہہ کر ہمیں تنگ کیا جاتا ہے.

بلوغت کے بعد ایک بار ایسا ہوا کہ ہم رمضان المبارک کے نصف روزے رکھنے سے محروم ہوئے وجہ لقوے کا حملہ تھا میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اگر رمضان المبارک کے علاوہ کوئی اور مہینہ ہوتا تو شاید میں اس بیماری کی زد آ چکا ہوتا اور آج کسی سے سیدھے منہ بات نہ کر رہا ہوتا . ہوا یوں کہ سحری کے بعد وضو کے دوران کرولی کرتے ہمیں احساس ہوا کہ سیدھی طرف ہونٹوں کی گرپ کچھ کمزور ہے لہٰذا اسی دن دس بجے ڈاکٹر سے رجوع کیا جس نے آدھ گھنٹے کے معینہ کے بعد بتایا کہ اس قدر ابتدائی اسٹیج پر آج تک میرے پاس کوئی مریض نہیں آیا. یوں علاج ہوا اور ہم بچ گئے.

یہ پہلا رمضان ہے جب ہم گھر یا گھر والوں سے دور ہیں. اب سحری میں ماں کی آواز نہیں جگاتی بلکہ خود اُٹھ کر باورچی کو یا تو اٹھانا پڑتا ہے یا اطمینان کرنا کہ وہ اٹھ گیا ہے. اب جو ملے اس سے سحری و افطاری کرنی پڑتی ہے نخرے و فرمائشوں کو پورا کرنے والی ماں تو گھر پر ہے باورچی کہہ دیتا ہے صاحب پہلے بتانا تھا اب تو یہ ہی ہے. وقت وقت کی بات ہے جی. نماز میں سستی اب بھی ہے روزے میں لگن پہلی سی نہیں رہی. اللہ ہی ہے جو ہماری اس بھوک و پیاس کو روزے کا درجہ دے بڑے کھوٹے اعمال ہیں.

اردو بلاگرز میں سات آٹھ سال پہلے ایک روایت تھی کہ کسی خاص تہوار یا ایونٹ کی تحریر لکھنے کے بعد دوسرے ک ٹیگ کرتے تھے کہ وہ بھی اس بارے میں لکھیں اس ہی امید پر ہم درج ذیل بلاگرز کو ٹیگ کر رہے ہیں (بلاگرز تو بہت ہے مگر ہم پانچ کو ٹیگ کر رہے ہیں) وہ بھی تحریر لکھ کر مزید پانچ پانچ بلاگرز کو ٹیگ کر لیں.
 انکل اجمل
 محمد رمضان رفیق
 کوثر بیگ 
 یاسر خوامخواہ جاپانی
 نعیم خان  

نوٹ : اردو بلاگرز نے اپنے اپنے پہلے روزے کی یادوں کو تحریر کیا جو تمام کی تمام تحریریں منطرنامہ پر جمع کی گئی ہیں  یہاں  دیکھی جا سکتی ہیں.

روہنگیا: مظلوم ترین آبادی

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ 1982 میں شہریت سے متعلق قانون پاس ہونے کے بعد قریب اٹھارہ لاکھ مسلم آبادی پر مصیبتوں کے پہاڑ اتارے گئے خاص کر روہنگیا نسل کے مسلمانوں پر کہ انہیں برما (میانمار) کا شہری ماننے کے بجائے غیر ملکی قرار دیا گیا یوں ایک شہری کو حاصل تمام بنیادی حقوق سے اِس مسلم آبادی کو محروم کر دیا گیا یہاں تک آزادانہ نقل و حمل جیسا بنیادی انسانی حق بھی سلب کر لیا گیا مگر حقیقت یہ ہے کہ اس خطے میں روہنگیا نسل سمیت دیگر مسلمان آبادی پر سولہویں صدی سے ہی سختیاں شروع ہو گئی تھی جب جانوروں کی قربانی سے روکنے کے عمل سے مظالم کا آغاز ہو گیا تھا.
دنیا میں یہ کہاجاتا ہے کہ بودھ امن پسند ہیں ان کی تعلیمات کے مطابق انسانی جان کیا جانور کو مارنا بھی ظلم ہے. مگر میانمار کے معاملات سے تو یہ فقط "پراپیگنڈہ" لگتا ہے. مسلم کشی کو لیڈ کرنے والا بودھ بھگشواء ہی تو ہے. ایک سزا یافتہ، مذہبی تعصب کا شکار. اور قاتلوں کی فوج بودھ بھگشوؤں پر مشتمل ہے.
میانمار میں جس قسم کے قوانین پاس ہو رہے ہیں اور حکومت جس طرح کا رویہ اختیار کئے ہوئے ہے اس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ اس ساری بربریت و غارت گری کو سرکاری سرپرستی حاصل ہے. مسلم آبادی پر دو سے ذیادہ بچے پیدا کرنے پر پابندی عائد ہے. ایک مسلم خاندان پر لازم ہے کہ وہ دو بچوں کے درمیان کم از کم تین سال کا وقفہ لازم ہے. دوسری طرف میانمار صدر صاف الفاظ میں روہنگیا آبادی کو ملک چھوڑنے کا مشورہ دے چکا ہے.
ہم نے سنا تھا کہ عورت کا دل بہت نرم ہوتا ہے، چونکہ وہ ایک جان کو جنم دیتی ہے اس لئے انسانی جان کی قدر کو مرد کے مقابلے میں بہتر سمجھتی ہے، مگر معلوم ہوا کہ جب بات اقتدار کے لالچ کی ہو انسانی جان مسلم آبادی کی ہو تو ایک بودھ مذہب کی سیاستدان عورت کی جانب سے سوال کرنے پر بھی مذمت نہیں کی جاتی. انگ سان سوچی نے بھی ایسا ہی کیا یوں اس خیال کو تقویت پہنچی کہ امن کا نوبل انعام دراصل میرٹ پر نہیں پسند پر دیا جاتا ہے.
برما میں ہونے والی اس مسلم کشی میں وہاں کی حکومت، اپوزیشن اور مذہبی طبقے تمام کے تمام ایک ہی لائن پر ہیں، جس سے یہ تاثر قائم ہوتا ہے کہ عوامی سطح پر اس انسان کشی کو قبولیت کا درجہ حاصل ہے ایسے میں اس (روہنگیا) مسلم کشی  کا حل کیا ہو گا؟ بیرونی دنیا اور خاص کر مسلم دنیا کیسے انسانی جانوں کو بچا پائے گی؟ کیا بیرونی دنیا ان روہنگیا نسل کو اپنے یہاں پناہ گزیر کرے گی اور اگر ہاں تو کب تک؟
میانمار سے باہر ہونے والے احتجاج و مذمتی جلوس وہاں کے لوگوں کا ذہن نہیں بدلنے والے کم از کم اتنی جلدی نہیں کہ روہنگیا کی آبادی کی مزید بڑے نقصان سے بچ سکے. بیرونی دنیا کی پابندیاں ممکن ہے کسی حد تک بہتری کا راستہ نکال لیں مگر اصل حل یہ ہی ہے کہ کوئی ایسی قوت ہو جو قاتلوں کا ہاتھ موڑ سکے خواہ وہ مقامی آبادی سے نکلے یا بیرونی حملہ آوروں کی شکل میں! کیا مسلم دنیا ایسا ایڈوینچر کر سکی گی؟ نہیں تو بھول جائیں کہ آپ و میں میانمار کی روہنگیا آبادی کو بچا پائے گے البتہ روہنگیا مقتولین کے خاندانوں سے ایسے شدت پسندوں کی پیدائش ضرور ہو گی جو دوسروں پر رحم شاید نہ کریں.

بوڈیسر مسجد و تالاب

ننگرپارکر سے پانچ کلو میٹرشمال مغر ب میں بوڈیسر نامی گاؤں کے پاس کارونجھر پہاڑ کے قدموں میں واقع تالاب و مسجد کو بھی شاید گاؤں کی مناسبت سے ہی بوڈیسر مسجد و بوڈیسر ڈیم کا نام دیا گیا ہے۔ یہ معلوم نہیں گاؤں یا مسجد سے کس کا نام پہلے بوڈیسر رکھا گیا ؟ اگرچہ تالاب ذیادہ قدیم ہے مگر قیاس غالب ہے کہ اس تالاب یا ڈیم کو بوڈیسر کا نام بعد میں دیا گیا ہو گا۔
کارونجھر پہاڑ ی سلسلہ دراصل گرینائٹ کے ذخائر ہیں، یہ رن آف کچھ کے شمال میں واقع ہے۔رن آف کچھ کے پرانے باسیوں کو ہی کچھی کہا جاتا ہے۔ مقامی آبادی کا کہنا ہے کہ بارش کے بعد کارونجھر پہاڑ دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے مگر ہم نے اسے خشک حالت میں دیکھا اور پتھروں کےبڑے سائزوہیت سے حیران ہوئے۔ پہاڑ اور قریبی زمین کی ساخت اس بات کی چغلی کھاتے ہیں کہ کبھی ہزاروں سال پہلے یہاں دریا بہتہ ہو گا۔
بوڈیسر مسجد کے قریب لگے بورڈ کے مطابق یہ مسجد سن ۱۵۰۵ عیسوی (۸۰۸ ھجری)میں گجرات کے حاکم محمود شاہ بن مظفر بن غیاث الدین نے تعمیر کی۔ اس وقت کےا گجرات(احمد آبااد) کے حاکم ناصرالدین محمود شاہ اول مساجد کی تعمیر کا شوق رکھتے تھے اور محمود بگڑا کے نام سے مشہور تھے۔ وہ سن ۱۵۰۵ میں یہاں محمود بگڑا اور راجپوت سوڈا کے درمیان جنگ ہوئی تھی تب ہی یہ مسجد تعمیر ہوئی۔ جنگ میں کام آنے والے چندمسلم سپاہیوں کی قبریں بھی اس ہی مسجد کے قریب بنائی گئی تھی۔ بوڈیسر نام کا ایک علاقہ آج بھی بھارت کے صوبے گجرات کے ضلع کچھ کی تحصیل عبداصہ میں ہے ممکن ہے ہندوستانی مزاج کے مطابق اس مسجد کو اُس ہی علاقے کے نام پر بوڈیسر قرار دیا ہو۔ جیسا کہ ایک ہی نام کے کئی قصبے و گاوّں آباد کرنے کا رواج ہے یہاں۔پہلی مرتبہ جب ہم نے بوڈیسر کا نام سنا تو لگا جیسے بدھا سر کہا گیا ہے اور ہم جین مذہب کے خیالات میں ہونے کی وجہ سے اسے بدھ مذہب سے ملانے لگے مگر مقامی لوگوں سے تصدیق نہ ہو سکی۔
اپ ڈیٹ :پروفیسر نور احمد کاکہنا ہے کہ بوڈیسر دراصل دو الفاظ کا مرکب ہے، بودے اور سر،بوڈے ایک سابقہ حاکم بوڈے پرامر کے نام سے لیا گیا ہے کہ یہ گاوں اُس نے بنایا جبکہ سر سے مراد وہ قدرتی تالاب ہے جو بارش کے پانی سے دجود میں آتا ہے۔ یعنی قصبوں کے نام حاکم کے نام پر ہوتے ہیں اور بستے اُس میں عوام ہیں یہ کافی پرانا سلسلسہ ہے۔
ایک کہانی یہ بھی ہے کہ روجپوتوں نے اس علاقے کے بیل حاکم کو شکست دے کر اُس کا سر اس تالاب یا جھیل میں پھینکا تھا اس لئے بھی اسے بوڈیسر کہا جاتا ہے
ویسے بوڈیسر سنسکرت زبان کا لفظ بھی ہے جس سے مراد ایک مکمل طریق حیات ہے، بوڈیسر مرد و عورت کے درمیان روحانی تعلق سے لے کر، مذہبی عبادت ، مذہبی رہنما کی اطاعت، مخصوص جسمانی کسرت (غالب امکان یوگا ہے کیوں کہ اوم یوگا کا مخصوص کلمہ ہے)،جنسی تعلقات، شاعری، رقص اور فنون لطیفہ کی تمام ہی اشکال وغیرہ یعنی یوں سمجھ لیں بوڈیسر سے مراد زندگی کے اور اُس سے جھڑے تمام معاملات لیئے جاتے ہیں۔ اس لئے اگرچہ تصدیق تو نہیں ہوئی اب تک مگر یہ ہی خیال کیئے لیتے ہیں بوڈیسر دراصل یہ ہی سنسکرتی لفظ बोधसार ہے سنگ مرمر سے بنی یہ بوڈیسر مسجد ہندو و جین مذہب کی عمارتوں کی بناوٹ سے متاثر نظر آتی ہے خاص کر کے اس کا گنبد اندرونی جانب سے جین مذہب کے مندروں سے ملتا جلتا ہے۔ قریب پانچ سو سال قبل تعمیر کی گئی یہ مسجد آج بھی بہت دلکش ہے۔

مسجد کے ساتھ ہی ایک چھوٹا تالاب یا ڈیم ہے یہ تالاب بارش کی موجودگی میں چشمے کی سی صورت اختیار کر لیتا ہے ۔ کارونجھر پر برسنے والا بارش کا پانی مختلف چھوٹے بڑے چشموں سے ہوتا ہوا اس تالاب کے شکم کو بھرتا ہے۔ محمود غزنوی سومناتھ کو فتح کرنے کے بعدواپسی میں اس تالاب کا مہمان ہوا تھا۔

تالاب سے کچھ فاصلہ پر جین مذہب کا ایک مندر ہے اسے آپ بوڈیسر مندر کہہ لیں گزشتہ پوسٹ میں میں نے گوری مندر بارے بتایا تھا۔ اس خطے میں ان مندروں کو دیکھ ہم یہاں کے پرانے دور کے کاریگروں کے فن تعمیر کی صلاحیت سے متاثر ہوئے ہیں۔