6/28/2015

چڑی روزے سے روزے تک

اب ہم بڑے ہیں اور بڑوں میں شمار ہوتے ہیں ایک وقت تھا کہ ہم چڑی کی سی جان ہوتے تھے. دین و دنیا دونوں کی سمجھ نہ تھی. یوں تو دین و دنیا کے بارے میں اب بھی جاہل ہیں مگر بچپن میں تو ہم ان کی فکر سے مکمل آزاد تھے. والد صاحب کے ساتھ بس جمعہ والے دن مسجد و مولوی کا دیدار ہوتا تھا باقی سارا ہفتہ گھر پر ہی اللہ اللہ ہوتی جس میں ڈنڈی مارنا ہمارا روزانہ کا معمول ہوتا بلکہ روزانہ ایک دو بار ڈنڈی مارنا معمول ہوتا.

یہ انسانی فطرت ہے کہ جس کام کا کہا جائے اس جانب راغب بے شک نہ ہو مگر جس سے روکا جائے اس طرف کھچاؤ محسوس ہوتا ہے. ایسی ہی کشش روزے کی جانب تھی. مجھے اپنی عمر، دن، مہینہ یاد نہیں بس سردیوں کا موسم،  سحری کا وقت، لحاف میں لیٹا ہونا اور کچن میں والدہ کا سحری تیار کرنا یاد ہے. والدین ہمیں روزہ کے لئے نہیں اٹھاتے تھے اور ہم بس وہی بستر پر لیٹے لیٹے قیاس کرتے اب پراٹھا پک رہا ہے ان کھا رہے ہیں اب اذان ہو گئی. سامان سمیٹنا جا رہا ہے، اب تلاوت قرآن و نماز پڑھنے لگ گئے ہیں پھر کب دوبارہ آنکھ لگتی ہمیں علم نہیں. کئی بار نہانے سے پانی پینے یا کوئی اور وجہ بنا کر اٹھے کہ شاید ہمیں روزہ رکھوا لیں مگر ناکام رہے.

نماز دین کا ستون ہے

امی سے روزہ رکھنے کی فرمائش کا اظہار کرتے تو کہتی کہ ابھی چھوٹے ہو بڑے ہو کر رکھنا. پھر ایک رمضان میں شرط عائد ہوئی نمازیں پوری پڑھو تو روزہ رکھوایا جائے گا. "من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن  سکا" روزہ دار بنے کی خواہش کے باوجود ہم چند نمازوں میں ڈنڈی مار گئے. تب جمعہ کی چھٹی ہوتی تھی ایک جمعرات کو آگاہ کیا گیا کہ کل آپ روزہ رکھیں گے مگر مکمل نہیں چڑی روزہ.

چڑی روزہ ہم سے پہلے محلے کا ایک دوست رکھ چکا تھا لہذا ہمیں علم تھا کہ دوپہر کے وقت "روزہ کشائی" ہو جاتی ہے لہذا ہم نے احتجاج کیا نہیں پورا روزہ رکھنا ہے چڑی روزہ نہیں رکھنا تب ہمیں باور کرایا گیا کہ پورا روزہ رکھنے کو پوری نمازیں پڑھوں. ہمیں والدہ کی "چالاکی" پر بڑا غصہ آیا مگر کیا کرتے، دل میں یہ سوچ کر خاموشی اختیار کی کہ ہم نے نمازوں میں ڈنڈی ماری ہے تو بدلے میں والدہ ہمارے روزے میں ڈنڈی مار گئی ہیں.

سحری میں روزہ رکھنے کو اٹھے تو ناشتے والے لوازمات کے علاوہ میٹھی لسی ایک زائد ایٹم تھا. سحری کی اس کے بعد نماز فجر ادا کی (یہ ہماری پہلی فجر کی نماز تھی جو وقت پر پڑھی تھی). پھر سو گئے اسکول کی چھٹی تھی. دس بجے اٹھے پھر کب ایک بجا معلوم ہی نہیں ہوا بس روزہ کھلوا دیا گیا. یعنی دوپہر کا کھانا،  جس کے بعد والد کے ہمراہ جمعہ پڑھنے چلے گئے. اگلے دو جمعہ بھی ایسے ہی چڑی روزے رکھوائے گئے . آخری والے جمعہ کو والدین ہمیں مکمل روزہ رکھوانے پر تیار ہو گئے تھے اور بات وفا ہوئی.

کب روزہ کھلے گا؟

جمعہ کے بعد سہ پہر تک تو معاملات ٹھیک رہے مگر شام چار بجے پیاس شدت سے لگنا شروع ہو گئی. پانچ بجے کھیلنے جانے کی ہمت بھی نہ تھی لہذا نہیں گئے. امی کے ڈر سے نماز عصر پڑھی وہ بھی صرف فرض. جہاں دسترخوان لگاتے ہیں ہم وہاں ہی لیٹے ہوئے تھے ابو نے ایک دو بار پوچھا روزہ لگ رہا ہے ہم نے جھوٹ بولا کہ نہیں. ہم نہیں ہماری حالت سب بعید  کھول رہی تھی. امی  ابو عموماً افطاری کا کوئی خاص اہتمام نہیں کیا کرتے تھے بس اتنا کہ عشاء کے بجائے مغرب کے وقت رات کا کھانا کھا لیا جاتا اور ایک سردائی(سندھی زبان میں تھادل) کا شربت اضافی ہوتا اور عشاء کے وقت موسمی فروٹ کھایا جاتا . مگر ہمارے پہلے روزے پر بیکری کے کافی سارے لوازمات و فروٹ وغیرہ دسترخوان کا حصہ تھے. خدا خدا کر کے اذان ہوئی مگر لقمہ لینے سے پہلے ہم روزہ کھولنے کی یاد کی ہوئی دعا ہی بھول گئے. اب ہاتھ میں کھجور پڑے امی کی جانب دیکھنے لگے. پوچھنے پر بتایا دعا بھول گیا ہو جو پڑھ کر روزہ کھولنا ہے. مسکرا پر دعا بتانے لگی ابھی " ﻟَﻚَ ﺻُﻤْﺖُ" پر پہنچی تو ہمیں دعا یاد آ گئی ہم نے تیزی سے دعا پڑھی اور پھر کھجور منہ میں ڈالی اور پانی پینے لگے. مغرب کی نماز میں ڈنڈی مار گئے.

اگلے سال رمضان المبارک میں ہر جمعہ کو روزہ رکھوایا گیا ساتھ میں آخری عشرے کے چند طاق کے روزے رکھوائے گئے. جس دن ہمارا روزہ ہوتا تب روزہ کشائی پر لوازمات کی تعداد ذیادہ ہوتی. آہستہ آہستہ ہر گزرتے سال کے ساتھ ہم مکمل روزہ دار ہو گئے مگر نمازی نہ ہو سکے. بچپن میں کئی بار ایسا بھی ہوا کہ ہم یہ بھول جاتے کہ ہمارا روزہ ہے اسکول میں دوست سے لے کر کچھ کھا لیا تب یا تو کھاتے وقت یاد آتا کہ اوہ ہمارا تو روزہ ہے یا کھا پی کر کافی دیر بعد یاد آتا. ایک بار تو ایک دوست نے اس ہی بھول کر کھانے کی حرکت کی وجہ سے ہمارے روزہ دار ہونے کو جھوٹ قرار دیا تب پہلے تو ہم اس سے لڑ پڑے اور بے نتیجہ لڑائی کے بعد رو پڑے کہ ہمارا روزہ ہے یہ مانا جائے اب اس وقت کو یاد کرکے مسکرا جاتے ہیں.

جب وقت افطاری آیا نہ کوئی بندہ رہا نہ بندے کا پتر

روزے کے دوران ہماری غائب دماغی کے کئی قصے ہیں جو اب فیملی میں ہمیں تنگ کرنے کو مکمل تو نہیں دہرائے جاتے بس پنچ لائن کہہ دی جاتی ہے وجہ یہ کہ قصے ازبر ہوچکے سب کو، مثلاً ایک بار ہم گھر میں ہی بہنوں کے ساتھ کرکٹ کھیل رہے تھے تو دوران کھیل گیند کچن کی طرف گئی ہم گیند پکڑ کر  کچن میں داخل ہوئے امی پکوڑے بنا رہی تھیں ہم نے سوال کیا "روزہ کھلنے میں کتنا وقت ہے؟" جواب آیا بیس منٹ ہیں. ہم نے کہا ٹھیک ہے چلیں پھر ایک پکوڑا ہی دے دیں. اب بھی اکثر "ایک پکوڑا ہی دے دیں" کہہ کر ہمیں تنگ کیا جاتا ہے.

بلوغت کے بعد ایک بار ایسا ہوا کہ ہم رمضان المبارک کے نصف روزے رکھنے سے محروم ہوئے وجہ لقوے کا حملہ تھا میں آج بھی یہ سمجھتا ہوں کہ اگر رمضان المبارک کے علاوہ کوئی اور مہینہ ہوتا تو شاید میں اس بیماری کی زد آ چکا ہوتا اور آج کسی سے سیدھے منہ بات نہ کر رہا ہوتا . ہوا یوں کہ سحری کے بعد وضو کے دوران کرولی کرتے ہمیں احساس ہوا کہ سیدھی طرف ہونٹوں کی گرپ کچھ کمزور ہے لہٰذا اسی دن دس بجے ڈاکٹر سے رجوع کیا جس نے آدھ گھنٹے کے معینہ کے بعد بتایا کہ اس قدر ابتدائی اسٹیج پر آج تک میرے پاس کوئی مریض نہیں آیا. یوں علاج ہوا اور ہم بچ گئے.

یہ پہلا رمضان ہے جب ہم گھر یا گھر والوں سے دور ہیں. اب سحری میں ماں کی آواز نہیں جگاتی بلکہ خود اُٹھ کر باورچی کو یا تو اٹھانا پڑتا ہے یا اطمینان کرنا کہ وہ اٹھ گیا ہے. اب جو ملے اس سے سحری و افطاری کرنی پڑتی ہے نخرے و فرمائشوں کو پورا کرنے والی ماں تو گھر پر ہے باورچی کہہ دیتا ہے صاحب پہلے بتانا تھا اب تو یہ ہی ہے. وقت وقت کی بات ہے جی. نماز میں سستی اب بھی ہے روزے میں لگن پہلی سی نہیں رہی. اللہ ہی ہے جو ہماری اس بھوک و پیاس کو روزے کا درجہ دے بڑے کھوٹے اعمال ہیں.

اردو بلاگرز میں سات آٹھ سال پہلے ایک روایت تھی کہ کسی خاص تہوار یا ایونٹ کی تحریر لکھنے کے بعد دوسرے ک ٹیگ کرتے تھے کہ وہ بھی اس بارے میں لکھیں اس ہی امید پر ہم درج ذیل بلاگرز کو ٹیگ کر رہے ہیں (بلاگرز تو بہت ہے مگر ہم پانچ کو ٹیگ کر رہے ہیں) وہ بھی تحریر لکھ کر مزید پانچ پانچ بلاگرز کو ٹیگ کر لیں.
 انکل اجمل
 محمد رمضان رفیق
 کوثر بیگ 
 یاسر خوامخواہ جاپانی
 نعیم خان  

نوٹ : اردو بلاگرز نے اپنے اپنے پہلے روزے کی یادوں کو تحریر کیا جو تمام کی تمام تحریریں منطرنامہ پر جمع کی گئی ہیں  یہاں  دیکھی جا سکتی ہیں.

14 تبصرے:

  1. پرانے وقت پرانی یادیں
    اور آخیر میں پرانی روایت
    شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  2. اداسی اور محرومی کے ساتھ ساتھ بہت ساری شرارتوں اور خوشیوں بھرا بلاگ۔ لکھنے کا شکریہ

    جواب دیںحذف کریں
  3. ماشا اللہ بچہن یاد دلا دیا

    جواب دیںحذف کریں
  4. یہ تبصرہ مصنف کی طرف سے ہٹا دیا گیا ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. تحریر پڑھ کر بہت مزہ آیا۔ اپنا بچپن یاد دلا دیا آپ نے۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. واہ شعیب بھائی، لطف آگیا۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. یہ لیں جناب میری تحریر
    http://noonwalqalam.blogspot.de/2015/06/My-Childhood-Ramzan.html

    جواب دیںحذف کریں
  8. بہت عمدہ لکھا بہت دلچسپ بھی ۔۔۔۔۔ اب سحری میں ماں کی آواز۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کتنی سچائی ہے مجھے اتنے برسوں کے بعد بھی ہر سحری میں اس آواز کی کمی اور یاد آتی ہے ۔بعض یادیں زندگی بھر پیچھا کیا کرتی ہیں ۔۔اوہ میں یہ کیا لکھنے لگی ۔
    بہت شکریہ بھائی مجھے ٹیگ کرنے کے لئے

    جواب دیںحذف کریں
  9. http://tehreer-say-taqreer-tak.blogspot.dk/2015/07/blog-post.html ...لیجئے حضور آپ کا حکم سر آنکھوں پر

    جواب دیںحذف کریں

  10. اچھا تو یہ آپ تھے ناں "شیرا" لگانے والے جنہوں نے بہتوں کو "رمضانی تحریریں" لکھنے پہ لگا دیا
    چلیں یہ لیں پھر ہماری طرف سے بھی ایک تحریر
    http://www.draslamfaheem.com/2015/07/Fasting-before-32years.html

    جواب دیںحذف کریں
  11. معاشرتی رویوں پر کڑھنے اور لاحاصل سیاسی مباحث میں الجھتے رہنے کے ایک طویل عرصے بعد آپ کی طرف سے یہ تحریر تازہ ہوا کے جھونکے کی مانند لگی ۔مجھے یقین ہے کہ بلاگ پوسٹ لکھتے ہوئے اس کیفیت کو آپ نے خود بھی محسوس کیا ہو گا۔
    انسان کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو جائے اور حالات و مسائل اسے کتنا ہی بردبار اور سمجھ دار کیوں نہ بنا دیں جب تک وہ اپنے آپ سے دوستی نہیں کرے گا اپنے اندر جھانک کر ان بیتے موسموں کے بارے میں نہیں سوچے گا جو اس کی زندگی میں دھوپ چھاؤں کی مانند گزرتے رہےاپنی موجودہ زندگی میں مسائل سے نمٹنے کے لیے توانائی اور تازگی سے دور رہے گا۔
    آپ کی یہ تحریر ہم سب کے لیے بھی بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی۔ اور پھر سب کی یادوں کی ایسی جھڑی لگی کہ جولائی کے اس فطرتی حبس آلود اور ازلی سیاسی گھٹن کے سدابہار موسم میں ہرایک لگی لپٹی رکھے بغیر دل کی بات کہنے پر مجبور ہو گیا۔آپ کے اس پہلے قدم کا ایک اور فائدہ یہ ہوا کہ بہت اچھے لکھنے والوں سے شناسائی ہوئی اور لکھنے والوں کے قلم کی اہلیت کھل کر سامنے آئی۔۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہر ایک نے بہترین لکھا اور اس کا سارا کریڈٹ آپ کے نام ۔

    جواب دیںحذف کریں
  12. کیاکہنے بہت عمدہ لکھا ہے - آپ کی شگفتہ شخصیت بچپن سی تھی جو اس تحریر سے ظاہرہورہی ہے

    جواب دیںحذف کریں
  13. http://noureennoor.blogspot.com/2015/07/Ramazan-Urdu-Blogs.html

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔