ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: March 2012

نوشتہ دیوار

جب ہم پی ایف کالج میں پڑھتے تھے تو زندگی بہت عمدہ تھی! فکر نہ فاقہ عیش کر کاکا!! کر تو ہم اب بھی عیش ہی رہے ہیں مگر تب کی بات اور تھی۔

ایک دن کالج آئے تو ایک خاتون کا نام اور فون نمبر کالج کی تمام دیواروں پر لکھا ہوا تھا! شدید حیرت ہوئی! اگلے پورا ماہ اہم موضوع بحث یہ اسٹوڈنٹ ہی رہی تمام کالج میں! وہ اسٹوڈنٹ تو اگلے دن سے کالج نہیں آئی!! جن کے ناموں کو تفتیش کے دائرے میں لایا گیا اُن میں ہمارا نام بھی تھا جب ہی مجرم پکڑنے کی ذمہ داری Vice Principle نے ہمیں دے دی!! ایسے کیسوں کے مجرم پکڑ میں آتے ہیں کیا؟

تب ہم نے جانا ایک کام کا چور ہر کام کا چور مانا جاتا ہے! ہمارا جرم بس اتنا تھا کہ ہم نے کالج کی ایک سابقہ روایت کو دوبارہ زندہ کیا تھا اور وہ تھی کلاس یا کالج سے bunk مارنا!! اس ہی بناء پر کوئی بھی دو نمبر کام ہوتا ہمارا نام مجرمان کی فہرست میں آتا تھا!! وہ تو شکر ہے نہ تو ہمارا کبھی bunk پکڑا گیا نہ کسی اور جرم کی پاداش میں ہم کالج سے نکالے گئے۔

آج فلکر پر ایک تصویر دیکھ پر کالج کا یہ قصہ یاد آ گیا!

لاؤڈ اسپیکر کا استعمال!

ایک دور تھا عالم دین اس رائے پر اختلاف کا شکار تھے کہ آیا لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز ہے یا نہیں اور ابتدا میں تو وہ صرف مسجد میں اس کا استعمال خطیب کے خطبہ تک محدود رکھتے تھے مگر بعد میں جب دوبارہ دنیاوی تعلیم رکھنے والوں نے دین کی طرف رغبت کی اور شرعی علم کے حامل افراد نے بھی ایک بار پھر خواہ محدود تعداد میں ہی دنیا کے علم کو سمجھنے کی سہی کی تو تب لاؤڈ اسپیکر کو مساجد میں دیگر دینی امور جیسے نماز وغیرہ کے لئے استعمال کیا جانا شروع کر دیا گیا!
قریب تمام علماء بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر متعفق ہیں کہ اذان کے علاوہ کسی بھی دیگر استعمال کے لئے مساجد کے باہر لگے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اسلامی شعائر کے مخالف ہے!وجہ لاؤڈ اسپیکر کا غیر اسلامی ہونا نہیں بلکہ عوام الناس کے تکلیف پہنچنے کا امکان ہے۔
علماء کی اس رائے کے برخلاف یہ ہمارے معاشرے کی عام روش ہے کہ مخصوص دینی ایام و تقریبات میں لاؤڈ اسپیکر مساجد و تقریب کی مقام سے باہر بھی استعمال کر کئیے جاتے ہیں جو کہ اہل علاقہ و محلہ کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا یہ غلط استعمال صرف دینی حلقوں کی جانب سے ہی نہیں ہوتا بلکہ سیاسی جماعتوں و خود کو “روشن خیال” کہلانے والے دیگر مختلف طبقے بھی روش پر گامزن نظر آتے ہیں۔
اونچی آواز میں اسپیکرز(کہ اہل محلہ و علاقہ تک آواز جائے) پر گانے سننے یا نعت و نوحہ چلانے و پڑھنے کی یہ غیر اخلاقی حرکت معاشرے میں اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ اب کئی احباب اس بارے میں اس رائے کا شکارہیں کہ شاید یہ کوئی غلط بات نہیں! اور اس سلسلے میں ہر طبقہ دوسرے کو مثال بنا کر پیش کرتا نظر آتا ہے کہ “ارے وہ بھی تو 'فلاں''فلاں' موقعہ پر ایسا کرتے ہیں تب تو کوئی کچھ نہیں کہتا”۔
لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے عوام کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو نہ صرف یہ کہ اخلاقی و دینی اعتبار سے قابل گرفت ہے بلکہ ملکی قانون بھی ایسے حالات میں اس عمل کو “جرم” تصور کرتا ہے۔ مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کے تحت یہ ایک جرم ہے! یہ متعلقہ قانون کل آٹھ دفعات پر مشتمل ہے! اس قانون کی دفعہ پانچ کے تحت یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہے!
لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ 2 کے تحت عوامی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جرم تصور کیا جائے گا اگر اُس سے عام افراد کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو! مزید یہ کہ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، عدالتوں، مختلف دفاتر کے قریب کام کے اوقات میں نیز مساجد و دیگر دینی مقامات (چرچ و مندر) کے قریب عبادات کے اوقات میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال منع ہے۔
یہ ہی نہیں قانون کی دفعہ 2 میں مزید بیان ہے کہ مساجد، چرچ ، مندر اور دیگر دینی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے ان کے قریب کے رہائشی متاثر ہو کی بھی ممانعت کی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی عوامی و ذاتی مقام ہر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے فرقہ واریت و نفرت انگیز پھیلنے یا نظم و ضبط متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو بھی یہ عمل قابل گرفت تصور ہو گا۔ تاہم اس دفعہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ اذان دینے، عبادات (قانون میں لفظ prayers استعمال کیا گیا ہے جس سے نمازیں مراد لیا جائے گا) اور جمعہ و عید کے خطبہ کے لئے لاؤڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت ہے۔
اس قانون کی دفعہ 3 کے تحت جو کوئی بھی اس قانون کی قانون کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا اُس کو ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جا سکتے ہیں!
وہ لاؤڈاسپیکر جو اس غیر قانونی عمل میں استعمال کیا گیا ہو گا علاقہ تھانہ کا سب انسپکٹر یہ اس سے اونچے عہدے کا افسر اپنے قبضہ میں لینے کا مجاز ہو گا اور پابند ہو گا کہ جس قدر جلد ممکن ہو اُسے عدالت علاقہ کے روبرو پیش کرے۔
لہٰذا کوئی سیاسی تقریر، مذہبی وعظ، نعت خوانی ، جلسہ اور کسی بھی قسم کا کوئی موسیقی کا کوئی پروگرام اگر لاؤڈ اسپیکر پر اس طرح نشر کیا جائے کہ محلے والوں کی نیندیں خراب ہوں، سوتے بچے ڈر نے لگ جائیں، مریضوں کو اختلاج قلب شروع ہوجائے، یا دن کے وقت اُس کی روزمرہ زندگی متاثر ہو تو یہ عمل قانونی طور پر قابل گرفت ہے اور مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ تین کے تحت متعلقہ بندے کے خلاف رپٹ درج کروائی جا سکتی ہے۔
(یہ تحریر مفاد عام کے تحت لکھی گئی ہے)

کاروباری رقابت

کاروباری مسابقت کبھی نا کبھی کاروباری رقابت میں تبدیل ہو جاتی ہے! خاص کر جب دوسرا آپ کے علاقے میں آپ کے کاروبار ی منافع یا حصہ میں سے کچھ نا کچھ سمیٹنا شروع کر دے! رقابت دشمنی میں کب بدل جائے اس بارے میں کچھ کہنا ممکن نہیں مگر جب رقابت کا آغاز ہوتا ہے دشمنی خود با خود ہی اُمنڈ آتی ہے۔

میرے شہر میں کئی طرح کے لوگ کاروبار کرتے ہیں! کہتے ہیں معاشرہ میں موجود ایک فرد کی مجبوری دوسرے کا روزگار ہوتا ہے۔ گزشتہ دنوں ہم ایک مشہور ہسپتال میں ایک دوست کے میڈیکل شک اپ کے لئے گیا تو وہاں ایک دل کا ڈاکٹر دوسرے ساتھی سے یوں کہہ رہا تھا "آج کل کام کافی مندہ ہے نہ معلوم کیا چکر ہے مین تو آج صبح اپنی بیوی سے کہہ کر آیا ہوں کوئی صدقہ وغیرہ نکالو" ہم مسکرا کے رہ گئے!

ہمارے ماموں نے ایک بار اپنا قصہ ایسے ہی واقعہ کے سلسلے میں یوں بیان کیا کہ ایک بندے جو اُن کے ساتھ جاب کرتا تھا نے اُن سے قرضہ لیا ایک بار ماموں سے اُن سے پیسے کی واپسی کو کہا تو ان صاحب نے جواب میں کہا "یار کاروبار نہیں چل رہا دعا کرو کاروبار میں تیزی آءے تو میں آپ کو رقم لوٹا دوں گا" ماموں نےکہا چلو اللہ آپ کے کاروبار میں دن دگنی رات چگنی ترقی دے تب قریب بیٹھے مشترکہ دوست نے کہا معلوم ہے اس کا کاروبار کیا ہے؟ ماموں جو کہ انجان تھے نے انکار میں سر ہلا دیا تب اُس نے آگاہ کیا یہ کفن فروخت کرتا ہے ۔

میرے شہر میں ایک کاروبار بد بھتہ لینے کا ہے ، آج کراچی ایک بار پھر بند ہے وجہ یہ کہ شہر میں ایک بار پھر ایک کاروباری مسابقت جو کہ رقابت سے کب کی دشمنی میں بدل چکی ہے ! اور یوں ماضی کی طرح دوبارہ بھتہ مافیا نے بھتہ خوروں کے خلاف جنگ کا نعرہ لگایا ہے!

ہم ماضی میں بیان کردہ اپنی بات کو دوبارہ آپ سے آج کے دن کی مناسبت سے شیئر کرتا ہوں کہ وہ تب بھی سچ تھی اب بھی درست ہے۔
"

دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔

کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!

ایک دور تھا کہ شہر کا تاجر اپنے علاقے کے تھانے کو تو monthly دیتا تھا ہی مگر ایک آدھ مثال میں علاقائی بدمعاش کو اس لئے بھی چندہ کے نام پر کچھ نہ کچھ تھما دیتا تھا کہ وہ دیگر بدمعاشوں سے اُسے تحفظ دے گا! تاجر یہ بدمعاشی بھی اپنے کاروبار کی بقاء کے لئے خوف کے زیر اثر دیتا تھا! اور یہ بھتہ اُسے یوں ایک چوکیدار مہیا کر دیتا!

مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!

اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!

آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!

اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!

"

ارتقاء میرٹ

معیار بدلتا جا رہا ہے! ایک دور تھا ملک میں میرٹ کی تعریف کچھ تھی اور اب کچھ ہے! پہلے انتخاب یوں ہوتا کہ مقابلہ کم تھا لہذا آپ مطلوبہ معیار کی حد کو نہیں بھی آتے تھے تو بھی انتخاب میں آ جاتے تھے! نوکری دینے والا پوچھتا میاں تم قابل معلوم ہوتے ہو کیا فلاں ڈگری ہے؟ ادھر آپ نے ہاں کہا اُدھر وہ آپ کو نوکری کی آفر کر دیتا آپ انکاری ہوتے تو اُس کے پاس آپ کو اُس نوکری کے فوائد بتانے کے لئے بے شمار دلیلیں ہوتے پھر معیار بدلہ اور ڈگری والے کو سفارش کی ضرورت پڑنے لگی تب ڈگری و سفارش میرٹ بن گیا! وقت کے گزرنے کے ساتھ زر کی اہمیت معاشرتی زندگی میں نظر آنے لگی تو نوکری کے خواہش مندوں نے سفارش کا توڑ رشوت سے کیا یوں لوگ جاننے لگے کہ کس سیٹ کی کیا قیمت ہے یوں ڈگری ، سفارش اور رشوت کبھی انفرادی طور پر اور کہیں اجتماعی طور پر معیار ٹھہرے اور قابلیت کہیں پیچھے رہ گئی! اب معاملات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ یار دوست ایک ہاتھ میں ڈگری لے کر کسی سفارشی کی تلاش میں نکل پڑتے ہیں جا کر التجاء کی جاتی ہے کہ “ہمارا بندہ قابلیت کے اعلی معیار پر ہے کسی سے سفارش کر دیں کہ رشوت لے کر اُسے یہ نوکری دلوا دے امیدوار نے مطلوبہ ڈگری کے حصول میں امتحانات میں “یہ” پوزیشن لی “ضلع/شہر” میں، نوکری کے لئے دیئے گئے تحریری امتحان میں بھی اچھے مارکس لے لے گا”

ملک کی خدمت؟

نو عمری میں اکثر نوجوان یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم ملک و قوم کی خدمت کرنا چاہتے ہیں اور اس مقصد کے لئے وہ عموما یہ خیال کرتے ہیں کہ ضروری ہے کہ فوج، پولیس، سیاست، ویلفیئر یا اس طرح کی کوئی عوامی خدمت کے شعبہ کا انتخاب کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔


ضروری ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ ملک کی خدمت یا ملک کے لئے کچھ کرنے کے لئے فقط اتنا ضروری ہے کہ ہم جہاں کہیں ہیں ایمانداری کے ساتھ اپنے کام یا ذمہ داری کو انجام دیں ہم جو کچھ بھی کر رہے ہیں جس بھی شعبہ( جو ملکی قانون کے تحت جائز ہو) سے منسلک ہیں! اور ہر ممکن کوشش کریں کہ متعلقہ شعبہ کی ممکنہ مہارت حاصل کریں! یقین جانے نیک نیتی کے ساتھ کیا گیا یہ عمل نہ صرف خود ہمیں اپنے شعبہ میں کمال عطا کرے گا بلکہ درحقیقت یہ اپنے ملک، علاقے، محلہ، خاندان کے افراد کے لئے باعث فخر ہو گا!

مانگے کا عذاب

ہمارے معاشرے میں ذاتی دشمنیاں پالنا ایک روایت سے بن گئی ہے! زندگی کا کوئی شعبہ و رشتہ دیکھ لیں یہ عام سے بات ہے لوگ انا و ضد کے تحت دشمنی پیدا کرتے ہیں اور اُسے زندہ رکھتے ہیں!


دنیا پوری سے ہٹ پر یہ صرف جنوبی ایشیاء کے باسیوں کی روش ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف جھوٹی مقدمے بازی کی جائے! اور مخالف کو عدالتوں کے چکر لگوائے جائے! یوں اس ضد و انا کی جنگ میں دوسرے کو معاشی نقصان پہنچانے کی خواہش میں خود اپنا معاشی قتل کرنا بھی لازم ٹہرا!


عدالتی طریقہ کار کے تحت عدالت ہر کیس میں پیش ہونے والے گواہ سے گواہی کے پیش کرنے سے قبل “حلف” لیتی ہے کہ میں جو کچھ کہو گا سچ کہو گا! قانون حلف کے تحت گواہ کٹہرے میں کھڑا ہونے کے بعد اپنے مذہبی عقیدے کے تحت کلمہ پڑتا ہے یعنی مسلمان کلمہ طیبہ پڑھے گا، عیسائی اپنے یسوع مسیح کی قسم لے گا اور اسی طرح دیگر مذاہب کے افراد اپنے مذہبی عقیدے کے مطابق مذہبی کلمات ادا کرت ہیں اُس کے بعد یہ الفاظ “میں خدا کو حاضر ناضر جان کر کہتا ہوں جو کچھ کہو گا سچ کہو گا اگر میں جھوٹ بولو تو مجھ پر خدا کا عذاب و قہر نازل ہو” اور پھر پیش ہونے والے گواہان میں عموما قریب اسی فیصد افراد اپنے بیان میں جھوٹ کی ملاوٹ کرتے ہیں! اور دیئے گئے بیان میں بولے گئے جھوٹ پر قائم رہنے کو جرح کے دوران جھوٹ پر جھوٹ بولتے جاتے ہیں اور مانگے گئے عذاب کو بڑھاتے جاتے ہیں!


ان سب کے باوجود کئی ایسے بندے موجود ہیں جو کٹہرے میں منت سماجت کے باوجود بھی جھوٹ نہیں بولتے! خواہ انہیں اپنے بیان سے خود کس قدر ہی دنیاوی نقصان کیوں نہ ہو!


عدالت میں جھوٹ بولنے والے اکثریت افراد “تعلیم یافتہ” افراد کی فہرست میں آتے ہیں جبکہ کہ عموما قسم کھا کر جھوٹ نہ بولنے والے دنیاوی تعریف کے اعتبار سے “ان پڑھ و جاہل” کی تعریف میں اترنے والے افراد ہوتے ہیں تب ذہن میں یہ خیال ضرور آتا ہے کہ یہ بگاڑ تعلیم کی وجہ سے ہے یا گھر کی تربیت کی وجہ سے یا وہ ماحول جو ہمارے تعلیمی درس گاہوں میں دنیاوی کامیابی تک کامیابی کے تصور کو مقید کرنے کی بناء پر ہوا ہے؟

عقیدت و نفرت

ہمارے رویے ہمارے معاشرتی و نظریاتی سوچ کا عکاس ہوتے ہیں! آپ لاکھ چاہے مگر اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے! جسے ہم اچھا جانے اُس کی برائی سے آگاہی کے باوجود اُس وقت تک اُس فرد سے بدظن نہیں ہوتے جب تک کہ اُس کی ذات سے ہمیں خود یا ہمارے کسی نہایت عزیز کو نقصان نہ ہو۔

اپنے معاشرے میں پائے جانے والے سیاسی کرداروں کو ہم رہبرو رہنما سے آگے کا درجہ دے دیتے ہیں اور جو نا پسند ہو اُسے بُرے القاب سے نوازتے ہیں!

آج والد صاحب نے ایسے ہی رویے سے متعلق ایک تازہ پیش آنے والا واقعہ بیان کیا! کہنے لگے کل میں دفتر سے واپس آنے رہا تھا تو ایک صاحب نے لفٹ مانگی! میرے ڈپارٹمنٹ کا تو نہیں تھا مگر چونکہ وہ بھی یونیفارم میں تھا لہذا میں نے اُسے لفٹ دے دی راستے میں ایک جگہ “بے نظیر بھٹو” کی تصویر دیکھ کر جناب نے دونوں ہاتھ اُٹھا اور انکھوں سے لگا کر عقیدت سے بولے “رانی! شہید ہے!” اور ہاتھوں کو چوم لیا! کچھ اور آگے گاڑی بڑھی تو زرداری صاحب کے پوٹریٹ کو دیکھ کر بولے “تھو! یزید ہے”

کیا کہتے ہیں؟