8/24/2010

احترام رمضان آرڈیننس!

ضیاء کو جب تازہ تازہ ملک میں اسلام نافذ کرنے کا شوق چڑھا تب ہی اُس نے مختلف قوانین نافذ کئے اُن میں ایک احترام رمضان آرڈیننس 1981 ہے جس کا ایک مختصر تعارف ذیل میں ہے!
احترام رمضان آرڈیننس 1981 کُل دس دفعات پر مبنی ہے! اس قانون میں سب سے پہلے یہ وضاحت کی گئی ہے کہ آیا پبلک پلیس کیا ہے! قانون کی دفعہ 2 کے مطابق کوئی بھی ہوٹل، ریسٹورنٹ، کینٹین، گھر، کمرہ، خیمہ، یا سڑک، پُل یا کوئی اور ایسی جگہ جہاں عام آدمی کو با آسانی رسائی ہو پبلک پلیس میں آتا ہے!
اور آرڈینس کی دفعہ 3 کے تحت کوئی بھی ایسا فرد جس پر اسلامی قوانین کے تحت روزہ رکھنا لازم ہے اُسے روزے کے وقت کے دوران پبلک پلیس پر کھانا، پینا اور سگریٹ نوشی کی ممانعت ہوگی! اور اگر کوئی ایسا کرتا پکڑا گیا تو اُسے تین ماہ کی قید یا پانچ سو روپے جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
آرڈینس کی دفعہ 4 کے تحت روزے کے وقت کے دوران کسی ریسٹورنٹ، کینٹین یا ہوٹل کے مالک، نوکر، منیجر یا کسی اور پبلک پلیس پر کسی فرد کو جانتے بوجھتے رمضان میں کھانے کی سہولت دینا یا دینے کی آفر کرنا منع ہے جبکہ اُس فرد پر روزہ لازم ہو اور جو کوئی ایسا کرے گا وہ تین ماہ کی قید، یا پانچ سو روپے جرمانہ یا دونوں سزاؤں کا حقدار ہو گا۔
دفعہ 5 میں وضاحت کہ گئی ہے کہ کھانے پینے کی اشیاء کی تیاری اسپتال کے باورچی جانہ میں کی جاسکتی ہے اور مریضوں کو کھانے کا بندوبست کرنا کی ممانعت نہیں ہے، نیز ریلوے اسٹیشن، ایئرپورٹ، بحری آڈہ، ٹرین، جہاز یا بس اسٹینڈ پر پابندی نہیں ہے مزید یہ کہ پرائمری اسکول کے احاطے میں موجود کچن بھی اس پابندی سے آزاد ہے۔
دفعہ 6 کے تحت تمام سینما ہال، ٹھیٹر، یااس قسم کے دیگر ادارے سورج غروب ہونے کے بعد سے لے کر دن چھڑنے کے تین گھنٹے بعدتک بند رہے گے اگر اس کی خلاف ورزی کی گئی تو ادارے کے مالک، منیجر، نوکر یا دوسرے ذمہ دار شخص کو چھ ماہ کی قید یا پانچ ہزار روپے تک جرمانہ یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
دفعہ 7 کے تحت مجسٹریٹ، ضلعی کونسل کا چیئرمین، زکوۃ و عشر کمیٹی کا ممبر، میونسپل کارپوریشن کا میئر جب یہ خیال کریں کہ اس آرڈیننس (احترام رمضان آرڈینس 1981) کے تحت کو جرم سرزدد ہو رہا ہے تو انہیں اختیار کے کہ وہ ایسے جگہ میں داخل ہو کر ملزمان کو گرفتار کر لیں کسی اور کو یہ اختیار حاصل نہیں ہے۔

دفعہ 9 کے تحت بنائے گئے قواعد کی رو سےاسپتال کی کینٹن سے وہ افراد کھانا لے کر کھا سکتے ہیں جو خود مریض ہوں اور ہوئی اڈہ، ریلوے اسٹیشن ، بحری اڈہ اور بس اسٹنڈ پر سے وہ افراد کھانا کھا سکتے ہیں جن کے پاس ٹکٹ یا ایسا واؤچر ہو جس سے یہ بات ثابت ہوتی ہو کہ وہ فرد یا افراد 75 کلومیٹر سے ذیادہ کا سفر کر رہے ہیں بمعہ اُس سفر کے جو وہ طے کر کے آچکے ہیں نیز پرائمری اسکول میں موجود کینٹن سے صرف وہ طالب علم کھانا لے کر کھا سکتے ہیں جو ابھی بالغ نہیں ہوئے!!!
سمجھ آئی کہ شہر میں ہوٹل، کینٹین اور ریسٹورینٹ کیوں بند ہیں!! اور بیکری والے کیسے بچ جاتے ہیں پابندی سے!!
جی جناب یہ ہے احترام رمضان آرڈینس!!! آسان الفاظ میں۔ سوچ رہا ہوں اپنے بلاگ میں مختلف قوانین کو آسان زبان میں لکھ دوں کیا رائے ہے!! اور نئے آنے والے قوانین خاص کر! اور وہ جو نافذ ہیں مگر لوگوں کے علم میں نہیں، اس لئے اُن کے بارے میں آگاہی بھی نہیں۔

لاقانونیت + درندگی+ تاویل= المیہ

یہ آج سے تین سال قبل کی بات ہے ہم گھر میں بیٹے ٹی وی دیکھ رہے تھے کہ باہر محلے میں شور کی آواز آئی وجہ جاننے کے لئے باہر گئے تو معلوم ہوا کہ اہل محلہ ایک ڈاکو/چور کو پکڑے بیٹھے ہیں! جس کا ایک ساتھی بھاگ گیا اور وہ قابو آ گیا محلے کی دوکان پر ڈاکہ ڈالنے آئے تھے، پکڑے جاننے والے کی حالت یہ تھی کہ چہرہ لہولہان تھا! سیدھے ہاتھ پر بھی چوٹ لگی ہوئی تھی جس کے بارے میں معلوم ہوا کہ اس ہاتھ میں پسٹل تھی جسے جھڑوانے کے لئے ہاتھ پر بلاک مارا گیا جس سے زخم آیا ہے، پولیس کو فون کیا گیا مگر جب تک پولیس نہیں آئی ہم نے دیکھا کہ جمع ہجوم کی اسی فیصد نے اُسے ضرور تھپڑ رسید کیا! چند ایک نے ٹھوکریں بھی ماری،چند ایک نے پتھر بھی مارے،ہر آنے والا قصہ معلوم کر کے دو چار گالیاں نکال کر اُسے مارنے کا فتوی جاری کرتا اور تھپڑ یا گونسہ کی شکل میں اپنا حصہ ڈالتا! کسی بھی ملزم کے ساتھ اہل محلہ کا یہ سلوک میرے لئے پہلا تجربہ تھا۔ بعد میں پولیس اُسے پکڑ کر لے گئی تو اہل محلہ کے اس تشدد سے اُسے نجات ملی۔ بعد میں اہل محلہ کی طرف کیس کی پیروی بطور وکیل ہم نے عدالت میں کی اور اُسے ڈھائی سال کی سزا ہوئی مگر سزا پا کر بھی وہ ہمارا ہی شکر گزار تھا کہ اُس رات ہم نے اُس کی جان بچائی پولیس کو بلوا کر۔
اس کے علاوہ میں یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ چور/ڈاکو جو علاقے کے لوگ پکڑ کر پولیس کے حوالے کرتے ہیں عام طور اُس پر اہل علاقہ اپنا غصہ اُتار چکے ہوتے ہیں مارنے والوں کے ذہین میں یہ بات ہوتی کہ اس نے قانون کے شکنجے سے بچ جانا ہے لہذا ابھی اس کے ساتھ جو سلوک کرنا ہے کر لو دوئم ایک خاص سوچ جو مختلف وجوہات ہی بناء پر عام افراد میں شعوری یا لا شعوری طور میں پروان چڑ چکی ہے وہ یہ کہ یہ افراد اس ہی سلوک کے حقدار ہیں وہ کسی نا کسی نقطہ یا بحث میں ایسے افراد یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ تشدد کا یہ عمل قانون، اخلاق اور انسانیت کی رو سے غلط ہے مگر لاشعوری طور پر اس کے ہامی ہوتے ہیں ایسا کیوں؟
اس کی بہت سے وجوہات ہو سکتی ہیں!اول اول تو یہ تاثر کہ قانون کی عملداری نہیں ہے! کسی بھی جرم کے مجرم کے بارے مین عام آدمی کا یہ تاثر کہ یہ تو بچ جائے گا! اس تاثر میں مکمل سچائی نہیں! مگر چونکہ لوگ ایسا ہونا سچ مانتے ہیں اس لئے وہ عدلیہ کے بجائے خود سزا دینا ٹھیک جانتے ہیں!
اس کی ایک اور وجہ یہ ہے کہ معاشرہ کا عام شہری عدالت سے ملنی والی سزا کو اپنے مخالف کے لئے نا کافی سمجھتا ہے! مثلا ایسے واقعات دیکھنے میں آئے جہاں بچوں کی لڑائی پر لوگ مخالفین کو دس دس سال سزا دلوانا چاہتے ہیں جو انتہا پسندی ہے! یا معمولی تکرار پر اگلے کو پھانسی لگوانا!
ایک اور چیز یہ کہ ہمارے معاشرے نے تشدد کو قبول کر لیا ہے! اگر معاشرہ کے ہر طبقے یا گروہ کو دیکھے تو کسی نا کسی شکل میں وہ تشدد کو اپنائے ہوئے ہے، ہم اپنے پسندیدہ مذہبی رہنماء کے قتل/ قاتلانہ حملہ میں زخمی ہونے پر ملک/شہر میں ردعمل میں دس بارہ گاڑیوں کے جل جانے، بیس تیس کے قتل ہونے، دو چار دن شہر بند ہونے اور بدلہ لینے کا بیانات کو فطری ردعمل جاننے لگ پڑے ہیں!نہایت افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسے غلط جان کر بھی لاشعوری طور پر اسے اپنا چکا ہے۔ معمولی یا غیر معمولی دونوں صورتوں میں!
تشدد پر آمادہ ہونے اور اسے قبول کرنے کی جانب گامزن ہونے میں میڈیا کا بھی رول ہے! کیسے؟ آپ گذشتہ بیس سال کی کہانیاں، ڈرامے اور فلمیں دیکھ لیں آپ کو ان مین اکثریت خاندان دشمنی یا باہمی جھگڑوں پر بنے والی وہ فلمیں ملیں گی جن میں فلم/کہانی کا نام نہاد ہیرو اپنے دشمن کو عدالت کے کہٹرے مین لانے یا عدالتی سزا دلوانے کے بجائے خود بدلہ لینے کو ترجیح دیتا ہے! اور اُس کے اس عمل کو گلیمرائز کر کے دیکھایا/لکھا جاتا ہے! نہ صرف یہ بلکہ جرم و سزا کی کہانیوں و فلموں میں کسی ایک کی جان کو مرکزی کردار کے لئے اہم بتا کر باقی کرداروں کو مارنے کو عظیم کارنامے کے طور پر دیکھایا جاتا ہے! کیا ایسے میں یہ ممکن ہے کہ معاشرہ تشدد کی طرف راغب نہ ہو؟
اگر ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں مستقبل میں سیالکوٹ جیسے واقعات و المیوں کا سامنا نہ کرنا پڑے تو ضروری ہے کہ ہم ہر سطح پر لاقانونیت کو ختم کرنے کی عملی کاوش کا حصہ ہوں، اپنے اردگرد یہ آگاہی دے کہ ملزم کے گناہگار اور بے گناہی کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے، یہ کہ ایک بُرے کام کی تاویل دوسری بُرائی نہیں ہوسکتی! نیز یہ جانے کہ انسانی جان کی حرمت کیا ہے!
جب میں ایسے واقعات کا ٹھنڈے ذہین سے تجزیہ کرتا ہوں تو یہ محسوس ہوتا ہے اس درندگی، حیوانیت اور ظلم میں کہیں میں بھی قصور وار ہوں۔

8/20/2010

کاغذوں پرسلوٹیں ڈال کر تیار کردہ شاہکار

جرمن آرٹسٹ سائمن کے کاغذ کر سلوٹیں ڈال کر تیار کردہ شاہکار!!۔
















سیلابی پروپیگنڈہ

کچھ باتیں ہماری قوم کے مزاج میں بہت عجیب ہیں، یہ ناواقف ہیں یا نا سمجھ اس سے خدا ہی آشنا ہے۔ کچھ برائیاں ہم میں ہیں مگرحرکات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ کچھ ہم خود میں دیکھانا چاہتے ہیں!
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم سر سے پیر تک خود کو اور اپنوں کو بُرا ثابت کرنے کی جدوجہد میں مصروف ہیں!اس بات کو میں نے پہلی بار تب محسوس کیا جب میں سعودی عرب گیا! پھر تب تب جب کوئی یار دوست یا رشتہ دار باہر سے آیا!!
سعودی عرب میں میں نے محسوس کیا کہ وہ لوگ معاشرتی برائیوں میں ہم سے ذیادہ مبتلا ہے مگر ایک خاص چیز جو اُن میں خوبی کی شکل میں ہے وہ برائی کی تشہیر نہ کرنا! وہاں ہمارے وہ عزیز جو بھٹو دور میں جا کر آباد ہوئے اور اُن کی ایک نسل وہاں ہی پروان چڑھی کی زبانی جو باتیں معلوم ہوئی اُنہیں سُن کر شکر ادا کیا کہ ہماری قوم عملا اتنی خراب نہیں! ہمارے ہاں یہ عام تاثر لیا جاتا ہے کہ سعودیہ میں ہیروہین کے اسمگلر کو موت کی سزا دے دی جاتی ہے اور کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں کی جاتی! مگر ایسا وہ اپنے سعودی شہریوں کے ساتھ نہیں کرتے! اور نہ ہی اپنے اُن دوستوں کو جن کو وہ اپنا "جگری" مانتے ہوں! مگر باقی افراد کے لئے اُن کا قانون نہایت سخت ہے!! یہ بات ہم قریبی مشاہدے کی بناء پر کر رہے ہیں کہ ایسے ایک دو قصے ہمارے علم میں ہیں! باقی اگر آپ اُس معاشرے میں اجنبی ہیں تو لازم ہے کہ جرم سرزد ہونے پر آپ قانون کے شکنجے میں جکڑے جائے بغیر کسی رعایت کے۔
اس سے ملتی جلتی صورت حال مجھے تو کم از کم یورپ و امریکہ میں بھی نظر آتی ہے ایسے معاملات کا علم ہوا کہ مقامی پولیس اپنے ہم نسل کو دوران تفتیش کئی معاملات میں آسانیاں فراہم کرتی ہے جس میں معمولی جرم کی صورت میں گرفتار نہ کرنا یا تفتیش میں سست روی دیکھانا وغیرہ۔ مگر ہمیں اُن میں کوئی برائی نظر نہیں آتی۔ ایسا نئی نسل ہی میں نہیں بلکہ بزرگوں میں بھی نظر آتا ہے۔ جیسے کہ ایک بار کا قصہ یوں کہ اہم ایک بزرگ وکیل کے پاس بیٹھے تھے (کہ کچھ کام کی باتیں سیکھنے کو مل جاتی ہیں)، اُن کے ایک ہم عمر دوست و کلائینٹ آ گئے پہلے پہل تو اپنے بیٹوں کہ پاکستان سے پردیس ہجرت کر جانے کے عمل کو سراہنے لگے پھر ملک کے حالات کا رونا رویا یہاں تک ٹھیک تھا! اچانک کہنے لگے یہ ملک ان حکمرانوں سے نہیں چل سکتا انگریز ہی ٹھیک تھا!میں تو کہتا ہوں اب بھی اُن کو بلا کر حوالے کرو دیکھو کیسے ٹھیک ہو جائے گا! اس بات پر اُس سے جو بحث ہوئی وہ ایک خاص نقطہ پر جا کر بلا شبہ بدتمیزی کے ذمرے تک پہنچ گئی مگر نہ معلوم مجھے اُس پر افسوس نہیں ہے، اور  مجھے لگتا ایسے افراد مجھ سے خواہ وہ چھوٹے ہو یا بڑے! عالم ہوں یا جاہل!  میں بدتمیزی، خاص کر جو میرے ملک اور یہاں کے لوگوں کو بُرا سمجھیں با حیثیت قوم، ہونا  اُن کا حق ہے!

بات کہاں سے کہاں نکل گئی میں یہ کہہ رہا تھا کہ خود میں برائی کا احساس ہونا بُرا نہیں مگر اس کی یوں تشہیر اچھی نہیں! 2005 کے زلزلے میں یقین حکمران جماعتوں اور مختلف این جی اوز نے امداد کے سامان میں خُردبرد کیا مگر اس قدر نہیں کتنی آپسی دشمنی کی بناء پر تشہیر کی گئی اور یہاں سے خبریں بنا بنا کر عالمی میڈیا کے ذریعے بدنامی کمائی گئی تھی اب یہ حال ہے وہ بدنامی عالمی سطح پر بے اعتباری کی شکل میں مدد میں رکاوٹ کا روپ لیئے ہوئے ہے غیروں میں ہی نہیں اپنوں میں بھی اور وہی سیاست اب بھی جاری ہے!! سیلابی پروپیگنڈہ کے روپ میں کیا ایسے معاملات میں اپنوں کو گالی دے کر اپنا نام کمایا جا سکتا ہے؟جبکہ محسوس ہو کہ یہ گالی حقیقت کے بیان کے بجائے اندرونی نفرت کے زیراثر جھوٹ کا فروغ ہے! اور اس جھوٹ کے فروغ میں شعوری و لاشعوری طور پر شریک احباب بھی برابر کے شریک ہیں! پچھلے دنوں کراچی کے حالات خراب ہوئے تب بھی اور اب جب ملک میں سیلابی آفت نازل ہےتو بھی آپسی نفرت کے زیر اثر موبائل پر ایس ایم ایس کی شکل میں اور انٹرنیٹ پر ای میل و دیگر انداز میں خود اپنوں کے خلاف جھوٹے پروپیگنڈے کی تشہیر کی جا رہی ہے، نہایت افسوس تب ہوتا ہے جب اہل عقل بھی اس عمل میں شریک نظر آتے ہیں! اب یہاں دینی حوالہ دوں گا تو کئی احباب کو خود کو مومن کی فہرست سے باہر کرنے پرتکلیف ہو گی!۔
(یہ تحریر عنیقہ ناز کی تحریر پر ایک "بے نام" تبصرے میں بلا ثبوت ہوائی اُڑانے پر لکھی گئی ہے، اُس تبصرہ میں فوج مخالف پروپیگنڈہ تھا! جس کی حمایت خود عنیقہ ناز نے ثبوت فراہم کئے بغیر کی!میرے علم کے مطابق اُس پورے تبصرہ میں صرف ایک بات سچی تھی کہ امدادی سرگرمی میں شامل فوجیوں کو ہنگامی حالات کے اختتام پر چند دن کی چھٹی دیی جائے گی! میں سمجھتا ہوں بے نام اور بے ہودہ تبصرے بلاگرز کو اپنے بلاگ سے ہٹا دینے چاہئے! یہ خود صاحب بلاگ کے لئے اچھا ہے)


8/15/2010

امدادی تو بہرحال آپ کو اور مجھے بننا ہے

میں سمجھ رہا تھا یہ احساس ہم میں نہیں رہا کہ اپنوں کی مدد کرنی ہے مگر جب اردگرد نظر ڈالی، یاروں دوستوں سے بات کی تو دل میں ایک نامعلوم سا احساس جاگا کہ جو سمجھ رہا ہوں ویسا نہیں ہے بس دیکھایا جا رہا ہے کہ ہم میں احساس نہیں ہے! بتایا جا رہا ہے کہ ہم سنگ دل ہو چکے ہیں!
معذرت کے ساتھ اس میں جہاں خود ہماری غلطی ہے وہاں میڈیا نے بھی کچھ ایسا رول ادا کیا کہ دلوں میں سختی پیدا ہو گئی جو اب سیلاب کی تباہ کاریوں کی آگاہی سے کم ہوتی جا رہے ہے دوسرا عنصر بے اعتباری کا ہے! امداد کرنے کو دل کرے بھی تو یہ بے اعتباری کہ کس کے ذریعے امداد حقدار تک پہنچےگکی؟ سیاسی پارٹیاں تو ویسے بھی بے اعتبار ہو چکی ہیں! ہم لوگوں کا اعتبار اب تو امدادی اداروں پر نہیں رہا!خواہ وہ حکومتی ہوں یا غیرسیاسی! ایسی کہانیاں میڈیا میں 2005 کے زلزلہ کے امدادی سامان کی آئی تھیں اس بات سے ہٹ کر کہ آیا و سچی تھیں یا جھوٹی آج ہم منتظر اپنوں کی مدد میں سستی کے مرتکب ہوئے ہیں!
اگر آج ہم نے سستی کی تو کل ہمیں اس کا اور بڑا نقصان دیکھنا پڑے گا! کوئی تاویل کوئی بہانہ نہیں بات سیدھی سی ہے ہم میں سے ہر کسی کو اس مشکل گھڑی میں امدادی تو بننا پڑے گا!! کہ منتظر ہیں جو وہ میرے اپنے ہیں!

امداد سے متعلق چند تحریریں بلاگستان سے!!
سیلاب زدگان کی مدد کیجیے
آپ کی مدد کے منتظر
آؤمتاثرین کی امدادکریں


یہ صحفہ بھی دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے!

8/14/2010

ان کو پانی بادشاہ لگتا ہے!!

“بسم اللہ الرحمٰن الرحیم یہ خط اللہ کے بندے عمر بن خطاب کی طرف سے نیل مصر کے نام ہے۔ اگر تو اپنے اختیار سے جاری ہے تو ہمیں تجھ سے کوئی کام نہیں اور اگر تو اللہ کے حکم سے جاری ہے تو اب اللہ کے نام پر جاری رہنا"

کیا آپ کو یاد ہے یہ کس خط کا مضمون ہیں! تاریخ دانوں کے بتائے ہوئے قصہ کے مطابق خلیفہ حضرت عمر نے دریائے نیل کے نام اُس میں آنے والی ممکنہ خُشک سالی کا معلوم ہونے پر ایک نوجوان حسینہ کو اُس کی بھیٹ چڑنے سے بچانے کے لئے لکھا تھا اور تب ہی سے دریا نیل میں خُشکی نہیں آئی! اللہ اور اُس کے رسول پر کامل یقین تھا تو حکم چلانے کا حوصلہ بھی اور جانتے تھے یہ اختیار حاصل ہے۔
مگر اپنے سندھ کے وزیراعلی صاحب فرماتے ہیں "پانی تو بادشاہ ہے مقابلہ تو نہیں کرسکتے حدود میں رکھنے کی کو شش کریں" اندازہ لگائے! آج کے اس دور میں بھی جو پانی کو بادشاہ کہئے وہ اُس سے کیا بچاؤ کروائے گے!!
اگر حکمرانوں کی یہ سوچ ہو تو عوام کی حفاظت ممکن ہو گی؟ جبکہ اُن کی اپنی تاریخ اُنہیں ایک الگ سبق سکھا رہی ہو۔


8/13/2010

کیا جشن آز|دی و رمضان کی مبارک باد دی جائے؟

اپنے علاقے پر نظر ڈالی تو یوں لگا کہ جیسے کوئی کمی ہو!! کچھ ایسا جو ہونا چاہئے مگر نہیں ہے! وہ کیا ہے؟ یوں معلوم ہوتا ہے ہم وہ نہیں رہے جو تھے! اور جو ہونے چاہئے!!
ہم میں احساس و جذبہ دونوں ختم ہو گئے ہیں! یا کم ہو گئے ہیں ہم ہم نہیں رہے بلکہ میں ہو گئے ہیں یا ہوتے جا رہے ہیں۔دیکھا جائے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ جشن آزادی کا جوش و رمضان کا مہینہ دونوں مل کر ہم میں ایک نئی رو پھونک دیتے مگر ہم تو کسی خاص بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں، ملک کی دو کروڑ کی آبادی جو قریب کل آبادی کا گیارہ فیصد بنتا ہے بے حال و بے گھر ہو چکا، مگر وہ جو خود کو اس بپھرے پانی سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اپنے حال میں مست ہیں!
یہ بات ہر صاحب دل نے محسوس کی کہ اس بار سیلاب زدگان کی مدد کا جذبہ اہل وطن میں کافی کم دیکھائی دیا ہے۔ اور ایسا تب دیکھنے میں آیا جب ہم اپنی تاریخ کے سب سے بڑی تباہی کا سامنا کرر ہے ہیں یہ اس دہائی کا سب سے بڑا المیہ یا حادثہ ہے جس سے قوم گزر رہی ہے بلکہ معذرت ہم نے تو یہ جانا کہ اب یہاں بھی قومیں آباد ہے ایک قوم ہوتی تو مدد کرتی جب تقسیم دلوں کی یوں ہو کہ ہر ہر گروہوں خود کو قوم کہے تو امدادی غیر قومیں ہی ٹہرتی ہیں! تب اپنے خیر ٹھرتے ہیں جن کی مدد نہ تو فرض ہوتی ہے نہ حق مانی جاتی ہے خاص کر تب جب "فکر" میں متبلا یہ وضاحت کر چکے ہوں کہ یہ تو جانور ہیں، جاہل ہے، بد تہذیب بھی! (یہاں یہ وضاحت کر دوں مجھے خاور کی دونوں پوسٹوں کا انداز و لہجہ اچھا نہیں لگا! اُس میں موجود گروہی مواد سے بھی اختلاف ہے)
قوموں کی تاریخ میں دو موقع ہی تو اہم ہوتے ہیں ایک اُن کے قومی دن دوسرے اُس کے مذہبی تہوار!! ہم تاریخ کے اُس دوراہے پر ہیں جب ہم پر اپنی قومی زندگی کی ایک بڑی مصیبت نازل ہو چکی ہے، اور ہمارے قومی دن و مذہبی تہوار دونوں ہم میں ایک قوم کا جذبہ پیدا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
تو کیا ایسے میں جشن آزادی اور آمد رمضان کی مبارک باد دی جائے اگر ہاں تو کس کو؟ وہ جو خود پنجابی تو ہے، خود سندھی تو ہے،خود بلوچی تو ہے، پٹھان تو ہے، مہاجر تو ہے، ہزاراوال تو ہے مگر پاکستانی نہیں! یا دوسرے کو پاکستانی ماننے کو تیار نہیںاور جو سنی تو ہے، اہلحدیث تو ہے، شیعہ تو ہے، مگر دوسرے کومسلمان ماننے کو تیار نہیں!!!
بلکہ سچی بات کہو تووہ دوسرے کو انسان ماننے کو تیار نہیں! دل نہیں مانتا کہ انہیں جشن آزادی کی مبارک باد دوں، انہیں آمد رمضان پر نیک تمناؤں سے نوازوں!
بہت مایوس ہوا ہوں میں خاص کر اُس سے جنہیں صاحب علم و شعور سمجھ رہا تھا۔

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے










سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے

تو وہ حملہ نہیں کرتا

سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں

بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے

تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو

پڑوسی مان لیتی ہیں

ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں

تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سارا جنگل جاگ جاتا ہے

ندی میں باڑ آجائے

کوئی پل ٹوٹ جائے

تو کسی لکڑی کے تختے پر

گلہری سانپ چیتا اور بکری

ساتھ ہوتے ہیں

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے

خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر

ہمارے شہر میں اب

جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر



شاعرہ: ذہرہ نگار

پرائیویٹ کمرشل

یہ لیں چند نوجوانوں کی طرف سے کمرشل کی پیروڈیاں تیار کی گئی ہے!! ذاتی طور پر!! کچھ نہیں ہے ان میں مگر شغل و طنز ہے۔









بلاگر پارٹی

اگر آپ بلاگرز ڈاٹ کام پر بلاگنگ کرتے ہیں اور مستقبل مین بھی میری طرح اس ہی پلیٹ فارم سے منسلک رہنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو یہ جان کر آپ کو خوشی ہوگی کہ آپ کا یہ بلاگ ہوسٹ گیارہ سال کا ہو گیا ہے اور اس سلسلے میں بلاگر نے پوری دنیا میں 31 اگست 2010 کو ایک ملاقات کا اہتمام کیا ہے۔
اگر آپ کا ارادہ ہو تو اُس میں شرکت کرنے کے لئے یہاں خود کو رجسٹر کروا لیں! یہ دیکھ کر کہ آپ کے شہر میں آیا یہ پارٹی منعقد ہو رہی ہے یا نہیں! شرکت کی شرط صرف اتنی کہ آپ کا بلاگ بلاگر ڈاٹ کام پر ہو!!

8/08/2010

یہ کیا ہوا؟ بلکہ کیوں ہوا؟

ابتدا ہی اس دورے پر تنقید تھی! اول اول تو برطانوی وزیراعظم کے بھارت میں دیئے جانے والے بیان کو لے کر دوئم یہ کہ ملک میں سیلاب کی بناء پر اکثر کی رائے یہ تھی انہیں ملک میں رہ کر سیلابی امداد میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے!
اور اختتام بھی اچھا نہیں ہوا کہ ایک بزرگ نے اُن کی طرف دو جوتے اُچھال دیئے جسے برطانوی پولیس نے ڈانٹ ڈپٹ کر کے چھوڑ دیا! بزرگ نے سندھ کا رواتی لباس پہن رکھا تھا!! بعد میں جب حاضرین جو دراصل پارٹی کارکنان تھےنے "گو زرداری گو" کے نعرہ لگائے تو محترم ادھوری تقریر چھوڑ کر چلے گئے۔
بحیثیت پاکستانی مجھے پاکستان کے صدر کو یوں بین الاقومی وزٹ پر اپنی پارٹی کارکنان ست خطاب پر جوتا پڑنا اچھا نہیں لگا! دوئم اپنے میڈیا کو اس بات کو بریکنگ نیوز کے طور پر جاری رکھنا!!۔
یہ کوئی ہنسی مزاق کی بات نہیں عالمی سطح پر نہایت بدنامی کی بات ہے۔
ایک اعتراض جو اول دن سے مجھے ہے وہ یہ کہ زرداری صاحب کو ملک کا صدر بنے کے بعد پیپلزپارٹی کی چیئرمین شب سے مستعفی ہو جانا چاہئے تھا صدر کا عہدہ وفاق کی علامت اورمملکت کے سربراہ کی حیثیت کا حامل ہے اس بناء پر کسی سیاسی پارٹی سے صدر کا تعلق نہیں ہونا چاہئے، اگر وہ اول دن ہی یہ بات سمجھ جاتے تو اچھا ہوتا وجہ یہ کہ یہ جوتا دراصل صدر پاکستان کو نہیں مارا گیا تھا بلکہ مارا تو پیپلزپارٹی کے چیئرمین کو پارٹی کارکنان سے خطاب کے دوران ایک رُکن نے مارا! مگر بدنامی پاکستان کے صدر کے حصے میں آئی!!
یوں تو سرکاری ٹی وی نےجوتا پڑنے والی بات گول کر کےاس خطاب کو برمنگھم میں پاکستانی کمیونٹی سے قرار دیا ہے مگر یہ بات نہایت صاف تھی کہ یہ دراصل پیپلزپارٹی کے جلسے سے خطاب تھا۔
مگر ان اقتدار کی ہوس اور تمام اختیارات اپنے ہاتھ میں رکھنے (کسی ممکنہ خوف کے پیش نظر) کے شوق میں مبتلا حاکموں کو یہ بات سمجھ نہیں آتی۔
اتنا ضرور ہے کہ جوتا مارنے کی روایت جوتا بننے کے بعد ہی ایجاد ہوئی ہے۔ اور شاید خواتین سر مردوں کی طرف آیا ہے، دوسرا رزداری صاحب کو ذیادہ غصہ نہیں کھانا چاہئے بُرے کام کرنے پر کاندان کے بزرگ ایک دو جوتا لگا دیتے ہے! آگے حرکتیں اچھی رکھے تو شاباشی بھی مل سکتی ہے ویسے بھی دُر فٹہ منہ کی جگہ دُر شاباش نے لے ہی لی ہے!

8/05/2010

ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے






ہم نہ مہاجر ہیں، نہ پٹھان ہیں، نہ میمن ہیں،یہ لوگوں نے ناں بہت فرق نکال لئے ہیں ہم لوگ کو یہ سوچنا چاہئے کہ ہم سب مسلمان ہیں۔ فرقہ ایک ہی ہونا چاہیئے، لوگوں نے بول دیا تو ہم سے دور رہ تو پختون ہے تو مہاجر ہے، یہ سب غلط بات ہےہم سب مسلمان ہیں!

یہ بی بی سی کی رپورٹ (1:20 سے 1:45 منٹ تک) میں شامل اُس لڑکے کے تاثرات تھے جو کرکٹ کھیل رہے تھے اور ساتھی لڑکوں نے اس بات کی حمایت میں تالیاں بجائی نیر ویڈیو میں نظر آنے والے پشتون لڑکے نے اُس ساتھی لڑکے کو سینے سے لگا لیا!!! اگر کسی کو یہ شکایت ہے کہ یار دوست تحریر حذف کر کے شیئر کرتے ہیں تو مجھے بھی یہ افسوس ہے کہ کم عمر لڑکوں کی اس قدر لسانیت مخالف تاثرات کو بی بی سی نے بوقت تحریر قلم بند نہیں کیا!! مگر شکریہ کہ بعد میں ویڈیو لگا دی اور بات پہنچ گئی۔


8/03/2010

منجانب اہلیان کراچی

لو جی ہمیں آج تک اہلیان کراچی و کراچی کے شہریوں کی سمجھ نہیں آئی! بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ یہ سمجھ نہیں آئی کہ یہ دراصل اہلیان کراچی و کراچی کے شہری ہیں کون؟؟
کیا آپ کو سمجھ ہے؟ یا آپ بھی میری طرح ہی ہیں! نا سمجھ؟ اب دیکھے ناں ایک دن آپ صبح صبح دفتر کے لئے یا کام سے نکلتے ہیں تو شہر میں بینر لگے ہوتے ہیں،
شہر میں طالبانائزیشن نا منظور منجانب اہلیان کراچی!
کبھی
لینڈ مافیا اور ڈرگ مافیا نامنظور اہلیان کراچی!
کہیں!
کراچی کے شہری بھتہ مافیاں اور دہشت گردوں کی بدمعاشی برداشت نہیں کرے گے!
یہ بینر کالے یا سفید رنگ کے کپڑے پر ہوتے ہیں! حیران کن بات یہ کہ یہ "نامعلوم" اہلیان کراچی چار سے آٹھ گھنٹے میں تمام کراچی میں بینر نصب کر دیتے ہیں اور ان کا پتہ بھی نہیں چلتا! اور کہیں کراچی بچاؤ تحریک کے پوسٹر لگے ہوتے ہیں!! جس میں کراچی کے شہریوں کو مخاطب کیا ہوتا ہے۔
جیسے ہی کراچی کے حالات کسی بھی ABC وجہ سے خراب ہوں! نام نہاد لیڈر، رہنما، سیاستدان اور بھائی کراچی کے شہریوں کو پُرامن رہنے کی تلقین کر رہے ہوتے ہیں جبکہ کہ حقیقت میں کراچی کے شہری خود امن کی دعا مانگ رہے ہوتے ہیں! جان بچا کر بھاگ رہے ہوتے ہیں! اپنی گاڑیوں کو جلنے سے بچانے کی جدوجہد میں مصروف ہوتے ہیں!نہ کہ امن کو تباہ کرنے میں اپنی توانائیاں خرچ کر رہے ہوتے ہیں!
خدا کرے کل کو واقعی اصلی والے اہلیان کراچی پورے کراچی میں بینرز بنا کر لگا دیں! جس پر درج ہوں
تمام سیاسی ، مذہبی و لسانی جماعتوں و گروہوں کو آگاہ کیا جاتا ہے کہ اپنی ذاتی سوچ و خیال اور ایک دوسرے پر لگائے جانے والے الزامات براہ راست ایک دوسرے تک پہنچاؤ ہمارا نام استعمال نہ کیا جائے منجانب اہلیان کراچی!



دوپٹہ

عالمی اخبار کے بلاگ پر اج "نادیہ بخاری" کا یہ بلاگ پڑھا اچھا لگا اس لئے یہاں شیئر کر رہا ہوں۔
اٹھارہ سالہ شکیلہ میرے ہاسٹل میں تقریبا دس سال سے ملازمہ ہے میرے ہا سٹل مالکان ابھی کچھ دن پہلے ہی امریکہ سے واپس ائے اور کافی سامان بھی ساتھ لائے کل میں کچن میں کھڑی تھی تو شکیلہ مجھے کہنے لگی باجی امریکی پاگل ہیں کیا ؟میں نے حیرت سے جواب دیا نہیں کیوں کیا ہوا؟ کہنے لگی دیکھیں نہ باجی اپ کے پیچھے جو چپل پڑی ہے وہ ہاسٹل والی باجی امریکہ سے لائی ہے اور اس پر امریکہ کا جھنڈا بنا ہوا ہے بھلا بتاو کوئی جھنڈا بھی اپنے پاوں میں پہنتا ہے مجھے شکیلہ کی پریشانی میں لطف انے لگا میں نے شکیلہ کو چھیڑنے کے لئے کہا کہ شکیلہ تیرا کیا بھروسہ ابھی ہوسٹل والی باجی نے کوئی پرانا سا پاکستانی جھنڈا نکالنا ہے اور تو نے اس سے جھاڑ پونچھ شروع کر دینی ہے تو فورا شکیلہ بولی ہاے بخاری باجی میں مر نہ جاوں جو میں اپنے ملک کے جھندے کو اس مقصد کے لئے استعمال کروں میرے ملک کا جھنڈا تو میرے سر کا دوپٹہ ہے بھلا کوئی دوپٹہ کی بھی بے قدری کرتا ہے شکیلہ نے اپنی زندگی میں ابھی تک سکول کا منہ نہیں دیکھا لیکن اس کی سوچ یقینا ان کئی نوجوانوں سے افضل ہے جو اپنی تعلیم سے تخریب کاری کا سامان تیار کر کے ملک کو نقصان پہنچا رہے ہیں جہاں شکیلہ جیسے حب الوطن نوجوان ہوں بھلا بتائیں کہ کیا کبھی اس ارض پاک کی طرف کوئی دشنمن میلی انکھ سے دیکھ سکتا ہے؟