8/13/2010

کیا جشن آز|دی و رمضان کی مبارک باد دی جائے؟

اپنے علاقے پر نظر ڈالی تو یوں لگا کہ جیسے کوئی کمی ہو!! کچھ ایسا جو ہونا چاہئے مگر نہیں ہے! وہ کیا ہے؟ یوں معلوم ہوتا ہے ہم وہ نہیں رہے جو تھے! اور جو ہونے چاہئے!!
ہم میں احساس و جذبہ دونوں ختم ہو گئے ہیں! یا کم ہو گئے ہیں ہم ہم نہیں رہے بلکہ میں ہو گئے ہیں یا ہوتے جا رہے ہیں۔دیکھا جائے تو ہونا یہ چاہئے تھا کہ جشن آزادی کا جوش و رمضان کا مہینہ دونوں مل کر ہم میں ایک نئی رو پھونک دیتے مگر ہم تو کسی خاص بے حسی کا شکار ہو چکے ہیں، ملک کی دو کروڑ کی آبادی جو قریب کل آبادی کا گیارہ فیصد بنتا ہے بے حال و بے گھر ہو چکا، مگر وہ جو خود کو اس بپھرے پانی سے محفوظ سمجھ رہے ہیں اپنے حال میں مست ہیں!
یہ بات ہر صاحب دل نے محسوس کی کہ اس بار سیلاب زدگان کی مدد کا جذبہ اہل وطن میں کافی کم دیکھائی دیا ہے۔ اور ایسا تب دیکھنے میں آیا جب ہم اپنی تاریخ کے سب سے بڑی تباہی کا سامنا کرر ہے ہیں یہ اس دہائی کا سب سے بڑا المیہ یا حادثہ ہے جس سے قوم گزر رہی ہے بلکہ معذرت ہم نے تو یہ جانا کہ اب یہاں بھی قومیں آباد ہے ایک قوم ہوتی تو مدد کرتی جب تقسیم دلوں کی یوں ہو کہ ہر ہر گروہوں خود کو قوم کہے تو امدادی غیر قومیں ہی ٹہرتی ہیں! تب اپنے خیر ٹھرتے ہیں جن کی مدد نہ تو فرض ہوتی ہے نہ حق مانی جاتی ہے خاص کر تب جب "فکر" میں متبلا یہ وضاحت کر چکے ہوں کہ یہ تو جانور ہیں، جاہل ہے، بد تہذیب بھی! (یہاں یہ وضاحت کر دوں مجھے خاور کی دونوں پوسٹوں کا انداز و لہجہ اچھا نہیں لگا! اُس میں موجود گروہی مواد سے بھی اختلاف ہے)
قوموں کی تاریخ میں دو موقع ہی تو اہم ہوتے ہیں ایک اُن کے قومی دن دوسرے اُس کے مذہبی تہوار!! ہم تاریخ کے اُس دوراہے پر ہیں جب ہم پر اپنی قومی زندگی کی ایک بڑی مصیبت نازل ہو چکی ہے، اور ہمارے قومی دن و مذہبی تہوار دونوں ہم میں ایک قوم کا جذبہ پیدا کرنے سے قاصر نظر آتے ہیں۔
تو کیا ایسے میں جشن آزادی اور آمد رمضان کی مبارک باد دی جائے اگر ہاں تو کس کو؟ وہ جو خود پنجابی تو ہے، خود سندھی تو ہے،خود بلوچی تو ہے، پٹھان تو ہے، مہاجر تو ہے، ہزاراوال تو ہے مگر پاکستانی نہیں! یا دوسرے کو پاکستانی ماننے کو تیار نہیںاور جو سنی تو ہے، اہلحدیث تو ہے، شیعہ تو ہے، مگر دوسرے کومسلمان ماننے کو تیار نہیں!!!
بلکہ سچی بات کہو تووہ دوسرے کو انسان ماننے کو تیار نہیں! دل نہیں مانتا کہ انہیں جشن آزادی کی مبارک باد دوں، انہیں آمد رمضان پر نیک تمناؤں سے نوازوں!
بہت مایوس ہوا ہوں میں خاص کر اُس سے جنہیں صاحب علم و شعور سمجھ رہا تھا۔

6 تبصرے:

  1. Mera khayal hai ke Azadi ki mubarakbad nahin deni chahye
    kyunke hum abhi tak azad nahin huwey

    جواب دیںحذف کریں
  2. اجی کونسی جشن آزادی جناب۔ پچھلے دنوں کئی دانشواروں نے راز افشاء کیے جس سے پتا چلا کہ ہم ابھی آزاد تو ہوئے ہی نہیں۔ مہاجر درحقیق پختون پنجاب اتحاد کے زیر تسلط ہے۔ سندھی مہاجر اور مہاجر سندھی سے آزادی مانگ رہا ہے۔ بندوق پٹھان نے اٹھائی ہے تو ہم کیوں اس کو چھوڑیں۔ کوئی کسی کو غلیظ آبادی قرار دے رہا ہے تو کوئی دادے کے ہندو ہونے کا طعنہ مار رہا ہے۔ تیری زبان میری زبان اور میری قوم تیری قوم کا شور مچ رہا ہے۔ جب کوئی پاکستانی نظر ہی نہیں آرہا تو پھر آزادی کی مبارک کس کو دیں؟

    جواب دیںحذف کریں
  3. ہماری ایک بے وزن نظم کا بند آپ کی پوسٹ کی عکاسی کرتا ہے۔
    ميں حبشي عجمي عربي ہوں

    ميں سنيّ شيعہ وہابي ہوں

    ميں سندھي بلوچي پنجابي ہوں

    فرقہ بندي ميں غرقان ہوں

    ميں نام کا مسلمان ہوں

    جواب دیںحذف کریں
  4. پاکستان کی گیارہ فیصد آبادی اسوقت بے گھر اور بے حال ہے۔ ممکن ہے اس تعداد میں فی الحال کچھ کمی بیشی ہو ۔ مگر اسوقت مسئلہ سیلاب سے متاثر ہونے والوں کی بدحالی یا بے گھر ہونا نہیں بلکہ دوکروڑ انسانوں کا، گیارہ فیصد پاکستانیوں کی زندگی اور عزت نفس کا ہے ۔ سیلاب نے اکثریت کو کچھ اٹھانے یا کسی معقول جگہ منتقل ہونے کی فرصت اور مہلت نہیں دی خاندانوں کے خاندان تن پہ پہنے دو کپروں میں بھوکے پیاسے مارے مارے پھر رہے ہیں۔ سیلاب سے اپنی اور اپنے پیاروں کی جان بچانے کی تگ و دور نے انکے تن میں اتنی سکت باقی نہیں چھوڑی کہ وہ کسی سے فریاد تک کر سکیں۔ یہ گیارہ فیصد پاکستانی رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں بے یارو مدگار اور بھوکے پیاسے پڑے ہیں۔ اضلاع کے اضلاع زیر آب ہیں۔ پینے کا صاف پانی ، دووقت کی غذا، بچوں کے لئیے دودھ،بدن کے گیلے کپڑوں سے نجات کے لئیے خشک کپڑے اور اپنے خاندان اور مستورات کے لئیے سر چھپانے کو ایک عدد خیمہ یا جھونپڑا ، بیماروں کے لئیے علاج اور ادویات، پالتو مویشیوں کے لئیے چارہ اور ویکسئین۔ یہ ہیں وہ چند ہنگامی ضروری اشیاء جن کی سیلاب ذدگان کو فوری بہم پہنچانے کی ضرورت ہے۔ اور یہ کام ہنھامی ترجیجات کے تحت نہائت سرعت سے کیا جانا ضروری ہے۔ اسمیں ایک آدھ دن کی دیر بھی قیامت سے کم نہیں ہوگی کیونکہ اسطرح کئی طرح کے نقصانات میں سے ایک نقصان اس گیارہ فیصد آبادی کو اپنے تہی دامن اور خانماں برباد ہونے کے احساس محرومی سے ہوگا جس وجہ سے سیلاب اتر جانے کے بعد ان لوگوں کو دوبارہ زندگی کی دوڑ میں شامل کرنے میں بہت وقت لگ جائے گا۔
    اور ایسی صورت میں آنے والے چند ماہ میں یہ سیلابی عذاب پاکستان کی اسی فیصد غریب آبادی کی خبر لے گا جب سونا اگلتی زمینوں پہ کام کرنے والے ملکی آبادی کو اناج ، سبزیوں، پھل ، اور لائیو اسٹاک یعنی گوشت اور دودھ اور دودھ وغیرہ سے بنی اشیاء کی صورت میں خوراک بہم پہنچانے کی بجائے خود دانے دانے کے محتاج ہونگے۔ وبائی امراض پھیلنے کی صورت میں ہونے والے قومی مالی اخراجات اور مسائل ، ملک میں بڑے پیمانے پہ تباشدہ انفرااسٹرکچر بحال کرنے، ذرائع مواصلات بحال کرنے ۔ وغیرہ پہ جو لاگت آئے گی اور جس بڑے پیمانے پہ ملک میں مالی ڈئپریشن سامنے آئے گا اسکا اثر نہ صرف ملک کی اسی فیصد غریب آبادی پہ پڑے گا بلکہ اسکا اثر ملک کی باقی ماندہ خوشحال آبادی اور مقتدر طبقے پہ بھی لامحالہ طور پہ پڑے گا۔

    یہ ایک ایسا خوفناک پیش خیمہ ثابت ہوگا جس کے اثرات پورے پاکستان پہ برسوں مسلط رہیں گے۔ اسلئیے جہاں رمضان المبارک کے تقدس اور پاکستانی قوم کے مسلمان ہونے کی وجہ سے ان لوگوں کی مدد کرنا پوری قوم کا اخلاقی ، انسانی، اور مذھبی فرض ہے۔ وہیں باقی ماندہ قوم کی ضرورت بھی ہے کہ وہ اپنے مستقبل کی فکر کرتے ہوئے ان مصیبت زدہ لوگوں کی فوری مدد کرے اور اسوقت تک کرے جب تک وہ پھر سے آباد نہیں ہوجاتے۔خدا ہم سب کو ایسا کرنے کی توفیق دے۔آمین

    موضوع کو بدلتے ہوئے محض اتنی عرض ہے کہ ۔عالم ، علم کی زیادتی سے نہیں بنتا بلکہ علم کے مثبت استعمال سے عالم جانا جاتا ہے۔ جبکہ پاکستان میں کچھ لوگوں نے مغربی ممالک بالخصوص امریکہ کا ویزاہ حاصل کرنے کے لئیے بنگلہ دیش کی تسلیمہ نسرین کو آئیڈل بنا رکھا ہے اور اپنے اس ھدف کے لئیے ان سے کسی بھی حرکت کی امید کی جاسکتی ہے ۔ حرکات جن میں قوم سے لیکر اسلام تک سے بغض نکالنا شامل ہوتا ہے۔ اور بالفرض محال عام آدمی اپنے مذھب سے چھیڑ چھاڑ پہ سخت ایجیٹیشن نہ کریں اور ایسی صورت میں کسی مغربی ملک کا ویزاہ ملنے کا سبب نہ بنے تو ایسے لوگ پاکستان میں بھانت بھانت قسم کی پائے جانی والی سیاسی پارٹیوں کے اعلیٰ عہدیداروں کے جوتے پالش کرنے کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں کہ کبھی تو انکے نظروں میں آجائیں گے اور بہت ممکن ہے کہ شہری ۔ ضلعی ۔ صوبائی ، وفاقی حکومت کے کسی محکمے میں کوئی عہدہ شہدہ مل جائے تو حرام اور خنزیر کھانے سےکئی نسلوں کے وارے نیارے ہوجائیں۔ اور جب کسی طرف سے بھی ایسی پذیرائی نہ ہو تو ایسے لوگ اپنے آپ کو انقلابی کہلوانے لگتے ہیں۔ اور سیکولرازم سے لیکر سوشلزم تک کئی قسم کے لبادے اوڑھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔(ویسے آجکل پرانے سوشلسٹ امریکہ کی گود میں جابیٹھے ہیں) اور وقت بے وقت پاکستان۔ دین اسلام ۔ پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کو نشانہ بنانا ایسے ناکام لوگوں کا دلپسند مشغلہ ہوتا ہے ۔ جنہیں اپنے اسیکولر ہونے کا وہم سا ہونے لگتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان ایسے بے حمیت دانشوروں میں خود کفیل ہے۔ جو خود تو زبردست احساس کمتری و محرومی کا شکار ہیں اور ساتھ ساتھ جعلی اعدادہ شمار اور تواریخ کو تروڑ مڑور کر نوجوان طبقے کو پاکستان ، اسلام بلکہ اپنی ذات سے برگشتہ کرنے کے جتن کرتے رہتے ہیں ۔ اس سلسلے میں پاکستان کے کئی نامور نام گنوائے جاسکتے ہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. phr b jesa b hai aazad to hain
    bahany banain tanz karen ya monh morain
    mulk jab ban hi gaya hai to rasam hi tehar gai ab os rasam ko b manana chor dain
    basant manana q na choren
    ab to divali b manaty hain TV pr pakistani or Valentine day to azadi ka itni bori ho gai?

    josh o kharosh se nai sadgi se manao
    jashan nai milad manao Quraan khwani karo
    naat ki mehfil sajao k Ramdan b to hai

    bas hallla gulla jashan raqs sooroor ki mahafil hi azadi ka aizhar hain???

    جواب دیںحذف کریں
  6. اللہ ہی ہے جو ہمارے حال پر رحم کرے

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔