8/13/2010

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے










سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے

تو وہ حملہ نہیں کرتا

سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں

بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے

تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو

پڑوسی مان لیتی ہیں

ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں

تو مینا اپنے گھر کو بھول کر

کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے

سارا جنگل جاگ جاتا ہے

ندی میں باڑ آجائے

کوئی پل ٹوٹ جائے

تو کسی لکڑی کے تختے پر

گلہری سانپ چیتا اور بکری

ساتھ ہوتے ہیں

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہے

خداوندا جلیل و معتبر، دانا و بینا منصف اکبر

ہمارے شہر میں اب

جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر



شاعرہ: ذہرہ نگار

2 تبصرے:

  1. جنگلوں کا قانون تو جانوروں پر لاگو ہو گا اور جہاں جانوروں سے بھی بدتر لوگ رہتے ہوں وہاں کونسا قانون نافذ ہو گا؟

    جواب دیںحذف کریں
  2. کاشف اقبال8/14/2010 06:33:00 AM

    بہت اچھی اور باموقع نظم ہے . آپ کو آزادی کی سالگرہ مبارک

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔