دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے
ہو قناعت جو زندگی کا اصول
تنگ دستی، فراخ دستی ہے
جنس دل ہے جہاں میں کم یاب
پھر بھی یہ شے غضب کی سستی ہے
ہم فنا ہو کر بھی فنا نہ ہوئے
نیستی اس طرح کی ہستی ہے
آنکھ کو کیا نظر نہیں آتا
ابر کی طرح برستی ہے
شاعر: علامہ اقبال
تبصرے ()
ارسلان
ہے علامہ اقبال کا ہے۔ یہ بات مستعند ہے۔
ظفر حسن رضا /١٦ نومبر ٢٠٢٣ء
اپنا تبصرہ دیں