11/27/2011

محبت

آہ کیا چیز ہے یہ محبت!! نہ ہو کسی سے تو زندگی آسان، ہو جائے تو عذاب۔
یار لوگ کہتے ہے زندگی عزاب تب نہیں ہوتی جب محبت ہو جائے تب ہوتی ہے جب اُس کا احساس ہو جائے۔ خود کو بھی اور جس سے ہوئی ہو اُس کو بھی۔
اُس وقت محبت کرنے والا اُسے جذبے کو نعمت سمجھ رہا ہوتا ہے  مگر وہ دراصل  ایک امتحان سے گزر رہا ہوتا ہے۔
اور اہل نظر پرکھ لیتے ہیں کہ یہ امتحان اب عذاب بنا کہ تب۔

 یہ میرے خیالات ہیں لہذا اتفاق کرنا ضروری نہیں

تم قومی غیرت کی بات کرتے ہو؟

مجھے نہیں معلوم لوگوں میں اتنا حوصلہ کیوں نہیں ہوتا کہ وہ مخاطب پر اپنی شناخت ظاہر کر سکیں؟ میں کل ایک بلاگ پوسٹ تحریر کی یار لوگ اُس پر تبصرہ کرنے کے بجائے میرے ای میل پر اپنا تبصرہ کر رہے ہیں وہ بھی اصلی نام سے نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ کہ ای میل کے تبادلے مین ایک اہم الزام ہم پر یہ لگا کہ ایک تو میں متعصب ہوں دوسرا تنگ نظر! ہم انکار نہیں کرتے ممکن ہیں دونوں باتیں درست ہوں کیونکہ بقول ہمارے بڑوں کے یہ دونوں بیماریاں جس میں ہوتی ہیں وہ خود میں اس کی تشخیص نہیں کر سکتا یوں ہم اس پر اپنی رائے نہیں دیتے اور چونکہ ہم “اُبھرتی آواز” کی شخصیت سے واقف نہیں تو اُس پر تبصرہ نہیں کرتے۔
ای میل تبادلے میں جو بات وجہ تنازعہ بنی وہ وہ ہی معاملہ ہے جو نیٹو و پاکستان کے درمیان وجہ تنازعہ ہے۔ یعنی پاکستانی سرحد پر نیٹو کا حملہ۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ عوامی رد عمل کی غیر موجودگی میں فوج اس معاملے پر اپنی آواز بلند نہ کرتی! اور فوجی ردعمل بھی چند دن میں عامی جذبات کے ٹھنڈا ہونے پر اسکرین سے غائب ہو جائے گا۔ مگر “ابھرتی آواز” اس سے متعفق نہیں تھے۔
میرا کہنا یہ ہے کہ ہم گذشتہ 11 سال کی اس جنگ میں چالیس ہزار جانے گنوا چکے ہیں۔ جون 2004 سے اب تک 290 ڈراؤن حملوں میں قریب 2700 کے قریب جانوں کا نقصان اُٹھا چکے ہیں ان ڈھائی ہزار مرنے والوں میں سے آفیشلی 98 فیصد افراد کے متعلق سب کا اتفاق ہے (مارنے والوں کا بھی) کہ وہ بے گناہ تھے بقایا دو فیصد پر بھی شبہ ہے کہ ممکن ہے اُن کے اکثریت بھی مطلوبہ ٹارگٹ نہ ہوں بمشکل 70 سے 90 افراد کے درمیان پر قیاس ہے کے وہ اُن کے مطلوبہ “دہشت گرد” ہیں۔ اتنی بری تعداد میں بے گناہ پاکستانی شہریوں کی اموات پر کوئی ردعمل نہیں ہوا تو اب کیسے فوجی جرنیل کی غیرت جاگ سکتی ہے؟
اور قومی غیرت کا یہ حال ہے کہ ہم نے اُس چالیس ہزار شہیدوں کو یاد رکھنے کا کوئی ایک بہانہ بھی نہیں تراشہ یار کیا رکھیں گے؟ غیر ملکی فوج کے ہاتھوں ڈراؤن اٹیک میں مرنے والوں کا کبھی نہیں سوچا تو اب کے کیا کر لیں گے؟
اپنے فوجی کے مرنے پر ردعمل دیکھنا ہو تو دور کی کیا مثال دوں اپنے نام نہاد اتحادیوں کو ہی دیکھ لو۔ مئی 2007 میں ایک پاکستانی فوجی نے جذبات میں آ کر ایک امریکی فوحی میجر لیری کو مار (پوری دہشت گردی کی جنگ میں کسی پاکستانی فوجی کے ہاتھوں مارے جانے والا واحد اتحادی فوجی) گیا تو امریکی میڈیا ہے اُسے فیچر کیا۔ اُس وقت ہی نہیں بلکہ پر سال اُس کی برسی پراور اس کے علاوہ بھی بہانے بہانے سے لکھتے ہین اور ہر بار اسے ایک فوجی کا جذباتی انفرادی رد عمل نہیں بتاتے بلکہ پاکستانی فوج کی اندرونی سازش قراد دیتے ہیں ایسا آخری فیچر نیو یارک جیسے اخبار نے شائع کیا جبکہ پینٹاگون آفیشلی یہ کہہ چکا ہے کہ ہونے والی تفتیش میں یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ایک انفرادی عمل تھا۔ مزید یہ کہ انہوں نے اپنے مرنے والے فوجی کی یاد میں ایک میموریل فنڈ قائم کیا ہے جس کے تحت نہ صرف طالب علموں کو اسکالرشپ دی جاتی ہے بلکہ ہر سال بیس بال ٹورنامنٹ کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔
اور دیکھ لیں “اُبھرتی آواز” ہم کہاں کھڑے ہیں؟ موجودہ ڈرامے بازی کو آپ رد عمل کہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔
جب تک ہم اس “دہشت گردی” کی نام نہاد جنگ کا حصہ ہیں تب تک تبدیلی حاکم و جرنیل کت رویے میں مجحے نظر نہیں آتی۔
آپ اپنی شناخت تو بتانے کی ہمت نہیں رکھتے! قومی غیرت کہاں سے دیکھاؤ گے؟

11/26/2011

یادداشت یعنی memo

اؤئے یہ میمو گیٹ والا کیا معاملہ ہے؟
“کیوں؟ تجھے اس سے کیا لینا ہے؟”
یار ویسے ہی پوچھ رہا ہوں ہر بندہ ہی اس کی بات کرتا ہے، اس لئے پوچھ رہا تھا۔
“کچھ نہیں ہے بس ذرا فوج و حاکم مل کر 'مخول' کر رہے ہیں”
کیا مطلب ہے تمھارا؟ حسین حقانی کو سفارت سے ہٹا دیا، فوج کی مرضی کا سفیر بھیجنے کے بجائے وہ شیری رحمان کو اسمبلی سے استعفیٰ لے کر سفیر بنا کر بھیج دیا، اس مراسلے پر تفتیش ہو رہی ہے اور تمہیں یہ مخول لگتا ہے؟
“اُس میمو یا مراسلے کو چھوڑ، یہ دیکھ جہاں فوجی جرنیل و حاکم ملک میں ہونے والے ڈراؤن حملے نہ روک سکیں، دوسرے ملک کے کی فوج ملک میں داخل ہو کر فوجی کاروائی کر جائے انہیں خبر نہ ہو، دوسری فوج کے طیارے سرحدی چوکیوں پر حملہ کر کےاپنے فوجی مار جائے اور اپنی فوج کا سربراہ صرف مذمتی بیان جاری کرے۔ ابے وہاں ایک مراسلے پر تماشہ لگےیہ مخول ہی تو ہے”
تمہارا مطلب ہے کہ جرنیل و حاکم آپس میں مخول کر رہے ہیں؟
“نہیں تو”
یہ کیا مذاق ہے آپس میں تو کس سے؟ تو نے مجھے پاگل سمجھ رکھا ہے کیا؟
“ابے مخول تو یہ تیرے و میرے سے کر رہے ہیں، یعنی عوام سے۔ آپس میں تو ان کی یہ لڑائی سوکنوں والی ہے جو پیا من کو بھانے کو لڑتی ہیں، بس پیا کو یقین آ جائے میں اُس کی سکی ہوں دوسری تو ڈرامے باز۔کام ہو جائے آج جو یاداشت دجہ تنازعہ ہے وہ کل کسی کی یاداشت میں نہ ہو گی”

مانگ ووٹ کہ تجھے ووٹ ڈالو

اب تو قریب ہر کوئی جان چکا کہ بلاگ ایوارڈ ہو رہے ہیں۔ وہ بھی جو مقابلے میں اُتر چلے اور وہ بھی جو مقابلے سے انکاری ہیں ۔
بلاگ ایوارڈ میں کل 33 زمروں میں 350 بلاگ نامزد ہوئے ہیں۔ بہترین اردو بلاگ میں 16 اور اردو زبان کے بہترین استعمال میں 3 بلاگ۔ اس کے علاوہ 2 اردو بلاگ عمدہ مزاح کے زمرے میں اور ایک اردو بلاگ سیاسی بلاگ کے ذ مرے میں شامل ہے۔ یوں کل 22 اردو بلاگ مقابلے میں شامل 350 بلاگ میں موجود ہیں۔ جو کہ 6 انگریزی بلاگ کے مقابلے میں ایک اردو بلاگ کے بنتی ہے۔ اردو بلاگ کے ووٹ مانگنے کء لئے انگریزی زبان کا بینر دستیاب ہے۔
کچھ ایسے ذمرے تھے جن میں مزید اردو دنیا کا حصہ ہو سکتا تھا جیسے بہترین بلاگ ایگریگیٹر میں اردو سیارہ، ماروائی فیڈ ، اردو بلاگرز اور اردو کے سب رنگ شامل ہو سکتے تھے۔
 اسی طرح چند ایک ساتھی بلاگرز نے مقابلے میں حصہ نہیں لیا جو میرے نزدیک ایک درست رویہ نہیں۔ مقابلے میں شامل ہونے کا مقصد صرف مقابلے میں جیت ہی نہیں ہوتا بلکہ اس سے کہیں ذیادہ اہم یہ ہوتا ہے کہ احباب کو علم ہو ہم بھی میدان میں ہیں۔ جیسے کم از کم تین نئے اردو بلاگ کا علم مجھے اُن کے اس مقابلے میں شمولیت کے بعد معلوم ہوا۔ یہ ہی نہیں کئی عمدہ انگریزی بلاگ بھی ہمارے گوگل ریڈر کی فہرست میں شامل ہو گئے ہیں۔
ہم قریب سب ہی اردو بلاگرز کو میرٹ پر ووٹ دے چکے جو مقابلے میں ہیں۔ مگر اگر بھی بھی کوئی یہ خیال کرے کہ وہ رہ گیا ہو شاید تو ضرور آگاہ کر دے۔ ہم نے انگریزی بلاگ کو بھی ووٹ کیا ہے کیا آپ کی پسند کا بلاگ مقابلے میں ہے؟ اگر ہاں تو ضرور ووٹ مانگے۔
وہ احباب جو مقابلے میں نامزد ہیں ووٹ مانگنے میں شرم محسوس نہ کریں کیونکہ اہل دانش کا کہنا ہے ووٹ مانگنے اور بھیک مانگنے کے اصول و قواعد ایک سے ہے۔ یعنی کہ ہر کسی سے مانگو، ہر وقت مانگو، ہر طرح سے مانگو اور بار بار مانگو۔۔

11/16/2011

ابے تو بھی بڑا “زرداری” ہے

گزشتہ چند ماہ سے بلکہ یوں کہہ لیں ڈھائی سال سے موبائل پر اسپیم ایس ایم ایس آتے ہیں۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ابتدا ہفتہ مین ایک دو ایس ایم ایس سے ہوئی مگر اب تو روزانہ درجن بھر آنے لگ گئے ہیں۔ اول اول تو ہم اس قدر اس سے بیزار نہیں تھے مگر اب دیکھ کر غصہ چھڑ جاتا ہے اگر ہم مصروف ہوں۔

آج کل ہمارے (وکلاء) کے الیکشن ہو رہے ہیں سپریم کورٹ کے الیکشن میں تو ہمیں تنگ نہیں کیا گیا تھا کہ ہم اُس مقابلہ میں ہماری ضرورت نہیں تھی وجہ صاف ہے ہم سپریم کورٹ کے وکیل تو نہیں ہیں ناں اب تک ! مگر ہائی کورٹ اور ضلعی عدالتوں کی الیکشن میں تو بذریعہ ایس ایم ایس ووٹ مانگنے والوں نے مت مار دی ہے، وہ الگ بات ہے ان ایس ایم ایس میں بھیجے جانے والے اقوال نہایے عمدہ ہوتے ہیں۔ اپنے وکلاء کے الیکشن تک تو بات ٹھیک تھی مگر نامعلوم کس نے ہمارا فون نمبر پریس کلب کراچی اور آرٹ کونسل والوں کو دے دیا؟ ممبر نہ ہونے کے باوجود وہاں سے الیکشن لڑنے والوں کے ووٹ کی درخواست کے ایس ایم ایس آتے ہیں اُن کے الیکشن کے دنوں میں۔

پہلے پہل آنے والے پیغامات میں کراچی میں فروخت ہونے والے مکان، فلیٹ،دفتر، گاڑی، کار، موٹر سائیکل اور دیگر قابل فروخت اشیاء کےنقد و آسان اقساظ پر دستیابی کے پیغامات آتے تھے۔ مگر اب زیر تعمیر مسجد و مدرسے کے چندے، یتیم بچیوں کی شادی میں مدد، استخارہ کرنے والے کا پتہ، رشتوں کی تلاش، ٹیوٹر (ٹیوشن سینٹر) کی دستیابی، پرائیویٹ اسکولوں و سینٹروں میں ڈاخلے کا اعلانات، پلمبر، مستری، رنگ والا، موٹر مکینک و بورنگ والے کی دستیابی بمعہ موبائل نمبر، ریسٹورینٹ و ہوٹل کا پتہ بمعہ مینو بلکہ یہاں تک کہ ایک بار ہمین ایک ایس ایم ایس آیا جس میں ڈلیوری کے وقت لیڈی ڈاکٹر کی دستیابی سے آگاہ کیا گیا تھا اور ساتھ یہ بتایا گیا تھا کہ ختنے کرنے کا معقول انتظام ہے۔ جبکہ اُس وقت ہم کنوارے تھے اور دوسری آفر بھی ہمارے لئے کار آمد نہیں تھی کہ وہ کام مین نمٹ گیا تھا۔ اس سلسلے میں 2009 میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن نے ایک ضابطہ اخلاق جاری کر دیا تھا جس کا نام “تحفظِ صارفین ریگولیشن 2009” ہے۔

اس ہی کی روشنی میں 14 نومبر کو پی ٹی اے نے تمام موبائل کمپنیوں کو ایک لیٹر یا سرکولر جاری کیا جس کے تحت “اسپیم فلٹر” پالیسی کے تحت اُن الفاظ کی لسٹ جاری کی گئی جن پر پابندی لگائی ہے۔ رومن اردو اور انگریزی الفاط کی یہ لسٹ نہ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے اور انگریزی تو خیر ہماری ویسے بھی ملکی کی اکثریتی آبادی کی طرح نہایت “عمدہ” ہے مگر جاری کردہ رومن اردو کے الفاظ کو دیکھ کر معلوم ہوا کہ ہم تو اردو زبان سے بھی قریب “نابلد” ہی ہیں۔

دیگر سرکاری کاموں کی طرح ان جاری کردی بین الفاظ کی فہرستوں نے بھی عوام کو ہنسنے کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ کل 586 اردو کے الفاظ اور 1109 انگریزی کے الفاظ پر پابندی لگائی گئی ہے۔ اردو الفاظ کی بین لسٹ کے مطابق سیریل نمبر 13 پر “Mangaithar”(یعنی منگیتر) ، سیریل نمبر 35 پر “kutta”(یعنی کتا), سیریل نمبر 205 پر “mango” (جو آم کی انگریزی) , سیریل نمبر 214 پر لفظ “taxi”، سیریل نمبر 197 پر “kuti”(یعنی کتی) اور سیریل نمبر 195 پر “kuta”(یعنی کتا) جیسے الفاظ موجود ہے۔

اگر آپ رومن اردو میں ایس ایم ایس نہیں کرتے تو آپ اردو کی فہرست سے گالیوں کے تازے نمونے کسی کو ایس ایم ایم کرنے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں اور ہاں بوقت ضرورت غصہ آنے پر اس پوسٹ کے “عنوان” کو لکھ کر جسے چاہے بھیج دیں۔ ٹھیک ہے ناں؟ کیونکہ اس لفظ پر تو بین نہیں لگ سکتا۔ ویسے اگر آپ کو عنوان کی سمجھ نہین آئی تو آپ علم کے آضافے کے لئے "اس ڈکشنری/لغت" پر نظر ڈالیں۔

11/09/2011

دل کی بستی عجیب بستی ہے (اقبال)

دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے

ہو قناعت جو زندگی کا اصول
تنگ دستی، فراخ دستی ہے

جنس دل ہے جہاں میں کم یاب
پھر بھی یہ شے غضب کی سستی ہے

ہم فنا ہو کر بھی فنا نہ ہوئے
نیستی اس طرح کی ہستی ہے

آنکھ کو کیا نظر نہیں آتا
ابر کی طرح برستی ہے

شاعر: علامہ اقبال




11/07/2011

بکرا عید پر بکرا کون؟

آج عید کا دن تھا! گزر گیا! مگر دو دن اور ہیں قربانی کے! لہذا دو دن کی عید باقی ہے، یوں ابھی دو دن اور ہیں عید مبارک کہنے کے! تو پھر آپ کو ہماری طرف سےعید مبارک چاہے آپ عید منا رہے ہیں یا آپ کو عید منانی پڑ رہی ہے۔
اب کہاں وہ عید ہوتی ہے جو بچپن میں ہوتی تھی! آہ کیا دن تھے۔ ذمہ داری کے احساس سے پاک، آزادی کے احساس سے بھرے۔ خوشی و سرشاری سے بھرپور! ہماری عید کا آغاز چاند نظر آنے سے تو نہیں مگر ہاں قربانی کا جانور آنے سے ہوتا ۔ عموما دنبہ یا بکرا قربانی کے لئے لایا جاتا اور اُس کے قربان ہونے سے پہلے تک ہم اُس پر قربان جاتے۔ لڑکیاں ہاتھوں میں مہندی لگاتی ہیں اور ہم اپنے بکرے کو مہندی لگا رہے ہوتے، مہندی کیا لگتی تھی اُس کے جسم پر “عید مبارک” لکھتے تھے پہلی بار تو مہندی پتلی ہونے کی وجہ سے “عید” ہی بہہ گئی تھی رہی سہی کسر بکرے صاحب نے خود کو قریبی دیوار سے خود کو رگڑ کر پوری کر دی تازہ لگی مہندی سمیت اور ہماری قسم کھانے کے با وجود بھی” رقیب” یہ ماننے تو تیار نہ تھے کہ ہم نے عید مبارک لکھا ہے۔ آنے والے سالوں ہم” عید مبارک “ لکھنے کے ماہر ہو گئے گئے۔
بکرے کی مخصوص پائل اور اُس کی دیگر لوازمات بھی ہم نے خرید کر رکھے ہوئے تھے، یہ الگ بات ہے کہ اپنی روایتی کنجوسی کی بناء پر بکرے کی (ذبح ہونے کے بعد ) نیم خون آلود اُن اشیاء کو دھو کر آئندہ سال کے لئے محفوظ کر لیتے تھے۔ اپنے بکرے کو تیار کر کے گلی/محلے میں لے کر پھرتے اور گلی کے دیگر بکروں سے اپنے والے کو افضل قرار دیتے نہ ماننے والے سے لڑ بھی پڑتے۔
عید والے دن بکرے کے ذبح ہونے پر غمگیں بھی ہو جاتے تھے جبکہ یہ پہلے سے علم و احساس ہوتا کہ اس ہی مقصد کے لئے لایا گیا ہے۔
ایک اور شوق عید والے دن علاقے میں گھوم کر جانوروں کی قربانی دیکھنے کا ہوتا تھا۔ دوستوں کا ایک ٹولہ بنا رکھا تھا اور عید سے ایک یا دو دن پہلے سائیکلوں پر گھوم کر صحت مند و خوبصورت جانوروں کی لسٹ تیار کی جاتی اور مالکوں سے معلوم کیا جاتا کہ کب قربان کیا جائے گا اور عید والے دن اُس جانور کے قربان کئے جانے کا منظر دیکھنے جا پہنچتے۔
وقت کے ساتھ ساتھ لا شعوری طور پر اس جذبے میں کمی آتی گئی، اور پھر والد صاحب نےچھوٹے کی قربانی کے بجائے بڑے میں حصہ ڈالنا شروع کر دیا۔ ہم قربانی میں شریک ہوتے ٹوکے کا استعمال تو نہیں کیا مگرچھری کی مدد سے گوشت بنانے میں اپنا حصہ ضرور ڈالتے۔ دو چار مرتبہ انگلیاں بھی زخمی کی مگر اب اس کام میں بھی شریک نہیں ہوتے۔
ہم بڑے ہو گئے ہیں اور بدل سے گئے ہیں اس سال تو حد ہو گئی قربانی کے جانور کی ذرا سی بھی خدمت نہیں کی میں نے۔
احساس ہوتا ہے مگر ۔۔۔۔۔۔ یا پھر در حقیقت زمانے کے انداز بدل گئے ہیں،ہمیں آج کل گلی/محلے کے بچوں میں یہ جذبہ کم ہی نظر آتا ہے۔ یا ہم ہی فریب میں ہے۔
ہم زمانے کو ہم اردگرد کے احباب سے ناپتے ہیں، اور اپنے علاقے میں ہمیں اس سال قربانی کا رجحان کم نظر آیا، احباب سے بات چیت سے اندازہ ہوتا ہے کہ لوگوں کی قوت خرید کم ہوتی جا رہی ہے، قربانی کی خواہش ہے مگر وسائل نہیں۔
خدا جانے بکرا عید پر بکرا کون ہوتا ہے اب؟

11/04/2011

وال چاکنگ سے آرٹ تک

یار دوستوں کا خیال ہے کہ وال چاکنگ ایک بھی آرٹ کی ایک شکل ہے، کئی مرتبہ یہ آرٹ دیکھ کر خیال آتا ہے کہ اگر آرٹ ایسا ہے تو آرٹسٹ کیسا ہو گا، اگر اندر سے آرٹسٹ خوبصورت ہو تو شہر کے در و دیوار خوبصورت کرے گا ورنہ یہ نفرت کے بیج تو جا بجا بکھیر ہے رہا ہے نا۔ شہرکراچی میں یہ آرٹ عام طور پر رات میں ہی بکھیرا جاتا ہے، ہر نئے آرٹ کے نمونے شہر میں ایک نیا خوف و نفرت کے کانٹے لیئے ہوتا ہے۔
ہماری قوم کی بنیادی طور پر ایک خوبی یہ ہے کہ ہم ہر مواملے میں کوئی نہ کوئی مثبت پہلو تلاش کر لیتے ہیں لہذا بات درست ہو یا نہیں مگر یار لوگ دلیل/تاولیل دیتے ہیں یہ شہر کی دیواروں پر لکھے نعرے عوام کو عوامی جذبات کے اظہار کا راستہ فراہم کرتے ہیں۔ وہ الگ بات ہے کہیں کمپنیوں و اداروں کو اشتہار کا راستہ بھی فراہم کرتے ہیں نیز ملک بھر کے عاشقوں و نامردوں کے علاج و حل کا مقام بھی ان ہی دیواروں پر پایا جاتا ہے۔ گزشتہ دنوں بلوچ کالونی سے پہلے بنے ایک فلائی اوور پر شہر کے ایک تعلیمی ادارے نے اپنے طالب علموں کو آرٹ بنانے کا پروجیکٹ دیا۔ پل کی ویواروں پر بنے نقش و نگار ہمیں عمدہ لگے لہذا کیمرے میں محفوظ کر لیئے۔ اب آپ فیصلہ کرے کہ اصل میں جنہیں آرٹ بتا کر دل کو تسلی دی جا رہی ہے وہ آرٹ ہے یا یوں شہر خوبصورت ہو سکتا ہے؟