ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: April 2013

ہرتال سے سوگ تک؟

ایک دور تھا شہر میں زندگی مفلوج کرنے کو شام پانچ چھ بجے کے بعد ہر علاقے میں ایک دو دکانیں یا بس جلا دی جاتی! یوں یہ حکمت عملی اگلے دن زندگی مفلوج کر دیتی اور سیاسی جماعت اپنے “زور بازو” سے شہر کی نمائندہ جماعت بن کر اپنا سیاسی قد بھی اونچا کر لیتی اور عوام کے خوف کو وہ “عوامی حمایت” بتا شہر کی نمائندہ جماعت بتاتے ! فارمولا ا س قدر کامیاب ہوا کے بعد میں آنے والوں میں نہ صرف اس کو اپنایا بلکہ پرانے نمائندہ نے شہر میں اپنی کم ہوتی “مقبولیت” کو اس ہی فارمولے سے بچانے کی کوشش کی! یوں جمہوریت کا یہ حُسن بھی اہل شہر کے سامنے آیا کہ بدمعاشوں کا خوف ہی مینڈیٹ ٹھہرا!اور یوں کامیاب ہرتال کے ذریعے اپنے مطالبات حکومت وقت سے منظور ہو جاتے تھے۔
اب خود حاکم ہو کر آئے ہیں! اب میڈیا کا دور ہے! میڈیا والوں سے یاری بھی پکی ہو گئی ہے! پہچان میں آ کر بھی نا معلوم ہوتے ہیں۔ حاکم ہرتال نہیں کرتے مگر کیا کرے مینڈیٹ تو زندگی مفلوج ہوتا ہے لہذا سوگ کا اعلان کر کے مینڈیٹ حاصل کیا جاتا ہے۔ خوف کی تشہیر کو میڈیا جو ہے ، جان کی امان کو سب گھروں میں مقید ہو جاتے ہیں۔
سوگ کا اعلان کرنے والے مانے یا نہ مانے یہ سوگ دراصل خود ان کی زبانی اپنی نا اہلیت کا ثبوت ہے۔ آپ پانچ سال حکومت میں رہے جب سندھ کی حکومت میں آپ کو حصہ نہیں مل رہا تھا تو آپ نے شہر کو آگ لگا کر بلیک میل کر کے حصہ لیا۔ ہمارا کراچی جیسا نعرہ لگایا! شہر آپ کی جاگیر رہا اب اگر جل رہا ہے تو آپ مانے کہ یہ آپکی نا اہلی ہے یا پھر یہ ہی آپ کی اہلیت ہے۔ بڑوں سے سنا ہے اپنی نالائقی پر افسوس کرنا واجب ہے مگر یہ افسوس خود تک محدود ہونا چاہئے نہ کہ سوگ کو پورے شہر پر مسلط کیا جائے۔
گیارہ مئی فیصلے کا دن ہے خدا کرے بارہ مئی کا سورج کراچی کے اعتبار سے کراچی کے دشمنوں کے لئے ایسا ہی ہو جیسا کبھی اُن کے ہاتھوں اہل شہر نے بھگتا تھا!

درمیانہ اُمیدوار!

یار الیکشن کی تیاری کیسی ہے؟
“ہم نے کیا تیاری کرنی ہے، ملک میں چھٹی ہو گی اور ہم جا کر ووٹ ڈال آئیں گے”
اچھا جی تو پھر انتخاب کر لیا اُمیدوار کا؟
“ہاں یار جب ووٹ ڈالنا ہے تو کسی نہ کسی کا انتخاب تو کرنا پڑے گا ناں”
تو کس پارٹی کو ووٹ ڈال رہے ہو؟
“یار آزاد امیدوار کو ڈالوں گا کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ نہیں ڈال رہا”
اچھا! لگتا ہے کوئی جاننے والا تمھارا کھڑا ہے انتخاب میں؟
“نہیں نہیں!یار میں تو اُسے جانتا بھی نہیں! چھ مہینے پہلے ہمارے گھر آیا تھا جب امجد کے ہاں بچی ہوئی تھی بس اُس کے بعد اب ووٹ مانگنے آیا ہے”
اوہ خیر تیرے گھر آتا جاتا ہے اور تو کہہ رہا ہے تو جانتا بھی نہیں ہے اُسے ! بڑا ڈرامے باز ہے تو! کون ہے وہ؟
“ابے میرا کوئی رشتے داری نہیں ہے بندیا رانا سے”
اوئے تو کھسرے کو ووٹ دے گا؟
“ہاں! کیوں کیا مسئلہ ہے؟”
ابے کسی مرد کو نہ سہی کسی عورت کو ہی ڈال دے یہ کیا کہ تو ہجڑے کو ووٹ دینے لگا ہے! کیسا لگے گا ایک ہجڑا اسمبلی میں؟
“اور میاں تمہارا مطلب ہے پچھلی اسمبلی میں کوئی ہجڑا نہیں تھا؟”
ہاں نہیں تھا ناں!
“ اچھا جی! تمھارے ملک میں ڈرون حملے ہوئے، دوسرے ملک کی فوج اندر آ کر آپریشن کر کے چلی گئی، وہ اپنے بندے کو قاتل ہونے کے باوجود بچا کر لے گئے، تمہاری فوج سے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کروا رہے ہیں، اور کسی پارلیمنٹیرین کو اس پر منافقت سے پاک بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، تم کہتے ہو سابقین ہجڑے نہیں تھے.”
حد ہوتی ہے تم کسی اور کو موقع دو اور بھی کئی جماعتیں ہیں، ہجڑا منتخب کرنا کیا ضروری ہے؟
" اب رہنے دو! شیر بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے دھارتا ہے اور بلا جو ہے وہ بیبیوں سے میک اپ کر کے سونامی لانے کو نکلتا ہے باقی رہ گئے ترازوں والے تو اُن کی مردانگی یہاں سے نظر آتی ہے کہ جس قوم کی بیٹی کے نام پر کئی ماہ سے سیاست ہو رہی تھی اُس کی بہن کے مقابلے بندہ اُتارا ہوا ہے. اور باقی تو ہیں ہی سابقہ حکمران. اس لئے ایک خواجہ سرا ہی بہتر انتخاب کہ اُس میں کچھ نا کچھ مردانگی ہے اور مردانگی جن میں ہو مسئلہ وہ ہی نظر آتی ہے، ذہنی ہجڑوں سے بہتر ہے جسمانی ہجڑا منتخب کر لیا جائے!”
جا یار تو جس کو مرضی ووٹ ڈال! میرے سے غلطی ہوئی جو تجھ سے پوچھ لیا!

سالارجیل میں

وقت وقت کی بات ہے۔ کبھی دل میں آتا تھا تو قلم کی جنبش سے ایک نوٹیفکیشن جاری ہوتا اور قانون وجود میں آ جاتا تھا مگر آج جناب خود قلم کی جنبش کی زد میں آ کر قانون کے شکنجے میں ہے۔ جو دہشت گردوں سے جنگ لڑنے کی بات کرتا تھا آج خود دہشت گردی کے الزام کا سامنا کررہا ہے۔جناب سپا سالار ہوتے تھے اب سپاہیوں کی قید میں ہوتے ہیں۔ غلط فیصلے غلط جگہ پر پہنچا دیتے ہیں اور ایسے فیصلے کبھی درست مشوروں سے حاصل نہیں ہوتے۔
مشیر کا انتخاب حکمران کے اقتدار کا دو رانیاں طے کرتا ہے۔اور وکیل کا انتخاب ملزم کے مجرم تک کے سفر بارے قیاس کرتا ہے۔ جس کیس میں جناب کی پکڑ ہوئی اس میں جناب کا گرفت میں اتنی آسانی سے آنا نہیں بنتا تھا۔ قابل ضمانت جرائم میں ملزم کو ضمانت درخواست کے بغیر ہی مل جاتی ہے مگر جناب کے ساتھ وہ معاملہ یوں ہوا کہ نمازیں بخشو انے گئے روزے گلے پڑھ گئے والا ہوا ضمانت تو کیا ملنی تھی ATC کی دفعہ سات بھی شامل کر دی گئی۔
خود کو بڑا منوانے والے لوگوں کو تھانے جانے میں بڑی تکلیف ہوتی ہے، اس تکلیف میں وہ جیل میں چلیں جاتے ہیں۔ جناب بھی شاید اس ہی مسئلہ کا شکار ہوئے ورنہ متعلقہ تھانے جا کر اگر ایس ایچ او سے ملاقات کرتے وہاں بیٹھ کر کافی و سگار سے لطف اندوز ہو کر آتے تو اج اپنے ہی فارم ہاؤس میں قید نہ ہوتے۔ اس جرم میں جناب کی ضمانت تھانے دار یا تفتیشی آفیسر بھی لے سکتا تھا۔ اگر عدالت جانے کا اتنا ہی شوق تھا تو جناب جب کراچی میں سندھ ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تب transit بیل لی تھی تب اسلام آباد میں ضلعی جج کے سامنے پیش ہو کر ضمانت لے لیتے وہ اگر رد بھی کرتا تو دہشت گردی کی دفعات کو اضافہ تو نہ کرتا کہ یہ اُس کے پاس ایسا کوئی اختیار نہ تھا مگر بدقسمتی جس کو یہ اختیار تھا جناب اُس کے ہی سامنے پیش ہوئے اور در لئیے گئے۔ ہم نے یہاں دیکھا ہے کہ ہمارے سینئر وکیل اکثر کلائینٹ کا معاملہ نچلی عدالتوں کے بجائے اعلی عدالتوں میں براہ راست لے جاتے ہیں جس سے ایک تو ریلیف جلدی مل جاتا ہے دوسرا فیس اچھی مل جاتی ہے۔ یہاں یقین فیس کا معاملہ نہ ہو گا مگر اس توپ سے مکھی نہ مری اور نقصان الگ ہوا۔
سچی بات تو یہ ہے کہ جناب کا اقتدار اور اس یوں ذلیل ہونا میری ذات کو بہت کچھ سکھا گیا اور سیکھا رہا ہے۔ دنیا داری کے اعتبار سے بھی اور پیشہ وارانہ زندگی کے لحاظ سے بھی۔
کہانیوں میں پڑھا تھا، تاریخ نے بتایا تھا کہ بادشاہ قید ہوتے ہیں، مارے جاتے ہیں، ذلیل ہوتے ہیں مگر یہ سب تب ہی ہوتا ہے جب اُن میں غرور ہو تکبر ہو، انسانیت نہ ہو! پھر وہ کتنے ہی عقل کُل کیوں نہ ہوں لوگوں کی بد دعائیں انہیں نالائق مشیروں اور ظالم دشمنوں سے لڑوا دیتی ہے۔ قانون قدرت سے زیادہ ظالم دشمن کون ہو گا؟ آج ایسی تاریخ کو خود بنتے دیکھ رہا ہوں!اگر ایسے کیس مین ایسی گرفت ہے تو باقی میں خدا خیر کرے۔ سالار جیل میں ہے اور یار لوگ کہہ رہے ہے سالا جیل میں ہے۔

صرف پندرہ سیکنڈ!!

سنا ہے زمین سے توانائی کا اخراج ہو تو زلزلہ آتا ہے! آج یہ بھی تماشا دیکھا کہ جب زلزلہ آتا ہے تو یار لوگوں کی توانائی بھی خارج ہو جاتی ہے اور جان کی امان کو جو گھر لوگوں نے بنا رکھے ہیں اُن سے ہی باہر نکل کھڑے ہوئے جان کی امان کو!! اونچی اونچی عمارتوں کی تعریف کرنے والے کھلے میدانوں کو بھاگے! بہادروں پر خوف کا سایہ دیکھ کر ہنسی آئی کہ واہ کیا بے بسی پائی ہے حضرت انسان نے۔
پندرہ سیکنڈ میں اوقات کا اندزہ ہو گیا! مگر پھر کہاں اعمال میں درستگی آ سکتی ہے کرسی پر سوار جان بچانے کو آیۃ کرسی کا ورد کرتے جب سڑک پر پہنچے تو علاقے کی عورتوں کی بے پردگی میں دیکھ کر پھر سے شیطان کے ہمنواہ ہو کر آنکھوں کی گمراہی کا شکار ہوئے تب احساس ہوا کہ اللہ کی یاد موت سے جڑی ہے یہاں موت ٹلی وہاں پھر وہی پرانی روش۔
زلزلہ زمین ہی نہیں ہلاتا بندے بھی ہلا دیتا ہے اور یہ جھٹکے اُن ہی کو زمین پر لاتے ہیں جو اندر سے اس قدر کمزور ہو چکے ہوں کہ زمین پر جا گریں! خاک کی اصل تو زمین ہی ہے مگر کوئی اصل کو خود سے لوٹنا نہیں چاہتا۔

ووٹ کس کو؟

الیکشن کا زور ہے! میڈیا ہو یا شوشل میڈیا، گھر ہو یا گلی، دفتر ہو یا بازار، ہر طرف سیاسی سرگرمیاں عروج پر ہیں! ہر ایک کا لیڈر عمدہ و با کمال ہے۔ اُس سے اچھا و اصولوں والا کوئی اور نہیں ہے۔ جس سے پوچھو وہ اپنے رہنما کو ہی قابل بتاتا ہے۔ اگر کسی وجہ سے کسی جگہ ہونے والی کسی بچث میں یہ ثابت ہو جائے کہ اُس کی چنے گئے لیڈر میں کوئی خامی یا کمزوری ہے یا ماضی میں وہ کوئی غلط کام کر چکا ہے تو جواب میں سامنے والا آپ کے ممکنہ انتخاب میں کیڑے نکالے گا یا کیڑے ڈالنے کی کوشش کرے گا!
ہم میں سے اکثر ایسے ہیں جو ووٹ ڈالتے ہوئے شخصیت پسندی کے شکار ہیں! انتخاب یقین شخصیت کے نام پر کیا جانا ہے مگر شخصیت ہی کا انتخاب کیوں؟
الیکشن ہم میں سے کتنے جانتے ہیں کہ منشور واقعی اہم ہے؟ اور ہم میں سے کتنے آگاہ ہیں کہ سابق حکمرانوں نے پہلے کیا منشور دیا تھا؟ اور اُس میں سے انہوں نے کون سا منشوری نقطہ یا وعدہ پورا کیا؟
کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ کی سیاسی جماعت کا تعلیم ، صحت، مواصلات، و دیگر شعبہ زندگی سے متعلق کیا منشور ہے؟ مجھے یقین ہے اکثریت نا واقف ہو گی! بلکہ سچ کہو تو سابقہ تجربہ سے تو یہ معلوم ہوتا ہے منشور پیش کرنے والے خوداُسے ایک کاغذ کے ٹکڑے سے ذیادہ اہمیت نہیں دیتے۔
ایسے میں میں اب تک کم از کم ووٹ دینے سے متعلق کوئی فیصلہ کرنے میں دشواری محسوس کر رہا ہوں!

اظہار رائے کو پابند کرنے کی آزادی

جن اردو بلاگرز نے لاہور میں ہونے والی اردو بلاگرز کانفرنس میں شرکت کی وہ مسرت اللہ جان سے واقفیت رکھتے ہوں گے ! جناب مختلف ویب سائیٹ پر کالم یا تحریرں لکھتے رہتے ہیں! آج صبح معلوم ہوا جناب نے ایک کالم سچ ٹی وی پر لکھا جس کی بناء پر جناب کو امیریکن کونسلیٹ کی جانب سے دھمکیاں موصول ہوئی جس کے خلاف انہیں ابتدا میں ایف آئی آر کٹوانے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑا مگر بعد میں ہائی کورٹ کی مداخلت سے وہ ابتدائی رپورٹ درج کروانے میں کامیاب ہوئے۔
نہ معلوم ہم کب آزاد ہو گے! اپنے ملک میں ہم یوں غلام ہیں کہ بعض دفعہ احساس ہوتا ہے کہ آزادی کی ایک جدوجہد اور درکار ہے ابھی!

ہائے اوئے کہاں جا پھنسا!!

نظریاتی اختلاف ہو تو الگ بات ہے! مگر کیا کریں وہ تو شخصیت پسندی کی بیماری میں مبتلا فرد ہے! برداشت اُس میں یوں بھی نہیں کہ وہ خود سے متضاد نظریات رکھنے والوں کو جہالت کی ڈگری عطا کرنے کا ہنر جانتا ہے!شخصیت پسندی ایک ایسی بیماری جو انتخاب کو آسان مگر درست انتخاب کو ناممکن بنا دیتی ہے! جو ایسا سمجھتیں ہیں وہ دراصل اُس کی نظر میں اُس کی پسندیدہ شخصیت سے نا واقف ہیں۔ اُس کی پسندیدہ شخصیت میں کوئی بُرائی ہو ہی نہیں سکتی!وہ سمجھتا ہے ہر بُرے آدمی کو اچھا آدمی بُرا لگتا ہے اور اس ہی لئے اُس کی پسندیدہ شخصیت میں کوئی خرابی نہیں!اُسے بُرا سمجھنے والے دراصل خود اچھے نہیں ہیں! اُس کی شعوری سوچ کی ترقی کے ساتھ ساتھ اُس کی پسندیدہ شخصیت اگرچہ تبدیل ہوتی رہی مگر اسے حسن اتفاق ہی کہا جاتا ہے ہے ہر بار اُس کی پسندیدہ شخصیت اقتدار میں ہوتی جس کا اظہار وہ اُس شخصیت سے ضرور کرتا کہ وہ سچ کے پرچار کرنے کا عادی تھا مگر اس حق گوئی کو اُس کے حاسدین نے خوشامد کانام دیا۔

جعلی ڈگری
وہ نظریاتی اختلاف کو اس طرح بیان کرتا ہے کہ جو اختلاف نظر آئے وہ ہی نظریاتی ( یعنی نظر +آتی) اختلاف ہے لہذا وہ مخالفین سے اپنا اختلاف اس حد تک کرتا ہے کہ نظر آئے چاہے کہیں بھی لہذا یہ اختلاف مختلف وجوہات کی بناء پر کبھی گلی محلے اور کبھی تھانہ کچہری میں نظر آتا ہے۔وہ جانتا تھا حق کی جنگ میں بندے کو مشکلات برداشت کرنا پڑتی ہیں، اپنی اس حق سچ کی لڑائی میں اُسے بھی جیل کی ہوا کھانی پڑی! مگر اُس نے ہمت نہ ہاری اور باطل کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی ، چونکہ محبت و جنگ میں سب کچھ جائز ہوتا ہے لہذا اُس نے سب ہی کیا اگر کچھ رہ گیا ہو تو اُس کی کسر وہ بعد میں پوری کر دیتا مگر!!! خدمت کی راہ میں وہ ہی بندہ آ گیا جس کے سامنے وہ باطل کی ہار کی جدوجہد کے سلسلے میں پیش ہوتا رہا تھا!
تب وہ جج تھا تب بھی اُس سے اُسے آزاد نہ رہنے دیا تھا اب بھی وہ اُسے عوام کی خدمت سے روکنے پر بضد ہے! وہ جو حق کی جیت کے لئے ہر ڈگری کو استعمال کرتا تھا آج ڈگری اُس ہی کو اُس کے خلاف استعمال کیا گیا ہے۔

ہم بھی امیدوار ہیں!!

گزشتہ سات سال سے ہم آپ کے سامنے ہیں! آپ ہمارے کردار سے واقف ہیں۔ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی ہوتی ہیں ممکن ہے ہم میں بھی کچھ خامیاں ہوں۔ سیاست کے بارے ہمارےنظریات یقین اچھے نہیں مگر آج کے جمہوری دور میں ہم ووٹ کی طاقت سے ہی تبدیلی لا سکتے ہیں!
ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اچھی و عمدہ قیادت کا ملک میں فقدان ہے لہذا اس بات کا اظہار ہم اکثر و بیشتر کرتے رہے ہیں ۔ جب الیکشن کے فارم پُر ہونا شروع ہوئے تو عدالت میں بھی ہم نے اپنے ان خیالات کا اظہار اپنے دوستوں سے کیا لہذا پرسوں دوستوں سے مشورے کے بعد ہم نے اپنے حلقہ PS-121 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر کے فارم جمع کروا دیئے تھے جو آج منظور ہو گئے ہیں!۔
آزاد امیدوار کی حیثیت سے فارم جمع کروائے تھے، مگر پھر APML نے ٹکٹ کا کہا ہے!ایم کو ایم کے امیدوار سے ہماری بات چیت چل رہی ہے دیکھے کیا رزلٹ نکلتا ہے!
آپ میں سے کون کون الیکشن کے سلسلے میں ہمارا ساتھ دے گا؟ جو حلقے میں رہتے ہیں وہ ووٹ ڈال دیں اور جو حلقے سے باہر ہے وہ نوٹ ڈال دے تاکہ الیکشن کے اخراجات میں آسانی ہو۔
اس طرح کا اپریل فول تو منایا جا سکتا ہے. اللہ اس جھوٹ کو معاف کرے.