فتنہ خانقاہ

اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہروماہ۔۔۔۔. پہنچی نظر جھکائے ہوئے سُوئے خانقاہ
زہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ ۔۔۔۔..ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضربِ لاالہ
براپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا
ایماں دلوں میں مَیں لرزہ براندام ہو گیا
ہاتھ اس نے فاتحہ کو اٹھائے جو ناز سے۔۔۔۔ آنچل ڈھلک کے رہ گیا زلِف دراز سے
جادو ٹپک پڑا نِگہ دلنواز سے۔۔۔۔. دل ہل گئے جمال کی شان نیاز سے
پڑھتے ہی فاتحہ جو وہ اک سمت پھر گئی
اک پیر کے تو ہاتھ سے تسبیح گر گئی
زاہد حدودِ عشق خِدا سے نکل گئے۔۔۔۔ انسان کا جمال جو دیکھا پھسل گئے
ٹھنڈے تھے لاکھ حُسن کی گرمی سے جل گئے۔۔۔ گرنیں پڑیں تو برف کے تودے پکھل گئے
القصہ دین، کفر کا دیوانہ ہو گیا!
کعبہ ذرا سی دیر میں بُت خانہ ہو گیا!


(جوش ملیح آبادی)

تبصرے

ایک تبصرہ شائع کریں