1/12/2009

ٹوٹ پھوٹ

بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں
دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں
اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر
بھول بد گمانی کے
اس طرح سے کھلتے ہیں
زندگی سے پیارے لوگ اجنبی
سے لگتے ہیں
غیر بن کے ملتے ہیں
عمر بھر کی چاہت کو
آسرا نہیں ملتا
دشتِ بے یقینی میں
راستہ نہیں ملتا
خاموشی کے وقفوں میں
بات ٹوٹ جاتی ہے اور آسرا نہیں ملتا
معذرت کے لفظوں میں
روشنی نہیں ملتی
لذت پذیرائی پھر کبھی نہیں ملتی
پھول رنگ وعدوں کی منزلیں سکڑتی ہیں
راہ مڑنے لگتی ہیں
بے رخی کے گارے سے بے دلی
کی مٹی سے
فاصلوں کی اینٹوں سے
اینٹ جڑنے لگتی ہے
خاک اُڑنے لگتی ہے
واہموں کے سائے سے
عمر بھرکی محنت کو
پل میں توڑجاتے ہیں
اِک ذرا سی رنجش سے ساتھ
چھوٹ جاتے ہیں
خواب ٹوٹ جاتے ہیں

شاعر؛ امجد اسلام امجد

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔