1/12/2009

غلاموں کے لئے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے
ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر
دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو
ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بناء پر تعمیر
حُرف اُس قوم کا بے سود، عمل زار و زبوں
ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر!

شاعر؛ علامہ اقبال

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔