ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: September 2006

مصنف اور منصف

اپنے صدر صاحب مصنف ہو گئے ہیں!!!! جناب نے پوری کتاب لکھ ڈالی ہے!!! کہتے ہیں کہ میری اپنی خودنوشت ہے!!!ٹائم اسے شائد قسط وار چھاپ رہا ہےابھی تو چند ٹکڑے ہی لکھے ہوئے ہیں!!!!!!! 368صفحات اور 32ابوب پر مشتمل یہ کتاب انگریزی زبان میں ہے!!! 1245 روپے میں اردو بازار کراچی سے مل رہی ہے!!!! سنا ہے قریب ایک ماہ بعد اس کا اردو ترجمہ پاکستانی مارکیٹ میں موجود ہو گا جو انگریزی کتاب کی قیمت کے چوتھائی کے برابر ہوگا!!! کتاب کی اشاعت سے قبل ہی صدر صاحب نے “سی بی ایس “ چینل کے پروگرام “ساٹھ منٹ“ میں امریکی دھمکی کا ذکر کر کے کتاب کی تشہیر کا آغار کر دیا تھا!!! بعد میں یعنی اب یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے کیا معلوم کیا کہا تھا مجھے تو جنرل محمود نے یہ ہی بتایا تھا!!! اور جنرل صاحب تبلیغ پر نکلے ہوئے ہیں کسی کے ہاتھ ہی نہیں لگ رہے کہ بندہ پوچھ لے بھائی اصل ماجرا کیا ہے؟؟؟؟؟ میں صدقے جاؤ!!! فوجی بندہ اور اتنا سیاسی!!! کیا بات ہے!!! کسی کتاب کی مشہوری کا اس سے بہتر اور کیا طریقہ ہے کہ اسے جس قدر ممکن ہو متنازع بنایا جائے!!!! لہذا اس میں موجود اکثر باتوں کے متعلق یہ رائے عام ہے کہ اس بات پر کوئی تنازع نہیں کہ فلاں بات متنازع ہے!!!! جن احباب نے یہ کتاب پڑھی ہی ان کی رائے میں صدر صاحب نے کمال کیا ہے!!! جو زبان اس کتاب میں استعمال ہوئے لگتا ہی نہیں کہ یہ کسی جنرل کہ کتاب ہے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی نہایت اعلی لکھاری ہے!!! تو بھائی ٹھیک ہے کوئی لکھاری ہو گا!!! مگر کون ؟؟ یہ ایک پہلی ہے!!! جو بوجھ لے اس کی خیر نہیں!!! جناب نے اس کتاب میں ڈاکٹر قدیر کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا ہے !!! انہیں انا پرست، دولت اور شہرت کا لالچی کہا ہے!!! ساتھ ہی یہ بھی لکھا ہے کہ ان کا اپنا نیٹ ورک تھا جہاں سے وہ دنیا میں یہ ایٹمی ٹیکنالوجی پھلا رہے تھے!!! بھارت نے بھی اس سے فائدہ اٹھایا اور کوریا سے بھی ڈیل کی تھی!!! نوار شریف ، شہبار شریف اور ان کے ابا جی کے بارے میں بھی اظہار خیال کیا کہ یہ شریف نہیں !!!! بھٹو کو آمر اور فاشٹ قرار دیا!!!! ضیاء کو ظالم کہا!!! خود کو کارکل کو ہیرو کہا ہے!!! اور نواز شریف کو زیرو!!!! برطانوی پولیس اور خفیہ اداروں سے بھی ناراضگی جاہر کی اور امریکہ سے بھی!!!!اور القاعدہ کے بندوں کے بدلے پیسہ لینے کی بھی بات کی. یہ تو وقت ہی بتائے گا کہ جناب صرف مصنف بنے یا منصف بھی اور ہر بات انصاف کے ترازوں پر تول کر سچ سچ بیان کی یا نہیں!!! مگر بہر حال میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ کتاب لکھنے میں برائی نہیں مگر ہر کام کا ایک وقت ہوتا ہے!!!! صدر جی کو کتاب لکھنے یا لکھوانے کا اتنا ہی شوق تھا تو وہ اس کرسی صدارت و فوجی وردی اتارنے کے بعد یہ کام کرتے!!! جب آپ اس سیٹ پر ہوں تو آپ کوئی کئے معاملات میں خاموشی اختیار کرنا پڑتی کہ یہ ملکی مفاد میں ہوتا ہے!!!! اب کوئی آپ کی بات پر کیا یقین کرے گا کہ آپ آس کی بات کو راز میں رکھے گے!!!!

مبارک!!!!!!

رمضان مبارک، رمضان کی مہنگائی مبارک، سحری مبارک، افطاری مبارک، تراویح مبارک، روزے مبارک، نیکیوں کی اضافی قیمت مبارک!!!!!!!!