ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: February 2005

غیرت کے بدلے دوستی کی پینگیں

بھارتی اخبار "دی ٹریبیون" کے صفحہ اول پر شائع ہونے والی تصویر جس میں پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شہریار احمد کی بیگم بھارتی وزیر خارجہ نٹورسنگھ کی بانہوں میں بانہیؔں ڈالے جھوم رہی ہیں(یہ تصویر وزیر خارجہ خورشید قصورکی طرف سے دیئے گئے عشائیے کے موقعے کی ہے) پاک بھارت دوستی کے انتہا ئی دلخراش منظر کی عکاسی کرتا ہے ۔جب پاکستان اپنی قومی حمیت و غیرت کے بدلے بھارتی دوستی کا حقدار ٹھہرے گا جو لوگ دیہاتی یا قبائلی زندگی کا تجربہ رکھتے ہیں وہ جانتے ہیں کہ جب دو خاندانوں یا قبیلوں کے درمیانکسی جھگڑے کا تصفیہ(فیصلہ) کیا جاتا ہے تو بیشتر اوقات کمزور فریق اپنی لڑکی کا رشتہ دیکر اِس لڑائی کو ختم کرتا ہے،قریب ایسا ہی بے غیرتی کا سبق ہمیں سکھایا جا رہا ہے۔حالیہ عرصے میں رلیز ہونے والی فلم"ویر زارا" میں بھارتی لڑکےکا پاکستانی لڑکی (لاہور کی)سے عشق دیکھایا گیا،نیز کراچی میں ہونے والے انٹر نیشنل فلم فسٹیول میں بھی ایک ایسی ہی بھارتی فلم کی نمائش ہوئی جس میں ہندوستانی بچہ اور پاکستانی لڑکی(سندھی) کی دوستی دیکھائی گئی۔ ایک پڑوسی کی حیثیت سے دونوں ممالک کے درمیاں خوشگوار تعلقات کا ہونا لازمی ہے ،مگر ایسا برابری کی سطح پر ہونا چاہئے بے غرتی کی سطح پرنہیں۔ایسا اُس وقت ممکن ہے جب حاکم وقت میں عزت و غیرت کا خمیر ہو مگرعورت کو نیکر میں دیکھ کر صرف آنکھ اور ٹی و ی بندکر نے والا کیا جانےقومی عزت ق حمیت کیا ہوتی ہے۔۔۔۔

اردو میں کمپوٹراصلاحات

آج نیٹ پر ایکویب سائیٹ دیکھی جس میں کمپوٹراصلاحات کےہندی متبادل درج تھے مثلاََ
Template= साँचा,खाका
یعنی ساںچا،کھاک
میری رائے میں اردو کی بھی ایک ایسی سائیٹ ضرور ہونی چاہئے

بہت ملے ہیں بچھڑ کے دیکھیں


محبتوں کا شعور پا کر
وصال کا بھی سرور پا کر
کمی ھے باقی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سکون دل کو نہیں ہے حاصل
بھنور کے جیسا لگے ہے ساحل
سمندروں میں اتر کے دیکھیں

بہت ملے ہیں بچھڑ کے دیکھیں

زرا یہ دیکھو کہ ہیر رانجھا
نہیں ملے گر۔۔۔۔۔۔۔۔
تو کیا ہوا پھر
تمام دنیا وہی رہی ہے
بھلا ذرا سی کوئی کمی ہے ؟
سماج سے سب مٹا کے جھگڑے
ہم ایک دوجے سے لڑ کے دیکھیں

بہت ملے ہیں بچھڑ کے دیکھیں

یہ ابتداء میں لگے گا مشکل
بہت سی راتیں نہ سو سکیں گے
کبھی تو ھاتھوں کو ہم ملیں گے
کبھی ان آنکھوں کو نم کریں گے
ہر اک نصیحت بری لگے گی
جہاں سے کم دوستی رہے گی
مگر پھر آخر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
بہت دنوں بعد ایسا ہو گا
زمانے کے سنگ چل پڑیں گے
ابھی سے آؤ یہ کر کے دیکھیں

بہت ملے ہیں بچھڑ کے دیکھیں

ہم لوگ نہ تھے ایسے

ہم لوگ نہ تھے ایسے
ہیں جیسےنظر آ تے
اے وقت گواہی دے
ہم لوگ نہ تھے ایسے
یہ شہر نہ تھا ایسا
یہ روگ نہ تھے ایسے
دیوار نہ تھے رستے
زندان نہ تھی بستی
خلجان نہ تھی ہستی
یوں موت نہ تھی سستی
یہ آج جو صورت ہے
حالات نہ تھے ایسے
تفریق نہ تھی ایسی
سنجو گ نہ تھے ایسے
اےوقت گواہی دے
ہم لوگ نہ تھے ایسے

تسلسل

اے پھول یہ پھول میرے پھول کو دینا
میرے پھول سے کہنا یہ پھول تیرے پھول نے دیا ہے
*******

نہ کر نہیں نہیں اب وقت نہیں،نہیں ک
ا تیری ایک نہیں نے مجھے چھوڑ انہیں کہیں کا
*******
سب لوگ آئے میرے جنازے کےپیچھے
اک وہ نہ آیا میرے جنازے کےپیچھے
وہ کیسے آتا میرے جنازے کے پیچھے
جنازہ تھا اس کا میرے جنازے کےپیچھے
*******
نظر ہی نظر میں، نظر نے کہا نظر سے
وہ اگر نظر آئے تو نظر نہ ملانا نظر کی قسم ،نظر لگ جائے گی

سیلف میڈ لو گو ں کا المیہ

روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے
زندگی کے رستے میں ۔ ۔ بچھنے والے کانٹوں کو
راہ سے ہٹانے میں
ایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میں
خوشبوئیں پکڑنے میں ۔ ۔ گلستاں سجانے میں
عمر کاٹ دیتے ہیں
عمر کاٹ دیتے ہیں
اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں
کیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ہیں
درگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیں
صبر کے سمندر میں ۔ ۔ کشتیاں چلاتے ہیں

یہ نہیں کہ ان کو اس روز و شب کی خواہش کا
کچھ صلہ نہیں ملتا
مرنے والی آسوں کا ۔ ۔ خون بہا نہیں ملتا

زندگی کے دامن میں ۔ ۔ جس قدر بھی خوشیاں ہیں
سب ہی ہاتھ آتی ہیں
سب ہی مل بھی جاتی ہیں
وقت پر نہیں ملتیں ۔ ۔ وقت پر نہیں آتیں

یعنی ان کو محنت کا اجر مل تو جاتا ہے
لیکن اس طرح جیسے
قرض کی رقم کوئی قسط قسط ہو جائے
اصل جو عبارت ہو ۔ ۔ پسِ نوشت ہو جائے

فصلِ گُل کے آخر میں پھول ان کے کھلتے ہیں
ان کے صحنوں میں سورج ۔ ۔ دیر سے نکلتے ہیں

دو شعر

اسی کا شہر وہی مدعی وہی منصف

ہمیں یقین تھا ہمارا ہی قصور نکلے گا!۔

.........................

مزہ برسات کا چاہو تو اِنآنکھوں میں آ بیٹھو۔

وہ برسوں میں برستا ہے یہ برسوں سے برستی ہیں


بارھواں کھلاڑی

خوشگوار موسم میں

ان گنت تماشا ٔی

اپنے اپنے پیاروں کا حوصلہ بڑھاتے ہیں

اپنے اپنے پیاروں کوداد دینےآتے ہیں

اور میں الگ سب سے

بارھویں کھلاڑی کو ہوڈ کرتا رہتا ہوں

بارھواں کھلاڑی بھی کیا عجب کھلاڑی ہے

کھیل ہوتا رہتا ہے

داد پڑتی رہتی ہے

اور وہ

الگ سب سے

انتظار کرتا ہے

ایک ایسے لمحے کا

ایک ایسی ساعت کا

جس میں سانحہ ہو جا ٔے

جس میں حادثہ ہو جأے

پھر وہ کھیلنے نکلے

تالیوں کے جھرمت میں

اِک لمحہ خوش کُن

ایک نعرہ تحسین

اسکے بھی نام ہو جأے

لیکن

ایسا کم ہی ہوتا ہے

پھر بھی لوگ کہتے ہیں

کھیل سے کھلاڑی کا

عمر بھر کا رشتہ ہے

ٹوٹ بھی تو سکتا ہے

والی آخری وِسل کے ساتھ

ڈوب جانے والا دل ٹوٹ بھی تو سکتا ہے

تم بھی افتخار عارف

بارھویں کھلاڑی ہو

انتظار کرتے ہو

ایک ایسے لمحے کا

ایک ایسی ساعت کا