ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: November 2008

Operation Lionheart

“جگر کیسا ہے“
جگر چھلنی ہے!
“کیوں تجھے بھی بوتل لگ گئی ہے کیا؟“
بکواس نہ کر! یہ حرام تم ہی پیا کرو!
“تو پھر تیرا جگر کیوں چھلنی ہو گیا؟“
جب سے معلوم ہوا ہے سرحد کر دونوں جانب امریکی و پاکستانیوں افواج نے مشترکہ آپریشن شروع کیا ہے تب سے!
“اوئے بغیر داڑھی والے طالبان! تم لوگ سدا سے ایسے ہی ہو ایسے ہی رہو گے!“
بے خبر بندے! تجھے پتا ہے اُس آپریشن کا نام کیا ہے؟
“ہاں معلوم ہے ، آپریشن شیر دل!“
یہ نام تو اس کا سرحد کے اس پار پے ناں! مگر افغانستان میں اس کا نام Operation Lionheart ہے!
“ہاں ! انگریزی ترجمہ ٹھیک ہے!“
میں انگریری ترجمے کی بات نہیں کر رہا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ درحقیقت یہ دسویں صلیبی جنگ کے ایک حصے کا نام ہے!!
“اوئے!! یہ کیا منطق نکالی ہے تو نے؟؟؟؟ دیکھ پاکستانی طالبان تو نہیں بن گیا ناں تو؟“
کیسے سمجھاؤ تجھے؟؟ دیکھ ٹھیک ہی شیردل کا انگریزی ترجمہ Lionheart ہے مگر یہ نام ہم نے نہیں رکھا! ہم نے دراصل ترجمہ کیا ہے! جنھوں نے رکھا ہے! اُن کے سربراہ نے جنگ کے آغاز پر ہی صلیبی جنگ کا نعرہ بلند کیا تھا!
“کیا بک رہا ہے آسان الفاظ میں بتا!“
بھائی آپریشن کا یہ نام امریکی افواج کا تجویر کردا تھا! جو انہوں نے اپنے ہیرو رچرڈ شیردل یعنی انگریزی میں Richard the Lionheart کے نام پر رکھا ہے! اور یہ وہ بندہ تھا جو صلاح الدین ایوبی کے خلاف صلیبی جنگوں میں لڑتا رہا ہے!!
“تم بھی ناں! اللہ تم لوگوں سے بچائے! یہ باتیں تم لوگ کہاں سے بنا لیتے ہو؟“

کس کا کمال؟؟؟؟

میں بنیادی طور پر نالائق ہوں! اس میں کوئی شک شبہ نہیں! ہاں کسی پر یہ راز آشکار نہ ہو تو اسے آپ میری خوش قسمتی کہہ سکتے ہیں! ذہانت نہیں! اس لئے میں کہہ سکتا ہوں! کہ میں خوش قسمت ضرور ہوں!! بعض راز آشکار ہونے کے بعد بھی کچھ لوگ خوش قسمت بنے رہتے ہیں!!

بہر حال بات کچھ اور کرنی تھی، آج صبح عدالت جاتے ہوئے راستے میں ہم نے بینر دیکھے! جناب ناظم کراچی کو مبارک باد دی جارہی تھی! دنیا کے دوسرے نمبر پر ایک اچھے و بہترین ناظم (میئر) قرار دیئے جانے پر! کورٹ میں ابتدائی کام سے فارغ ہو کر چائے پینے اور اخبار پڑھنے بار روم میں آیا تو اخبار میں جناب “قائد تحریک” اپنے لاڈلے کو سینے سے لگا کر مبارک باد دیتے نظر آئے! ایک اخبار میں ایک جگہ تو گورنر سندھ پر بھی دست شفقت پھیرتے نظر آئے! ہماری آنکھون کے سامنے 12 مئی اور 9 اپریل آ گیا! اور حیرت ہوئی کہ پہلے نمبر پر کون آ گیا ہے؟ معلوم ہوا ٹی وی پر بھی یہ خبر چلی کہ وہ دنیا کے “دونمبری” ناظم ہیں مقابلے میں! جیسے جیو، آج، سما، اے آر وائے،ایکسپریس اور یہاں تک کہ ڈان نے بھی کور کیا! کمال ہے ناں!!
پھر اخبارات! جیسے آج کل، ایکسپریس، جنگ ارر دیگر نے بھی اس خبر کو جگہ دی! ایم کیو ایم مخالف اخبار “امت” اور جماعت اسلامی کے اخبار “جسارت” میں اس خبر کا انتظار رہے گا کس انداز میں آتی ہے مجھے ذاتی طور پر!
اب یہ غلطی کی کس نے؟ جو جناب کو دوسرے نمبر پر دنیا کا بہترین ناظم شہر قرار دیا گیا! تو یار لوگ یہ الزام فارن پالیسی نامی جریدے پر لگاتے ہیں، اُن کی ویب سائیٹ دیکھی تو وہ خود کراچی کو دنیا کے اولین 60 شہروں میں سے 57 نمبر پر شمار کرتے ہیں! اور جن پانچ باتوں کو بہتری کا میعار بتایا گیا اُن سب میں “ہمارا کراچی” نصف سینچری کے بعد آتا ہے۔
ہاں The Mayors of the Moment میں انہوں نے مصطفٰی کمال کا ذکر کیا مگر ساتھ ہی بتا دیا کہ اس کا شہر 57 نمبر پر ہے جیسے جو ہیڈ لائین بنائی تھی تعارف کے سلسلے میں وہ یہ تھی Syed Mustafa Kamal Mayor of Karachi (#57) اس میں نمبر شمار57 شہر کے ریکنک کو بیان کر رہا ہے۔ دوسرے نمبر پر تعارف کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دنیا کے دوسرے بہترین ناظم ہیں!!! بلکہ جریدے نے تینوں ناظموں کا ذکر کرنے سے پہلے لکھا!

Here’s how three of the world’s top mayors are climbing the ladder

نہ کہ

Here’s how three world’s top mayors are climbing the ladder

یہاں of the قابل توجہ ہے، یعنی دنیا کے اولین ناظمین میں سے تین جبکہ ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ لکھا ہے دنیا کے بہترین تین! کمال ہے ناں! (ویسے میں غلطی پر ہوں تو بتا دینا!)
کیونکہ ہم اردو میڈیم والے ہیں! ساتویں جماعت میں بمشکل پوری ABC یاد ہوئی تھی !!!!
دنیا کے بہترین ناظموں کی فہرست یہاں ہے البتہ! اللہ کرے اس میں ہمارے ناظم بھی شامل ہو جائے آئندہ سالوں میں!

اَپ ڈیٹ؛ راشد کامران کے زیل کے تبصرے (تبصرے میں میں نے لنک بھی ڈال دیا ہے) نے بدتمیز کی پوسٹ طرف دوبارہ متوجہ کیا! میں وہ پوسٹ اُس وقت پڑھی تھی جب اُس پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا تھا! جس میں عمار نے بہترین میئر والی لسٹ ہم سے پہلے ہی فراہم کر دی تھی! نیز عبدلقدوس کے متوجہ کرانے پر توجہ pkpolitic کیایک میل کے خاکے پر !،جو انہوں نے پوسٹ کیا! جس میں آگاہ کیا گیا کہ بھائی ہم نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی! وہاں ہی تازہ ترین پوسٹ سے آگاہی ہوئی ہے، کہ خود foreignpolicy والوں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کی کہ بھائی ہم پر ایسا الزام تو مت لگاؤ!!! کر لو گل!

سلمان بے تاثیر

گورنر پنجاب، سلمان تاثیر، سے قریب اب ہر پاکستانی ہی واقف ہے کہ یہ ہے کون! یہ بڑی شخصیت ہے ناں! ایک کامیاب کاروباری شخصیت! اسٹاک ایکسچینج ایک روشن خیال شخصیت! جناب ہے بیانات پڑھنے سے ہر گز تعلق نہیں رکھتے اس لئے کافی پڑھے جاتے ہیں! جناب کے ایک بیٹے آتش تاثیر بھارت میں ہوتے ہیں، میڈیا میں لکھتے ہیں! خود یہ بھی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز، اردو اخبار آج کل اور ٹی وی بزنس پلس کے مالک ہیں! بچوں کے لئے بھی کوئی ٹی وی چینل کھولا ہے!
کسی کی ذاتی زندگی اُس کی ذاتی زندگی ہے! مگر ایک بار آپ اگر حکمران طبقے سے جا ملے تو میرا خیال ہے عوام کو آپ کی ذات کے بارے میں تمام جانکاری ہونی چاہئے! ذیل میں جناب کی چند ذاتی فیلمی تصاویر ہیں! جو ایک مخصوص کہانی بیان کرتی ہے! شریف حضرات دیکھنے سے پر ہیز کریں! ورنہ پھر شکایت کریں گے!! یہ ہے وہ ہے!!!

taseer family
ایک گروپ فیلمی تصویر! سلمان تاثیر، اُن کی بیگم، بیٹیاں صنم و شیربانو (کیا کہو؟ لباس قابل دید ہے! اور بیٹے شہریار اور شہبار

taseer
سلمان تاثیر ہاتھ میں جام!!

Salman Taseer
سلمان تاثیر اور مشرف کا حواری! جام بھی!

taseer wife
سلمان جام تھامے اور حسن اُن کے بیگم

taseer son
گورنر ہاؤس میں جام و شہریار

shhrayar
شہریار، جام و شباب

taseer son
شہریار جام تھامے، لڑکیوں کے جھرمٹ میں!

taseer son
شہریار کی ساتھی لڑکیاں جام تھامے!

tasser son
شہریار آہم آہم

نیچے تاثیر کی بیٹی شیر نانو کی تصاویر ہیں!
محفل میں مرد حضرات موجود تھے!!

اعتراض نہانے پر نہیں مردوں کے ساتھ نہانے پر ہے ثبوت ذیل میں ہے!

اب آپ مجھے تنگ نظر کہے گے! بھائی نہیں ہوں میں ایسا روشن خیال!! معذرت

اَپ ڈیٹ: یہ تصاویر کل 17 نومبر کو میڈیا کو پنجاب کے وزیر قانون ثناء اللہ نے جاری کی آج کسی اخبار نے شائع تو نہیں کی مگر خبر کو اخبار کا حصہ بنایا ہے! جیسے جنگ اخبار، وقت ، جناح، اور دیگر!
لو میرے بلاگ سے یہ بات کہاں تک پہنچ گئی!!!! ‘جب دوسرے ایسے دعوٰی کرتے ہیں تو میں میوں نہیں”۔۔۔۔حیرت ہے ناں!!!

ملیر بار میں یوم سیاہ

آج ملک بھر میں وکلاء نے یوم سیاہ منایا ہے! اس سلسلے میں ملیربار نے جسٹس رانا بھگوان داس کو بلایا تھا! چند تصاویر جو میں نے لی یہ ہیں!

چند اور یہاں ہیں!!!


ہماری باری آنے پر بیٹری ختم ہو گئی!