Pages

2/26/2006

سزا، مانگ اور توقع عبث

اندھیرے میں کچھ دیر کھڑے رہے توآنکھ دیکھنے کی صلاحیت حاصل کر لیتی ہے، مگر آگر روشنی میں ہو کر بھی آنکھ بند کر لی جائے تو کچھ بھی نظر آنا نا ممکن ہے۔ دل کی تسلی کے لئے تراشے گئے بہانے و دلائل دراصل آنکھ بند کرنے کے ہی مترادف ہے، آنکھ بند کرنے کا عمل!!! جس میں ہم سب مبتلا ہیں!!!!! موجودہ حالات کا تجزیہ کر کے دیکھ لیں!!! یقین آ جائے گا!!!
خاکہ نویسی !!!! وہ بھی رسول اللہ کی!!! اسلام میں ویسے بھی تصویر کشی کی اجازت نہیں ہے!!!! اوپر سے رسول اللہ کی؟؟؟ اگر اس کی اجازت ہوتی تو شائد اہل مسلم رسول کی اس تصویر کے پجاری ہوتے۔۔۔ جو ان کے تصور سے ہی اس قدر عقیدت رکھتے ہیں۔۔۔۔۔۔ اوپر سے ایسے خاکہ جن کا مقصد (نعوذ بااللہ) مزاح کا عنصر پیدا کرنا ہے!!! تمسخر اڑانا!!!! “اے ایمان والو! جنہوں نے تمہارے دین کو ہنسی کھیل بنالیا ہے وہ جو تم سے پہلے کتاب دیئے گئے اور کافر اِن میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ اور اللہ سے ڈرتے رہو اگر ایمان رکھتے ہو“ (سورہ المائدہ آیت ٥٦)
توہین رسالت ہوئی! سب کو علم ہے، ردعمل کیا ہے!!! احتجاج۔۔۔۔ کیوں کیا بس احتجاج ہی ہو
سکتا ہے؟؟ اب احتجاج بھی ایسا جو اسلام کی روح کے خلاف، جلوس میں پتلے جلائے جاتے ہیں!! اسلام میں پتلا بننے کی اجازت ہے؟؟؟ توڑ پھوڑ کی جاتی ہے!!!! پوچھا کیوں ؟؟؟ کہنے لگے کہ غم جب غصہ میں بدل جائے تو انسان مشتعل ہو جاتا ہے!! اور ایسے میں اہل مسلم کا غم غصہ کی شکل اختیار کر گیا ہے!! کہ اس کے ایمان پر حملہ ہوا ہے!!! اللہ سے محبت اور اس کے رسول سے محبت ایمان کا حصہ ہے!!! اچھا!!! توڑ پھوڑ کرنے والے مسلمان ہے تو جن کا نقصان ہو وہ کون؟؟؟ وہ بھی مسلمان!!! روکئے اگر وہ بھی مسلمان تو “مسلمان وہ جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے“ اب بتاؤ ایسے احتجاج کا فائدہ !!! کہ پھر ایمان خطرے میں!!!
کسی نے کہا مکالمہ کرنا چاہئے اہل مغرب سے۔۔۔ کس بات پر؟؟؟ کوئی علمی بحث شروع کی ہے انہوں نے؟؟؟ کوئی تحقیقی کتاب لکھئ ہوتی جس میں کوئی اعتراز ہوتا تو کرتے مکالمہ۔۔۔ دیتے جواب!!! پہلے بھی تو اعترازات کا جواب دیا ہے !!
کسی کی رائے ہے رسول کی شخصیت کے بارے میں اہل مغرب کو آگاہ کیا جائے۔۔۔۔ وہ اچھی طرح آگاہی رکھتے ہیں۔۔۔ ہر زبان میں رسول کی شخصیت کے بارے میں کتب موجود ہیں۔۔۔ پھر یہ اعتراز یا شرارت ان لوگوں کی طرف سے کی جاتی ہے جن کا مقصد ہی تنگ کرنا ہوتا ہے۔ توہین رسالت کے سلسلے میں معافی کا مطالبہ ہو رہا ہے!!! جس نے توہین کی وہ معافی مانگ لے! کہا جا رہا ہے رسول نے بھی اپنی توہین کرنے والوں کو معاف کردیا تھا!!! بڑھیا کا راستے میں کچرا ڈالنے، اہل طائف کی سنگ باری کرنے اور اہل مکہ کی دی جانے والی اذیتوں کو مثال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔۔۔۔ یہ اسلام کے ابتدائی دور کے واقعات ہیں !!!! بعد کے ادوار میں کیا ہوا!!! بخاری شریف جلد دوئم میں کعب ابن اشرف کا واقعہ!!! یہودی سردار رسول اللہ کو (نعوذ باللہ) برا بھلا کہتا رہتا تھا، ایک صحابی نے اجازت طلب کی کہ اسے قتل کرنے کی، نہ صرف اجازت بلکہ دعا بھی دی، وہ صحابی تلاش کرنے نکلے، کعب ابن اشرف سردار تھا، جس قلعہ میں مقیم تھا صحابی اس قلعہ کے پاس چھپ گئے اور شام ڈھلتے ہی ڑیور کے ساتھ چھپ کر قلعہ میں ڈاخل ہو گئے، رات یہودی سردار کعب کی خوب گاہ میں داخل ہو کے اس جہنمی کو قتل کیا، اور باہر بھاگے سیڑھیاں اترتے ہوئے پاؤں پھسلا اور ٹانگ ٹوٹ گئی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے بنی رحمت نے ٹانگ پر دست مبارک رکھا،نہ صرف درد ختم ہوا بلکہ ٹانگ پھر جڑ گئی۔۔۔۔۔۔ اس کے علاوہ ایک شاعر حطب توہین رسالت کا مرتکب تھا، فتح مکہ کے موقع پر جب جب آپ نے سب کو معاف کردیا تو صحابہ نے حطب کے بارے میں سوال کیا آپ نے فرمایا وہ لعین واجب قتل ہے، بتایا گیا کہ وہ تو غلاف کعبہ سے لپٹ کر رو رہا ہے۔۔۔ آپ کا ارشاد تھا کہ حرم کی حدود اسے پناہ نہیں دے سکتی، چنانچہ قتل ہوا۔۔۔۔۔ ہم ہیں کہ معافی کی بات کر رہے ہیں ان کے لئے۔۔۔۔
“ازادی صحافت“ کے ساتھ ساتھ ان کا کہنا یہ بھی ہے کہ ہم تو اپنے پیغمبر کے بارے میں بھی یہ حرکت (توہین) کرتے رہتے ہیں۔۔۔۔۔ اب کوئی آپ سے کئے کہ “میں تو اپنے باپ کی بھی توہین کرتا ہو تو تیری کیسے مننہ کرو؟“ تو کیا اس پر آپ اسے کیا کہے گے کہ بھائی ٹھیک ہے آپ میری بھی اور میرے باپ کی کی بھی توہین کر لو؟؟؟؟؟
اب دیکھے “او ائی سی“ کیا کرتی ہے ؟؟ Oh I See کے علاوہ بھی کچھ کرے گی کہ نہیں۔۔۔۔۔ یا بس “ او آئی سی تے فیر ٹور گئی سی“ والا معاملہ ہو گا؟؟؟؟ عجیب بات ہے!!! سزا کچھ ہے اور ہماری مانگ کچھ ؟؟؟ توہین رسالت کی!!!! ان سے اور کیا توقع رکھی جائے؟؟؟
مکمل تحریر >>

2/19/2006

یہ بھی سائنس ہے

ارے بھائی!!!! آپ جو بھی کرو! مان لو ! جان لو ! سمجھو لو! وہ سائنس ہے، کسی کا کیا سناؤ! خود میں نے جب انٹر (ایف ایس سی) کیا تو لپک کے بی اے میں جا ایڈمیشن لیا، جو پوچھے کیا کر رہے ہو ہمارا جواب ہوتا بی اے، دوسری جانب سے رد عمل ہوتا اچھا! بھائی آرٹس پڑھی جا رہی ہے! خوب۔۔۔۔ چند ایک نے اپنی ایک آنکھ بند کر کے یوں بھی کہا “اوہ! بی اے کے بعد بیاہ کا ارادہ تو نہیں ہے ناں“۔ ہم کہتے جی پہلے پڑھائی تو مکمل کر لے پھر ان چکروں میں پڑیں گے۔۔۔۔ چکر ہی ہیں ناں! ۔۔۔ جی بات ہو رہی تھی گریجوایشن کی تو جب داخلہ لیا تو ہم با ہوش و حواس میں آرٹس پڑھنے جا رہے تھے۔۔۔ مگر کورس کی کتابیں خریدی تو ہم پر افشاں ہوا کہ یہ بھی سائنس ہے۔۔۔۔ لو جی! ہر مضمون کا پہلا باب اس بات پر بحث کر رہا ہوتا تھا کہ یہ جو مضمون آپ پڑھ رہے ہیں سائنس ہے، سیاسیات سائنس ہے، معاشیات سائنس ہے، جغرافیہ سائنس ہے، معاشرے کا علم سائنس ہے، فلسفہ سائنس ہے، تاریخ سائنس ہے، یہ سائنس ہے وہ سائنس ہے، اس میں سائنس ہے، اُس میں سائنس ہے، فلاں سائنس ہے اور فلاں فلاں بھی سائنس ہے ۔۔۔۔ ہم ٹھہرے “شریف النفس“ بندے بحث میں کیا پڑنا لہذا بلا چوں چڑاں مان گئے کہ بھائی سائنس ہی ہو گی! اب اتنے سارے لوگ کہہ رہے ہیں تو ٹھیک ہی کہہ رہے ہوں گے۔۔۔۔۔ مزید اس پر امتحان میں تو (تمام مضامین کے پرچے میں) صاف کہا گیا کہ یہ سائنس ہے بیان کریں، ہم تو پہلے ہی سر تسلیِم خم کر چکے تھے لہذا جواب میں سنی سنائی بلکہ پڑھی پڑھائی ( پٹی درحقیقت رٹی رٹائی پٹی ) پرچے میں دے ماری!!! کہ یہ سائنس ہے اور کچھ نہیں!!! ، اہل یونیورسٹی نے خوش ہو کر ( کہ ایک اور الو بن گیا آرٹس کو سائنس مان گیا) ہمیں کامیاب قرار دے دیا۔۔۔۔۔ کہا تم پاس ہو خبر دار جو اب گیجوایشن کے پاس بھی بھٹکے، سند دی بی اے کی۔۔۔۔۔۔ ہم جا پہنچے اپنے استاد کے پاس کہ سر پرچے میں پوچھا اور ہر مضمون کہ پہلے باب میں بتایا گیا ہے بلکہ ثابت کر نے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا دیا گیا ہے کہ یہ سائنس ہے تو ڈگری کیوں آرٹس کی ؟؟؟ بی اے کے بجائے بی ایس سی کی کیوں نہیں ؟ وہ بھی آخر ہمارے استاد تھے کہنے لگے “یہ بھی سائنس ہے“۔۔۔ کر لو گل!! ہون آرام اے۔۔۔۔ یہ پوسٹ پڑھی کچھ پلے پڑا؟؟؟ نہیں ناں!!! ارے یہ بھی سائنس ہے!!!!
مکمل تحریر >>

2/14/2006

طریقہ احتجاج پر احتجاج

ناجائز و غلط کام کرنے کا کوئی طریقہ جائز نہیں ہو سکتا، مگر اگر جائز و درست کام کے پیچھے بھی صرف!!غلط نیت کار فرماں ہو تو منزل بھی جائز نہیں رہتی نہیں ہوتا۔ لہذا منزل کے لئے غلط راہ کا انتخاب کسی طرح درست نہیں، اس سے منزل ملنا مشکل ہی نہیں ناممکن بھی ہو جاتی ہے۔ یہ بات ہر کوئی جانتا ہے مگر اسے یاد نہیں رکھتا!! آج شام کو آفس میں جب ٹی وی آن کیا تو اس پر جس طرح کی خبریں سنائی جا رہی تھی انھیں سن کر نہ صرف افسوس ہوا بلکہ شرمندگی بھی محسوس ہوئی!!! توہین رسالت کے سلسلے میں ہونے والا مظاہرہ ہنگامے کی شکل اختیار کر گیا!!! مارچ میں شریک افراد نے لاہور میں توڑ پھوڑ کی!!! عمارتوں ، گاڑیوں، دفاتر، دوکانوں اور یہاں تک کہ پنجاب اسمبلی کو بھی آگ لگا دی!!!! یہ کس چیز کا پیغام ڈینا چاہتے تھے؟؟؟؟ کہ ہم ناموس رسالت کے لئے جمع ہوئے ہیں؟؟؟؟؟ نا سمجھ !!!! مقصد کیا تھا؟ اگر یہ کہ توہین رسالت پر احتجاج کرنا تو جو حرکتیں ہوئیں ہیں ان سے تو خود اس اللہ کے رسول کی حرمت پر داغ آتا ہے!!! جس کی ناموس کے لئے وہ جمع ہوئے تھے!!!! خود وہ کیا سوچ رہے ہوں گے !!! کیسی امت ہے!!! جن باتوں کی ہدایت ان کو بھولے ہوئے ہیں!!! کیا تاثر دینا چاہ رہے ہیں یہ لوگ؟؟؟؟ میں ایسے طریقہ احتجاج پر احتجاج کرتا ہو!!!!!
مکمل تحریر >>

2/12/2006

توہین کا عالمی بحران

ہمارے چند دوستوں کی رائے ہے کہ کچھ بھی ہو جائے ایک بات تو ہے کہ اگر پاکستانی قوم کو دیکھو تو ان میں لاکھ اختلاف ہو بعض معاملات میں یہ ایک ہیں!! دوسرا یہ کہ مسلمان لاکھ گمراہ ہوں ! دین سے دور ہو مگر اپنے دین کے خلاف بات سن کر ایک ہو جاتے ہیں!!!! اب مجھے معلوم ہے کہ آپ میں سے اکثریت کی رائے اس سلسلے میں ان سے ملتی ہے!!!! مگر کیا کرے مجھے اختلاف ہے اس پر بھی!!!!! یہ مکمل سچ نہیں کہ ہم کسی ایک معاملہ میں بھی مکمل اتفاق کرتے ہوں، ہاں یہ کہہ سکتے ہیں کہ اکثریت ایک جانب ہوتی ہے!!! میری یہ سوچ اب مزید پختہ ہو گئی ہے! توہین رسالت کے واقعہ کے بعد خاص کر!!! انٹرنیٹ پر مختلف انگریزی بلاگ پڑھے!!! خاکوں کے شائع کئے جانیں والی بات پر اگر طرف چند غیر مسلم بلاگر اس عمل کو غلط اور غیر اخلاقی کہا ہے (جب کہ اسے آزادی رائے قرار دینے والے غیر مسلم کی تعداد بہت بڑی ہے ) تو دوسری طرف مسلم بلاگر کی ایک محضوص تعداد اسے توہین رسالت نہیں سمجھتی!!! اور چند بلاگر اگر اسے توہین رسالت مانتے بھی ہیں تو اس پر رد عمل ظاہر کرنے کو درست عمل قرار نہیں دیتے!!! جو ردعمل ظاہر کرنے کا مشورہ دینے ہیں وہ یورپی یا ڈنمارک کی اشیاء کا بائیکاٹ کرنے کو بیوقوفی قرار دینے ہیں ان کا کہنا ہے کہ ایک اخبار کی سزا پوری قوم کو کیوں؟ (جبکہ اکثر تبصرے وہاں یہ ہیں کہ اس بائیکاٹ کا مقصد سزا دینا نہیں بلکہ یہ ہے کہ آئیندہ ایسا نہ ہو!!! ایک معاشی دباؤ انہیں ایسا کرنے سے روک سکتا ہے)، اور کچھ پر امن احتجاج (بلکہ مارچ کا لفظ استعمال کیا جائے تو بہتر ہے) کو کافی قرار دینے ہیں۔ یورپی اخبارات کی آزادی رائے اور ان کے رد عمل پر بس یہ حیا ان کو نہیں آتی انہیں غصہ نہیں آتا دوسری جانب ایسے ممسلم بلاگر کی بھی بڑی تعداد ہے جو شدید احتجاج (بلکہ شدید تر) کے حامی ہیں!!!!! (دونوں طرح کے بلاگر آپ خود یہاں اور یہاں تلاش کر لیں مل جائیں گے) ہاں!!! دونوں طرف کے پاس اپنے دلائل ہیں!!! البتہ ذاتی طور پر میں ایسے پر امن احتجاج کا قائل نہیں جو صرف مارچ تک محدود ہو! یہ احتجاج نہیں رونا ہے خود کو کمزوز (ماڑا) ظاہر کرنا!! اور بقول حضرت باہو! ماڑا یا تو رو سکتا ہے یا بھاگ!! کہیں ہم راہ فرار کی تلاش میں تو نہیں؟؟؟؟ پر تشدد احتجاج کو بھی میں جائز قرار نہیں دیتا!!! بلکہ اس پر امن مارچ سے آگے کے اقدامات ہونے بھی لازم ہیں! ایسا کہ جس سے وہ آئیندہ ایسا کرنے سے باز آجائیں!!!! اب اگر وہ پشیمانی کا اظہار کرتے بھی ہیں تو میں نہیں سمجھتا کہ وہ دل سے اس پر پشیمان ہوں!!! اور اسے آزادی رائے سمجھنا بھی غلط ہے!!! اگر ایسا ہوتا تو “جیلینڈ پوسٹن“ اس سے قبل حضرت عیسٰی کا کارٹون چھاپنے سے انکار نہیں کرتا، میں یہ نہیں کہہ رہا (نعوذبااللہ)انہیں ایسا کرنا چاہئے تھا! ہم باحیثیت مسلمان ان پر ایمان رکھتے ہیں اور جس قدر وہ حضرت عیسٰی سے عقیدت رکھتے ہیں ہم بھی اتنی ہی بلکہ شائد ان سے بھی ذیادہ!!! معاشی و سفارتی بائیکاٹ ہی اس وقت درست راستہ ہے!!!! اور یہ پر تشدد بھی نہیں!!! اس کے علاوہ جس سطح پر آپ اپنا احتجاج رکارڈ کروا سکے کروائیں!!!
پچھلي پوسٹ
مکمل تحریر >>

2/08/2006

میٹھا بحران

آج کل ملک میں مٹھاس کا بحران چل رہا ہے، ہر کوئی تلخ ہو رہا ہے، لہجہ تلخ ہو تو بات خود ہی تلخ معلوم ہوتی ہے، مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ بات و حالات تلخ ہوں تو لہجہ کا میٹھا رہنا بھی ممکن نہیں۔
ایک پاکستانی اوسط سالانہ بائیس کلو کے قریب چینی کھا جاتا ہے، جو اس خطہ میں سب سے ذیادہ ہے، باقی خطے کے ممالک میں اوسط سات سے بارہ کلو سالانہ ہے، شائد پاک چین دوستی کی وجہ سے اہل وطن کو “چینی“ بھاتا ہے اور اس ہی بناء پر وہ “چینی“ کھاتا ہے!!!!!! کیونکہ “پاک چین دوستی کان کوئے“۔۔۔۔۔۔ ویسے اگر کھائی جانے والی “چینی“ کا نام بدل کر امریکی رکھ دیا جائے تو ممکن ہے کہ “چینی“ کے استعمال میں کمی ہو!!!! لیکن ہمارے دوست کا کہنا ہے کہ ایسا نہیں ہو گا کیونکہ ہر پاکستانی یہ کہہ کر “چینی“ کا استعمال مزید بڑھا دے گا کہ “میں اس امریکی کو نہیں چھوڑو گا“!!!!!!! اصل بات یہ ہے کہ اس وقت ملک میں ایک کلو چینی کی قیمت قریب ٤٢ سے ٤٣ روپے تک جا پہنچی ہے۔ جو سرکاری قیمت سے ١٢ سے ١٣ روپے ذیادہ ہے، اس مالیاتی سال کے شروع میں ایک کلو چینی ٢٢ روپے کی تھی یوں اب تک ایک سال میں کلو پیچھے ٩٥ سے ٩٩ فیصد قیمت میں اضافہ ہوا ہے جو اب تک ایک مالیاتی سال میں سب سے ذیادہ ہے۔ ہول سیل کی مارکیٹ میں سوداگروں کا کہنا ہے کہ شوگر ملز والے انہیں ١٠٠ کلو چینی ٣٧٥٠ سے ٣٨٥٠ کے درمیان کی قیمت میں مہیا کرتے ہیں تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم سرکاری قیمت پر چینی مہیا کرے؟؟؟ لہذا ہول سیل والے ٣٨٥٠ سے ٣٩٥٠ سے میں ١٠٠ کلو چینی فروخت کررہے ہیں۔اس بناء پر ریٹیل پرائز ٤١ سے ذیادہ ہے۔ شوگر ملز مالکان کا کہنا ہے کہ پچھلے سال ہم نے ٤٠ روپے فی ٤٠ کلو کے حساب سے مارکیٹ سے گنا لیا اس کے بر عکس اس سال ٧٠ سے ٧٥ روپے فی ٤٠ کلو میں گنا پڑا، دوسرا گنے کی فصل بھی اس سال ٹھیک نہ تھی اس وجہ سے چینی کی قیمت میں اضافی ہوا ہے۔ پاکستان شوگر ملز ایسوسی ایشن کے اپنے دعویٰ اور تحفظات ہیں۔ وہ الگ کہانی سناتے ہیں۔ ایک تاثر یہ ہے کہ چینی کی ایک بڑی مقدار افغانستان اسمگل ہوئی ہے جو اس بحران کا سبب بنی ہے یہ مقدار تقریبا١٥٠٠٠٠ سے ١٧٠٠٠٠ ٹن تک بتائی جاتی ہے حکومت اس بحران کا ذمہ دار شوگر ملز مالکان کو قرار دیتی ہے، اس کا کہنا ہے کہ ملز مالکان نے قریب٢٥٠٠٠٠ سے ٣٥٠٠٠٠ ٹن تک چینی اپنے گوداموں میں چھپا رکھی ہے، اس ہی بناء پر یہ میٹھا بحران (اب کون اسے میٹھا کہے؟؟) آیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے پرائیویٹ سیکٹر کو مکمل ٹیکس اور دوسرے واجبات کی چھوٹ دے رکھی ہے کہ وہ چینی باہر سے درآمد کر لیں خواہ وائٹ یا خام۔۔۔۔ ٥٠٠٠٠ ٹن چینی تو بھارت سے خریدی جارہی ہے، لو!!!! جن سے تعلقات میٹھے نہیں ہو سکے ان سے کوئی چینی میٹھی کیسے ملے گی؟؟؟؟ کڑوی چینی !!!! ایک طرف یہ تمام جھگڑے!!! دوسری طرف عوام جو چینی کی خرید کے لئے یوٹیلیٹی اسٹور کے باہر لمبی قطار میں لگے نظر آتے ہیں تا کہ سستی چینی خرید سکیں۔۔۔ لمبی قطار لمبا انتظار!!!! جب تک باری آتی ہے تو چینی ختم ہو جاتی ہے!!!! تلخ انتظار کے بعد تلخ جواب!!! کل آنا مال ختم!!! جن کو یہ تبرک مل جاتا ہے وہ خوشی مناتے ہیں!!! جی! تبرک ہی کہے نا!!! ایک گھنٹے کے انتظار کے صلے میں ٥٥ روپے میں ٢ کلو!!! ایک شخص کو اس سے ذیادہ نہیں ملے گی!! ہاں یوٹیلیٹی اسٹور والے سے دعا سلام ہے تو پھر پچھلے دروازے سے جتنی مانگی اتنی ملے گی!!! مگر اس کے حصہ کا بھی خیال رکھنا ہو گا! اس کے حصہ کا خیال صرف محلے کا دوکاندار رکھتا ہے اس لئے وہ اس کا!!!! حکومت نے یوٹیلیٹی اسٹور کا کوٹہ دگنا کر دیا ہے پہلے ١١٠٠٠ ٹن تھا اب ٢٢٠٠٠ ٹن ہے۔۔۔ کوٹے کے ساتھ قیمت کا ذیادہ ہونا بھی ضروری تھا! اس لئے پہلے یوٹیلیٹی اسٹور میں چینی ٢٣ روپے کلو تھی اب ساڑھے ستائیس روپے ہے!!! جی کل وزیر اعظم صاحب نے اصل قیمت میں ٢٠ فیصد کا اضافہ کیا ہے یوں فی کلو ساڑھے چار روپے کا اضافہ ہو گیا ہے، اس کا ایک مطلب یہ ہے کہ اب چینی جتنی بھی سستی ہو عام مارکیٹ میں مگر ٢٨ روپے فی کلو سے ذیادہ ہی ہو گی۔۔۔ اب دیکھے یہ میٹھا بحران کب تک تلخیاں بکھیرتا ہے؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
مکمل تحریر >>

2/05/2006

کھلی چھٹی

عالم اسلام آج کل ایک عجیب مقام پر آ کھڑا ہوا ہے۔۔۔۔۔ اس کے پاس کوئی بھی مخلص لیڈر نہیں۔۔۔۔۔ اس مذہب کے پیروکار ایک عجیب الجھن کا شکار ہیں۔۔۔۔
اسے عجیب طرح کی صورت حال کا سامنا ۔۔۔۔ ہر نیا دن ایک نئے تنازعہ کے ساتھ آتا ہے، ایک نیا محاذ!!!! ایک نیا امتحان۔۔۔۔ دہشت گردی کا الزام!!! امن کے دشمن!!! جیسے الزام، انتہاپسندی!!!!! بنیاد پرست!!! جیسے خطاب۔۔۔۔ جبکہ حقیقت اس کے بر عکس ہے۔۔۔ دراصل چور خود چور چور کا شور مچا کر دوسرے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔۔۔۔۔ اس کی تازہ ترین مثال ڈنمارک کے اخبار “جیلینڈ پوسٹن“ کی ہے جس نے رسول اللہ کی شان میں گستاخی کی ہے، اس اخبار نے ٣٠ ستمبر ٢٠٠٥ کو چند تصویری خاکے شائع کیئے، کیا محمد ایسے ہوتے (نعوذبااللہ) کے عنوان کے تحت، جس پر قریب دو ہفتے بعد ٣٥،٠٠٠ افراد نے احتجاج کیا۔۔۔۔ بات وہاں ہی نہیںختم ہوئی، ١٠ جنوری ٢٠٠٦ کو ناروے کے اخبار “میگازِنٹ“ نے اس تصویری خاکوں کو دبارہ شائع کیا، جرمن اخبار “ڈائی ویلٹ“ ،فرانسیسی رونامہ “فرانس سوئر“ اور چند دوسرے اخبارات بشمول نیوزی لینڈ اور ہالینڈ کے اخبارات نے ان توہین امیز اور طنزیہ خاکوں کو “آزادی رائے“ کے بہانے سے اسلام دشمنی(اس کے علاوہ کیا کہا جائے؟) شائع کیا۔۔۔۔ ڈنمارک کی پولیس کو کئی مسلم تنظیموں نے شکایت کی ہے کہ اخبار “جیلینڈ پوسٹن“ کی یہ حرکت “ضابطہ فوجداری ڈنمارک“ کی دفعات ١٤٠ اور ٢٦٦(ب) کے تحت جرم ہے، دفعہ ١٤٠ کے تحت کسی بھی شخص کو ڈنمارک میں موجود کسی بھی مذہبی گروہ کی تمسخر اڑانے کی ممانعت ہے، جبکہ دفعہ ٢٦٦(ب) کسی ایسے بیان یا معلومات کو جرم گردانتا ہے جس سے کوئی گروہ مذہبی اعتبار سے خوفزدہ ہو،اسے اپنی ہتک محسوس ہو، یا خود کو کمتر محسوس کریں، اب دیکھیں کہ کیا رد عمل آتا ہے، کسی نئے بہانے کے لئے تیار رہے۔۔۔ یہ بھی خوب ہے،ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری، اہل مغرب جب بھی کوئی غلط کام یا اہل اسلام کے خلاف سازش یا شرارت کرتے ہیں تو اس پر پشیمان ہونے یا معافی مانگنے کے بجائے کوئی نا کوئی بہانہ تراش لیتے ہیں۔ کوئی پوچھے دل آزاری کی آزادی تو “آزادی رائے“ نہ ہے، آزادی کا مطلب کھلی چھٹی نہیں ہے، اگر ہے تو بھاڑ میں جائے ایسی آزادی ،ہر بات کی چند حدود ہوتی ہیں ان کو کراس نہیں کرنا چاہئے۔ اس حرکت سے بلا کسی شک شبہ کے اہل مسلم کے دل کو ٹھیس پہنچی ہے، ہمارے جذبات مجروح ہوئے ہیں، جو امت ایک اللہ ،ایک رسول اور ایک قرآن کی بنیاد پر ایک ہے، جن کے قریب ان کا نبی رول ماڈل ہے، جن کی محبت کا مرکز اللہ اور اس کا رسول ہے، جو نعت کی محفل سجاتے ہوں، ان کے رول ماڈل کو مذاق کا نشانہ بنانہ کہاں تک درست ہے؟؟؟ شائد چند لوگ اسے غلط کہے مگر میری رائے بھی وہ ہی ہے جو اکثریت کی ہے کہ ان کا معاشی و معاشرتی بائیکاٹ جب تک وہ آئیندہ ایسا نہ کرنے کا وعدہ نہ کر لیں۔ جب وہ ایک ہو سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟؟؟
مکمل تحریر >>

جنت

جنت!!!!! کی خواہش ہر کسی کو ہوتی ہے اس لئے ہمیں بھی ہے!!!! زندگی !!!! سب کو پیاری ہوتی ہے لہذا شہہ رگ کو کٹنے نہیں دینا!!!! آزادی!!!! ہر ایک کا حق ہے تبھی اسے پانے کی جدوجہد جاری رکھنی ہے!!!!! اپنے!!!! جو خود سے الگ نہ ہوں ان سے جڑ کر رہا جاتا ہے!!!!! لہذا اہم معاملات میں ان سے یکجہتی منائی جاتی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کشمیر!! ہماری جنت!!! ہماری زندگی!!! کشمیری ہمارے اپنے!!! ان کی آزادی کی جدوجہد ہماری جدوجہد!!!! 5 فروری !!!! ہمارے اپنوں سے یکجیتی کا دن!!!!یوم یکجہتی کشمیر!!!!
×××××××××××
مسئلہ کشمیر کی تاریخ کا ایک طاہرانہ جائزہ
Technorati Tags: , , , ,
مکمل تحریر >>