2/25/2011

ٹی بریک!! ایک تعارف۔۔۔ایک پلیٹ فارم

میرے عزیز(اردو) بلاگرز؛ آج سے ٣ برس پہلے جب ٹی بریک نے انٹرنیٹ کی دنیا میں آنکھ کھولی تو ہمارے سامنے ٢ آزمائشیں تھیں: ایک پاکستانی بلاگز کی دنیا تک رسائی اور دوسرا معیاری مواد کو فروغ دینا. ان چند سالوں میں ہم نے کئ سنگ میل عبور کیے؛ لیکن معیاری مواد آج بھی ہماری اور پڑھنے والوں کی اولین ترجیح ہے. ٹی بریک کو پاکستان کے سب سے بڑے بلاگنگ نیٹ ورک ہونے کا اعزاز حاصل ہے.١٦٠٠ سے زائد registered بلاگزمیں پاکستان کے کئی مشہور بلاگرز بھی شامل ہیں جو انگریزی پڑھنے والوں میں بہت شہرت رکھتے ہیں. ان بلاگز کو نہ صرف پاکستان بلکہ کئی مغربی ممالک میں بھی بہت ذوق و شوق سے پڑھا جاتا ہے. جو انکے معیار کا منہ بولتا ثبوت ہے. ان بلاگز نے اپنا سفر ٹی بریک کے ساتھ شروع کیا اور آج بھی ٹی بریک کے ساتھ منسلک ہیں. ان چند سالوں میں کئی اردو بلاگرز سے ملاقات کا شرف ہوا اور ان کے خیالات اور تحریر نے مجھ کو بہت متاثر کیا. لیکن جب بھی تحقیق کے لئے google کی مدد لی تو انگریزی مواد نے اردو مواد پر سبقت لے لی. اسکے پیچھے کئی تکنیکی عوامل کارفرماں ہیں. لیکن عمدہ معیار کے باوجود اردو بلاگز آج وہ حیثیت یا عوامی پذیرائی نہیں رکھتے جو انکو ملنی چاہیے اور اسکا سب سے بڑی وجہ انٹرنیٹ visibility ہے.

ٹی بریک اس بلاگ پوسٹ کے توسط سے تمام اردو پڑھنے اور لکھنے والوں کو دعوت دیتی ہے کہ وہ ٹی بریک میں شامل ہوں اور اردو پڑھنے والوں تک اپنی آواز پہنچایں اور انگریزی بلاگرز کے ساتھ برابری کی سطح پر قدم ملا کر چلیں. اس سے نہ صرف اردو کو ترقی ملے گی ; اردو پڑھنے والوں کو معیاری مواد ملےگا، بلکہ اردو لکھنے والے نوجوان طبقے کو پذیرائی بھی ملے گی جو شہرت کے حصول کے لئے ٹوٹی پھوٹی انگریزی میں اپنے خیالات کا اظہار کرتا ہے. میں اس موقعے پر اپنی بات ختم کرتا ہوں اور آپکی گزارشات اور تجاویز کے لئے اس فورم پر دعوت دیتا ہو. آپ ٹی بریک میں اپنے بلاگز register کروائیں اوراردو کی ترقی کے لئے اپنی تجاویز سے آگاہ کریں.!

یہ عمار یاسر کی تحریر ہے! ان کا اول ذکر/تعارف اردو بلاگرز عمار ضیاء کی اس تحریر میں پڑھ چکے ہیں! محترم ٹی بریک کے Co-Founder ہیںاور  ایک عمدہ شخصیت کے مالک۔

 اس تحریر کا بنیادی مقصد اردو بلاگرز کی ترویج ہے گو کہ اس سے قبل بھی اردو بلاگرز کو اپنے چند ایک اعلی پلیٹ فارم میسر ہیں

2/22/2011

بھوک ہرتال

“اوئے کچھ سنا اُس سی آئی اے کے ایجنٹ نے بھوک ہرتال کر دی ہے کہ جب تک مطالبہ پورے نہیں ہوں گے اُس وقت تک کچھ نہیں کھاؤں گا"
اوئے فکر نہ کر ڈرامہ ہو گا امریکہ ہو یا اُس کا ایجنٹ دونوں بھوکے نہیں رہتے البتہ بھوک کے لئے بندے مار دیتے ہیں خواہ بھوک تیل کی ہو یا اقتدار کی!۔

2/08/2011

سوچنے کی بات

“اور میاں کیسے ہو؟"
کرم ہے رب کا آپ سناؤ
“میں تو ٹھیک ہو مگر یہ بتاؤ وڈے سرکار کا ولیمہ کب ہے؟"
کیا مطلب کس کا ولیمہ؟
“یار وہ ہی جو پاکستان کو کھپانے کی آرزو لیئے بیٹھے ہیں آپ کا! سنا ہے محترم نے شادی کھپا دی ہے!”
ارے بھائی وہ خبر تو جھوٹی تھی ! اس لئے تو صدر صاحب نے اس لئے متعلقہ اخبار کو جس نے یہ خبر نیٹ سے لے کر شائع کی تو
محترم نے لیگل نوٹس دے دیا ہے سنا ہےکہ کافی بڑی رقم مانگ لی ہے۔
“کر لو گل تو کیا اس کا مطلب ہے کہ جن معاملات میں جو لیگل نوٹس نہیں دیا تو وہ الزامات سچ ہے
“چپ اوئے"

2/01/2011

انقلاب ابھی دور ہے

تیونس و مصر کے عوامی احتجاج کو دیکھ کر یار لوگ یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ ممکن ہے انہیں دیکھ کر پاکستانی قوم/عوام بھی سڑکوں پر آ جائے! حق مانگے یا حق چھین لے! کیوں کہ میں بھی اس عوام کا حصہ ہوں اس لئے اپنی موجودہ اندرونی حالت کو دیکھ کر یہ جان چکا ہوں کہ ابھی عوام حقوق کی جدوجہد کو زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں لے کر جائے گی۔
ابھی بیداری اُس نہج پر نہیں پہنچی کہ عوام گھر سے باہر نکلے!اُن ملکوں کے حاکم ڈکٹیٹر تھے، اور اپنے جمہوری ڈکٹیٹر!! یعنی بظاہر جمہوری مگر درحقیقت ڈکٹیٹر!! کوئی عوام کے دکھ میں اپنا دکھی ہے کہ ملک سے باہر رہ کر 'چندہ' کی رقم پر گزارہ کر کے، عوامی بلکہ قومی مسائل کا حل تلاش کر رہا ہے، کوئی اپنی باری کے انتظار میں ابھی اپنے نئے لگے بال سنوار رہا ہے اور کوئی 'زر' جمع کرنے کو اقتدار میں ہے۔

کل پھر وہاں جانے کا اتفاق ہوا جہاں حاکم جماعت کے 'co-chairman' صاحب کا(جی آب اُن کا ہی گھر ہے کیا ہوا جوبیٹے کے نام پر ہے) گھر ہے! یہ تو علم تھا کہ ایک مخصوص آرڈیننس کے ذریعہ انہوں نے اپنے تمام مکانات کو 'صدارتی رہائش' قرار دے دیا ہے مگر ہم نا واقف ہیں کہ یہ 'بلاول ہاؤس' کا احاطہ ہے کتنا۔ صدارتی رہائش قرار دینے کے بعد اول اول تو بلاول ہاؤس کے سامنے موجود سروس روڈ کو بند کر دیا گیا سیکورٹی کے نام پر یا کے لئے پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احاطہ اس قدر بڑھتا گیا کہ قریب ہی موجود کلفٹن گرل ہوٹل بند ہوا اوراب یہ ہوا کہ نا صرف سروس روڈ بند ہے بلکہ Express Road کی بھی ساتھ میں 'قبضہ' میں لے لی گئی ہے۔ اور وہاں کنکریٹ کی دیوار بنائی جا رہی ہے جس کی ابتدائی اونچائی قریب 6/7 فٹ ہو گی! سوال یہ ہے کہ اگر صدر پاکستان عوامی سڑک پر اپنی سیکیورٹی کے نام پر قبضہ کر لیں! ایسا ہی کراچی Avari Hotal کے قریب واقعی زرداری ہاؤس والی سڑک پر کیا گیا ہے۔ اور کوئی سؤال کرنے کی ہمت نہ رکھتا ہو یا انگلی نہ اُٹھاتا ہو تو میرا نہیں خیال کہ انقلاب کا سفر ابھی اس قوم نے شروع کرنے کا سوچا بھی ہو!! ابھی یہ قوم حق کے لئے سڑک پر نہیں آئے گی!! البتہ خوش فہمی پال لو تو الگ بات ہے۔
اور جب صدر ایسا کریں تو باقی کسی اور سے کیا توقع ہو سکتی ہے؟
ہنوز انقلاب دور است!!