8/28/2011

نوبت یہاں تک کیوں آن پہنچی

ایک اب تک کی غیر مصدقہ خبر چونکہ غیر مصدقہ ہے اس لئے آپ اسے افواہ کہہ لے یہ ہے کہ ایم کیو ایم نے حکومت میں واپسی کی شرط یہ رکھی تھی کہ ذوالفقار مرزا سندھ کی سیاست سے آؤٹ ہو جائے اور اس ہی شرط کو پورا کرنے کے لئے آصف علی زرداری نے گذشتہ تین چار (جب کراچی میں گیلانی صاحب آئے تھے اور رحمان ملک پر مرزا صاحب پھٹ پڑے تھے تب سے) روز سے ذوالفقار مرزا کو اپنے پاس بلا کر بٹھا رکھا تھا یہاں تک کہ اُن کا موبائل فون بھی اُن سے لے لیا تھا! اور اُنہیں اُن کی پسند کے ملک میں سفیر بنانے کی پیش کش ہوئی مگر مرزا نہ مانے تو استعفی مانگ لیا اور مرزا نے ایسا راستہ اختیار کیا کہ نہ نگلے بنے اب اور نہ اگلے!
ذولفقار مرزا نے اس پریس کانفرنس کی تیاری کن کے ساتھ کی یہ ایک الگ معاملہ ہے! اور جو مواد دوران پریس کانفرنس اُن کے پاس تھا وہ تفتیشی مواد وہ ساتھ نہیں رکھ سکتے تھے یہ ایک الگ قانونی بحث ہے۔ اُن کے تمام الزامات یوں بھی غلط ثابت کرنا ایم کیو ایم کے لئے ممکن نہیں کہ ان کے تمام دستاویزی ثبوت درحقیقت اُن کے پاس تھے سوائے ایک الزام کے جو انہوں نے سب سے اخر میں قرآن پاک کو اپنے سر پر رکھ کر لگایا۔ ایم کیو ایم و الطاف کا امریکی مدد سے پاکستان توڑنے کا! اس پر امریکی وضاحت بھی جلد آ جائے گی

ٹونی بلیر کو لکھا گیا الطاف حسین کا خط

آج اپنی تباہ کن پریس کانفرنس میں ذولفقار مرزا نے الطاف حسین کے ٹونی بلیر کو لکھے گئی جس خط کا حوالہ دیا ذیل میں اُس کی کاپی آپ سے شیئر کی جا رہی ہے۔ جس میں انہوں نے کیا مطالبات کئے وہ پڑھ لیں!


8/18/2011

ایسا کیوں؟؟

ب ہم کیا کریں؟ ہوا کچھ یوں کہ گزشتہ دنوں ہم نے اپنے پڑوسی سی لیا ہوا انٹرنیٹ کا کنکشن اُتارا اور پی ٹی سی ایل والوں کا ڈی ایس ایل لگوانے کا آرڈر دے دیا! جس دن پی ٹی سی ایل والا اپنی ڈیوائس دے کر گیا اُس دن (جمعرات 10 اگست 2011) کو ہمارے علاقے میں بارش ہو گئی! جس سے فون ڈیڈ ہو گیا۔ یوں انٹرنیٹ کیا آن ہوتا ہمارے گھر والے فون کی سہولت سے بھی محروم ہو گئے۔ اُس پر ظلم یہ کہ موبائل فون پر کال کرکے جو رشتہ دار گھر کے نمبر نہ اُٹھانے کی شکایت کرتا یہاں سے جواب آتا "جب سے شعیب نے انٹرنیٹ لگایا ہے فون ڈیڈ ہو گیا ہے" یوں اصل قصور وار ہم ٹھہرتے!
ہم نے فون کے ڈیڈ ہونے کے اگلے دن ہی اپنی شکایت درج کروا دی مگر مجال ہے محکمہ کی کان پر جوں بھی رینگی ہو ہاں ہمیں فون کر کے ہر بار یہ ضرور پوچھتے کہ جی نیٹ لگ گیا ہے یا نہیں پی ٹی سی ایل والے! جس پر ہم انہیں اپنے فون کے خراب ہونے کا رونا روتے اور الگ سے بھی اپنی شکایت 1218 پر درج کرواتے یہ یوں کہہ لیں کہ پہلے سے موجود زخم (شکایت) ہو ہرا کرتے مگر کون سنے ہماری آہ و زاری؟ بس ایک جواب ملتا کہ جی آپ کی شکایت ہم نے آپ کی متعلقہ ایکسچنج کو کر دی ہے۔ بس!
آخر منگل کی رات بتاریخ 16 اگست ہم نے آخری بار 1218 پر کال کی اپنی شکایت میں ایک جھوٹ کا اضافہ کیا کہ "آج لائین مین آیا تھا فون ٹھیک کرنے کے 500 روپے مانگ رہا تھا جب ہم نے نہیں دیئے تو وہ وہ فون ٹھیک کیئے بغیر واپس چلا گیا" فون کال 10 بجے رات کو کی اوربدھ کی صبح بتاریخ 17 اگست گیارہ بجے لائن مین نے آ کر ایک طرف تو پہلے فون ٹھیک کیا دوسری طرف کہا جی کس نے آپ سے پیسے مانگے تھے گھر والوں نے تو ایسی کسی شکایت سے انکار کیا کہ ہم نے نہیں کی مگر 12:30 بجے پی ٹی سی ایل والوں کی میرے موبائل پر کال آئی جناب فون ٹھیک ہو گیا ناں آپ کا؟ اور اب کے تو پیسے نہیں مارنگے ناں نیر کیا یہ ہی تھا جو آج آیا جس نے پیسے مانگے تھے!! آپ کو معلوم ہو گا ہمارا جواب کیا ہو گا!!
مگر اب دل پر ایک بوجھ سا ہے کہ ہم نے یہ جھوٹ کیوں بولا؟ اس کا کیا حل ہے کہ یہ بوجھ ہٹ جائے؟؟ اس موئے فون کو دیکھنے کو بھی دن نہیں کر رہا!! دوئم ذہن میں یہ پریشانی کہ کیا معاشرے میں اب سچ سے ذیادہ جھوٹ کی سنی جاتی ہے؟ ایسا کیوں؟