ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: April 2005

امتحانی فارم

چلو چلو کالج چلو! امتحانی فارم جو آگئے ہیں۔ابھی امتحانی فارم آئے ہیں پھر امتحان بھی آجائے کے۔اب کیا ہو گا:۔
۔"پڑھا نہیں میں نے پورا سال اب کیا ہو گا میرا حال ڈی آئے گا ای آئے گا بچ نہ پاؤ گا میں اس بار"۔
یونیورسٹی ہمارا امتحان لے گی اور ہم امتحان دے گے ، دیکھیں اس امتحان میں ہم پورے اترتے ہیں یا نہیں، امتحان کی تیاری؟ آدھی ہے اور آدھی کرنی ہے،اس بات کا فیصلہ تو کر لیا ہے کہ کون سے کپڑے کس پرچے میں زیب تن کرنے ہیں مگر ابھی تیار نہیں کروائے۔کیا کہا ااپ نے پرچوں کی تیاری کا پوچھ رہے ہیں آپ۔ پرچے پیں نے تو تیار نہیں کرنے یہ تو متعلقہ پرفیسروں کا کام ہے وہ پرچے تیار کرے گے، بقول شخصے ہم یونیورسٹی پرچے دینے نہیں لینے جاتے ہیں۔ یونیورسٹی والے ہمیں پرچہ اور کاپی دیتے ہیں اور ہم کاپی پر پرچہ کے متعلق اپنی رائے کا اظہار کر کے نیز انہیں اپنے آٹوگراف سے نواز کر کاپی واپس کر دیتے ہیں اور پرچہ خود رکھ لیتے ہیں ،آخر اس کا ہوائی جہاز اچھا بنتا ہے نا۔ کالج میں اب تھوڑے دن ہی رہ گئے ہیں ، عیاشی ختم؟ خیراگر معجزۃً ہم پاس ہو گئے تو "وکیل صاحب " تو کہلائے گے نا

عید میلادالنبی

اہل ایمان کو

جشن

عید میلادالنبی

مبارک ہو ؕ

کامیابی

کامیابی میں بڑے اندیشے ہوتے ہیں ۔ کامیاب مسکراہٹ میں بڑے آنسو پنہاں ہوتےہیں۔ کامیاب فاتح آخر ایک قاتل ہی ہوتا ہے۔ ہلاکو ہویا سکندر اعظم ، کام ایک ہی ہےاور غالبا انجام بھی ایک ہی ہے۔دنیا کو فتح کرنا اور خالی ہاتھ گھر سے باہر پردیس میں مرنا کامیابی کا المیہ ہے۔ایک کامیاب ڈاکٹر کو لیں۔ڈاکٹر کا مدعا اور اصل مدعا خدمت انسانیت ہے۔مریضوں کی خدمت ،دنیا سے بیماری کو کم کرنا اور اس طرح نیکی اور عبادت کو اپنی کامیابی کے طور پر پیش کرنا ، لیکن ایک کامیاب ڈاکٹر آہستہ آہستہ اپنی کامیابی کے تقاضوں سے مجبور ہو کر اتنا بے بس ہو جاتا ہے کہ بے حس ہو جاتا ہے۔ وہ مریضوں سے فیس وصول کرتا ہے۔نیکی کے بجائے مال کا معاوضہ اور یہ عمل اس حد تک بڑھتا ہے کہ عذاب کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔میڈیکل سینٹروں کی تعداد میں اضافہ خدمت خلق کے بجائے طب کو انڈسٹری میں تبدیل کرچکا ہے۔ کامیابی کے دامن میں مسرتیں نہیں حسرتیں ہیں۔
۔(واصف علی واصف کی کتاب "دل دریا سمندر" سے اقتباس)۔
میرے دوست ماجد کے بقول ڈاکٹر دراصل تیس روپے کی خاطر دوسرے کی زندگی سے کھیلتا ہے۔

انقلاب

ایک ملک میں انقلاب آیا۔اس ملک کا ایک باشندہ بیرونی ملک کے دورے سے واپس آیا ۔ائرپورٹ سے نکل کر اس نے ٹیکسی ڈرائیور سے کہا "کسی نزدیکی دکان پر ٹھہرجانا، مجھےسگریٹ خریدنا ہے"۔ "سگریٹ خریدنے کے لئے آپ کو چرچ جانا پڑے گا"۔ڈرائیور نے جواب دیا ۔ "کیا؟ چرچ تو وہ جگہ ہے جہاں عبادت کی جاتی ہے "۔ "لوگ عبادت کے لئے یونیورسٹی جاتے ہیں"۔ "کیا؟ یونیورسٹی میں تو وہ لوگ نہیں ہوتے جو پڑھتے ہیں؟"۔ "نہیں پڑھنے والے تو جیل مہں ہوتے ہیں"ڈرائیور نے کہا "جیل میں تو مجرم ہوتے ہیں"۔ "اوہ نہیں، وہ تو برسر اقتدار ہیں"۔

اوقات

۔(درست معنوں میں ایک بے طقی تحریر)۔
اکثر آپ کے اوقات سے آپ کی اوقات کا اندازہ ہوتا ہے ۔ ساری بات اوقات کی ہے ۔ کیا آپ اوقات والے ہیں؟ بعض افراد دوسروں کو ان کی اوقات یاد دلاتے رہتے ہیں"دو ٹکے کی اوقات ہے تمہاری" کیا کہا ٹکہ پاکستان میں نہیں چلاتا یہ بنگلا دیش کا سکہ ہے ابے دو پیسے کی کر لے اب بتائے اوقات میں کوئی فرق پڑا ؟ نہیں نا۔مگر اگر کوئی چھوٹا ( قد یا عمر میں نہیں) بڑے سے اس کی اوقات پوچھے تو وہ(بڑا) نہ صرف اپنی اوقات سے اسے آگاہ کرتا ہے بلکہ اس کی اوقات بھی اسے سمجھا دیتا ہے اس سمجھ بوجھ میں رہ جانے والے کسی کسر کو سرکاری ڈاکٹر دور کر دیتے ہیں۔ ان ڈاکٹروں کی اپنی اوقات ان کے پرائیویٹ کلینک کے باہر درج ہوتی ہے "اوقات : صبح ۱۰ سے دوپہر ۱ بجے اور شام ۵ سے رات ۹ بجے تک" ۔ ملازم پیشہ آدمی کی اوقات صبح ۹ سے شام ۵ بجے تک۔ان کو ان کا سینیئر(افسر) لاکھ کہئے "اپنی اوقات میں رہو" یہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیتے ہیں اور اوقات سے اکثر باہر رہتے ہیں آخر کیوں نہ ہوں ؟ اؤرٹائم ملتا ہے۔
بڑے تلخ (گھٹیا) ہیں بندہ مزدور کے کی اوقات

کرکٹ میں کیسی جنگ بندی؟

پاکستانی کرکٹ ٹیم بھارت یاترا پر ہے۔ضیاءالحق کے بعد دونوں ممالک کے درمیان ایک اور کرکٹ ڈپلومیسی ہو رہی ہے ۔دونوں مرتبہ پاکستان میں فوجی سربراہ حکمران ،اسے بھی حسن اتفاق کہئے کہ پہلے کی طرح اس مرتبہ بھی پاکستانی سربراہ ہندوستان کے میدان میں میچ دیکھنے جائے گا،"اب کس نے کس کے کان میں کیا بات کہنی ہے؟"۔کیا آپ اسے بھی اتفاق کا نام دے گے کہ ماضی میں بھی ایسے معاشقے سے قبل پاک بھارت تعلقات کافی کشیدہ تھے۔ہاں اب کی مرتبہ دوستی کے ساز پر ڈالے جانے والے دھمال میں پایاجانے والا جوش بہت ذیادہ ہے(کم از کم حکومتی اور میڈیا کی سطح پر تو ایسا ہی ہے)۔ بھارتی تماشائی اس ٹورنامنٹ میں کافی ذیادہ بلکہ بہت ذیادہ جانبدار نظر آئے۔جب کبھی بھارت کی پوزیشن میچ میں کمزور ہوئی ہزاروں کے مجمع میں ایسی خاموشی چھائی جیسے سانپ سونگ گیا ہو۔ میرے گھر والوں نے تو یہ فارمولا نکالا کہ اگر آپ ٹی وی کے سامنے نہ ہو بلکہ کسی وجہ سے صرف آواز پر گزارہ ہو تو بھارتی ٹیم کی بیٹنگ پر خاموشی کا مطلب کوئی آؤٹ ہوا ہے، شور بننے کا اشارہ ہے، پاکستانی ٹیم کی باری میں آپ اس فارمولے کو الٹا کر لے اور مجھے یقین ہے رزلٹ درست ہو گا آزمائش شرط ہے۔اس کے برعکس پاکستان کے دورے کے موقعے پر اہل پاکستان نے بھارتی ٹیم کو اچھے کھیل پر خوب داد دی تھی ۔ اس ٹورنامنٹ کے تمام میچ کافی سنسنی خیز رہے۔مقصد یہاں تفصیل بیان کرنا نہیں ہے۔اس ٹورنامنٹ کا سب سےقیمتی چوکا انضمام نے لگایا جس پر اسے دس لاکھ روپے انعام میں ملے اور قیمتی سینچری آفریدی کی پانچ لاکھ کی۔بد قسمت کھلاڑی بھارتی کپتان گنگولی جو اچھی بلےبازی کا مظاہرہ نہ کر سکے ،اور چھ میچوں کی پابندی الگ لگی۔ٹیسٹ سیریز کے دولہا (مین آف سیریز) سہواگ تھے اب دیکھنا یہ ہے کہ ون ڈے سیریز کے دولہا کون ہوتے ہیں۔ آخری میچ دہلی میں ہو گا جس کو دیکھنے کے واسطے مشرف صاحب آج بھارت روانہ ہو گے ،جو ٹیم اچھا کھیل کھیلے گی جیتے گی ،میری دعائیں پاکستان کے ساتھ ہیں ،مگر دعا کے ساتھ دوا بھی ضروری ہے۔

عا د تیں

میری دو عادتیں تھیں ایک سگریٹ ، ایک محبوبہ کہا احباب نے مجھ سے محبوبہ کو چھوڑا بھی جا سکتا ہے مگر سگریٹ سگریٹ نہیں چھٹتا کہا میں نے اے میرے جہاں دیدہ رفیقو، دوستو سن لو۔۔۔۔۔۔ سگریٹ کو چھوڑا آج سے میں نے اور محبوبہ وہ مجھے دہرا سرور زندگی دینے کو سگریٹ کی طرح میرے ہونٹوں کی لاج رکھے گی نہ ہونے دے گی مجھے کمی محسوس سگریٹ کی میری اب ایک ہی عادت ہے محبوبہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ۔(ممکن ہیں قتیل شفائی میں یہ عادتیں ہو مگر مجھ میں نہیں ہیں اور نہ میں یہ عادتیں ڈالنے کا آرزو مند ہوں)۔

کلوننگ

اس تصویر کو دیکھ کر پہلا خیال کیا آتا ہے؟

دل

انسانی بہ ظاہر گوشت کا ایک ٹکرا ہے مگر اس کے اندر کی دنیا بڑی وسیع ہے ، اس پر یوں کسی نے تبصرہ کیا ہے ؛ "سینے میں دل ہے، دل میں درد ہے،درد میں نشہ ہے،نشے میں مٹھاس ہے،مٹھاس میں مزہ ہے، مزے میں آرزو ہے ،آرزو میں حسرت ہے ، حسرت میں یقین ہے ، یقین میں خیال ہے ، خیال میں تصور ہے ، تصور میں تو ہے ، تجھ میں ادا ہے ،ادا میں حیا ہے ، حیا میں نزاکت ہے ،نزاکت میں شوخی ہے ،شوخی میں غصہ ہے ، غصے میں بناوٹ ہے ، بناوٹ میں اپنائیت ہے ، اپنائیت میں چاہت ہے، چاہت میں خلوص ہے ، خلوص میں پیار ہے ، پیار میں عبادت ہے اور عبادت میں خدا ہے"۔ دل کی دھڑکن کے با رے میں انگریزی کا یہ معقولہ ؛
"Control your heart beat ,because it make Passion ,passion make Act, act make Personality,personality made Society, society made Nation"

سوری یار

پہلے پہل وہ خود آتا تھا پھر بھیجا اس نے گلدستہ گلدستہ گھٹ کے کارڈ بنا کارڈ بنا پھر فون کال اب کال کی بھی کال پڑی ہے فرصت کی نہ کوئی گھڑی ہے کہہ دیتا ہے سوری یار بھول گیا میں اب کی بار اگلی ساون کی تقریب میں تیرے لئے لے کر آؤں گا میں ہار

مظفرآباد سے سری نگر

آج ایک بس مقبوضہ کشمیر سری نگر سے مظفرآباد اور دوسری مظفرآباد سے سری نگر پہنچنے گی نصف صدی کے بعد اس روٹ پر کوئی بس سروس چلے گی،دونوں طرف کے لوگ اب دریا کی دو کناروں پر کھڑے ہو کر چلا چلا کر باتیں کرنے کے،کاغذ پر پیغام لکھ کر دریا کے دوسسرے کنارے پر پتھر کے ذریعہ پھیکنے بجائےاب چکوٹھی کے پل کے ذریعےایک دوسرے کے قریب بیٹھ کردل کا حال سنا سکے گے،ایسا صرف ۵۷ سال قبل ہوتا تھا۔آگرہ سے شروع ہونے والے یہ سفر اس موڑ پر کشمیر بس سروس تک آگیا ہے۔سب ٹھیک ہے خوف اس بات کا ہے کہ کہیں اس بس کی دھول میی ہم تاریخ نہ بھول جائے تاریح جو بہت ظالم ہے، نصف صدی کی بات۔
۔"دو چار برس کی بات نہیں یہ نصف صدی کا قصہ ہے"۔
وادی کشمیر کا رقبہ ۸۴۴۷۱ مربع میل اور یہ برصغیر پاک و ہند کے انتہائی شمال میں واقع ہے۔تقسیم ہند کے وقت اس کی آبادی کی بڑی اکثریت تقریبا ۷۷ فیصد مسلمانوں پر مشتمل تھی،اس وادی کا مہاراجہ ہندو تھا ،چالیس لاکھ آبادی والی یہ ریاست انگریز سے ۷۵ لاکھ میں خریدی گئی ۔مہاراجہ نے بے رحمی سے ٹیکس لگائے،مسلمان کے لئے گائے ذبح کرنے پر سزائے موت ،جسے بعد میں دس سال قید میں بدل دیا۔ ۳جون پلان کے اعلان کے بعد مہاراجہ نے ریاست کے مستقبل کے بارے میں کوئی فیصلہ نہ کیا،۱۸ جون کو ماؤنٹ بیٹن کشمیر گئے اور ۲۳ کو واپس آگئے جناب نے مہاراجہ کشمیر کو مشورہ دیا کہ وہ اپنی آزادی کا اعلان نہ کرے بلکہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلے واضح رہے حیدرآباد اور دوسری ریاستوں کو صاحب ان کے جغرافیائی اور ہندو آبادی کی بنا پر ہندوستان سے الحاق کا مشورہ دیتے رہے۔ یکم اگست کو گاندھی جی سری نگر پہنچ گئے،انہوں نے مہاراجہ کو وزیراعظم پنڈت رام چند کاک کو اس عہدے سےہٹانے کا کہاکیونکہ وہ ریاست کے پاکستان سے الحاق کے حامی تھے۔گاندھی کی واپسی کے بعد بارہ اگست کو کاک کی جگہ ڈوگر جرنل جنک سنگھ کو وزیراعظم بنا دیا گیا۔ جس نے اس عہدے پر آتے ہی ریاست سے قریب پانچ لاکھ مسلمانوں کو باہر نکال دیا جن میں سے دو لاکھ کا کچھ معلوم نہیں کہاں گئے غالب امکان یہ ہے کہ وہ قتل کر دیئے گئے،اس ظلم سے تنگ آ کر جموں کے علاقے پونچھ جہاں دوسری جنگ عظیم کے ۶۵ ہزار سابق فوجی موجود تھے نے ہتھار اٹھا لئے اور مہاراجہ کے فوجیوں کو مار بھگایا اور اس علاقے پر قبصہ کر لیا ۔۲۴ اکتوبر ۱۹۴۷؁کو مسلم کانفرنس نے مہاراجہ کے تسلط سے آزاد کرائے گئے علاقے پر "آزاد کشمیر" کے نام سے اپنی حکومت قائم کر لی۔ ۲۵ اکتوبر ۱۹۴۷؁ وی پی مینن کشمیر آیا اور مہاراجہ سے کشمیر سے الحاق کے واسطے بات کی۔۲۶ اکتوبر بروز اتوار صبح دہلی پلٹا،ماؤنٹ بیٹن اور نہرو کو رپورٹ دی کہ مہاراجہ کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ رہا۔مہاراجہ اس وقت ڈوگر کی جگہ مہر چند مہاجن کو وزیراعظم بنا چکا تھا۔جو اس وقت دہلی میں مینن کے ساتھ گیا تھا،۲۷ اکتوبر کو ہوا/ی جہار ہندوستانی فوجیوں کو لے کر دہلی سے سری نگر جانا شروع ہوے،مہاراجہ بھی ائرپورٹ اگیا،مینن بھی وہاں پھنچا اس نے مہاراجہ کشمیر سےالحاق کے رسمی کاغذات پر دستخط کرالئے۔بقول مہاجن کے میبب نے مہاراجہ سے یہ دستخطزبردستی کروائے تھے مہاجن کو بعد میں انڈیا کا چیف جسٹس بنا دیا گیا،صلہ میں۔ قائداعظم کو لاہور میں ہندوستانی فوجیوں کے کشمیر پر حملہ کی اطلاع ملی انہعں نے پاکستان کے قائم مقام کمانڈر انچیف جنرل گریسی کو حکم دیا کہ وہ کشمیر میں فوجیں بھیج دیں اور ہندوستانی فوج کو کشمیر پر قنصہ کرنے سے باز رکھے مگر اس نے ایسا نہ کیا۔ قائداعظم نے دونوں ممالک کے گورنر جنرل اور وزیرعظم کی لاہور میں میٹگ بلانے کی سپریم کمانڈر فیلڈمارشل آکنلگ کی تجویز مان لی یہ میٹگ ۲۹ اکتوبر کو ہونا طے پائی۔ہندوستان نے اس میٹگ سے کریز کیا۔۳۰ اکتوبر کو پاکستان نے ایک بیان جاری کیا کہ انڈین یونین سے کشمیر کا الحاق دھوکے بازی اور تشدد پر مبنی ہونے کی بنا پے نہ قابل قبول ہے۔۳۱ اکتوبر کو نہرو نے پاکستان کے وزیراعظم کو اپنے تار میں یقین دلایا کہ ہم امن امان قائم ہوتے ہی اپنی فوجیں کشمیر سے وابس بلالیں گے یکم نومبر کو ماؤنٹ بیٹن لاہور آئے قائداعظم سے میٹنگ میں اس نے تسلیم کیا کہ کشمہر کا الحاق تشدد اور دھوکے پر مبنی ہے اور نا جائز ہے۔اس موقعے پر نہرو نے بیماری کا بہانہ کر کے غیر حاضر رہا۔ ۲ نومبر کو نہرو نے اعلان کیا کہ حکومت ہندوستان اس بات پر تیار ہے کہ جب کشمیر میں امن قائم ہو جائے گا تو وہاں بین الاقوامی سر پرستی میں ریفرنڈم کروایا جائے۔وہ خود ہی اس معاملے کو سلامتی کونسل میں لے کر گیا جہاں اس نے دوبارہ اس ہی طرح کا وعدہ کیا۔ یہ مسئلہ تب سے دونوں ممالک کے درمیان ہے،پاکستان کا موقف ہے کہ بھارت استصواب رائے کے ذریعہ کشمیری عوام سے ان کی رائے معلوم کرے کیوں کہ ایسا کرنے کا اس نے وعدہ کیا ہے جبکہ بھارت اس سے انکاری ہے۔ اب تک ۸۰۰۰۰کشمیری اس آزادی کی تحریک میں شہید ہوئے،دستیاب اعداد و شمور کے تحت سال ۲۰۰۴ ؁ میں۳۰۰۰ کے قریب کشمیری مسلمان شہید ہو بھارتی فوج کے ہاتھوں، ۵۴۱۰ تشدد کا نشانہ بنے، ۵۰۰۰ دوکانیں اور مکانات جلا دیئے کئے، ۴۰۰ خوتین بیوہ ، ۳۷۰ خواتین کی عصمت دری ہوئی اور ۱۱۶۰ بچے یتیم ہوئے۔

ایف سولہ

پچھلے ماہ جب جنرل پرویز مشرف ازبکستان اور کزغیزستان کے دورے پر گئے تو راستے میں ہوائی جہاز میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہہ
"personal friendship is half diplomacy in international relation"
جب آخری بار جنرل صاحب امریکہ کے دورے پر کئے تھے تو آپ نے امریکی صدر بش سے ایف سولہ طیارے مانگے، اس وقت اس بات کو پریس میں نہ اچھلنے دیا گیا ۔ ابھی ہفتہ قبل امریکی وزیر خارجہ مس رائس نے پاکستان کو ان طیاروں کی فراہمی کی خوش خبری دی ، چند اطلاعات کے مطابق پاکستان نے چوبیس طیارے مانگے مگر امریکہ اٹھارہ طیاروں کی فروخت پر راضی ہوا ہے جبکہ خورشید قصوری کا کہنا ہے کہ طیاروں کی کوئی تعداد مختص نہیں ہے بلکہ پاکستان فی طیارہ تقریبا ساڑھے تین کروڑ ڈالر کے حساب سے جس تعداد میں چاہے ایف سولہ خرید سکتا ہے دونوں ممالک کے درمیان پہلا معاہدہ ایف سولہ کی خرید کا دسمبر ۱۹۸۱ میں ہوا،جس میں پاکستان نے فی جہاز دو سے ڈھائی کروڑ ڈالر کے حساب ہے قریب چالیس طیارے خریدے۔پہلا ایف سولہ اکتوبر ۱۹۸۱ کو فورتورتھ سے روانہ ہو کر ۱۵ جنوری ۱۹۸۳ کو سرگودھا ائربیس پر اترا۔۱۹۸۹ میں پاکستان نے ۶۰ مزید طیارے منگے مگر پراؤن ترمیم کی بنا پر یہ سودا ادورہ رہا۔۱۹۹۸ میں ان طیاروں کی رقم ادا کی ہوئی نواز شریف واپس لانے میں کامیاب ہوئے بمعہ ۱یک سو چالیس ملین ڈالر تلافی کے طور پر۔ مس رائس نے ہمیں ایف سولہ طیارے فروخت کرنے کی بات کی اور وہاں بھارت کو نہ صرف ایف اٹھارہ کی پیشکش کی بلکہ انہیں بھارت میں بنانے کے لئے جدید ٹیکنالوجی مہیا کرنے پر رضامندی ظاہر کی۔
؎۔ بڑا منصف مزاج ہے یہ امریکہ بزعم شیخ سب کو برابر پیار دیتا ہے کسی کو حملے کے لئے دیتا ہے مزائیل کسی کوان سے بچنے کے لئے رےڈار اہتا ہے
دونوں کی لڑائی میں جو اس کا فائدہ ہے

تجھےعشق ہو خدا کرے

تجھےعشق ہو خدا کرے تجھے اس سے کوئی جدا کرے تیرے ہونٹ ہنسنا بھول جائے تیری آنکھ پرنم رہا کرے تو اسکی باتیں کرے تو اسکی باتیں سنا کرے تو اسے دیکھ کر رُک پڑے وہ نظر جھکا کر چلا کرے تجھے ہجر کی وہ چھڑی لگے تو ہر پل ملن کی دعا کرے تیرے خواب بکھریں ٹوٹ کر تو کرچی کرچی چنا کرے تو نگر نگر پھرا کرے تو گلی گلی صدا کرے تجھے عشق ہو پھر یقین ہو تو تسبیہوں پہ اسے پڑھا کرے میں کہوں عشق ڈھونگ ہے تو نہیں نہیں کیا کرے

مجلس کی تال وردی اتار

لو جناب ایم ایم اے نےہرتال کی کال دے دی ہے،کب؟۲ اپریل کو ، وہ کیوں ؟ ایک دن بعد اپریل فول منائے گے نا۔ارے میاں بی بی تو ملک سے باہر ہیں اب وہ ہی پوزیشن والے ہیں اؤ معافی چاہتا ہوں اپوزیشن والے ہیں۔اس لئے دی ہے۔ مطالبہ؟ سادہ سا صدر صاحب وردی اتار دے۔ارے پاگل ہیں کیا صدر تو ڈرائیکلین کروانے کے لئےوردی نہیں اتار تے ان کے کہنے پر اتار دے لوٹ مچی ہے کیا، ویسے بھی جس دن صدر نے وردی اتار دی اس دن یہ آنکھیں بند کر کے استغفار پڑھتے پھرے گے صدر کا کیا ہے وہ تو ویسے بھی کافی لبرل ہیں بغیر روردی کے گزارہ کر لے گے ۔ شیخ صاحب نے بھی کافی انتظام کر لیئے ہیں بلکہ کل تو انہوں نے شکریہ بھی ادا کر دیا کہ شکر ہے تاجروں اور ٹرانسپوٹروں نےہرتال سے لاتعلقی کا اظہار کر دیا ، ساتھ ہی آنکھیں بھی دیکھائی کہ خبر دار جو کل ہرتال کی، ہرتال کرنے والے کی پرتال ہو گی لواور سنو۔ہرتال کا مسئلہ بھی آٹے کے چراغ سا ہو گیا گھر رکھو چوہا کھا جائے باہر رکھو تا کوا لے جائے۔ ہرتال کرو تو حکومت مارے نہ کرو تا مجلس والے۔