ٹوٹ پھوٹ
بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر بھول بد گمانی کے اس طرح سے کھلتے ہیں زندگی سے پیارے لوگ اجنبی سے لگتے ہیں غیر بن کے ملتے ہیں عمر بھر کی چاہت کو آسرا نہیں ملتا دشتِ بے یقینی میں راستہ نہیں ملتا خاموشی کے وق…