امجد اسلام امجد

ٹوٹ پھوٹ

بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر بھول بد گمانی کے اس طرح سے کھلتے ہیں زندگی سے پیارے لوگ اجنبی سے لگتے ہیں غیر بن کے ملتے ہیں عمر بھر کی چاہت کو آسرا نہیں ملتا دشتِ بے یقینی میں راستہ نہیں ملتا خاموشی کے وق…

امجد اسلام امجد

ہم لوگ نہ تھے ایسے

ہم لوگ نہ تھے ایسے ہیں جیسےنظر آ تے اے وقت گواہی دے ہم لوگ نہ تھے ایسے یہ شہر نہ تھا ایسا یہ روگ نہ تھے ایسے دیوار نہ تھے رستے زندان نہ تھی بستی خلجان نہ تھی ہستی یوں موت نہ تھی سستی یہ آج جو صورت ہے حالات نہ تھے ایسے تفریق نہ تھی ایسی سنجو گ نہ تھے ایسے اےوقت گواہی دے ہم لوگ نہ تھے ایسے

اردو

سیلف میڈ لو گو ں کا المیہ

روشنی مزاجوں کا کیا عجب مقدر ہے زندگی کے رستے میں ۔ ۔ بچھنے والے کانٹوں کو راہ سے ہٹانے میں ایک ایک تنکے سے آشیاں بنانے میں خوشبوئیں پکڑنے میں ۔ ۔ گلستاں سجانے میں عمر کاٹ دیتے ہیں عمر کاٹ دیتے ہیں اور اپنے حصے کے پھول بانٹ دیتے ہیں کیسی کیسی خواہش کو قتل کرتے جاتے ہیں درگزر کے گلشن میں ابر بن کے رہتے ہیں صبر کے سمندر…