اسرائیل، قطر و حماس

 


​قطر سمیت مشرقِ وسطیٰ کے بیشتر ممالک نے اپنی حفاظت کی ذمہ داری امریکہ کے کاندھوں پر ڈال رکھی ہے۔ کہا جاتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں موجود تقریباً پچاس ہزار امریکی فوجیوں میں سے دس ہزار کے قریب قطر میں تعینات ہیں۔ اس ضمن میں قطر سالانہ تقریباً تین سو ملین ڈالر کے اخراجات برداشت کرتا ہے، اور یہ رقم دیگر دفاعی معاہدوں، جن کی مالیت 38 ارب ڈالر ہے، کے علاوہ ہے۔

​آج کا اسرائیلی حملہ قطر اور دیگر خلیجی ممالک کی اس تلخ حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ کرائے کا محافظ صرف اپنی اجرت تک ہی وفادار رہتا ہے۔ کسی ملک، ملت اور اس کی عزت و ناموس کی حفاظت اس کا مقصد نہیں ہوتی۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ 

"جنديٌّ بالأجرة لا يموت في سبيلك"

"کرائے کا سپاہی تمہاری خاطر جان نہیں دیتا"۔

​اگر یہ حملہ قطر کی مرضی سے ہوا تھا، تو اس کا مطلب ہے کہ قطر اپنی خودمختاری گروی رکھ چکا ہے۔ اس ہزیمت کا احساس بحیثیت پاکستانی ہم تب محسوس کر چکے ہیں جب امریکہ اسامہ بن لادن کے تعاقب میں ایبٹ آباد تک آ پہنچا تھا۔ اور اگر یہ حملہ قطر کی مرضی کے بغیر صرف امریکہ کی آشیرباد سے ہوا ہے، تو اہلِ قطر اور دیگر ممالک جہاں امریکی فوج "تحفظ" کے نام پر موجود ہے، انہیں سوچنا چاہیے کہ وہ محفوظ ہیں یا قید؟ اور حفاظت کے نام پر وہ کب تک مقید رہنا چاہتے ہیں؟


عرب بچوں کے قتل کی دھمکی خبر کیوں نہیں؟

امریکا کے یہودی جنگجو دانشور ڈینیل پائپس نے ایک جگہ لکھا ہے کہ وہ وقت گیا جب فتح وشکست کے فیصلے میدان جنگ میں ہواکرتے تھے‘ اب جنگوں کے فیصلے اخبارات اور ٹی وی چینلز کے نیوز رومز اور ادارتی صفحوں پر ہوتے ہیں۔ یہ صرف پائپس کی سوچ نہیں بلکہ ہر یہودی اس کا ادراک رکھتا ہے کہ دنیا پر تسلط کا خواب معاشی غلبے اور میڈیا پر قبضے کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ دنیا پر غلبہ کے لیے درکار ان دونوں چیزوں پر آج یہودیوں کاکنٹرول ہے۔ دنیا کا 98 فیصد میڈیا براہ راست یہودیوں کے قبضے میں ہے۔ باقی پر بھی مختلف طریقوں سے اثر انداز ہونے کی کوشش کی جاتی ہے۔ پاکستانی میڈیا خصوصاً باثر ابلاغی گروپوں پر بھی الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ یہودیوں کے زیرکنٹرول ہیں۔ یہ غیرذمہ دارانہ بیان ہوسکتا ہے کیوں کہ الزام لگانے سے پہلے ثبوت پیش کرنا ضروری ہے۔

اب اگر پاکستانی میڈیالاعلمی میں یہودی مقاصد کو پورا کرتا ہے تو صرف اس بنیاد پر اس کو یہودیوںکے زیر کنٹرول قرار نہیں دیا جاسکتا ۔ ہوسکتا ہے کہ بڑے ابلاغی گروپوں کے پالیسی ساز عہدوں پر ایسے افراد فائز ہونے میں کامیاب ہوگئے ہوں جو یا تو معاشی منفعت کی خاطر یا پھرآزاد خیالی کے شوق میں ایساکرتے ہوں۔ یہ افسوسناک حقیقت ہے کہ اس وقت ملک کے کئی ٹی وی چینلز کے پالیسی سازاور نیوز کے شعبے میں کلیدی عہدوں پر وہ لوگ فائز ہیں جو بہت فخریہ انداز میں دین سے بیزاری کا اعلان کرتے ہیں گو کہ ان کے نام مسلمانوں کے سے ہیں۔ یہ بہترین پروفیشنل ہونے کے سبب ان جگہوں تک پہنچ کر نہ صرف نیوز اور ویوز یعنی خبر اور تجزیہ کے ذریعے اپنی ساری توانائیاں اسلام اور اسلام کے نام لیواوں کے خلاف رائے عامہ ہموار کرنے میں صرف کرتے ہیں بلکہ اس سے نچلی سطحوں پر بھرتی کا اختیار رکھنے کے سبب ایسے ہر فرد کو روکنے کی کوشش کرتے ہیں جو وضع قطع یا سوچ سے ذرا سا بھی اسلامی لگتا ہو۔ ہمیں یقین ہے کہ مالکان کو اس کا ادراک نہیں ہے‘ ورنہ غیر جانب دار ہونے کا دعویٰ کرنے والے بے شک اپنے اداروں میں بھرتی کے غیر جانبدارانہ معیار کو یقینی بناتے۔ جب صورت حال یوں ہوتو ایسے میں پاکستانی ٹی وی چینلز سے پورا دن نام نہاد طالبان کی طرف سے عورت پر تشدد کی جعلی ویڈیو دکھانے کی شرمناک حرکت پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔

گزشتہ دنوں کسی بندہ خدا نے برطانیہ اور امریکا کے اخبارات میں خبروں کے تجزیہ پر مشتمل ایک ای میل بھیجی جس میں دکھایا گیا تھا کہ اگر کوئی عیسائی یا یہودی اپنی بیوی بچوں کو مار دے تو لکھا جاتا ہے کہ ”ایک آدمی نے بیوی‘ بچوں کا مار ڈالا“ لیکن جب مسلمان ایسا کرتا ہے تو سرخی جمتی ہے کہ”ایک مسلمان باپ نے بیوی بچوں کو بے دردی سے قتل کردیا“ جبکہ بعض اخبارا ت میں مسلمان کے ساتھ دہشت گرد کا لفظ بھی لکھا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں صورت حال کچھ مختلف نہیں۔ وجہ وہی ہے۔ اس لیے جعلی ویڈیو دکھا کر مسلمانوں کو وحشی ‘ درندے اور ظالم ثابت کرنے کی کوشش کرنے والے میڈیا نے جب ایک جنونی ربی کے بیان کو جگہ نہیں دی تو مجھے ذراسی بھی حیرت نہیں ہوئی۔ مانیٹرنگ کا اعلیٰ ترین نظام رکھنے والے اردو اور انگریزی زبان کے بڑے اخبارات اور معروف ٹی وی چینلز نے خبرنشر تو نہیں کی تاہم مجھے یقین ہے کہ ان اداروں میں بننے والی مسِنگ کی لسٹ میں بھی یہ خبر شامل نہیں ہوگی۔ ایک ربی کی صورت میں وحشی‘ درندہ اور دہشت گرد کا کہنا ہے کہ ”جنگ جیتنے کے لیے یہودیوں کو عرب مردوں‘ عورتوں اور بچوں کو قتل کردینا چاہیے“ عمر البشیر کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے والی‘ امریکا کے گھر کی لونڈی اقوام متحدہ ایسے بیانات کا نوٹس نہ لے تو کوئی حیرت کی بات نہیں لیکن کوئی مسلمانوں کی نسلی کشی کا اعلان کرے اور مسلمان مذمت کے دو لفظ ادا نہ کریں تو اسے شرمناک اور افسوس ناک قرار دینا غلط نہ ہوگا۔

اسرائیلی اخبار ’ہارٹز ‘ کے مطابق موومنٹ میگزین کے ایک سوال کے جواب میں شبد( فرقے کی) ربی ’فرائیڈ مین‘ نے کہا ہے کہ” اخلاقی جنگ لڑنے کا واحد طریقہ یہودی طریقہ ہے۔ان (عربوں)کے مقدس مقامات تباہ کرو۔ (ان کی) آدمی ‘عورتیں اور بچے ماردو“ ممکن ہے بعض لوگ کہیں ” یہ تو ایک آدمی کی سوچ ہے‘ اسے یہودیوں کی نمائندہ سوچ نہیں کہا جاسکتا‘ اس لیے ہم نے اسے اپنی خبروں میں جگہ نہ دی ‘ہم صرف مولوی عمر اور مسلم خان کو اپنی خبروں میں جگہ دیتے ہیں جو اسکول تباہ کررہے ہیں۔ہم ان کے Beepers لیتے ہیں۔ہیڈلائز میں رکھتے ہیں کیوں کہ ان کی کہی بات خبر ہوتی ہے۔ ابلاغ عامہ میں پڑھا تھا کہ ’کتا کاٹے تو خبر نہیں ‘انسان کتے کو کاٹے تو خبر ہے‘ عملی صحافت میں آکر سب کچھ مختلف پایا۔ جو لوگ تعداد میں چند تھے ان کو اہم بنادیاگیا اور جو نمائندہ تھے‘ انتخابات سے عوامی نمائندگی ثابت کرچکے تھے ‘ ان کے لیے جگہ نہیں۔ معصوم بچوں ‘ عورتوں کے قتل کی ترغیب دینے کی خبر کے لیے بھی جگہ نہیں کیوں کہ اس سے یہود وہنود کی دوستی سے انکاری اسلام پسندوں کو فائدہ پہنچے گا ۔یا پھر یہودو ہنود کی وکالت کرنے والے دہریوں کو نقصان پہنچے گا‘ اس لیے یہ خبر نہیں۔“ دلیل کیا ہوگی؟ ایک غیر اہم آدمی کی پاگل پن کی بات۔ توآپ کو بتاتے چلیں کہ فرائیڈ مین کون ہیں؟ فرائیڈ مین 1772ءمیں شروع کی گئی سب سے بڑی یہودی تحریک Chabad کے سب سے موثر ربی ہیں۔ عام آدمی نہیں۔ ایک ٹی وی شو کے میزبان اور بسٹ سیلر ‘ایک کتاب کے مصنف ہیں‘ جس کو چار دفعہ شائع کیاجاچکا ہے اور ہر دفعہ کاپیاں ہاتھوں ہاتھ لی گئیں۔ان کے دیے گئے لیکچرز کی ڈیڑھ لاکھ سی ڈیز خریدی جاچکی ہیں۔فرائیڈ جس تحریک سے وابستہ ہیں اس کی چار ہزار چھ سو برانچز ہیں۔کیا یہ غیر موثر ہی؟ نہیں جناب ! یہ وہ تحریک ہے جس کے منشور پر امریکااور اسرائیل کی حکومتیں عمل درآمدکرہی ہیں۔ اتنے موثر آدمی کی مسلمانوں کو دھمکی کی خبر نہ بنے تو اس سے اپنے پاکستانی ٹی وی چینلز کو غیرپاکستانی چینلز قراردینے والوں کو تقویت ملے گی۔ اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستانی اخبارات اور ٹی وی چینلز کے مالکان خصوصاً بڑے ابلاغی گروپ کے مالک اس بات پر غور کریں کہ کہیں ان کے پالیسی سازعہدوں پر ایسے لوگ براجمان ہونے میں کام یاب تو نہیں ہوئے ہیںجو ان کے اخبارات اور ٹی وی چینلز کو پاکستان ‘ اسلام اور پاکستانیوں کا نمائندہ بنانے کے بجائے اپنی مخصوص سوچ کی ترویج کا ذریعہ بنارہے ہیں۔ اخبار اور ٹی وی چینلز ان کا کاروبار ہے‘ معاشی مفاد اپنی جگہ اہم اور یہ ان کا حق ہے لیکن میڈیا کا ایک فرض یہ بھی ہے کہ وہ اپنے ملک اور مذہب کی ترجمانی کرے۔یقین جانیے یہ لبرل انتہا پسند مٹھی بھر ہیں۔ ناظرین کی اکثریت اسلام پسند اور محب وطن ہے۔ ملک وقوم کی ترجمانی چینلز کی پسندیدگی کا سبب بنے گی اور معاشی فائدہ کا بھی۔

تحریر: ابو سعود _________________________بشکریہ: جسارت

احتیاط لازم ہے ورنہ

باپ کے جیل جاتے ہی یوں تو بی بی سیاست میں لیڈر کے طور پر داخل ہو گئی تھیں، مگرباپ کی موت اور دوبارہ وطن واپسی پر انہوں نے اپنی سیاست کا سنجیدگی سے آغاز کیا تو انہیں پنکی سے محترمہ بینظیر بھٹو بننا پڑا۔ نہ صرف لباس میں بلکہ اطوار کو بھی تبدیل کرنا پڑا خواہ عوام کو دیکھانے کے لئے ہی سہی جس میں سے ایک عادت جو اپنانی پڑی وہ خاص ہاتھ ملانےسے اجتناب تھا۔ ویسے یہ مختلف بات ہے کہ جیالے و پیپلزپارٹی کے لیڈر اُن کے مشرقی ہونی کی گواہی قسمیں کھا کھا کر مختلف فورم پر دیتے آئیں ہیں اور جبکہ کئی احباب یہ دعوی کرتے ہیں کہ بی بی گھر میں اکثر مغربی لباس زیب تنگ کرتی تھیں، اُن کی ایک ایسے ہی لباس میں موجود تصویر کو اصلی نہ ماننے پر بھی جیالوں کی اکثریت میدان میں موجود پائی جاتی ہے، بی بی ایک عالمی سطح کی سیاست دان بنی تو دہشت گردی کا شکار ہو گئی، یہ الگ سوال کہ کہ اُس مارا کس نے بیت اللہ نے یا ڈک چینی کے اسکواڈ نے؟ ہمارے ہاں جو مر جاتا ہے اُس کی صرف اچھائی کرنے کا رواج ہے لہذا بی بی ایک عظیم و نیک عورت تھی۔

بی بی کی شہادت کے بعد پیپلز پارٹی کی بھاگ دوڑ عملی اعتبار سے آصف زرداری کےہاتھ میں آ گئی ہے، اور اُن کےشریک بنے اُن کے بیٹے بلاول۔۔ بلاول نا سمجھ تھا تب ہی جناب کی اپنی ہم جنس پرست دوست کی ساتھ چند تصاویر نیٹ پر پائی گئی، مگر یار دوست زرداری کو سمجھ دار بتاتے ہیں۔ مگر پہلے انہوں نے سارہ پالین سے لپٹ جانے کی فرمائش کر ڈالی تھی، اب جناب سے کسی اور کے لپٹنے کی تصویرمنظر عام پر آئی ہے، جناب کی مسکراہٹ قابل غور ہے۔

Asif_Ali_Zardari_and_Daphne

بقول شخصے خلاف کرنے کے لئےکچھ اور بتانے کی ضرورت نہیں سوائے اس کے کہ یہ اسرائیلی صحافی ہے نام ہے Daphne Barak اور کزن ہیں سابق اسرائیلی وزیراعظم Ehud Barak کی۔ جناب احتیاط لازم ہے تصویر پر اعتراض نہیں انداز پر ہے، ورنہ پھر الزام بھی تو لگ سکتا ہے مردوں کی دنیا ہے۔۔۔۔۔

ہولوکاسٹ کل و آج

یہودی اپنی مظلومیت کی کہانی کا آغاز و اختتام ہولوکاسٹ سے کرتے ہیں! اور کئی لوگ ہولوکاسٹ کے حقیقت ہونے پر شک کا اظہار کرتے ہیں!
اگر ہولوکاسٹ ویسا ہی ہے جیسا اہل یہود باور کراتے ہیں تو ایک نظر موازنہ کرتے ہیں کہ آیا ہولوکاسٹ سے یہودیوں نے کیا سیکھا!!!

لوگوں کو مقید رکھنے کیلئے فصیل و دیوار کی تعمیر

 

آزادانہ تقل و حمل پر بندش کیلئے چیک پوائینٹ کا قیام

گرفتاریاں و تشدد

 

گھر و رہائش گاہوں کو مسمار کرنا

اور نشل کشی!

اب آپ خود بتائیں یہ تصاویر کیا بتا رہی ہیں!!!

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے

اسرائیل کا غزہ پر فوجی دہشت گردی کا تیسرا ہفتہ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے اور ہنوز اس جارحیت کو روکنے کی تمام کاوشیں ناکام ہوئی ہیں، نیز اوباما کی حلف برداری تک یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر نہیں آتی! ممکن ہے اُس وقت اس جارحیت کو روک کر اسرائیل اِس کا سہرا اوبامہ کے سر ڈال دے اور ساتھ ہی آنے والے الیکشن میں اسرائیل کی حکمران پارٹی مخصوص فائدہ اُٹھائے۔

ان تین ہفتوں میں روزانہ پچپن کی اوسط سے اب تک قریب ایک ہزار ستر فلسطینی مسلمان شہید ہوئے، جن میں پانچ سو  تک بچے و خواتین شامل ہیں جو کُل شہادتوں کا قریب پنتالیس فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ پانچ ہزار تک زخمی ہوئے ہیں اور پانچ لاکھ کی تمام  آبادی متاثر و قریب نوے ہزار سے ایک لاکھ  بے گھر ہو چکے ہیں ۔

جبکہ  جواب میں صرف چودہ اسرائیلی مارے گئے! ہلاکتوں کی تعداد و فرق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آیا یہ جنگ ہے یا اسرائیلی ریاست کی طرف سے کھلی دہشت گردی؟ اسرائیلی افواج نے پورے غزہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے! ایک ایک رات میں قریب قریب ساٹھ ہوائی حملے غزہ پر ہوتے ہیں اور اسرائیل جواب میں چند حماس کے راکٹ کے حملوں کو جواز بناتا ہے جبکہ خود جون دوہزار آٹھ سے امن معاہدہ کے اختتام تک گاہے بگاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جن دوسو پچاس افراد کو شہید کرنے کا جرم اُسے یاد نہیں۔

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے!

اسرائیل نے قریب صرف چار سو دس فلسطینی بچے اپنی وحشت کا شکار بنائے ہیں اور قریب دوہزار زخمی کئے ہیں، یہ وہ تعداد ہے جو جمسانی طور پر متاثر ہوئے ہیں مگر نفسیاتی بیمار ہوئے یا متاثر اُن کا ابھی علم ہی نہیں! اب اسرائیل کو مستقبل میں خود کُش حملوں کی شکایت نہیں کرنی چاہئے کہ خودکُش بمبار تو وہ خود گزشتہ تین ہفتوں سے تیار کر رہا ہے۔

اپنوں کی لاشوں پر نا معلوم کتنے لوگوں نے بدلے کا عہد کیا ہو! اور کتنے آزاد فلسطین کی عملی جدوجہد کے راہی بننے کے خود سے آمادہ ہو چکے ہوں!۔ اسرائیل اس دوران غزہ کی آبادی کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر لے کر اُس پر اپنا جدید اسلحہ استعمال کر رہا ہے جو پہلے دیکھنے میں یوں نہیں آئے ظالم وہ بم گرا رہا ہے جن سے انسانی جسم بری طرح سے جھلس جاتا ہے اور انسان ایڑیاں رگڑرگڑ کر اپنی جان دے دیتا ہے۔

اس کے علاوہ  سفید فاسفورس (اس کا ستعمال جنیوا کنونشن کے تحت ممنوع ہے، 1995 میں اسرائیل نے اس پر دستخط کئے تھے)  بم جو انسانی گوشت کو ہڈیوں تک جلا دیتا ہے اُن کے زیراستعمال ہے ، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے زخمی ہسپتال میں لائے جا رہے ہیں جن کے جسم بری طرح سے جھلس چکے ہوتے ہیں (جس کا مشاہدہ محتلف جاری ہونے والے تصاویر سے ہوتا ہے)۔

امریکہ و اسرائیل کو حماس سے شکایت ہے جو ایک جمہوری عمل سے اقتدار میں آئی تھی اور ہے،  شکایت وہ اُن مسلم حکمرانوں سے کررہے ہیں جو اپنے اپنے ملک میں عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں!

اِسے کیا کہا جائے؟

چند مسلم حکمرانوں کے گھروں میں یہودی بیویاں ہیں! اہل بنی اسرائیل میں اگر مرد باہر شادی کر لے تو خارج مگر اگر عورت ایسا کرے تو اُس کی اولاد بنی اسرائیل کی اولاد کہلاتی ہے! اس لئے انہیں اعتراض نہیں ہوتا اپنی عورتوں پر۔ اس کا ثمر مصر کی پالسی کی صورت میں نظر آ رہا ہے! جہاں کے تاجروں کی بڑی تعداد یہودی بیویاں رکھتے ہیں۔

آج جب اہل فلسطین کو ضرورت ہے تو مصر نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں!

کسی بھی قسم کی تقل حمل بند ہے، خواراک و ادویات کے لئے منتظر فلسطینی سرحد کے اُس پار جبکہ خوارک و ادویات سرحد کے اس پار ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھی مصر فلسطین میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا صرف اٹھائیس زخمی مصر میں داخل ہو پائے ہیں۔ منافقت دیکھے اسرائیل سے ہر طرح معاہدے و کاروبار جاری ہیں مصر کے وہ فلسطینوں کو تیل دینے سے انکاری ہے مگر قابض اسرائیل سے اگلے پچیس سال تک آج کی کی قیمت میں تیل کی فراہمی کا وعدہ ایفا کر رہا ہے!

یار لوگ پُر امید ہیں مستقبل قریب میں سب اچھا ہو جائے گا!

اور آج کی صورت حال کا ذمہ دار حکمرانوں کو دیتے ہیں!

مگر میں نا امید ہوں ، آگے کچھ نہیں ہونے والا، ممکن ہے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام رُک جائے مگر مسلمانوں کا نہیں رکتا نظر آتا۔ ان کی آواز سننے والا بھی کوئی نہ ہو گا!

او آئی سی بھی صفر جمع صفر کا مجموعہ ہے اور بقول ضمیر جعفری یو این او میں یو دراصل یو ایس اے (امریکہ) کا ہے باقی سب کے لئے نو(NO) ہی نو ہے۔

جب تک عوام کے اعمال درست نہیں ہوں گے حکمران بھی اچھے نہیں ملیں گے، خود تو ہم ہر طرح کی برائیوں میں مبتلا رہے اور حاکم پاکباز ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟

کہیں غزہ کو سزا خود ہماری ھی وجہ سے تو نہیں مل رہی ہے

 

عالمی اخبار کے لئے لکھی گئی میری ایک تحریر!!

ڈیجیٹل احتجاج

احتجاج کی کئی شکلیں ہیں، وقت کے ساتھ مزید صورتیں سامنے آنا شروع ہو گئی ہیں! ان میں ایک شکل انٹرنیٹ پر ووٹ کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار ہے! لہذا یہاں آپ اپنی رائے دیں کر احتجاج ریکارڈ کروالیں! آیا فلسطین یا ۔۔۔۔۔۔! نیزاپنے برطانوی دوستوں کو یہ پٹیشن سائن کرنے کی طرف راغب کریں!!

غزہ؛ تصویر کہانی

غزہ تصویر کہانی میں یہ کہانی ایک ماں و بیٹے کی ہے! دونوں اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم رہتے تھے اور پھر۔۔۔۔