قابض فوج بمقابلہ محافظ فوج

فوج جب سرحدوں کی حفاظت کے بجائے اپنی عوام کو بندوق کے روز پر فتح کرنے نکلے تو تاریخ بتاتی ہے کہ ملک کی فاتح بیرونی طاقتیں ہوتی ہیں! ایسے ملکوں کی عوام عموما بیرونی حملہ آوروں کی آمد پر اگر قوم نہ بنے تو اُن کی رخصتی کے بعد اقوام میں بدل جاتی ہیں! حملہ آور ایسے موقعوں پر "لوٹ کا مال" جسے مال غنیمت مانا جاتا ہے سے آگے اگر حاصل کرنا چاہے تو اتنا کہ اپنے ملک کے مفادات کی حفاظت اُن نئی آزاد "اقوام" سےایسے کرواتے ہیں جیسے مالک نوکر سےاپنے کام!
قابض کا قبضہ اگر لمبا ہو تو آزادی کی جدوجہد بغاوت ہوتی ہے۔ حملہ آور جب حاکم کا روپ اپنا لے تو عموما مقامی کارندے اپنوں سے غداری کو حاکموں سے وفاداری جان کر اپنی پہچان کو داغدار کر کے اپنوں کی محکومی کو طوالت بخشتے ہیں! بہادری کی داستانیں صرف بغاوتوں سے ہی جنم نہیں لیتی بلکہ آزادی کی داستانوں کو کچلنے والوں کی بہادریاں بھی بطور مثال پذیرائی پاتی ہیں!بہادر جان پر ہی نہیں کھیلتا بلکہ جانوں سے بھی کھیل جاتا ہے۔!
اچھائی و برائی کا فیصلہ عام طور پر اعمال سے نہیں نیتوں سے ہوتا ہے! کاوش سے نہیں مقصد سے ہوتا ہے! مگر منزل کے تعین کو منتخب راستہ کامیابی کا ہو تو تب بھی راستے اہم ہیں! صرف نتائج ہی نہیں طریقہ کار بھی بتاتا ہے قابض کون ہے اور محافظ کون۔ !
(لکھا تو میں نے ہی ہے مگر اگر آپ کو سمجھ آ جائے تو مجھے بھی سمجھا دینا)

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے

اسرائیل کا غزہ پر فوجی دہشت گردی کا تیسرا ہفتہ اپنے اختتام کی طرف گامزن ہے اور ہنوز اس جارحیت کو روکنے کی تمام کاوشیں ناکام ہوئی ہیں، نیز اوباما کی حلف برداری تک یہ کوشش کامیابی سے ہمکنار ہوتی نظر نہیں آتی! ممکن ہے اُس وقت اس جارحیت کو روک کر اسرائیل اِس کا سہرا اوبامہ کے سر ڈال دے اور ساتھ ہی آنے والے الیکشن میں اسرائیل کی حکمران پارٹی مخصوص فائدہ اُٹھائے۔

ان تین ہفتوں میں روزانہ پچپن کی اوسط سے اب تک قریب ایک ہزار ستر فلسطینی مسلمان شہید ہوئے، جن میں پانچ سو  تک بچے و خواتین شامل ہیں جو کُل شہادتوں کا قریب پنتالیس فیصد بنتا ہے، اس کے علاوہ پانچ ہزار تک زخمی ہوئے ہیں اور پانچ لاکھ کی تمام  آبادی متاثر و قریب نوے ہزار سے ایک لاکھ  بے گھر ہو چکے ہیں ۔

جبکہ  جواب میں صرف چودہ اسرائیلی مارے گئے! ہلاکتوں کی تعداد و فرق یہ ثابت کرنے کے لئے کافی ہے کہ آیا یہ جنگ ہے یا اسرائیلی ریاست کی طرف سے کھلی دہشت گردی؟ اسرائیلی افواج نے پورے غزہ کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے! ایک ایک رات میں قریب قریب ساٹھ ہوائی حملے غزہ پر ہوتے ہیں اور اسرائیل جواب میں چند حماس کے راکٹ کے حملوں کو جواز بناتا ہے جبکہ خود جون دوہزار آٹھ سے امن معاہدہ کے اختتام تک گاہے بگاہے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جن دوسو پچاس افراد کو شہید کرنے کا جرم اُسے یاد نہیں۔

یہ دہشت گردی نہیں بلکہ وحشت گردی ہے!

اسرائیل نے قریب صرف چار سو دس فلسطینی بچے اپنی وحشت کا شکار بنائے ہیں اور قریب دوہزار زخمی کئے ہیں، یہ وہ تعداد ہے جو جمسانی طور پر متاثر ہوئے ہیں مگر نفسیاتی بیمار ہوئے یا متاثر اُن کا ابھی علم ہی نہیں! اب اسرائیل کو مستقبل میں خود کُش حملوں کی شکایت نہیں کرنی چاہئے کہ خودکُش بمبار تو وہ خود گزشتہ تین ہفتوں سے تیار کر رہا ہے۔

اپنوں کی لاشوں پر نا معلوم کتنے لوگوں نے بدلے کا عہد کیا ہو! اور کتنے آزاد فلسطین کی عملی جدوجہد کے راہی بننے کے خود سے آمادہ ہو چکے ہوں!۔ اسرائیل اس دوران غزہ کی آبادی کو ایک تجربہ گاہ کے طور پر لے کر اُس پر اپنا جدید اسلحہ استعمال کر رہا ہے جو پہلے دیکھنے میں یوں نہیں آئے ظالم وہ بم گرا رہا ہے جن سے انسانی جسم بری طرح سے جھلس جاتا ہے اور انسان ایڑیاں رگڑرگڑ کر اپنی جان دے دیتا ہے۔

اس کے علاوہ  سفید فاسفورس (اس کا ستعمال جنیوا کنونشن کے تحت ممنوع ہے، 1995 میں اسرائیل نے اس پر دستخط کئے تھے)  بم جو انسانی گوشت کو ہڈیوں تک جلا دیتا ہے اُن کے زیراستعمال ہے ، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ایسے زخمی ہسپتال میں لائے جا رہے ہیں جن کے جسم بری طرح سے جھلس چکے ہوتے ہیں (جس کا مشاہدہ محتلف جاری ہونے والے تصاویر سے ہوتا ہے)۔

امریکہ و اسرائیل کو حماس سے شکایت ہے جو ایک جمہوری عمل سے اقتدار میں آئی تھی اور ہے،  شکایت وہ اُن مسلم حکمرانوں سے کررہے ہیں جو اپنے اپنے ملک میں عوام کے منتخب نمائندے نہیں ہیں!

اِسے کیا کہا جائے؟

چند مسلم حکمرانوں کے گھروں میں یہودی بیویاں ہیں! اہل بنی اسرائیل میں اگر مرد باہر شادی کر لے تو خارج مگر اگر عورت ایسا کرے تو اُس کی اولاد بنی اسرائیل کی اولاد کہلاتی ہے! اس لئے انہیں اعتراض نہیں ہوتا اپنی عورتوں پر۔ اس کا ثمر مصر کی پالسی کی صورت میں نظر آ رہا ہے! جہاں کے تاجروں کی بڑی تعداد یہودی بیویاں رکھتے ہیں۔

آج جب اہل فلسطین کو ضرورت ہے تو مصر نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں!

کسی بھی قسم کی تقل حمل بند ہے، خواراک و ادویات کے لئے منتظر فلسطینی سرحد کے اُس پار جبکہ خوارک و ادویات سرحد کے اس پار ہیں۔ امدادی ٹیموں کو بھی مصر فلسطین میں داخلے کی اجازت نہیں دے رہا صرف اٹھائیس زخمی مصر میں داخل ہو پائے ہیں۔ منافقت دیکھے اسرائیل سے ہر طرح معاہدے و کاروبار جاری ہیں مصر کے وہ فلسطینوں کو تیل دینے سے انکاری ہے مگر قابض اسرائیل سے اگلے پچیس سال تک آج کی کی قیمت میں تیل کی فراہمی کا وعدہ ایفا کر رہا ہے!

یار لوگ پُر امید ہیں مستقبل قریب میں سب اچھا ہو جائے گا!

اور آج کی صورت حال کا ذمہ دار حکمرانوں کو دیتے ہیں!

مگر میں نا امید ہوں ، آگے کچھ نہیں ہونے والا، ممکن ہے فلسطینی مسلمانوں کا قتل عام رُک جائے مگر مسلمانوں کا نہیں رکتا نظر آتا۔ ان کی آواز سننے والا بھی کوئی نہ ہو گا!

او آئی سی بھی صفر جمع صفر کا مجموعہ ہے اور بقول ضمیر جعفری یو این او میں یو دراصل یو ایس اے (امریکہ) کا ہے باقی سب کے لئے نو(NO) ہی نو ہے۔

جب تک عوام کے اعمال درست نہیں ہوں گے حکمران بھی اچھے نہیں ملیں گے، خود تو ہم ہر طرح کی برائیوں میں مبتلا رہے اور حاکم پاکباز ہوں یہ کیسے ممکن ہے؟

کہیں غزہ کو سزا خود ہماری ھی وجہ سے تو نہیں مل رہی ہے

 

عالمی اخبار کے لئے لکھی گئی میری ایک تحریر!!

غزہ؛ تصویر کہانی

غزہ تصویر کہانی میں یہ کہانی ایک ماں و بیٹے کی ہے! دونوں اپنے خاندان کے ساتھ خوش و خرم رہتے تھے اور پھر۔۔۔۔