درمیانہ اُمیدوار!

یار الیکشن کی تیاری کیسی ہے؟
“ہم نے کیا تیاری کرنی ہے، ملک میں چھٹی ہو گی اور ہم جا کر ووٹ ڈال آئیں گے”
اچھا جی تو پھر انتخاب کر لیا اُمیدوار کا؟
“ہاں یار جب ووٹ ڈالنا ہے تو کسی نہ کسی کا انتخاب تو کرنا پڑے گا ناں”
تو کس پارٹی کو ووٹ ڈال رہے ہو؟
“یار آزاد امیدوار کو ڈالوں گا کسی سیاسی پارٹی کو ووٹ نہیں ڈال رہا”
اچھا! لگتا ہے کوئی جاننے والا تمھارا کھڑا ہے انتخاب میں؟
“نہیں نہیں!یار میں تو اُسے جانتا بھی نہیں! چھ مہینے پہلے ہمارے گھر آیا تھا جب امجد کے ہاں بچی ہوئی تھی بس اُس کے بعد اب ووٹ مانگنے آیا ہے”
اوہ خیر تیرے گھر آتا جاتا ہے اور تو کہہ رہا ہے تو جانتا بھی نہیں ہے اُسے ! بڑا ڈرامے باز ہے تو! کون ہے وہ؟
“ابے میرا کوئی رشتے داری نہیں ہے بندیا رانا سے”
اوئے تو کھسرے کو ووٹ دے گا؟
“ہاں! کیوں کیا مسئلہ ہے؟”
ابے کسی مرد کو نہ سہی کسی عورت کو ہی ڈال دے یہ کیا کہ تو ہجڑے کو ووٹ دینے لگا ہے! کیسا لگے گا ایک ہجڑا اسمبلی میں؟
“اور میاں تمہارا مطلب ہے پچھلی اسمبلی میں کوئی ہجڑا نہیں تھا؟”
ہاں نہیں تھا ناں!
“ اچھا جی! تمھارے ملک میں ڈرون حملے ہوئے، دوسرے ملک کی فوج اندر آ کر آپریشن کر کے چلی گئی، وہ اپنے بندے کو قاتل ہونے کے باوجود بچا کر لے گئے، تمہاری فوج سے وہ اپنے مفادات کا تحفظ کروا رہے ہیں، اور کسی پارلیمنٹیرین کو اس پر منافقت سے پاک بات کرنے کی توفیق نہیں ہوئی، تم کہتے ہو سابقین ہجڑے نہیں تھے.”
حد ہوتی ہے تم کسی اور کو موقع دو اور بھی کئی جماعتیں ہیں، ہجڑا منتخب کرنا کیا ضروری ہے؟
" اب رہنے دو! شیر بلٹ پروف شیشے کے پیچھے سے دھارتا ہے اور بلا جو ہے وہ بیبیوں سے میک اپ کر کے سونامی لانے کو نکلتا ہے باقی رہ گئے ترازوں والے تو اُن کی مردانگی یہاں سے نظر آتی ہے کہ جس قوم کی بیٹی کے نام پر کئی ماہ سے سیاست ہو رہی تھی اُس کی بہن کے مقابلے بندہ اُتارا ہوا ہے. اور باقی تو ہیں ہی سابقہ حکمران. اس لئے ایک خواجہ سرا ہی بہتر انتخاب کہ اُس میں کچھ نا کچھ مردانگی ہے اور مردانگی جن میں ہو مسئلہ وہ ہی نظر آتی ہے، ذہنی ہجڑوں سے بہتر ہے جسمانی ہجڑا منتخب کر لیا جائے!”
جا یار تو جس کو مرضی ووٹ ڈال! میرے سے غلطی ہوئی جو تجھ سے پوچھ لیا!

ہم بھی امیدوار ہیں!!

گزشتہ سات سال سے ہم آپ کے سامنے ہیں! آپ ہمارے کردار سے واقف ہیں۔ ہر شخص میں کوئی نہ کوئی خامی ہوتی ہیں ممکن ہے ہم میں بھی کچھ خامیاں ہوں۔ سیاست کے بارے ہمارےنظریات یقین اچھے نہیں مگر آج کے جمہوری دور میں ہم ووٹ کی طاقت سے ہی تبدیلی لا سکتے ہیں!
ہمیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ اچھی و عمدہ قیادت کا ملک میں فقدان ہے لہذا اس بات کا اظہار ہم اکثر و بیشتر کرتے رہے ہیں ۔ جب الیکشن کے فارم پُر ہونا شروع ہوئے تو عدالت میں بھی ہم نے اپنے ان خیالات کا اظہار اپنے دوستوں سے کیا لہذا پرسوں دوستوں سے مشورے کے بعد ہم نے اپنے حلقہ PS-121 سے الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر کے فارم جمع کروا دیئے تھے جو آج منظور ہو گئے ہیں!۔
آزاد امیدوار کی حیثیت سے فارم جمع کروائے تھے، مگر پھر APML نے ٹکٹ کا کہا ہے!ایم کو ایم کے امیدوار سے ہماری بات چیت چل رہی ہے دیکھے کیا رزلٹ نکلتا ہے!
آپ میں سے کون کون الیکشن کے سلسلے میں ہمارا ساتھ دے گا؟ جو حلقے میں رہتے ہیں وہ ووٹ ڈال دیں اور جو حلقے سے باہر ہے وہ نوٹ ڈال دے تاکہ الیکشن کے اخراجات میں آسانی ہو۔
اس طرح کا اپریل فول تو منایا جا سکتا ہے. اللہ اس جھوٹ کو معاف کرے.