انتخاب

پنجابی نظم

اُٹھ شاہ حُسینا ویکھ لے اسّی بدلی بیٹھے بھیس ساڈی جِند نمانی کُوکدی اسی رُلگئے وِچ پردیس ساڈا ہر دم جی کُرلاوندا، ساڈی نِیر وگاوے اَکّھ اساں جیوندی جاندے مر گئے، ساڈا مادھو ہوئیا وَکھ سانوں سپّ سمے دا ڈنّگدا، سانوں پَل پَل چڑھدا زہر ساڈے اندر بیلے خوف دے، ساڈے جنگل بن گئے شہر اساں شوہ غماں وِچ ڈُبدے، ساڈی رُڑھ گئی ناؤ…

تک بندی

انا

مجھے، تم سے، پیار نہیں ہے، یہ دعوٰی ہے، اقرار! نہیں ہے، تیری تمنا ہے، سوال نہیں ہے. (عنوان سلیم بھائی نے تجویز کیا ہے.)

تک بندی

مردے کو اب موت نہیں ہے

آنکھ کا پانی اور تیری یاد! پچھتاوے کی انوکھی آگ. صبح صبح جو رو لیتا ہوں غم کا غبار دھو لیتا ہوں دن گزرے گا جدوجہد میں رات پھر ہو گی تیری یاد غلطی کا کوئی مداوا نہیں ہے سینہ کوبی ہرگز دعوی نہیں ہے تکلیف ہے مگر چوٹ نہیں ہے مردے کو اب موت نہیں ہے

اسلام

عید مبارک

آپ تمام احباب کو عید مبارک!! ملک اور ملک سے باہر ہر جگہ عید و عیدی کے چرچے ہیں عید کی مناسبت سے چند شعر ذیل میں ہیں اور اگر آپ کو کوئی یاد ہو تو ہم سے شیئر ضرور کیجئے گا۔ غم کے بادل تھے فصاؤں میں کچھ ایسے چھائے دل کی دنیا میں منور نہ ہوا عید کا چاند ہیں میرے ساتھ ساتھ ازل سے اُداسیاں تو کس لئے اُداس ہے آخر اے ہلال…

ٹیگ

وجہ

پوچھتے کیا ہو؟ بہانے اور بھی بہت ہیں بات! مگر بس اتنی ہے مجھے محبت کرنی تھی < اُسے محبت ہونی تھی (ذاتی چول)

اردو

میرے وطن کے اُداس لوگو!

میرے وطن کے اُداس لوگو، نہ خود کو اتنا حقیر سمجھو کہ کوئی تم سے حساب مانگے، خواہشوں کی کتاب مانگے نہ خود کو اتنا قلیل سمجھو، کہ کوئی اُٹھ کے کہے یہ تم سے وفائیں اپنی ہمیں لوٹا دو، وطن کو اپنے ہمیں تھما دو اُٹھو اور اُٹھ کر بتا دو اُن کو، کہ ہم ہیں اہل ایماں سے نہ ہم میں کوئی صنم کدہ ہے، ہمارے دل میں تو اک ِخدا ہے جھک…

انتخاب

عید اور سیلاب زدگان

دُکھ کی برسات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے غم کی بہتات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے گھات ہی گھات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے دن نہیں، رات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے برملا حرکت مزموم کئے جاتے ہو کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو ایسا منظر نہ کبھی چرخ نے دیکھا توبہ گھر کی چھت ہے، نہ میسر کوئی سایا، توبہ بھوک اور پیاس نے ہر سمت سے گھیرا توبہ …

عید اور سیلاب زدگان
اردو

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے سنا ہے شیر کا جب پیٹ بھر جائے تو وہ حملہ نہیں کرتا سنا ہے جب کسی ندی کے پانی میں بئے کے گھونسلے کا گندمی سایہ لرزتا ہے تو ندی کی روپہلی مچھلیاں اس کو پڑوسی مان لیتی ہیں ہوا کے تیز جھونکے جب درختوں کو ہلاتے ہیں تو مینا اپنے گھر کو بھول کر کوے کے انڈوں کو پروں میں تھام لیتی ہے سارا جنگل جاگ…

سنا ہے جنگلوں کا بھی کوئی دستور ہوتا ہے
اردو

شاعر مشرق اور اُن کا پڑپوتا

آج اقبال ڈے ہے سارا پاکستان چھٹی منا رہا ہے۔ اقبال کے بارے میں بہت کچھ لکھا جا سکتا ہے وہ شخص جس پر کئی کتابیں لکھیں گئی، وہ شاعر ہی نہیں فلاسفر و مدبر بھی تھے، مگر اب بھی بہت کچھ ہے لکھنے کو مگر ہم نہیں لکھتے آج اُن کے بارے میں۔ اس بار میڈیا کے لئے یہ دن بھی باقی دنوں کی طرح کمرشلائز ہو گیا ہے موبی لنک بنیادی اسپانس…

انتخاب

دیہاڑی دار

اِک دیہاڑے انکّھاں والا اک مزدور سڑک کنارے وانگ کبُوتر اکھّاں مِیٹی تِیلے دے نال ماں دھرتی دا سینہ پھولے خورے کنک دادا نہ لبھّے رمبّا کہئی تے چِھینی ہتھوڑا گینتی اپنے اَگے دھر کے چوری اکھّیں ویکھ کے اپنے آل دوالے کر کے مُوہنہ اسماناں ولّے ہولی ہولی بھیڑے بھیڑے اَکھّر بولے اُچّی اُچّی اُچیا ربّا، سچیا ربّا، چنگیا ربّا تو نہیوں ڈبی…

اسلام

خود کش بمبار لڑکے سے

سُرخ سیبوں جیسے گالوں والے خوبصورت لڑکے تمھارا نام کیا ہے؟ کیا کہا عبدلقیوم ؟ ارے میرے منے کا بھی تو یہی نام ہے وہ جو صبح اسی رستے سے اسکول گیا ہے جس پہ تم جیکٹ پہنے جا رہے ہو تمہیں کہیں ملا تو نہیں شکر ہے اس وقت تک تو وہ اسکول پہنچ گیا ہو گا اُس کے ابو اسی سڑک کی ایک پولیس چوکی پہ پہرہ دے رہے ہیں عبدلقیوم اُن سے روز گلے مل کے…

انتخاب

خوابِ محبت کی ایک متروک تعبیر

محبت کب کتابوں میں لکھی کوئی حکایت ہے؟ محبت کب فراقِ یار کی کوئی شکایت ہے؟ محبت ایک آیت ہے جو نازل ہوتی رہتی ہے محبت ایک سرشاری ہے، حاصل ہوتی رہتی ہے محبت تو فقط خود کو سپردِ دار کرنا ہے انالحق کہ کے اپنے عشق کا اقرار کرنا ہے محبت پر کوئی نگران کب مامور ہوتا ہے؟ محبت میں کوئی کب پاس اور کب دور ہوتا ہے؟ میں تنہا…

پاکستان

وطنی مہاجر

پرائی جنگ جب اپنی ہو، آنگن میں جب اپنے مریں، دشمن دوست سمجھے جائیں، گھر تب تباہ ہوتے ہیں، اپنے بے گھر ہوتے ہیں، رہنما جب جھک جائیں، حکمراں بک جائیں، اپنوں کی ہو قیمت وصول، وہ زخم خود ہی لگتے ہیں، بھیک جن پر ملتی ہے، محافظ جب ہو بے یقین، خود ہی پر وار کرتے ہیں، اپنوں سے ہی ڈرتے ہیں،…

انتخاب

دل دریا

لوگوں نے کہا اس در سے کبھی کوئی نا اُمید نہیں لوٹا کوئی خالی ہاتھ نہیں آیا میں بھی لوگوں کے ساتھ چلا چہرے پر گرد مِلال لیے اک پر امید خیال لیے جب  قافلہ اس در پر پہنچا میں اس گھر کو پہچان گیا پھر خالی ہاتھ ہی لوٹ آیا اس در  سے مجھے کیا ملناتھا وہ گھر تو میرا اپنا تھا شاعر: سرشار صدیقی

انتخاب

میں باغی ہوں میں باغی ہوں

اس دور کے رسم رواجوں سے ان تختوں سے ان تاجوں سے جو ظلم کی کوکھ سے جنتے ہیں انسانی خون سے پلتے ہیں جو نفرت کی بنیادیں ہیں اور خونی کھیت کی کھادیں ہیں میں باغی ہوں میں باغی ہوں جو چاہے مجھ پر ظلم کرو وہ جن کی ہونٹ کی جنبش سے وہ جن کی آنکھ کی لرزش سے قانون بدلتے رہتے ہیں اور مجرم پلتے رہتے ہی…

امجد اسلام امجد

ٹوٹ پھوٹ

بھیڑ میں زمانے کی ہاتھ چھوڑ جاتے ہیں دوست دار لہجوں میں سلوٹیں سی پڑتی ہیں اک ذرا سی رنجش سے شک کی زرد ٹہنی پر بھول بد گمانی کے اس طرح سے کھلتے ہیں زندگی سے پیارے لوگ اجنبی سے لگتے ہیں غیر بن کے ملتے ہیں عمر بھر کی چاہت کو آسرا نہیں ملتا دشتِ بے یقینی میں راستہ نہیں ملتا خاموشی کے وق…

انتخاب

غلاموں کے لئے

حکمت مشرق و مغرب نے سکھایا ہے مجھے ایک نکتہ کہ غلاموں کے لیے ہے اکسیر دین ہو، فلسفہ ہو، فقر ہو، سلطانی ہو ہوتے ہیں پختہ عقائد کی بناء پر تعمیر حُرف اُس قوم کا بے سود، عمل زار و زبوں ہو گیا پختہ عقائد سے تہی جس کا ضمیر! شاعر؛ علامہ اقبال

انتخاب

فتنہ خانقاہ

اک دن جو بہر فاتحہ اک بنت مہروماہ۔۔۔۔. پہنچی نظر جھکائے ہوئے سُوئے خانقاہ زہاد نے اٹھائی جھجکتے ہوئے نگاہ ۔۔۔۔..ہونٹوں میں دب کے ٹوٹ گئی ضربِ لاالہ براپا ضمیر زہد میں کہرام ہو گیا ایماں دلوں میں مَیں لرزہ براندام ہو گیا ہاتھ اس نے فاتحہ کو اٹھائے جو ناز سے۔۔۔۔ آنچل ڈھلک کے رہ گیا زلِف دراز سے جادو ٹپک پڑ…

انتخاب

امبی دے بُوٹے تھلے

اِک بُوٹا امبی دا، گھر ساڈے لگا نی جِس تھلے بہنا نی، سُرگاں وِچ رہنا نی کیہ اوس دا کہنا نی، ویڑھے دا گہنا نی پر ماہی باجھوں نی، پردیسی باجھوں نی ایہہ مینوں وڈھدا اے، تے کھٹا لگدا اے ایس بُوٹے تھلے جے، میں چرخی ڈاہنی آں کوئل دِیاں کُوکاں نی، مارن بندوقاں نی پِیڑھے نُوں بھناں میں، چرخی نُون پُ…