9/11/2010

عید اور سیلاب زدگان

دُکھ کی برسات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
غم کی بہتات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
گھات ہی گھات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
دن نہیں، رات ہے سیلاب کے ماروں کے لئے
برملا حرکت مزموم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



ایسا منظر نہ کبھی چرخ نے دیکھا توبہ
گھر کی چھت ہے، نہ میسر کوئی سایا، توبہ
بھوک اور پیاس نے ہر سمت سے گھیرا توبہ
لقمے لقمے کو ترستی ہے رعایا توبہ
آہ کو واہ کامقسوم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



لے گیا پانی بہا کر سبھی تاثیریں ہیں
بے مزہ خواب ہوئے، لٹ گئی تعبیریں ہیں
ان میں رانجھے ہیں کئی اور کئی ہیریں ہیں
آج سب غربت و افلاس کی تصویریں ہیں
عدل کو عدل سے محروم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو



مانگ کر دل سے دعا کام بحالی کا کرو
ہو چکا رقصِ بلا کام بحالی کا کرو
توڑ کر کاسہ ذرا کام بحالی کا کرو
کچھ کرو خوف خدا کام بحالی کا کرو
فکرِ شفاف کو موہوم کئے جاتے ہو
کیوں اسے عید سے موسوم کئے جاتے ہو

شاعر: جان کاشمیری


4 تبصرے:

  1. الفاظ دم دار ہین- آخری بند دعائیہ بہت عمدہ ہے-- یہ طرز شعر عوامی ہے-- ابھی تک تو سننے میں ارہا ہے عوام بس ازمائی جارہی ہے، چرخ کی بے رحمی کیا کہے-- زمین اور زمین والے بھی کیا کم ھوے-- ایک فلمی گانا یا د ایا طلعت محمود نے گایا "زندگی دینے والے سن" حبیب جالب ھو کہ نظیر اکبرابادی ہو کہ جان کاشمیری ھو-- عوام کا دل کرکھتے ہین

    جواب دیںحذف کریں
  2. عیدکارڈوں کے سلسلے فراز
    دوریوں کی گھٹن مٹا ئیں گے
    پیار کا یہ حقیر سا تحفہ
    یاد ماضی اٹھا کے لائے گا
    سات رنگوں کا خوبر و کاغز
    فا صلے سب مٹا کے آئے گا
    جب یہ کاغز حسین ٹکڑا
    تیر ے ہاتھوں کا لمس پا ئے گا
    اجنبی دیس میں اداسی کا
    سارا ماحول ٹوٹ جا ئے گا

    جواب دیںحذف کریں
  3. بہت ہی خوب کیا بات ہے۔ ایک ایک لفظ جیسے دل سے نکلا ہے۔اللہ پاک زور قلم اور زیادہ

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔