ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: May 2006

جھاڑیوں میں!!!

جب میں کالج میں پڑھتا تھا تواس وقت کلاس میں ہم لڑکے (لڑکیاں نہیں) ایک شرارتی جملہ یا الفاظ کا سابقہ اکثر اپنے جملوں میں لگالیا کرتے تھے جس سے اُس کا مطلب ذو معٰنی ہو جاتا تھا!!!!! وہ جملہ یا الفاظ کا مرکب تھا “جھاڑیوں میں!!!!“۔ آج کیا کرنے کا ارادہ ہے جھاڑیوں میں!!!! ، شام کو اسٹڈی کرنے آ رہے ہو جھاڑیوں میں!!!! بھائی کلاس اٹینڈ کرنے آ رہے ہو جھاڑیوں میں!!!!! اورایسے بے شمار جملے جو اس سابقہ کی بناء پر ذو معنٰی تاثر دیتا تھا یوں اصل بات کچھ ہوتی اور مطلب کچھ!!! مگر ایک مرتبہ یہ جملہ وہ ذو معنٰی تاثر قائم نہ کر سکا۔۔۔۔۔ چلو نماز پڑھنے چلے جھاڑیوں میں~~~!!! آپ کسی ایسے سابقہ کو جانتے ہیں!!!!؟؟؟؟

آپ کی رائے!!

اس فٹ بال کے بارے میں آپ کی رائے!!!!! اس پر سعودی عرب کا جھنڈا ہے۔۔۔۔۔ جس پر پہلا کلمہ!!!! جو اسرائیل اور ڈنمارک کے جھنڈوں کے قریب ہے۔۔۔۔۔ مجھے نہیں معلوم یہ کہاں بنا!!! آیا یہ کسی کھیل میں استعمال ہو گا یا نہیں۔۔۔۔۔

تازہ تُک بندی

سنا ہے!
اسے مرنے کی تمنا ہے،
جا کہو اس سے،
آ ملے مجھ سے،
کہ
روز مرتا ہوں میں۔

کس کی تلاش ہے تمہیں

گوگلنگ ایک نیا اور بڑے مزے کا شوق ہے بلکہ بعض تو اس کے عادی ہوتے جا رہے ہیں!! اب کو ن کیا تلاش کرتا ہے یہ تو وہ ہی جانتا ہے اگر آپ اس سے متعلق آگاہی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو میں آپ کی مدد کرنے سے قاصر ہوں!!! مگر اس کے بارے میں کچھ شواہد کہ کون کیا تلاش کرتا ہے یا یہ جاننے کی کوشش کہ کہاں کے لوگ کیا تلاش کرتے ہیں تو آپ گوگل ٹرینڈ سے جان یا جانچ سکتے ہیں!!!! اردو کی تلاش میں اہل فیصل آباد سب سے آگے نظر آتے ہیں اور ہندی کی تلاش میں نئی دہلی والے ہیں۔ اسلام آباد کے شہری پاکستان کی تلاش میں سرکردہ ہیں! اہل پاکستان کے بعد ہانک کانک والوں کو پاکستان کی تلاش ہے!!! ارے انہیں کیوں؟؟؟؟ ہم تو سمجھ رہے تھے کہ پاکستانی کی تلاش میں کوئی اور ہے(سمجھ لیں ناں) مگر یہ تو خود پاکستان کے لوگ ہیں جو پاکستانی کی جستجو میں ہیں!!! واشنگٹن ڈی سی والوں کو بش اور بن لادن کی تلاش ہے!! لو کر لو گل!!!!

عنوان کیا ہو!

ہمارے نعیم بھائی کا کہنا ہے کہ اسے “مملکت خداداد میں بت فروشی“ کہا جائے مگر میں متفق نہیں آپ کی رائے!!!!

بھوک!!

بچ اوئے!!!

برلن کا سرد خانہ

“تم جیو ہزاروں سال ہر سال کے دن ہوں دس ہزار“
ممکن ہے اُس کی عمر کے گزرے ٢٨ سالوں میں کسی نے کبھی تحریری یا زبانی دل سے اسے یہ دعا دی ہو!!!! اس نیک تمنا کا اظہار کیا ہو!!! اور وہ لمحہ قبولیت کا بن گیا!!! ہزاروں برس کی عمر اسے ہی تو کہتے ہیں!!!! یوں ہی تو ملتی ہے شائد!!! جو شہید ہو وہ مرتا نہیں، وہ شہید ہی ہے۔۔۔۔۔۔ ٤ دسمبر ١٩٧٧ کو عامر عبدلرحمان چیمہ حافظ آباد میں پیدا ہوا تھا! تین بہنوں کا ایک بھائی!!! دو بہنیں اس سے بڑی تھی اور ایک چھوٹی!! کافی ذہین تھا!!! نیشنل کالج آف ٹیکسٹال فیصل آباد سی بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعٰلی تعلیم کے لئے ٢٠٠٤ میں جرمنی چلا گیا!!! جرمن یونیورسٹی آف ایپلائیڈ سائنسز میں داخلا لیا! شعبہ ٹیسکسٹائل اینڈ کلودنگ منیجمنٹ میں تیسرے سیمسٹر مکمل ہوئے! چوتھے سیمسٹر کے آغاز میں ابھی ایک ماہ باقی تھا! لہذا ان چھٹیوں کو منانے کرنے کے لئے اپنی ماموں زاد بہن (جو برلن میں اپنے خاوند کے ساتھ رہتی ہے) کے پاس چلا گیا!!! ٢٠ مارچ کو عامر کو جرمن پولیس نے گرفتار کر لیا!!! الزام یہ تھا کہ وہ جرمن اخبار “ڈائی ویلٹ“ کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کیا ہے!!!! حملہ کی وجہ یہ تھی کہ اس اخبار نے “توہین رسالت“ پر مبنی خاکوں کو شائع کیا اور “ناموس رسالت“ پر حملہ کے مرتکب ہوا!!! ٢٠ مارچ کو یہ جانثارِ رسول جرمن پولیس کی حراست میں گیا!! اور ٣ مئی کو صبح ٨ بجے جرمن پولیس کے تشدد کی بناء پر ہلاک ہوا!!!! جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ نے خود کشی کی ہے! کیا یہ ممکن ہے ایک عاشق رسول ایک ایسی موت (خود کشی) مرے جسے خود رسول اللہ نے منع فرمایا ہو!!! لازم نہیں!!! یہ جرمن پولیس کا بہانہ ہے!!! ٤٤ دن تک اپنی حراست میں رکھنے کے باوجود جو پولیس اس نوجوان کے خلاف کوئی کیس تیار نہ کرسکی !!! وہ اب ایسے ہی بہانے تراشے گی!!!! جومن پولیس نے ٢٣ مارچ کو عدالت سے اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے کی اجازت مانگی !!! پھر کچھ خاص پیش رفت نہ ہو سکی!!!! اتنی بھی نہیں کہ اس کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا جاسکے!!! برلن کے سرد خانے میں اس کا جسم وطن واپسی کا منتظر ہے!!!! یہ واپسی آٹھ یا نو مئی کو ہو گی شائد!!!!
Tags:

سنگھ شکتی

“متحدہ قوت“ یہ ان جنگی مشقوں کا نام ہے !!!! جو اپنا پڑوسی! ہمسایہ! یار! نیز نا معلوم اور کیا کیا !!! ہماری سرحدوں کے پاس کر رہا ہے! جنگی قوت کا مظاہرہ کرنا یا اس میں بہتری لانا ایک بات مگر جو مقصد ان جنگی مشقوں کا بیان کیا جارہا ہے وہ قابل برداشت نہیں!!!! کم از کم کسی محب وطن پاکستانی کے لئے تو نہیں! مقصد کیا ہے؟ خود بقول بھارتی کمانڈر یہ تیاری یا پریکٹس ہے کہ کس طرح پاکستان کو تقسیم کیا جائے! جی پاکستان کے ٹکڑے!!! لازمی سی بات ہے ایسا کرنے یا سوچنے والا پاکستان کا دوست نہیں ہو سکتا!!! ادھر ہمارے حکمران ان سے یارانہ لگانے کے کھپت میں مبتلا نظر آتے ہیں! اور وہ (ہمسایہ) ہمیں دیوار سے لگانے کا شوقین نظر آ رہا ہے، اس وقت جب دونوں ممالک کے وفود مختلف امور پر بات چیت (یا شائد چِیٹ) کر رہے ہیں ، بس سروس سے کہانی ٹرک سروس پر پہنچ گئی ہے، ثقافتی طائفوں اور طوائفوں کا تبادلہ ہو رہا ہے، وہاں کی فلمیں یہاں سینما میں لگانے کی اجازت دی جارہی ہے، ایسے میں یہ“سنگھ شکتی““ (متحدہ قوت) نامی جنگی مشقیں ؟؟؟؟؟ کہیں!!! وہ کیا کہتے ہیں “بغل میں چھری اور منہ میں رام رام“ والی بات تو نہیں!!!! اب تک بھارتی سیاست دانوں کے پاکستان مخالف بیان کو ہم مقامی سیاست اور اخبارات میں جگہ بنانے کی کوشش!!! “تاج محل“ کے لاہور میں پرئیمیر پر شراب کے نشہ میں مدہوش بھارتی فنکار کی پاکستان کے خلاف زہرفشانی کو ایک کنجر کا کنجرپن سمجھا مگر اب اسے کس کھاتے میں ڈالیں!!!! پاکستان نے اس پر ایک مذمتی بیان جاری کیا اور بس!!!!!