5/07/2006

برلن کا سرد خانہ

“تم جیو ہزاروں سال ہر سال کے دن ہوں دس ہزار“
ممکن ہے اُس کی عمر کے گزرے ٢٨ سالوں میں کسی نے کبھی تحریری یا زبانی دل سے اسے یہ دعا دی ہو!!!! اس نیک تمنا کا اظہار کیا ہو!!! اور وہ لمحہ قبولیت کا بن گیا!!! ہزاروں برس کی عمر اسے ہی تو کہتے ہیں!!!! یوں ہی تو ملتی ہے شائد!!! جو شہید ہو وہ مرتا نہیں، وہ شہید ہی ہے۔۔۔۔۔۔ ٤ دسمبر ١٩٧٧ کو عامر عبدلرحمان چیمہ حافظ آباد میں پیدا ہوا تھا! تین بہنوں کا ایک بھائی!!! دو بہنیں اس سے بڑی تھی اور ایک چھوٹی!! کافی ذہین تھا!!! نیشنل کالج آف ٹیکسٹال فیصل آباد سی بی ایس سی کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد اعٰلی تعلیم کے لئے ٢٠٠٤ میں جرمنی چلا گیا!!! جرمن یونیورسٹی آف ایپلائیڈ سائنسز میں داخلا لیا! شعبہ ٹیسکسٹائل اینڈ کلودنگ منیجمنٹ میں تیسرے سیمسٹر مکمل ہوئے! چوتھے سیمسٹر کے آغاز میں ابھی ایک ماہ باقی تھا! لہذا ان چھٹیوں کو منانے کرنے کے لئے اپنی ماموں زاد بہن (جو برلن میں اپنے خاوند کے ساتھ رہتی ہے) کے پاس چلا گیا!!! ٢٠ مارچ کو عامر کو جرمن پولیس نے گرفتار کر لیا!!! الزام یہ تھا کہ وہ جرمن اخبار “ڈائی ویلٹ“ کے ایڈیٹر پر قاتلانہ حملہ کیا ہے!!!! حملہ کی وجہ یہ تھی کہ اس اخبار نے “توہین رسالت“ پر مبنی خاکوں کو شائع کیا اور “ناموس رسالت“ پر حملہ کے مرتکب ہوا!!! ٢٠ مارچ کو یہ جانثارِ رسول جرمن پولیس کی حراست میں گیا!! اور ٣ مئی کو صبح ٨ بجے جرمن پولیس کے تشدد کی بناء پر ہلاک ہوا!!!! جرمن پولیس کا کہنا ہے کہ عامر چیمہ نے خود کشی کی ہے! کیا یہ ممکن ہے ایک عاشق رسول ایک ایسی موت (خود کشی) مرے جسے خود رسول اللہ نے منع فرمایا ہو!!! لازم نہیں!!! یہ جرمن پولیس کا بہانہ ہے!!! ٤٤ دن تک اپنی حراست میں رکھنے کے باوجود جو پولیس اس نوجوان کے خلاف کوئی کیس تیار نہ کرسکی !!! وہ اب ایسے ہی بہانے تراشے گی!!!! جومن پولیس نے ٢٣ مارچ کو عدالت سے اس کی رہائش گاہ پر چھاپہ مارنے کی اجازت مانگی !!! پھر کچھ خاص پیش رفت نہ ہو سکی!!!! اتنی بھی نہیں کہ اس کے خلاف چالان عدالت میں پیش کیا جاسکے!!! برلن کے سرد خانے میں اس کا جسم وطن واپسی کا منتظر ہے!!!! یہ واپسی آٹھ یا نو مئی کو ہو گی شائد!!!!
Tags:

4 تبصرے:

  1. حراست میں موت کی تفتیش ہونی چاہیئے۔ یہ انتہائی غلط ہوا۔

    مگر اگر عامر چیمہ اخبار کے ایڈیٹر کو قتل کرنا چاہتا تھا تو اس میں جاننثار رسول ہونے کی کوئی بات نہیں۔

    جواب دیںحذف کریں
  2. عامر چیمہ ہماری حکومت کی ناکامی کی منہ بلوتی تصویر ہے جو اسلیے اس کے کیس کی پیروی نہ کر سکی کہ کہیں اس کی روشن خیالی پر حرف نہ آجاے۔

    جواب دیںحذف کریں
  3. اوّل ۔ ہمارے مُلک ميں زيرِ ہراست موت پر واويلا مچانے والے مُنافق اپنے گريبان ميں نہيں جانکتے ۔
    دوم ۔ شہيد کی جو موت ہے وہ قوم کی حيات ہے ۔ يہ نعرہ ميں نے اُس وقت سيکھا اور بار بار بُلند کيا تھا جب پاکستان بننے سے چند ماہ پہلے ميں نو سال کا تھا اور ہندو اور سِکھ مُسلمانوں کا قتلِ عام کر رہے تھے پھر مسلمان جوان سروں پر کفن باندھ کر نکلے اور اُن کا مقابلہ شروع کيا ۔ جب حملہ ہوتا اور وہ مقابلہ کيلئے نکلتے تو يہی نعرے لگاتے ۔
    سوم ۔ آپ يومِ ولادت کی دُعا کی تصحيح کر ليجئے ۔ تم جيؤ ہزاروں سال ۔ ہر سال کے دن ہوں پچاس ہزار ۔
    چہارم ۔ تبصرہ کے خانے ميں سپَيم آ گئی ہے ۔ اس کا بندوبست کيجئے ۔

    جواب دیںحذف کریں
  4. جناب نامعلوم!!! آپ جان نثار رسول نہ مانے آپ کی مرضی!!! آپ یہ دیکھ رہے ہو کہ وہ اخبار کے ایڈیٹر کو مارنا چاہتا تھا میں یہ سمجھ رہا ہو کہ وہ توہین رسالت کے مرتکب فرد کو سزا دینا چاہتا تھا!!! باقی اپنی اپنی سوچ ہے!
    روشن خیالی! ہم تو پچھلے سال بھی کچھ نہ کر سکے تھے جب جرمن پولیس کی زیرحراست آٹھ پاکستانی تشدد کی وجہ سے مارے گئے تھے کہ شبہ تھا کہ القاعدہ سے تعلق رکھتے ہیں جو اب تک ان کے مرنے کے بعد بھی ثابت نہ ہو سکا(نیٹ پر لنک نہیں ملا ورنہ آپ سے شیئر کرتا)
    میں ملک میں پولیس کی حراست میں ہونے والی اموات کی جو پولییس تشدد کا سبب ہوتی ہیں ان کی مذمت کرتا ہو نیز شعر کی درستگی کا شکریہ!!! بہت بہت!!!!

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔