انٹرویو انگریزی میں ہے ۔
مادر کراچی
انٹرویو انگریزی میں ہے ۔
لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے عوام کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو نہ صرف یہ کہ اخلاقی و دینی اعتبار سے قابل گرفت ہے بلکہ ملکی قانون بھی ایسے حالات میں اس عمل کو “جرم” تصور کرتا ہے۔ مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کے تحت یہ ایک جرم ہے! یہ متعلقہ قانون کل آٹھ دفعات پر مشتمل ہے! اس قانون کی دفعہ پانچ کے تحت یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہے!لسّے دا کیہہ زور محمد!! نس جانا یا رونا!! میاں محمد بخش نے لاچار کے رونے ہا بھاگ جانے کو اُس کی کمزوری بتا کر طاقت ور کی برتری کا راز افشاء کر دیا ہے اور اس کی مثال اب تک ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔
گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات ہوئے! جن کئی ایک مقامات پر اسلحے کی نمائش و تشدد و دھاندلی کی بازگشت سنائی دی!
اُن واقعات میں سب سے دلچسپ خبر ایک خاتون امیدوار وحیدہ شاہ کا اپنے حلقے کے ایک پولنگ اسٹیشن کی دو پریذائیڈنگ آفیسرز کو طمانچے دے مارے ذیل میں ایک خبر کی ویڈیو موجود ہے۔
محترمہ اپنے اس حلقے سے الیکشن جیت کر اپنی پارٹی کے کو چیئرمین کے دعوے کے تحت “جمہوریت بہترین انتقام” کے نظریے کو تقویت دینے کو اسمبلی کا حصہ بن گئی ہیں۔
منتخب حکمرانوں کے یہ رویے ہوں تو کیا تبدیلی ممکن ہے؟
دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے
ہو قناعت جو زندگی کا اصول
تنگ دستی، فراخ دستی ہے
جنس دل ہے جہاں میں کم یاب
پھر بھی یہ شے غضب کی سستی ہے
ہم فنا ہو کر بھی فنا نہ ہوئے
نیستی اس طرح کی ہستی ہے
آنکھ کو کیا نظر نہیں آتا
ابر کی طرح برستی ہے
شاعر: علامہ اقبال
ہم نے آپ سے ایک گانا شیئر کیا تھا بجلی کا لاہور استیج ڈرامے کی شوٹنگ پر ایک ٹی وی اینکر نے اپنے مارننگ پروگرام کے لئے سنا اپنے موبائل میں ریکارڈ کیا اور دنیا سے شیئر کی خام مال کی شکل میں بجلی پر یہ گانا اب مکمل موسیقی کے ساتھ بھی وہ ہی مزا دے رہا ہے!۔
جی ہم کہہ سکتے ہیں "مولوی" ایک پیشہ نہیں کیفیت ہے یہ کسی وقت کسی میں بھی بیدار ہو سکتی ہے یا پروان پا سکتا ہے اگر ہم یہ مان لیں کہ روشن خیالوں کے الزام کے مطابق "مولوی" ایک ایسا کردار ہے جو اپنے نظریے و سوچ و مقاصد کے راستے میں آنے والی ہر بات و عمل کو اسلام مخالف قرار یا خلاف شریعت قرار دے کر اُس کو کچلنے یا راستے سے ہٹانے کا انتظام کرتا ہے۔
عوام کا عام سا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری حکومت و انتظامی ادارے اپنے تمام اقدامات ملکی مفاد میں اُٹھائے مگر ذاتی مفاد کی رسی سے بندھے صاحب اقتدار و اختیار کے حامل طبقہ کے افراد اپنے ہر قدم کو ملک و قوم کے مستقبل کے لئے بتا کر اندھیرے غار کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔
امریکی جی حضوری میں اول اول چند ٹکوں کی خاطر ملک کی نوجوانوں و عزتوں کو فروخت کیا۔ اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جب امریکا کی جنگ پر سوال کیا جانے لگا تو خاموش کروانے کے لئے "مولوی" نامی کردار کی روش پر چلتے ہوئے حق کی آواز بلند کرنے والے کو "شدت پسند" یا "انتہا پسندوں" کا ساتھی قرار دے دیا!!
مگر یقین جانے اب بھی روشن خیال کود آئیں گے میدان میں اور "روشن خیالوں کے مولوی پن" سے آپ کو مزید واقفیت دیں گے۔
سچ کو اپنی سچائی کے لئے کیا کسی کی گواہی کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں تو یہ سچائی کے ساتھ ذیادتی ہی نہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔
کراچی میں ہونے والی رینجر کے ہاتھوں ہونے والی دہشت گردی پر میرا وہ ہی ردعمل ہے جو سیالکوٹ والی سفاکی پر تھا!۔
دونوں واقعات کی بربریت کے گواہ اور شاہد کیمرہ مین میری نظر میں اس سفاکی و بربریت کء معاونین میں سے ایک ہیں۔