مادر کراچی

گزشتہ دنوں کراچی میں ایک سماجی کارکن محترمہ پروین رحمان کا قتل ہوا ، محترمہ اورنگی پائلٹ پراجیکٹ کی پراجیکٹ ڈائریکٹرتھیں! اُن کی خدمات کی بناء پر انہیں “مادر کراچی” کہا جاتا تھا۔ ذیل میں اُن کا ایک انٹرویو ہے جس سے' وجہ قتل' کا جہاں اندزہ لگایا جا سکتا ہے وہاں ہی یہ بات بھی جاننا اہل سمجھ کے لئے دشوار نہ ہو گا کہ کراچی کا اصل لسانی جھگڑا یہاں کی سیاسی جماعتوں کے معاشی و سیاسی زندگی کے بقاہ کے لئے ضروری ہے ، اپنی اس ضرورت ہی کی بناء پر یہ اس ایشو کو زندہ رکھتے ہیں اور جیسے یہ آئندہ الیکشن میں ووٹ کے حصول کو نفرتوں کی کاشت سے نوگو ایریا پیدا کرے گے!لہذا یہ لوگوں کیونکر اس مسئلہ لو حل چاہے گےا!!
انٹرویو انگریزی میں ہے ۔

لاؤڈ اسپیکر کا استعمال!

ایک دور تھا عالم دین اس رائے پر اختلاف کا شکار تھے کہ آیا لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جائز ہے یا نہیں اور ابتدا میں تو وہ صرف مسجد میں اس کا استعمال خطیب کے خطبہ تک محدود رکھتے تھے مگر بعد میں جب دوبارہ دنیاوی تعلیم رکھنے والوں نے دین کی طرف رغبت کی اور شرعی علم کے حامل افراد نے بھی ایک بار پھر خواہ محدود تعداد میں ہی دنیا کے علم کو سمجھنے کی سہی کی تو تب لاؤڈ اسپیکر کو مساجد میں دیگر دینی امور جیسے نماز وغیرہ کے لئے استعمال کیا جانا شروع کر دیا گیا!
قریب تمام علماء بغیر کسی شک و شبہ کے اس بات پر متعفق ہیں کہ اذان کے علاوہ کسی بھی دیگر استعمال کے لئے مساجد کے باہر لگے لاؤڈ اسپیکر کا استعمال اسلامی شعائر کے مخالف ہے!وجہ لاؤڈ اسپیکر کا غیر اسلامی ہونا نہیں بلکہ عوام الناس کے تکلیف پہنچنے کا امکان ہے۔
علماء کی اس رائے کے برخلاف یہ ہمارے معاشرے کی عام روش ہے کہ مخصوص دینی ایام و تقریبات میں لاؤڈ اسپیکر مساجد و تقریب کی مقام سے باہر بھی استعمال کر کئیے جاتے ہیں جو کہ اہل علاقہ و محلہ کی تکلیف کا سبب بنتے ہیں۔ یہاں دلچسپ امر یہ ہے کہ لاؤڈ اسپیکر کا یہ غلط استعمال صرف دینی حلقوں کی جانب سے ہی نہیں ہوتا بلکہ سیاسی جماعتوں و خود کو “روشن خیال” کہلانے والے دیگر مختلف طبقے بھی روش پر گامزن نظر آتے ہیں۔
اونچی آواز میں اسپیکرز(کہ اہل محلہ و علاقہ تک آواز جائے) پر گانے سننے یا نعت و نوحہ چلانے و پڑھنے کی یہ غیر اخلاقی حرکت معاشرے میں اس حد تک سرائیت کر چکی ہے کہ اب کئی احباب اس بارے میں اس رائے کا شکارہیں کہ شاید یہ کوئی غلط بات نہیں! اور اس سلسلے میں ہر طبقہ دوسرے کو مثال بنا کر پیش کرتا نظر آتا ہے کہ “ارے وہ بھی تو 'فلاں''فلاں' موقعہ پر ایسا کرتے ہیں تب تو کوئی کچھ نہیں کہتا”۔
لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے عوام کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو نہ صرف یہ کہ اخلاقی و دینی اعتبار سے قابل گرفت ہے بلکہ ملکی قانون بھی ایسے حالات میں اس عمل کو “جرم” تصور کرتا ہے۔ مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کے تحت یہ ایک جرم ہے! یہ متعلقہ قانون کل آٹھ دفعات پر مشتمل ہے! اس قانون کی دفعہ پانچ کے تحت یہ جرم قابل دست اندازی پولیس ہے!
لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ 2 کے تحت عوامی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا استعمال جرم تصور کیا جائے گا اگر اُس سے عام افراد کو ایذا پہنچنے کا اہتمال ہو! مزید یہ کہ تعلیمی اداروں، اسپتالوں، عدالتوں، مختلف دفاتر کے قریب کام کے اوقات میں نیز مساجد و دیگر دینی مقامات (چرچ و مندر) کے قریب عبادات کے اوقات میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال منع ہے۔
یہ ہی نہیں قانون کی دفعہ 2 میں مزید بیان ہے کہ مساجد، چرچ ، مندر اور دیگر دینی مقامات پر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے ان کے قریب کے رہائشی متاثر ہو کی بھی ممانعت کی گئی ہے، ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کسی بھی عوامی و ذاتی مقام ہر لاؤڈ اسپیکر کا ایسا استعمال جس سے فرقہ واریت و نفرت انگیز پھیلنے یا نظم و ضبط متاثر ہونے کا اندیشہ ہو تو بھی یہ عمل قابل گرفت تصور ہو گا۔ تاہم اس دفعہ میں یہ وضاحت کر دی گئی ہے کہ اذان دینے، عبادات (قانون میں لفظ prayers استعمال کیا گیا ہے جس سے نمازیں مراد لیا جائے گا) اور جمعہ و عید کے خطبہ کے لئے لاؤڈاسپیکر کے استعمال کی اجازت ہے۔
اس قانون کی دفعہ 3 کے تحت جو کوئی بھی اس قانون کی قانون کی خلاف ورزی کرتا پایا گیا اُس کو ایک سال قید اور پچاس ہزار روپے جرمانے کی سزا یا دونوں سزائیں دی جا سکتے ہیں!
وہ لاؤڈاسپیکر جو اس غیر قانونی عمل میں استعمال کیا گیا ہو گا علاقہ تھانہ کا سب انسپکٹر یہ اس سے اونچے عہدے کا افسر اپنے قبضہ میں لینے کا مجاز ہو گا اور پابند ہو گا کہ جس قدر جلد ممکن ہو اُسے عدالت علاقہ کے روبرو پیش کرے۔
لہٰذا کوئی سیاسی تقریر، مذہبی وعظ، نعت خوانی ، جلسہ اور کسی بھی قسم کا کوئی موسیقی کا کوئی پروگرام اگر لاؤڈ اسپیکر پر اس طرح نشر کیا جائے کہ محلے والوں کی نیندیں خراب ہوں، سوتے بچے ڈر نے لگ جائیں، مریضوں کو اختلاج قلب شروع ہوجائے، یا دن کے وقت اُس کی روزمرہ زندگی متاثر ہو تو یہ عمل قانونی طور پر قابل گرفت ہے اور مغربی پاکستان لاؤڈ اسپیکرز اور ساؤنڈ ایمپلی فائرز کے ضابطے 1965 کی دفعہ تین کے تحت متعلقہ بندے کے خلاف رپٹ درج کروائی جا سکتی ہے۔
(یہ تحریر مفاد عام کے تحت لکھی گئی ہے)

لسّے دا کیہہ زور؟

لسّے دا کیہہ زور محمد!! نس جانا یا رونا!! میاں محمد بخش نے لاچار کے رونے ہا بھاگ جانے کو اُس کی کمزوری بتا کر طاقت ور کی برتری کا راز افشاء کر دیا ہے اور اس کی مثال اب تک ہمارے معاشرے میں موجود ہے۔

گزشتہ دنوں ضمنی انتخابات ہوئے! جن کئی ایک مقامات پر اسلحے کی نمائش و تشدد و دھاندلی کی بازگشت سنائی دی!
اُن واقعات میں سب سے دلچسپ خبر ایک خاتون امیدوار وحیدہ شاہ کا اپنے حلقے کے ایک پولنگ اسٹیشن کی دو پریذائیڈنگ آفیسرز کو طمانچے دے مارے ذیل میں ایک خبر کی ویڈیو موجود ہے۔



محترمہ اپنے اس حلقے سے الیکشن جیت کر اپنی پارٹی کے کو چیئرمین کے دعوے کے تحت “جمہوریت بہترین انتقام” کے نظریے کو تقویت دینے کو اسمبلی کا حصہ بن گئی ہیں۔


محترمہ کی قابلیت کا اندازہ یہاں سے لگایا جا سکتا ہے کہ جن پریذائیڈنگ آفیسرز نے پولنگ بوتھ میں اپنے چہرے نہیں چھپائے وہ پریس کانفرنس میں باپردہ حالت میں موجود تھی! جبکہ اندر کی خبر والے بتاتے ہیں اُس ہی لمحے متعلقہ پریذائیڈنگ آفیسرز اپنے گھروں میں موجود تھی۔

منتخب حکمرانوں کے یہ رویے ہوں تو کیا تبدیلی ممکن ہے؟

تم قومی غیرت کی بات کرتے ہو؟

مجھے نہیں معلوم لوگوں میں اتنا حوصلہ کیوں نہیں ہوتا کہ وہ مخاطب پر اپنی شناخت ظاہر کر سکیں؟ میں کل ایک بلاگ پوسٹ تحریر کی یار لوگ اُس پر تبصرہ کرنے کے بجائے میرے ای میل پر اپنا تبصرہ کر رہے ہیں وہ بھی اصلی نام سے نہیں ہے۔
دلچسپ بات یہ کہ ای میل کے تبادلے مین ایک اہم الزام ہم پر یہ لگا کہ ایک تو میں متعصب ہوں دوسرا تنگ نظر! ہم انکار نہیں کرتے ممکن ہیں دونوں باتیں درست ہوں کیونکہ بقول ہمارے بڑوں کے یہ دونوں بیماریاں جس میں ہوتی ہیں وہ خود میں اس کی تشخیص نہیں کر سکتا یوں ہم اس پر اپنی رائے نہیں دیتے اور چونکہ ہم “اُبھرتی آواز” کی شخصیت سے واقف نہیں تو اُس پر تبصرہ نہیں کرتے۔
ای میل تبادلے میں جو بات وجہ تنازعہ بنی وہ وہ ہی معاملہ ہے جو نیٹو و پاکستان کے درمیان وجہ تنازعہ ہے۔ یعنی پاکستانی سرحد پر نیٹو کا حملہ۔ ہمارا موقف یہ تھا کہ عوامی رد عمل کی غیر موجودگی میں فوج اس معاملے پر اپنی آواز بلند نہ کرتی! اور فوجی ردعمل بھی چند دن میں عامی جذبات کے ٹھنڈا ہونے پر اسکرین سے غائب ہو جائے گا۔ مگر “ابھرتی آواز” اس سے متعفق نہیں تھے۔
میرا کہنا یہ ہے کہ ہم گذشتہ 11 سال کی اس جنگ میں چالیس ہزار جانے گنوا چکے ہیں۔ جون 2004 سے اب تک 290 ڈراؤن حملوں میں قریب 2700 کے قریب جانوں کا نقصان اُٹھا چکے ہیں ان ڈھائی ہزار مرنے والوں میں سے آفیشلی 98 فیصد افراد کے متعلق سب کا اتفاق ہے (مارنے والوں کا بھی) کہ وہ بے گناہ تھے بقایا دو فیصد پر بھی شبہ ہے کہ ممکن ہے اُن کے اکثریت بھی مطلوبہ ٹارگٹ نہ ہوں بمشکل 70 سے 90 افراد کے درمیان پر قیاس ہے کے وہ اُن کے مطلوبہ “دہشت گرد” ہیں۔ اتنی بری تعداد میں بے گناہ پاکستانی شہریوں کی اموات پر کوئی ردعمل نہیں ہوا تو اب کیسے فوجی جرنیل کی غیرت جاگ سکتی ہے؟
اور قومی غیرت کا یہ حال ہے کہ ہم نے اُس چالیس ہزار شہیدوں کو یاد رکھنے کا کوئی ایک بہانہ بھی نہیں تراشہ یار کیا رکھیں گے؟ غیر ملکی فوج کے ہاتھوں ڈراؤن اٹیک میں مرنے والوں کا کبھی نہیں سوچا تو اب کے کیا کر لیں گے؟
اپنے فوجی کے مرنے پر ردعمل دیکھنا ہو تو دور کی کیا مثال دوں اپنے نام نہاد اتحادیوں کو ہی دیکھ لو۔ مئی 2007 میں ایک پاکستانی فوجی نے جذبات میں آ کر ایک امریکی فوحی میجر لیری کو مار (پوری دہشت گردی کی جنگ میں کسی پاکستانی فوجی کے ہاتھوں مارے جانے والا واحد اتحادی فوجی) گیا تو امریکی میڈیا ہے اُسے فیچر کیا۔ اُس وقت ہی نہیں بلکہ پر سال اُس کی برسی پراور اس کے علاوہ بھی بہانے بہانے سے لکھتے ہین اور ہر بار اسے ایک فوجی کا جذباتی انفرادی رد عمل نہیں بتاتے بلکہ پاکستانی فوج کی اندرونی سازش قراد دیتے ہیں ایسا آخری فیچر نیو یارک جیسے اخبار نے شائع کیا جبکہ پینٹاگون آفیشلی یہ کہہ چکا ہے کہ ہونے والی تفتیش میں یہ ثابت ہوا ہے کہ یہ ایک انفرادی عمل تھا۔ مزید یہ کہ انہوں نے اپنے مرنے والے فوجی کی یاد میں ایک میموریل فنڈ قائم کیا ہے جس کے تحت نہ صرف طالب علموں کو اسکالرشپ دی جاتی ہے بلکہ ہر سال بیس بال ٹورنامنٹ کا بھی انعقاد ہوتا ہے۔
اور دیکھ لیں “اُبھرتی آواز” ہم کہاں کھڑے ہیں؟ موجودہ ڈرامے بازی کو آپ رد عمل کہتے ہیں تو آپ کی مرضی۔
جب تک ہم اس “دہشت گردی” کی نام نہاد جنگ کا حصہ ہیں تب تک تبدیلی حاکم و جرنیل کت رویے میں مجحے نظر نہیں آتی۔
آپ اپنی شناخت تو بتانے کی ہمت نہیں رکھتے! قومی غیرت کہاں سے دیکھاؤ گے؟

دل کی بستی عجیب بستی ہے (اقبال)

دل کی بستی عجیب بستی ہے
لوٹنے والے کو ترستی ہے

ہو قناعت جو زندگی کا اصول
تنگ دستی، فراخ دستی ہے

جنس دل ہے جہاں میں کم یاب
پھر بھی یہ شے غضب کی سستی ہے

ہم فنا ہو کر بھی فنا نہ ہوئے
نیستی اس طرح کی ہستی ہے

آنکھ کو کیا نظر نہیں آتا
ابر کی طرح برستی ہے

شاعر: علامہ اقبال




میرے ملک دی بجلی جی

ہم نے آپ سے ایک گانا شیئر کیا تھا بجلی کا لاہور استیج ڈرامے کی شوٹنگ پر ایک ٹی وی اینکر نے اپنے مارننگ پروگرام کے لئے سنا اپنے موبائل میں ریکارڈ کیا اور دنیا سے شیئر کی خام مال کی شکل میں بجلی پر یہ گانا اب مکمل موسیقی کے ساتھ بھی وہ ہی مزا دے رہا ہے!۔


روشن خیالوں جرنیلوں کا مولوی پن

جی ہم کہہ سکتے ہیں "مولوی" ایک پیشہ نہیں کیفیت ہے یہ کسی وقت کسی میں بھی بیدار ہو سکتی ہے یا پروان پا سکتا ہے اگر ہم یہ مان لیں کہ روشن خیالوں کے الزام کے مطابق "مولوی" ایک ایسا کردار ہے جو اپنے نظریے و سوچ و مقاصد کے راستے میں آنے والی ہر بات و عمل کو اسلام مخالف قرار یا خلاف شریعت قرار دے کر اُس کو کچلنے یا راستے سے ہٹانے کا انتظام کرتا ہے۔
عوام کا عام سا مطالبہ یہ ہے کہ ہماری حکومت و انتظامی ادارے اپنے تمام اقدامات ملکی مفاد میں اُٹھائے مگر ذاتی مفاد کی رسی سے بندھے صاحب اقتدار و اختیار کے حامل طبقہ کے افراد اپنے ہر قدم کو ملک و قوم کے مستقبل کے لئے بتا کر اندھیرے غار کی طرف بڑھتے جاتے ہیں۔
امریکی جی حضوری میں اول اول چند ٹکوں کی خاطر ملک کی نوجوانوں و عزتوں کو فروخت کیا۔ اب معاملہ اس حد تک پہنچ گیا ہے کہ جب امریکا کی جنگ پر سوال کیا جانے لگا تو خاموش کروانے کے لئے "مولوی" نامی کردار کی روش پر چلتے ہوئے حق کی آواز بلند کرنے والے کو "شدت پسند" یا "انتہا پسندوں" کا ساتھی قرار دے دیا!!
مگر یقین جانے اب بھی روشن خیال کود آئیں گے میدان میں اور "روشن خیالوں کے مولوی پن" سے آپ کو مزید واقفیت دیں گے۔

حوالہ

المیہ تو المیہ ہی ہے

سچ کو اپنی سچائی کے لئے کیا کسی کی گواہی کی ضرورت ہے؟ اگر ہاں تو یہ سچائی کے ساتھ ذیادتی ہی نہیں بلکہ ایک المیہ ہے۔
کراچی میں ہونے والی رینجر کے ہاتھوں ہونے والی دہشت گردی پر میرا وہ ہی ردعمل ہے جو سیالکوٹ والی سفاکی پر تھا!۔
دونوں واقعات کی بربریت کے گواہ اور شاہد کیمرہ مین میری نظر میں اس سفاکی و بربریت کء معاونین میں سے ایک ہیں۔

ہارن آہستہ بجائیں!!

یوں تو ذاتی طور پر مجھے شہر کی دیواروں پر کی گئی چاکنگ ہر اچھی نہیں لگتی۔ بات بہت سادہ ہے کہ یہ شہر کے حسن کو خراب کرتی ہے۔ ہر سیاسی جماعت اپنے ممکنہ ہونے والے سیاسی جلسہ اور موقف کا اظہار ان دیواروں کو کالا کر کے دیتی ہے! اس کے علاوہ "------” کمزوری، کالے جادوں، ممکنہ جسمانی بیماریوں، آج کل چند ٹی وی پروگرام ککی تشہر بھی، مذہبی جماعتوں و گروہوں کے نعرے اور دیگر معاملات کا اظہار بھی وال چاکنگ کے ذریعہ ہوتا ہے۔
ملیر بار کے سیکٹری جنرل جو کے ایبٹ آباد سے تعلق رکھتے ہیں کل ہے اپنے شہر گئے! آج اُن کا ایک ایس ایم ایس ہمین موصول ہوا! ایس ایم ایس کیا تھا ایبٹ آباد میں موجود عوامی رائے کا اظہار تھا اُن کے بقول انہوں نے پی ایم اے ایبٹ آباد کے قریب دیوار پر لکھا ہے!
ہارن آہستہ بجائیں، آرمی سو رہی ہے"
یہ جملہ 2 مئی کے والے قصے کے بعد تحریر ہوا ہے۔


اردو پر خُودکش حملہ

اردو برصغیر پاک و ہند میں مسلمانوں کی ایک نمایاں پہچان رہی ہے۔ قیام پاکستان کے بعد اسے ہر آئین میں قومی زبان قرار دیا گیا۔ لیکن اسے وقتا فوقتا پرایوں اور اپنے "محسنوں" کے حملوں کا سامنا کرنا پڑتا رہا۔ تقسیم سے قبل پرائے اور اسکے بعد اپنے اس پر حملہ آور ہوتے رہے۔ اب صوبہ پنجاب کی حکومت نے اس پر حملہ کر دیا ہے۔ قدرے تفصیل میں جانے سے قبل قارئین کرام کو گزشتہ حملوں کی جھلکیاں دکھانا دلچسپ امر ہو گا۔
اردو 1849ء میں سکھ دور کے اختتام پر صوبہ پنجاب کے سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں رائج کی گئی۔ اس پر پہلا حملہ 1862 میں ہوا۔ اردو کے خلاف ایک زوردار مہم چلائی گئی اور صوبہ بدر کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔ چنانچہ پنجان کے گورنر سر رابرٹ منٹگمری نے انگریز کمشنروں اور ڈپٹی کمشنروں کا اجلاس طلب کر کے آراء حاصل کیں۔ اکثر شرکاء نے اردو کے حق میں تقاریر کیں اور یہ حملہ ناکام ہو گیا۔ نتیجا اردو سرکاری زبان رہی اس سخت جاں زبان پر دوسرا حملہ 1882ء میں کیا گیا۔اردو کی تقدیر کا فیصلہ کرنے کیلئے ہنٹر تعلیمی کمیشن قائم ہوا۔ ایک سوالنامہ جاری ہوا اور بظاہر پنجاب سے اس کی بے دخلی کے واضح اشارے ملنے لگے۔ اگرچہ عوامی سطح پر اس حوالے سخت بے چینی پائی جاتی تھی لیکن وہ بیچارے تو روزاول سے مجبور ہی رہے ہیں۔ کوش قسمتی سے سرسید اس کمیشن کے رکن تھے۔ مسلمانوں کو انگریزی پڑھنے کی تقلین کرنےوالے یہ مبلغ اردو سے بھی بے پناہ محبت کرتے تھے چنانچہ انہوں نے اس حملے کو بھی بڑے ٹیکنیکل طریقے سے ناکام بنا دیا۔ تیسرا حملہ 1908ء میں ہوا جب ڈاکٹر بی سی چڑجی نے پنجاب یونیورسٹی کے جلسہ اسناد مین خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "پنجاب میں اردو کی جگہ پنجابی رائج کی جائے" مسلمانان پنجاب نے اس پر شدید ردعمل کا اظہار کیا۔ چنانچہآل اندیا مسلم ایجوکیشن کانفرنس کا پنگامی اجلاس بلایا گیا جس میں علامہ اقبال، سر شیخ عبدالقادر، سر محمد شفیع، مولانا شاہ سلیمان پھلواری، سرامام علی اور مولوی محبوب عالم ایڈیٹر "پیسہ اخبار" اور دیگر مسلم زعماء شریک ہوئے۔ چنانچہ اردو حمایت میں ایک زبردست قرارداد منظور کی گئی اور ساتھ ہی چیٹر جی کی تجویز سے سخت اکتلاف بھی ریکارڈ کیا گیا۔ اس طرح تقسیم ہند سے پہلے یہ تیسرا اور آخری حملہ بھی ناکام ہوا۔
قیام پاکستان کے بعد بنگال میں اردو کے خلاف آواز اُٹھائی گئی جسکے نتیجہ میں قائداعظم مرحوم بنفس نفیس وہاں تشریف لے اور ڈھاکہ میں دو ٹوک الفاط میں اعلان کیا کہ اردو اور صرف اردو ہی پاکستان کی قومی زبان ہو گی۔ اگرچہ جب سے اب تک یہ انگریز کے ذہنی غلاموں کے چرکے مسلسل سہتی رہی لیکنایوبی دور میں اس کے رسم الخط کو عربی کے بجائے سرے سے رعمن مین تبدیل کرنے کے عزائم کا اظہار کیا جانے لگا۔ اپس بار بابائے اردو مولوی عبدالحق، ڈاکٹر سید عبداللہ، مولانا صلاح الدین و دیگر نامور اردو نے اسکا بے مثال طریقے سے دفاع کیا اور اب کی بار بھی یہ خطرہ ٹل گیا جبکہ ان زعماء کے بعد احمد خان (ملیگ) مرحوم، صدر تحریک نّاذ اردو نے اپنی بساط کے مطابق قومی زبان کی حمایت کا علم بلند کئے رکھا۔ ان کی وفات کے بعد اردو "دشمنوں" کیلئے عملا میدان صاف ہو گیا۔
خودکش حملہ آوروں کے متعلق اب تک جو معلومات ملی ہیں ان کے مطابق مسلمان نوجوان کو دنیا میں ہی جنت کی نعمتوں اور حوروں بہشت کے حسن دلفریب کی جھلکیاں دکھائی جاتی ہیں اور اس بات پر آمادہ کر لیا جاتا ہے کہ "اپنی جان کو دھماکہ مین اڑا کر ابدی جنت حاصل کو لو۔ اس عارضی زندگی و ناپئدار دنیا کو خیر باد کہو، اپنے ہم وطنوں کو خاک و کون مین لوٹاؤ اور ابدی زندگی کی خوشحالیوں سے متمتع ہو جاؤ"۔ بد قسمتی سے کچھ ایسی ہی صورت حال پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب مین آئینی تحفظ رکھنے والی اور قائد اور علامہ کی محبوب زبان اردو کے حوالے سے پیش آ گئی ہے۔ حکومت پنجاب کو اسکے مشیر حضرات نے اردو ذریعہ تعلیم کو اسکولوں سے بے دخل کر کے "انگلش میڈیم" کے نفاذ کے تحت ترقی اور خوشحالی کی جنت کا یقین دلایا ہے، لہذا خادم اعلی پنجاب برصغیر میں مسلم رہنماؤں کی اردو کیلئے دو توک حمایت اور جدوجہد کو ایک طرف رکھ کر پنجاب کو "جنت ارضی" بنانے پر تلے ہوں۔ یوں لگتا ہے کہ ان کے کیال مین متذکرہ قائدین اور پاکستان کے تمام آئین بنانے والے دور جدید کے تقاضوں اور انگریزی کی اہمیت سے قطعا نا بلد تھے جبکہ حکومت پنجاب جو جنت حاسل کرنا چاہتی ہے بلاشبہ اس کی ترقی اور خوشحالی کے بجائے ناخواندگی اور جہالت کے فوارے تو ضرور ہی پھوٹ رہے ہو گے کیونکہ ایک محتاط اندزے کے مطابق 1943ء سے اس وقت تک چالیس لاکھ نوجوانوں کو صرف اس لئے جہالت کے غاروں میں دھکیل دیا گیا کہ وہ دسویں جماعت میں انگریزی (بطور مضمون) پاس نہیں کر سکے۔ اس طرح بی اے ، بی ایس سی کے حالیہ نتائج کے مطابق 78 فیصد ناکام ہوئے جن میں بہت بری اکثریت انگریزی میں فیل ہونے والوں کی ہے اور کم و بیش ہر سال ذہانت کا یوں قتل عام ہو رہا ہے۔ ایسا آخر کیوں نہ ہو؟ ہمارے ارباب اقتدار انگلش دیوی کے چرنوں میں اپنے نوجوانوں کی ذہانتوں کا خون یوں پیش نی کریں تو وفاداری کا اور کیا ثبوت پیش کریں؟ لیکن ہم تو ان سے مخلصانہ گذارش کرین گے کہ اردو پر رحم فرمائیں اور قومی تشخص کے اثاثے کو تباہ نہ ہونے دیں۔

تحریر: ڈاکٹر محمد شریف نظامی

بھتہ مافیا کے خلاف بھتہ خوروں کی جنگ

کراچی میں کل ہرتال تھی تاجروں کی! کامیاب ہو گئی! ہرتال کامیاب ہوئی بقول اخبارات کے مگر مقصد میں کامیابی ابھی باقی ہے! مگر اس سے قبل یہ جاننا ضروری کہ مقصد کیا ہے اور کس کا؟ ابتدا میں خبر آئی یہ تاجروں کی ہرتال بھتہ مافیا کے خلاف تھی! بعد میں انکشاف ہوا یہ ایک بھتہ مافیا کی دوسری بھتہ مافیا سے لڑائی تھی جس کا آغاز بھتہ خوروں کے صوبائی و وفاقی اتحاد کے ساتھ ہی ہو گیا تھا دراصل یہ مفاد کا اتحاد تھا جو بھتہ کی لڑائی کے باوجود رحمان بابا کی کرامت سے اب تک جاری ہے جس میں شدت گزشتہ سال کے آخری ماہ کی اس تقریر سے ہوئی!




ایک وڈے وزیر داخلہ ہیں اور ایک نکے یا صوبائی! نکے لڑائی کرتے ہیں وڈے صلح کے لئے پہنچ جاتے ہیں! نکے کی لڑائی اب اتحادیوں کے حکم پر تاجروں کی ہڑتالوں تک جا پہنچی ہے تو وڈے ابھی بھی سیاسی بیان سے فضاء خوشگوار کرنے کی کاوش میں مصروف ہیں مگر اتحادی راضی نہیں کہتے ہیں اپنوں کو قابو کرو! دونوں میں سے کوئی اپنے منہ سے نہیں کہتا کہ روزی روٹی لڑائی ہیں!بھتہ مانگ کر روزی ہی تو کماتے ہیں! ہڑتال کرنے والے آپس میں لڑ پڑے! لگتا ہے اپنی اپنی پارٹی کو بھتہ دینے کے حامی ہیں مگر ۔۔۔۔۔۔۔
کراچی شہر بہت عجیب و غریب صورت حال کا شکار ہے! یہ ایک صنعتی شہر ہے! لگتا ہے کہ مستقبل میں یار دوست بتایا کریں گے کہ کراچی ایک صنعتی شہر ہوا کرتا تھا اور پھر ایک نئی معیشت نے اس شہر کی صنعتوں کو کھا لیا! اور وہ ہے بھتہ!!
ایک دور تھا کہ شہر کا تاجر اپنے علاقے کے تھانے کو تو monthly دیتا تھا ہی مگر ایک آدھ مثال میں علاقائی بدمعاش کو اس لئے بھی چندہ کے نام پر کچھ نہ کچھ تھما دیتا تھا کہ وہ دیگر بدمعاشوں سے اُسے تحفظ دے گا! تاجر یہ بدمعاشی بھی اپنے کاروبار کی بقاء کے لئے خوف کے زیر اثر دیتا تھا! اور یہ بھتہ اُسے یوں ایک چوکیدار مہیا کر دیتا!
مگر جب سے معاش بد کی پیداواروں نے سیاست کے محلے میں قدم رکھا اور اُسے لسانی تفریق کی قینچی کی کاٹ سے پروان دیا تب سے بھتہ نے چندہ کا نام اپنا لیا! اہلیان کراچی میں موجود تاجروں، صنعت کاروں اور دیگر کاروباری حلقے نے اولین اس عذاب کو کڑوی گولی سمجھ کر زبان کے نیچے رکھ لیا! مگر گزشتہ دو سے تین سال میں جب سے شہر کی دیگر مذہبی، لسانی اور سیاسی جماعتوں نے جہاں ممکنہ انکم کے دیگر راستوں میں سفر کیا وہاں ہی شہر کی بھتہ معیشت میں بھی اپنے شیئر کی بنیاد رکھ دی ہے!
اب درحقیقت بھتہ مافیا و چندہ معافیا ایک دوسرے میں نہ صرف ایک دوسرے کا بہروپ معلوم ہوتے ہیں بلکہ معاون معلوم ہوتے ہیں! کھالوں پر جھگڑے سے بات اب آگے نکلی معلوم ہوتی ہے!
آج شہر کا ایک تاجر و صنعت کار ایک ماہ میں ایک نہیں تین تین سیاسی جماعتوں( دو لسانی اور ایک سیاسی جماعت کے لسانی ونگ) کے کارکنان کی طرف سے پرچی وصول کرتا ہے بلکہ ایک آدھ مذہبی گروہ کی طرف سےہونے والے ممکنہ پروگرام کے اخراجات میں اپنے حصے کے تعاون کی فرمائش کو پورا کرنے کا بوجہ خوف برائے امان جانی و مالی نہ کہ بوجہ ایمان پابند جانتا ہے!
اور بھتہ مافیا کے اس جھگرے میں شہر کی معیشت جو پہلے ہی زوال کا شکار ہے کہاں ہو گی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں جب صوبائی و وفاقی حکومت میں شامل تینوں جماعتیں بھتہ خوری کی لعنت میں مبتلا ہیں!

پاک بھارت سیمی فائنل اور ہندوستانی چینل

خرم ابن شبیر کے بلاگ پر آپ نے انڈین میڈیا کی پاک بھارت سیمی فائنل کے بارے میں خبرون کا جائزہ تو لیا ہو گا۔ ہم نے لگے ہاتھوں ذیل میں چند ایسی ہی
دلچسپ خبروں کو جمع کیا ہے کہ کیسے انڈین میڈیا پاکستانی ٹیم کی توہین کر رہا ہے ۔ وقت ہو تو ایک نظر اس پر ڈال لیں۔

























دلچسپ بات یہ کہ بھارتی میڈیا نے اپنی ٹیم کو بھی میچ فیکس کرنے کے الزام ست سرفراز کیا ہے۔ وہ کدھر ہے آئی سی سی؟




غریب، برگر بچے اور انقلاب

کچھ عرصہ قبل ایک لطیفہ سنا تھا! نہیں معلوم تھا کہ اس کی ایک شکل دیکھنے کو بھی ملی گی!! لطیفہ کچھ یوں تھا کہ ایک امیر خاندان کی بچی اپنے پرچے مین غربت کا مضمون کچھ یوں تحریر کر کے آئی!

“غریب بہت ہی غریب ہوتا ہے، اُس کے پاس پینے کو Nestle کا پانی بھی کم مقدار میں ہوتاہے، وہ پیسے بچانے کے لئے Nestle کی بڑی بوتل خریدتا ہے، یہاں تک کہ ذیادہ گرمی میں وہ جوس پینے کے بجائے اس پانی پر ہی گزارہ کرتا ہے، غریب کے پاس ایک ہی گاڑی ہوتی ہے، اُس کا گھر بھی چھوٹا ہوتا ہے، غریب کے گھر میں سب سے ذیادہ مظلوم اُس کی بیوی ہوتی ہے کیوں کہ وہ بیوٹی پارلر بھی کم ہی جاتی ہے، اور اُسے کئی سوٹ دس سے پندرہ بار سے ذیادہ پہننے پڑتے ہیں جس کی وجہ سے وہ آؤٹ آف فیشن ہو جاتے ہیں۔ غریب نہ صرف خود غریب ہوتا ہے بلکہ اُس کے نوکر، ڈرائیور، مالی، باورچی اور چوکیدار تک غریب ہوتے ہیں۔ اس لئے ہمیں مل کر غربت کے خاتمے کے لئے اپنی جدوجہد کرنے چاہئے"

ہم سوچتے تھے کہ غریب کے لئے جدوجہد ایسے مضامین لکھنے والے ممکنہ بچے کیسے جدوجہد کریں گے؟ تب ہم نے ایک ایسے ہی بچے کی انقلاب کی کاقش سے متعلق یہ ویڈیو دیکھی آپ سے جانے کہ انقلاب کیوں نہیں آ رہا!!






“جلسے کے لئے آپ دیکھے ہماری بہنوں، mothers کے ساتھ کیا ہو رہا ہے؟ہم سارے اچھی فیملی کے لوگ ہیں، ہم سڑکوں پر آئے ہیں نعرہ لگانے کے لئے، عمران خان کے لئے، ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہیں، ہمیں دھکے دے رہی ہے، ہم انقلاب کے لئے آئے ہیں، اپ کے ملک کے لئے آئے ہیں، ہر بندہ اپنے ملک کے لئے نکل کر آیا ہے، اس گرمی میں کون اتنا جلوس کرتا ہے؟ پولیس والے ہمیں دھکے دے رہے ہیں! کس کے لئے؟ ایک انگریز کے لئے! ریمنڈ ڈیوس کے لئے؟ لاہور میں وہ خون خرابے کر کے بھاگ گیا اپنے ملک! ہماری عافیہ صدیقی کے ساتھ کیا ہوا؟ اتنا انصاف تو کسی میں نہیں ہے! ہم سارے سڑکوں پر آئے ہیں، ہمارے گھروں میں بھی پردے ہوتے ہیں! ہماری عورتیں بھی پردے کرتی ہیں مگر جب انقلاب کی ضرورت ہوتی ہے گھر میں ہر بندہ نکل آتا ہے۔ کیوں؟(لوگوں سے سوال) میں جھوٹ بول رہا ہوں؟ میں صحیح بول رہا ہوں ناں؟ (آوازیں : جی جی) سارا بندہ نکل آتا ہے! سر ہمیں اپنی پولیس مار رہی ہے ہم انقلاب کیسے لائے گے؟ آپ بتائیں! آپ میڈیا والے ہیں آپ ہمارے ساتھ اگر ہوں گے تو تب انقلاب آئے گا! اگر پولیس والے ہمیں مارے گے نہیں تب انقلاب آئے گا! آپ دیکھے عمران خان اُس کا کیا ضرورت ہے؟ وہ تو بہت امیر بندہ ہے، وہ اوپر کھڑا ہوا ہے وہ بھی جلسے جلوس دے رہا ہے اُس کو بھی دھکے لگ رہے ہیں۔ ہر ببدے کو Left, Right, Central دھکے دے رہے ہیں! یہ میرے بھائے گرمی میں خراب ہو گئے ہیں! ہمیں کوئی ضرورت ہے یہاں آنے کی"

کر لو گل!!! اے کی اے؟؟؟ مجھے ذاتی طور پر اس لڑکے کے خلوص پر شبہ نہیں! یہ سچے جذبے سے ممکن ہے سرشار ہو مگر زندگی کی حقیقت نے نا واقف ہے!!

ممکن ہے ایسے ہے پولیس کی دنڈے کے ڈر سے انقلاب سے بھاگنے والے کارکنان سے مایوس ہو کر عمران خان نے لندن والی سرکار کو فون کیا ہو "پیر صاحب! ہمارے بندے تو پولیس سے جان کی امان مانگتے ہیں وہ منتر مجھے بھی دے دو جس سے آپ کے کارکنان پولیس کو جان سے آہو!!!!”

اپ ڈیٹ:- اس جذباتی جذبے والے لڑکے کا رد عمل:

اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟

گزشتہ ہفتہ ہم اپنے وکیل دوستوں کے ہمراہ لاہور کی سیر کو نکلے ہوئے تھے، ۱۴ مارچ کی رات قریب ۱۱:۳۰ بجے اچانک واپسی کا ارادہ ہوا لہذا سامان پیک کیا، اُس وقت ریل گاڑی سے واپسی ممکن نہ تھی لہذا نظر انتخاب Daewoo پر پڑی، Daewoo کے اسٹاپ تک جانے کے لئے ایک رکشہ والے سے معاملہ طے کیا اور روانہ ہوئے۔ ایک جگہ پولیس نے روکا ہم نے تعارف کروایا ، اور آگے روانہ ہوئے تب رکشہ والا یوں مخاطب ہوا
“تو آپ لوگ وکیل ہیں"
ہم "جی جناب، کوئی قصور اس میں ہمارا؟"
رکشہ والا "نہیں جناب قصور آپ کا کیا ہونا ہے، مین نے تو ویسے ہی پوچھ لیا کہ آپ نے ابھی پولیس والوں کو اپنا تعارف کروایا تھا ناں اس لئے"
ہم "اچھا"
رکشہ والا "ویسے صاحب میں مکمل ان پڑھ بندہ ہو مگر یہ جانتا ہوں کہ جس کو قانون آتا ہے ناں وہ بڑا تیز بندہ ہوتا ہے، دوسرا ہم تو ویسے ہی وکیل کا گرویدہ ہے"
ہم "یار گرویدہ تو ہم ہے آپ لاہوریوں کے آپ نے جو ڈیوس کو پکڑا"
رکشہ والا "صاحب ہم نے کیا پکرنا تھا، اُس کی قسمت ہی بری تھی قابو آ گیا"
ہم " نہین یار بڑا کام کیا تم لوگوں نے"
رکشہ والا "صاحب ویسے ایک بات ہے جب سے وہ پکڑا گیا ہے ناں ایک عجیب سا اطمینان ہے اندر، یہ پولیس والے بھی اب مطمین نظر آتے ہیں ذیادہ تنگ نہیں کرتے ورنہ پہلے تو بہت سوال کرتے تھے"
ہم " کیا اطمینان؟ اور پولیس والے کیسے مطمین ہو گئے؟"
رکشہ والا " ارے صاحب، جب کوئی مجرم مکمل ثبوت کے ساتھ پکڑا جائے اور مناسب تشہیر سے یہ احساس ہو کہ اسے قرار واقعی سزا ہو گی تو ہم غریبوں کو اندر سے اطمینان ہوتا ہے کہ انصاف ہو گا، اور پولیس بھی اچھی لگتی ہے محافظ معلوم ہوتی ہے ورنہ تو دشمن۔ صاحب اُس دن سے ہمارا روزگار بھی بڑھا ہے"
ہم "کیا بات ہے آپ تو بہت گہری باتیں کرتے ہوں"
رکشہ والا "ارے صاحب کیوں مذاق اُڑاتے ہوں"

آج ریمنڈڈیوس کی رہائی کی خبر سن کو جو دوسرا شخض ہمارے ذہن میں آیا وہ وہی رکشہ والا تھا۔۔۔۔ اب سوچتا ہوں اُس کے اطمینان کا کیا ہو گا؟؟ اور سچی بات بتاؤ اب تو خود مجھے بھی عدم تحفظ کا احساس ہو رہا ہے کیا معلوم کب کہاں کوئی ریمنڈڈیوس کسی گاڑی سے مجھ پر بھی فائر کر دے؟

تمہیں کیوں شکایت ہے؟؟

جب ورلڈکپ کا آغاز ہو تو پی ٹی وی پر رمیز راجہ نے ایک کرکٹ سے متعلق پروگرام کیا! جس میں عبدلقادر بھی شریک تھے! اُس میں کرکٹر عبدلقادرنے پرانے دور کا ذکر کیا تو بتایا کہ کیسے ویسٹ انڈیر کے ایمپائر اپنے ملک میں اپنے کھلاڑیوں کا آؤٹ کھا جاتے تھے!! وجہ عوام کا خوف کہ مارے گے!!
آج ویسٹ انڈیز نے بنگلہ دیش کے ساتھ جو سلوک کیا وہ بنگالیوں سے ہضم نہیں ہوا لہذا ہوٹل جاتی ویسٹ انڈیز کی ٹیم کو پتھروں سے نوازا!!! اس پر کرس گیل کچھ یوں شکایت کرتے نظر آئے

مانا کہ بنگلہ دیش کی عوام کو یہ حرکت نہیں کرنی چاہئے تھی مگر کرس گیل کو اتنا بھی غصہ نہیں آنا چاہئے!!!

سوچنے کی بات

“اور میاں کیسے ہو؟"
کرم ہے رب کا آپ سناؤ
“میں تو ٹھیک ہو مگر یہ بتاؤ وڈے سرکار کا ولیمہ کب ہے؟"
کیا مطلب کس کا ولیمہ؟
“یار وہ ہی جو پاکستان کو کھپانے کی آرزو لیئے بیٹھے ہیں آپ کا! سنا ہے محترم نے شادی کھپا دی ہے!”
ارے بھائی وہ خبر تو جھوٹی تھی ! اس لئے تو صدر صاحب نے اس لئے متعلقہ اخبار کو جس نے یہ خبر نیٹ سے لے کر شائع کی تو
محترم نے لیگل نوٹس دے دیا ہے سنا ہےکہ کافی بڑی رقم مانگ لی ہے۔
“کر لو گل تو کیا اس کا مطلب ہے کہ جن معاملات میں جو لیگل نوٹس نہیں دیا تو وہ الزامات سچ ہے
“چپ اوئے"

انقلاب ابھی دور ہے

تیونس و مصر کے عوامی احتجاج کو دیکھ کر یار لوگ یہ خیال کرنے لگے ہیں کہ ممکن ہے انہیں دیکھ کر پاکستانی قوم/عوام بھی سڑکوں پر آ جائے! حق مانگے یا حق چھین لے! کیوں کہ میں بھی اس عوام کا حصہ ہوں اس لئے اپنی موجودہ اندرونی حالت کو دیکھ کر یہ جان چکا ہوں کہ ابھی عوام حقوق کی جدوجہد کو زبانی جمع خرچ سے آگے نہیں لے کر جائے گی۔
ابھی بیداری اُس نہج پر نہیں پہنچی کہ عوام گھر سے باہر نکلے!اُن ملکوں کے حاکم ڈکٹیٹر تھے، اور اپنے جمہوری ڈکٹیٹر!! یعنی بظاہر جمہوری مگر درحقیقت ڈکٹیٹر!! کوئی عوام کے دکھ میں اپنا دکھی ہے کہ ملک سے باہر رہ کر 'چندہ' کی رقم پر گزارہ کر کے، عوامی بلکہ قومی مسائل کا حل تلاش کر رہا ہے، کوئی اپنی باری کے انتظار میں ابھی اپنے نئے لگے بال سنوار رہا ہے اور کوئی 'زر' جمع کرنے کو اقتدار میں ہے۔

کل پھر وہاں جانے کا اتفاق ہوا جہاں حاکم جماعت کے 'co-chairman' صاحب کا(جی آب اُن کا ہی گھر ہے کیا ہوا جوبیٹے کے نام پر ہے) گھر ہے! یہ تو علم تھا کہ ایک مخصوص آرڈیننس کے ذریعہ انہوں نے اپنے تمام مکانات کو 'صدارتی رہائش' قرار دے دیا ہے مگر ہم نا واقف ہیں کہ یہ 'بلاول ہاؤس' کا احاطہ ہے کتنا۔ صدارتی رہائش قرار دینے کے بعد اول اول تو بلاول ہاؤس کے سامنے موجود سروس روڈ کو بند کر دیا گیا سیکورٹی کے نام پر یا کے لئے پھر ہر گزرتے دن کے ساتھ یہ احاطہ اس قدر بڑھتا گیا کہ قریب ہی موجود کلفٹن گرل ہوٹل بند ہوا اوراب یہ ہوا کہ نا صرف سروس روڈ بند ہے بلکہ Express Road کی بھی ساتھ میں 'قبضہ' میں لے لی گئی ہے۔ اور وہاں کنکریٹ کی دیوار بنائی جا رہی ہے جس کی ابتدائی اونچائی قریب 6/7 فٹ ہو گی! سوال یہ ہے کہ اگر صدر پاکستان عوامی سڑک پر اپنی سیکیورٹی کے نام پر قبضہ کر لیں! ایسا ہی کراچی Avari Hotal کے قریب واقعی زرداری ہاؤس والی سڑک پر کیا گیا ہے۔ اور کوئی سؤال کرنے کی ہمت نہ رکھتا ہو یا انگلی نہ اُٹھاتا ہو تو میرا نہیں خیال کہ انقلاب کا سفر ابھی اس قوم نے شروع کرنے کا سوچا بھی ہو!! ابھی یہ قوم حق کے لئے سڑک پر نہیں آئے گی!! البتہ خوش فہمی پال لو تو الگ بات ہے۔
اور جب صدر ایسا کریں تو باقی کسی اور سے کیا توقع ہو سکتی ہے؟
ہنوز انقلاب دور است!!

دو قصے

پرسوں اپنے کامیاب گورنری کے لئے دیئے گئے انٹرویو کے بعد جب پیپلزلائر فورم کے چیرمین کراچی کے پیپلز پارٹی کے وکلاء کے ساتھ وقت گزار رہے تھے تو ایک شریک محفل کے اس جملے پر کہ "بھائی ان کے ساتھ ابھی جس نے کوئی تصویر بنانی ہو یا وعدہ لینا ہو لے لےورنہ بعد میں کیا معلوم ملاقات ہو بھی یا نہیں؟" تو جواب میں اُن حضرت نے یہ قصہ سنایا!
ایک سابقہ گورنر پنجاب گورنری ملنے سے قبل اپنے ایک دوست کے ہمراہ اکثر شکار کو جاتے تھے اپنے کا وہ دوست جانوروں کی اوازیں نکالنے کا ماہر تھا! جب وہ صاحب گورنر بنے تو جناب کے دوست اُن سے ملنے گورنر ہاؤس پہنچے تو سیکورٹی والوں نے انہیں اندر داخل نہ ہونے دیا جواب میں اُس دوست نے باہر ہی کھڑے ہو کر جانوروں کی آوازیں نکالنا شروع کر دی تو کھر صاحب نے کہا بھائی اس بندے کو اندر انے دوں!! لہذا آپ لوگ بھی وکیل ہو تحریک میں نعرے لگانے کی پریکٹس ہو گئی ہے شروع ہو جانا!! پھر کون روک سکے گا آپ کو داخلے سے؟
اس کے علاوہ ایک اور نہایت دلچسپ و (بتانے والے کے بقول) سچا قصہ یوں ہے!
ہمارے ملک کے ایک صوبے کے وزیراعلی جن کے متعلق اہل خبر جانتے ہیں کہ وہ مخصوص نشے کے شوقین ہیں، اُس ہی نشے میں مدہوش اپنے پہلے اسلام آباد کے دورے سے واپسی پر اپنے صوبے میں لوٹے تو سرکاری گاڑی میں بیٹھ کر وزیراعلی ہاؤس کی جانب روانہ ہوئے! ہوئے پروٹوکول کی گاڑیوں نے ہارن/سائرن بجایا، گھبرا کر اپنے ڈرائیور سے مخاطب ہوئے!
“ابے! گاڑی تیز چلا، لگتا ہے اپنے پیچھے پولیس لگ گئی ہے"
ڈرائیور نے عرض کیا جناب پولیس پیچھے نہیں لگی آپ اس صوبے کء وزیراعلی ہو یہ آپ کے پروٹوکول کی گاڑیاں ہیں! آپ کی حفاظت ہر مامور ہیں تو انہیں اطمینان ہو!!!
کمال ہے ناں!!!