لڑکپن کی یاری اور جوانی کا پیار—دونوں ساری عمر نہیں بھولتے، یہ ہم نے ہمیشہ سنا ہے۔ جوانی میں تو کبھی پیار نہ ہوا، البتہ لڑکپن کے دوست آج بھی رابطے میں ہیں، اور ایک آدھ سال بعد بیٹھک بھی ہو جاتی ہے۔
اسکول اور کالج کی دوستی کی سب سے دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ اُس وقت کا تعلق ہوتا ہے جب زندگی کی جدوجہد ابھی شروع نہیں ہوئی ہوتی، اور نہ ہی دنیاداری کا کوئی خاص علم یا فہم ہوتا ہے۔ اسی لیے یہ رشتہ خالص اور اصل ہوتا ہے، بے غرضی کا۔
اُس دور کے دوست آج زندگی کے مختلف شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ ہیں—انگریزی میں کہیں تو بالکل "Diversified"۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اُس وقت کا دوست صرف دوست ہوتا ہے: نہ کامیاب نہ ناکام، نہ اچھا نہ برا۔ اُسے پرکھا نہیں جاتا، آزمایا نہیں جاتا، بس دل میں سنبھال کر رکھا جاتا ہے۔