Pages

5/17/2022

فیصلہ

عدالتیں سائلین کی مرضی کے فیصلے کرنے کو نہیں بلکہ جو انہیں عین انصاف لگے اپنی قانونی سمجھ بوجھ کے تحت آزادانہ فیصلے دینے کو ہیں۔ 
 جج کی مرضی و خواہش ممکن ہے کبھی انصاف کے متضاد ہو مگر وہ پابند ہے کہ قانون و حقائق (جو عدالت کے سامنے ہوں) کے مطابق فیصلہ دے۔ تاریخ بہت ظالم ہے یہ آگاہ کر دیتی ہے کون سا فیصلہ انصاف کے مطابق تھا اور کون سا خواہش کے زیر اثر۔ یوں پردہ فاش ہوتا ہے کون سا منصف ایماندار تھا اور کون سا قاضی بے ایمان۔ 
کسی سائل کا فیصلے کو ناانصافی کہنا اسے غلط فیصلہ نہیں بناتا۔

8/16/2021

اقتدار کا نشہ

نشہ فرد کی عقل کو ماند ہی نہیں کرتا بلکہ اکثر اس کی سمجھ بوجھ کو بھی مکمل طور پر "متاثر" کرتا ہے۔ مدہوشی میں کیئے گئے فیصلے کبھی بھی ہوش مندی میں کئے گئے فیصلوں جیسے بہتر نہیں ہوتے۔ اقتدار کی غلام گردشوں کا حصہ ہنا بھی ایک قسم کا نشہ ہے جوالگ ہی مدہوشی کا سبب بنتا ہے۔ تخت سے جڑے رہنے کی خواہش اور اپنی طاقت کو بڑھانے کا شوق! فرد کو قانون کی لاقانونیت کے لئے پر اکساتا ہے۔ تاریخ ایسے افراد کو ولن بتاتی ہے جبکہ وہ جو بنتی تاریخ میں جی رہے ہوتے ہیں اس وقٹ خود کو مسیحا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

5/02/2021

متواسط طبقہ اور مہنگا ازاربند


ہم میں سے ہر ایک ہر معاملے کو اپنے نقطہ نظر سے دیکھنے کا عادی ہے اس کی وجہ اس کا اپنا خاص ماحول جس میں اس نے نشوونما پائی یا وہ طبقہ جس سے وہ تعلق رکھتا ہے۔ فرد کی معاشی حیثیت بھی اس کے ماحول و تعلق کو ظاہر کرتی ہے۔ کسی کے لئے پچاس ہزار ایک ماہ کے لئے کافی ہیں اور کوئی اس میں بمشکل ایک ہفتہ "گزارا" کر پاتا ہے۔

جب ہم نے اپنی وکالت شروع کی یعنی اپنے سینئر سے الگ ہوئے تو ایک پہلا مسئلہ جس سے ہمارا واسطہ پڑا وہ سائل سے معاوضے کا تعین تھا۔ جس لاء فرم سے ہم نے وکالت سیکھنے کی ابتداء کی تھی وہ ایک اونچے طبقے سے تعلق رکھتی تھی لہذا میرے ریفرنس کے افراد کے لئے اس حیثیت کی فیس ادا کرنا ممکن نہ تھا۔ وکالت کے آغاز میں اس بات کی تو سمجھ آ گئی کہ معاوضہ طلب کرتے وقت صرف مسئلہ کی پچیدگی ہی نہیں بلکہ سائل کی قوت خرید کو بھی مد نظر رکھنا ہوتا ہے۔

متواسط طبقے کے سائل سے جس ضمانت کے ہم چالیس ہزار طلب کرتے تھے چند ہمارے دوست وہ کام بیس ہزار میں اور کچھ سینئر وکلاء اسے طرز کی ضمانت کے ڈیڑھ سے تین لاکھ روپے فیس کی مد میں لیتے تھے۔ فرق ٹریٹمنٹ کا ہوتا تھا بس۔ قانون و دلائل میں کیا فرق ہونا ہے بشرطیکہ وکیل محنتی ہو۔ وہ کہتے ہے ناں ایک امیرزادے کے ہاتھوں قتل ہو گیا تو اس کا باپ ایک وکیل کے پاس اپنا کیس لے کر گیا معاملات طے ہو رہے تھے تو امیرزادے کا باپ وکیل کی "کم" فیس کی بناء پر بددل ہو گیا کہ جو اس قدر کم معاوضہ مانگ رہا ہے اس نے کیا مقدمہ لڑنا ہے لہذا وہ ایک دوسرے وکیل کے پاس کیس لے گیا بھاری معاوضہ دینے کے بعد بھی اس کے بیٹے کو سزا ہو گئی۔ کچھ عرصے بعد باپ کی ملاقات پہلے والے وکیل سے ہوئی تو اس نے بچے کے مقدمے بارے پوچھا تو باپ نے آگاہ کیا کہ اسےسزا ہو گئی ہے جس پر وکیل صاحب بولے " دیکھ لیں جو کام آپ نے پندرہ لاکھ میں کروایا وہ میں تین میں کردیتا"۔

یہ قیمت یا معاوضہ کا فرق وکالت ہی نہیں بلکہ ہر شعبہ زندگی میں نام (جسے آپ برانڈ کہہ لیں) اور ٹریٹمنٹ (اسے آپ پریزنٹیشن یا سہولت کہہ لیں) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ میرے والد جب اپنی نوکری سے ریٹائر ہوئے تو باقی پاکستانیوں کی طرح انہوں نے بھی ریٹائزمنٹ کے بعد حج کا رادہ کر رکھا تھا۔ حج ایک مشقت والی عبادت ہے لہذا اس مشقت کو کم کرنے کے لئے انہوں نے سرکاری کے بجائے پرائیویٹ سیکٹر سے حج پر جانے کا پروگرام بنایا 2016 میں جب سرکار پونے چار لاکھ کا حج کروا رہی ی میرے والدین نے جو پیکج لیا وہ ساڑھے سات لاکھ فی کس والا تھا حرم و مدینہ میں قریب رہائش و دیگر سہولیات کی بنا پر ان کا حج با آسانی ہوا۔ تب ہمیں معلوم ہوا کہ مولانا طارق جمیل صاحب پندرہ لاکھ فی کس کے حساب سے حج کا پیکج دے رہے ہیں۔


ہر طبقے کے اپنے برانڈ ہوتے ہیں ہر شعبہ میں۔ ان کی اپنی شرائط ہوتی ہیں۔ میرے جیسے متواسط طبقے کے بندے کو کبھی بھی بڑے نام (برانڈ) کی خریداری بارے میں نہیں سوچنا چاہئے۔ ایم ٹی جے برانڈ ابھی کا نہیں ہے شروع سے ہی اوپری طبقے کا برانڈ ہے۔ ان کے پیروکار ابتداء سے ہی "بڑے نام" رہے ہیں۔ بڑے برانڈ آہستہ آہستہ ہر شعبہ میں داخل ہونے کی کوشش کرتے ہیں ان پر تنقید یا ان کی حمایت کرتے واقت احتیاط کریں کیونکہ کہیں آپ کے اپنے  نظریات اور کہیں آُپ کا اپنا طبقہ اس تنقید یا حمایت کا نشانہ بن سکتا ہے۔ چالیس والا آزار بند سو روپے میں یا چار سو والی ٹوپی پندرہ سو میں ہرگز مہنگی نہیں بس وہ آپ کے لئے نہیں ہے کیونکہ آپ کی کلاس دوسری ہے۔

1/27/2021

انتقال و شخصیت



زمین کے انتقال کے بعد آپ اس کے مالک بنتے ہیں اور اپنے انتقال کے بعد آپ زمین کی ملکیت بنتے ہیں۔

اس درمیاںی وقفے آپ کا کردار دراصل آپ کی اصل شخصیت ہے۔

7/19/2020

گورک ہل کا سفر

کورونا سیزن یا لاک ڈاؤن میں جہاں سارا پاکستان کرونا سے لڑنے کو گھر میں بیٹھ کر “کرونا خلاف” جنگ میں مصرو ف تھا وہاں دوسری طرف ہم روازنہ کی بنیاد پر نوکری پر موجود ہوتےتھے۔ ایسے میں دوستوں کا گورک ہل کا پروگرام تازہ ہوا کا جھونکا لگا۔
کراچی سے چار سو کلومیٹر دور یہ علاقہ سندھ کا “مری” و “ناردن ایریا” کہلاتا ہے۔ ہم نے اب تک اصل مری و ناردن ایریا نہیں دیکھا لہذا ہمارے جیسے کے لئے یہ “شارٹ کورس” تھا کہ تھوڑا تھوڑا جان لیں سب بارے اور پھر بھی معلوم کچھ بھی نہ ہو۔

کراچی سے دادو تین گھنٹے میں اور پھر دادو شہر سے واہی پاندی قریب چالیس منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد معلوم ہوا گورک ہل (پہاڑی) تک مزید تین گھنٹے درکار ہونگے۔
واہی پاندی، ضلع دادو کے تعلقہ جوہی کا وہ مقام ہے جہاں سے آگے ہم اپنی گاڑی میں سفر نہیں کرسکتے تھے یہاں سے جیپ اوپر جانے و آنے کے لئے پانچ سے چھ ہزار میں ملتی ہے اور ڈرائیور رات اوپر رکنے کو راضی ہوتے ہیں۔
واہی پاندی کو واہی پاندی کہنے کی کیا وجہ ہے؟ ہم نے یہ جانا کہ کسی پاندی نام کے فرد نے کھیتی باڑی کے لئے ایک نہر بنائی اور کاشت کاری شروع کی ۔ واہی مطلب کھیتی کا کام بھی ہے۔ یوں پاندی صاحب کا نام تاریخ میں زندہ رہا اپنی کاشت کاری کے لئے کی گئی جدوجہد کی وجہ سے۔ ویسے کراچی میں ایک جگہ لالوکھیت ہے شہر کی ترقی نے کھیت ختم کر دیا اور لالو کا علم نہیں کہاں چلا گیا مگر لالو کے کھیتوں نے اسے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ 
جوہی تعلقہ کا نام یاد رکھنا ہمارے لئے یوں مشکل نہ تھا کہ جوہی چاولہ ہمارے کئی جاننے والوں کی پسندیدہ اداکارہ رہی ہے اگرچہ اس کا اس تعلقہ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ جوہی کسی دور میں (مطلب انگریزی دور حکومت میں) ضلع کراچی کا حصہ رہا ہے اور بدھ ازم کا اسٹوپا (عبادت گاہ) بھی یہاں ہے۔ تھر کے بعد شاید یہ ہی بدھ عقیدے

کے لوگوں کے اثر میں رہنے والا ایک اہم علاقہ رہا ہے سندھ میں۔
بہرحال واہی پاندی سے ستر کلومیٹر کا سفر ہے طے کر کے گورک کی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنا ایک الگ ہی ایڈوانچر تھا۔یہ ایک دس سال سے زیرتعمیر روڈ ہے۔اس پرخطر راستے پر گاڑی چلانا ایک مہارت ہے جو ان جیپ ڈرائیوروں کا ہی خاصا ہے۔ ایک غلطی آُپ کو اوپر سے نیچے ہی نہیں لاتی بلکہ نیچے سے اوپر بھی پہنچا سکتی ہے۔راستہ پر خطر ہی نہیں تھا بلکہ سحرانگیز بھی ہے۔ “حسن سحرانگیز ہو تو پر خطر بن جاتا ہے” ممکن ہے یہ جملہ صرف کسی دوشیزہ کے حسن کی تعریف کے لئے استعمال کیا گیا ہو مگر ہمیں اس سفر میں نظر آنے والے فطری حسن پر بھی سچا معلوم ہوتا ہے۔

زمین (واہی پاندی) پر 44 دگڑی کے بعد اوپر (کورک ہل) پر بارہ سے پندرہ درجہ حرارت ایک حیران کر دینے والا مامعلہ ہے۔ سمندر سے قریب چھ ہزار فٹ پر واقعہ یہ مقام جولائی میں ہم کراچی والوں کو دسمبر کی سردی کا لطف دیتا محسوس ہوتا ہے۔ کوہ کیر تھر کے پہاڑی سلسلے پر یہ مقام ایک عمدہ تفریح مرکز بن سکتا ہے۔ سندھ سرکار نے اوپر اچھے انتظامات کر رکھے ہیں یہاں تمام سہولیات و انتظامات سرکار کے ہیں اگر کوئی پرائیویٹ پارٹی منتظم بھی ہے تو اس کے پاس ٹھیکہ ہے کیونکہ یہاں تمام املاک سرکاری ہیں۔اگرچہ راستہ زیرتعمیر ہے اور اوپر تک کا سفر دشوار ہے مگر چوٹی پر رہائش و کے اچھےانتظامات ہیں ، کیمپنگ بھی کی جا سکتی ہے۔ موٹرسائیکل پر دل والے اوپر پہنچے ہوئے تھے۔ کورونا سیزن کی وجہ سے لوگوں کی کم تعداد تھِی۔

کوہ کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ سندھ و بلوچستان کی سرحدی لکیر بھی ہے۔گورک ہل کو گورک ہل کہنے کی دو ممکنہ وجوہات بیان کی جاتی ہیں ، ایک یہ کہ کورک کے معنی چیتے و خطرناک جانور کے ہیں اور یہاں کسی دور میں کافی خطرناک جانور ہوتے تھے دوسری وجہ کورک ناتھ نامی بدھ مذہب کا پیروکار بتایا جاتا ہے جو یہاں اپنی عبادت کرتا تھا۔

سورج غروب ہونے سے پندرہ منٹ قبل ہم اوپر زیروپوائنٹ پر پہنچ ےاو ر ہم نے یوں سورج غروب ہوتا دیکھا کہ سورج کسی پہاڑی کے پیچھے نہیں چھپا بلکہ آسمان پر ایک لال داری سی سطح چھوڑتا ہوا مدہم ہوتا ہوا غائب ہو ا اور بعد میں وہ لالی بھی آہستہ آہستہ غائب ہو گئی۔ رات ہم نے استادامیرخان کی گائیکی کے سرور میں مدہوش ہوئے اور صبح کراچی واپس روانہ ہوئے۔ 
 ایک یادگار سفر تھا یہ!!! ہمارا شارٹ کورس فطرت کی حسن بارے آگاہی کا۔