Pages

4/01/2019

جب ملزم انتقال کر گیا


ہمارے ایک دوست جو اب ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل ہو گئے ہیں پہلے ہماری طرح اسسٹنٹ ڈسٹرکٹ پبلک پراسیکیوٹر (ہم اسسٹنٹ پروسیکیوٹر جنرل ہیں اب) تھے ان کی عدالت کے ایک مقدمے میں ایک ملزم اچانک غیر حاضر ہوا اور پھر کئی تاریخوں میں جب وہ پیش نہ ہوا تو اس ملزم کے وکیل نے عدالت کو ملزم کے کسی رشتے دار کے حوالے سے تحریری طور پر آگاہ کیا کہ "ملزم کے فلاح رشتے دار سے معلوم ہوا ہے کہ ملزم  بنام فلاح انتقال کر گئے ہیں لہذا میرے لئے مزید اس مقدمے میں پیروی کرنا ممکن نہیں" انہوں نے یہ آگاہی درخواست  اردو میں دی (ورنہ عموماً وکلاء انگریزی میں عدالت کو تحریری طور مخاطب کرتے ہیں) ۔
اس بنیاد پر اس مقدمہ کی سماعت معطل ہو گئی یعنی dormant کہہ لیں۔ چند ماہ بعد اس کیس کا تفتیشی آفیسر اس ملزم کی کسی دوسرے کیس میں گرفتاری کی رپورٹ لایا اور مقدمہ دوبارہ اوپن ہوا اور وہ ہی وکیل صاحب اس کی ضمانت کی درخواست کے ساتھ حاضر ہوئے تو ہمارے دوست نے  وکیل کی سابقہ غلط بیانی کی طرف عدالت کو متوجہ کیا کہ یہ وکیل صاحب ماضی میں ملزم کے "انتقال" کی اطلاع دے کر عدالت کو گمراہ کر چکے ہیں لہذا اب ان کی درخواست ضمانت نہ صرف رد کی جائے بلکہ عدالت سے غلط بیانی پر وکیل کے خلاف بھی کاروائی کی جائے۔ وکیل صاحب کا دعویٰ تھا انہوں نے کسی قسم کی کوئی غلط بیانی نہیں کی لہذا انہیں سماعت کا موقع فراہم کیا جائے وہ اگلی تاریخ پر سب واضح کر دیں گے لہذا تاریخ پڑ گئی۔
دن مقررہ پر سرکاری وکیل (ہمارے دوست) اور ملزم کے وکیل دونوں حاضر ہوئے ملزم کے وکیل نے اردو لغت کی چند کتب کی مدد سے ثابت کیا کہ درخواست میں "انتقال" سے مراد ملزم کا مقام یا جگہ تبدیل کرنا ہے نہ کہ وفات پا جانا لہذا اگر زبان سے ناواقفیت کی بناء پر عدالت یا کسی فرد نے مختلف سمجھا تو اس میں ان کا کوئی قصور نہیں۔
بعد میں ضمانت ہوئی ملزم کی یا نہیں یہ تو معلوم نہیں مگر وکیل صاحب کی واہ واہ ضرور ہوئی ہمارے وہ دوست آج زباں دانی اور الفاظ کے چناؤ میں اپنی مثال آپ ہیں اور اس سلسلے میں وہ اپنا استاد انہی وکیل صاحب کو مانتے ہیں ہمیں علم نہیں اس عدالت کے جج صاحب کی اس سلسلے میں کیا رائے ہے۔
یہ سارا قصہ ہمیں ابن آس صاحب کے اس اسٹیٹس سے بتانے کا خیال آیا۔

12/21/2018

موٹیویشنل اسپیکر

ابے آج کل کیا کر رہا ہے
"کچھ نہیں بس فارغ ہو وقت برباد کر رہا ہوں"
اچھا! ایسا کر پھر یو ٹیوب پر ڈاکومینٹری دیکھا کر یا کسی اچھے موٹیویشنل اسپیکر کو سنا کر
"کوئی اچھا نام بتا بتا اس سلسلے میں"
یار ایک لاہور کا ہے قاسم علی شاہ یا کراچی کا ہے عاطف احمد اچھے ہیں ویسے
"ٹھیک ایک ہندوستانی کا نام بھی سنا ہے سندیپ کر کے نام ہے وہ کیسا ہے"
وہ بھی ٹھیک ہے اسے بھی سنا جا سکتا ہے
"ویسے ان کو سننے سے موٹیویشن ملتی ہے کیا؟"
ابے موٹیویشن ان اسپیکروں سے نہیں ملتی بس باتیں کرنا آ جاتی ہے یہ فائدہ ہے سننے کا

11/01/2018

آسیہ ملعونہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

قانونی اعتبار سے آسیہ بری ہو چکی ، ریویو داخل بھی ہوا تو بھی سزا بحال ہونا ممکن نہیں اب قانونی طور پر۔
اس کیس میں سزا برقرار رکھنے کے لئے بھی کافی مواد تھا اور یاد رہے ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھتے وقت عدالت سے باہر عوامی جرگہ میں ملزمہ کے اقبال جرم کو قانون کی روشنی میں پہلے ہی رد کر دیا تھا یوں اس فیصلے میں باقی تضادات کے مقابلے میں دو ہی تضاد ایسے ہیں جنہیں بریت کی وجہ بیان کیا جا سکتا ہے ایک مدعی (قاری ) تک اس توہین کی خبر کس طرح پہنچی؟ اس سلسلے میں مثل پر دو بیان ہیں ایک میں قاری کی بہن نے اسے بتا کہ اس کی شاگرد خواتین  کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا دوسرا وہ خواتین خود قاری صاحب کے سامنے پیش ہوئیں۔ دوسرا خواتین نے دوران جرح عدالت میں فالسے کے باغ میں پانی پینے والی بات پر ہونے والے جھگڑے کی صحت یا واقعی سے انکار کیا مگر باقی دیگر گواہان نے اس جھگڑے سے متعلق گواہی دی۔
باقی تضادات عوامی جرگہ کے گرد گھومتے ہیں۔

جسٹیس کھوسہ صاحب کو فوجداری مقدمات میں پاکستان میں سند مانا جاتا ہے۔ ان کے فیصلے بہت بہترین ہوتے ہیں ، جس قدر محنت سے انہوں نے اپنا اضافی نوٹ فیصلے کے حق میں لگایا ہے یقین جانے اس سے آدھی محنت وہ اختلافی نوٹ بھی لگا سکتے تھے یہ ہی نہیں اس سے بھی کم محنت میں وہ ممتاز قادری والے کیس میں سزائے موت کو عمرقید میں بدل سکتے تھے۔ (آسیہ اور عاصیہ کو ایک سمجھنا بھی عجب غلطی ہے معلوم ہوتا ہے صرف انگریزی کتاب سے ریفرنس لیا گیا ہے جو تلفظ ملنے سے یہ غلطی کر لی)

اور جس قدر محنت اور باریک بینی سے چیف صاحب نے آسیہ والی ججمنٹ لکھی ہے اس سے آدھی محنت سے بھی کم محنت میں شاہزیب والے کیس میں جبران ناصر کی پٹیشن/درخواست رد ہو سکتی تھی (فوجداری مقدمات میں تیسرے فریق کی درخواست پر فیصلہ بدلنے کی اس سے قبل کوئی مثال میری نظر سے نہیں گزری نہ کوئی سینئر ایسی کوئی مثال بیان کرتا ہے)۔

مختصر قانون یقین اہم ہے مگر جج کی منشاء بھی کہیں کہیں غالب ہوتی ہے۔ یہ منشاء ہی دلیل و تاویل کا فرق ہوتی ہے۔ اس ججمنٹ پر کسی جج نے اختلافی نوٹ نہیں لکھا ججمنٹ کے حق میں یہ ایک بہت بڑا آرگومنٹ ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔
مذہبی حلقوں میں ملک کی بڑی عدالت اپنا وقار اس ہی مقام پر لے آئی ہے جس مقام پر نظریہ ضرورت کو متعارف کروانے اور پی سی او حلف کے بعد سیاسی حلقوں میں پہنچ گئی تھی۔
اکتیس اکتوبر کو اب ہر سال انگریز دور کے غازی علیم الدین  شہید کے ذکر کے ساتھ ملک پاکستان کے ایوان اقتدار و عدلیہ بارے کیسے خطاب ہوا کرے گے گلی گلی کیا آپ انہیں آج ہی بیان کر سکتے ہیں۔

10/23/2018

برا تو عوام ہے!!!

ہمارے ایک دوست نے ایک بار  ہمیں ایک قصہ سنایا آپریشن رد الفساد کے دور کا جن علاقوں میں پاک فوج نے آپریشن شروع کئے ان علاقوں میں طالبان کی کسی حد تک مقامی سپورٹ بھی ہوتی تھی لہذا پاک فوج وقت انخلاح مقامی افراد سے انٹرویو وغیرہ یا یوں کہہ لیں بات چیت وغیرہ کرتے تھے  کہ ممکنہ طور پر کوئی کام کی بات جو آپریشن میں مدد گار ہو سکے شاید مل جائے دوسری طرف مقامی افراد بھی خوف میں مبتلہ تھے نہ فوج مخالف بات کرتے نہ طالبان کی پرزور مخالفت کیونکہ تذذب کا شکار تھے
ایسے ہی ایک موقعہ پر ایک مقامی بزرگ سے  جب پوچھا گیا کہ طالبان بارے کیا رائے ہے تو جواب دیا “ سنا ہےاچھے لوگ ہیں اللہ کے قانون کی بات کرتے  ہیں قرآن و سنت کا بات کرتے ہیں اس کا نفاذ چاہتے ہیں اس زمین پر”
جوابن پاک فوج کے بارے سوال کیا گیا تو جواب آیا “وہ بھی اچھے لوگ ہیں پاکستان کی بات کرتے ہیں پاکستان ہمارا ملک ہے مسلمانوں کا ملک اللہ اور رسول کے لئے بنا ہے اس کی سالمیت چاہتے ہیں”
اب کے اگلا سوال ہوا کہ “طالبان بھی اچھے فواج بھی اچھی یہ کیا بات ہوئی برا کوئی تو ہو گا؟”
بزرگ گویا ہوئے “برا تو ہم ہے ہم عوام کافر اور ملک دشمن نہ مذہب کا سوچتے ہیں نہ ملک کا!!!  سب کا تعریف کرتے ہیں سب کی برائی ہم کو اس کی سزا بھی ملتا ہے اور ملنا چاہئے بھی”

گزشتہ دوماہ سے ملک میں الیکشن کے بعد اب تو لگتا ہے بزرگ نے ٹھیک کہا “برا تو ہم عوام ہے!!!!  عوام!! کافر اور ملک دشمن نہ مذہب کا سوچتے ہیں نہ ملک کا!!!  سب کا تعریف کرتے ہیں سب کی برائی ہم کو اس کی سزا بھی ملتا ہے اور ملنا چاہئے بھی باقی سب تو اچھا ہے کیا پٹواری، کیا یوتھیا، کیا جیالا کیا جماعتی یا کسی اور سیاسی جماعت یا گروہ کا حمایتی”

9/16/2018

فوجی ڈیم

ایک سینئر بتا رہے تھے ماضی میں جب بھی فوجی حکومت آئی یعنی فوجی حکمران آیا اس نے ڈیم بنانے پر زور دیا یا اس کا سوشہ چھوڑا۔
پوچھا فوجی حکمران مطلب فوج کا حکمران
بے دھیانی سے بولے "ہاں"
تو پوچھا ڈیم کے نعرہ کا مطلب فوجی حکومت ہوتا ہے ؟
بولے خاموش بیٹا تیری عمر ابھی میری عمر جتنی نہیں ہوئی کوئی دوسری بات کر۔