Pages

11/01/2018

آسیہ ملعونہ پر سپریم کورٹ کا فیصلہ

قانونی اعتبار سے آسیہ بری ہو چکی ، ریویو داخل بھی ہوا تو بھی سزا بحال ہونا ممکن نہیں اب قانونی طور پر۔
اس کیس میں سزا برقرار رکھنے کے لئے بھی کافی مواد تھا اور یاد رہے ہائی کورٹ نے سزا کو برقرار رکھتے وقت عدالت سے باہر عوامی جرگہ میں ملزمہ کے اقبال جرم کو قانون کی روشنی میں پہلے ہی رد کر دیا تھا یوں اس فیصلے میں باقی تضادات کے مقابلے میں دو ہی تضاد ایسے ہیں جنہیں بریت کی وجہ بیان کیا جا سکتا ہے ایک مدعی (قاری ) تک اس توہین کی خبر کس طرح پہنچی؟ اس سلسلے میں مثل پر دو بیان ہیں ایک میں قاری کی بہن نے اسے بتا کہ اس کی شاگرد خواتین  کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا دوسرا وہ خواتین خود قاری صاحب کے سامنے پیش ہوئیں۔ دوسرا خواتین نے دوران جرح عدالت میں فالسے کے باغ میں پانی پینے والی بات پر ہونے والے جھگڑے کی صحت یا واقعی سے انکار کیا مگر باقی دیگر گواہان نے اس جھگڑے سے متعلق گواہی دی۔
باقی تضادات عوامی جرگہ کے گرد گھومتے ہیں۔

جسٹیس کھوسہ صاحب کو فوجداری مقدمات میں پاکستان میں سند مانا جاتا ہے۔ ان کے فیصلے بہت بہترین ہوتے ہیں ، جس قدر محنت سے انہوں نے اپنا اضافی نوٹ فیصلے کے حق میں لگایا ہے یقین جانے اس سے آدھی محنت وہ اختلافی نوٹ بھی لگا سکتے تھے یہ ہی نہیں اس سے بھی کم محنت میں وہ ممتاز قادری والے کیس میں سزائے موت کو عمرقید میں بدل سکتے تھے۔ (آسیہ اور عاصیہ کو ایک سمجھنا بھی عجب غلطی ہے معلوم ہوتا ہے صرف انگریزی کتاب سے ریفرنس لیا گیا ہے جو تلفظ ملنے سے یہ غلطی کر لی)

اور جس قدر محنت اور باریک بینی سے چیف صاحب نے آسیہ والی ججمنٹ لکھی ہے اس سے آدھی محنت سے بھی کم محنت میں شاہزیب والے کیس میں جبران ناصر کی پٹیشن/درخواست رد ہو سکتی تھی (فوجداری مقدمات میں تیسرے فریق کی درخواست پر فیصلہ بدلنے کی اس سے قبل کوئی مثال میری نظر سے نہیں گزری نہ کوئی سینئر ایسی کوئی مثال بیان کرتا ہے)۔

مختصر قانون یقین اہم ہے مگر جج کی منشاء بھی کہیں کہیں غالب ہوتی ہے۔ یہ منشاء ہی دلیل و تاویل کا فرق ہوتی ہے۔ اس ججمنٹ پر کسی جج نے اختلافی نوٹ نہیں لکھا ججمنٹ کے حق میں یہ ایک بہت بڑا آرگومنٹ ہے جس کا جواب ممکن نہیں۔
مذہبی حلقوں میں ملک کی بڑی عدالت اپنا وقار اس ہی مقام پر لے آئی ہے جس مقام پر نظریہ ضرورت کو متعارف کروانے اور پی سی او حلف کے بعد سیاسی حلقوں میں پہنچ گئی تھی۔
اکتیس اکتوبر کو اب ہر سال انگریز دور کے غازی علیم الدین  شہید کے ذکر کے ساتھ ملک پاکستان کے ایوان اقتدار و عدلیہ بارے کیسے خطاب ہوا کرے گے گلی گلی کیا آپ انہیں آج ہی بیان کر سکتے ہیں۔

10/23/2018

برا تو عوام ہے!!!

ہمارے ایک دوست نے ایک بار  ہمیں ایک قصہ سنایا آپریشن رد الفساد کے دور کا جن علاقوں میں پاک فوج نے آپریشن شروع کئے ان علاقوں میں طالبان کی کسی حد تک مقامی سپورٹ بھی ہوتی تھی لہذا پاک فوج وقت انخلاح مقامی افراد سے انٹرویو وغیرہ یا یوں کہہ لیں بات چیت وغیرہ کرتے تھے  کہ ممکنہ طور پر کوئی کام کی بات جو آپریشن میں مدد گار ہو سکے شاید مل جائے دوسری طرف مقامی افراد بھی خوف میں مبتلہ تھے نہ فوج مخالف بات کرتے نہ طالبان کی پرزور مخالفت کیونکہ تذذب کا شکار تھے
ایسے ہی ایک موقعہ پر ایک مقامی بزرگ سے  جب پوچھا گیا کہ طالبان بارے کیا رائے ہے تو جواب دیا “ سنا ہےاچھے لوگ ہیں اللہ کے قانون کی بات کرتے  ہیں قرآن و سنت کا بات کرتے ہیں اس کا نفاذ چاہتے ہیں اس زمین پر”
جوابن پاک فوج کے بارے سوال کیا گیا تو جواب آیا “وہ بھی اچھے لوگ ہیں پاکستان کی بات کرتے ہیں پاکستان ہمارا ملک ہے مسلمانوں کا ملک اللہ اور رسول کے لئے بنا ہے اس کی سالمیت چاہتے ہیں”
اب کے اگلا سوال ہوا کہ “طالبان بھی اچھے فواج بھی اچھی یہ کیا بات ہوئی برا کوئی تو ہو گا؟”
بزرگ گویا ہوئے “برا تو ہم ہے ہم عوام کافر اور ملک دشمن نہ مذہب کا سوچتے ہیں نہ ملک کا!!!  سب کا تعریف کرتے ہیں سب کی برائی ہم کو اس کی سزا بھی ملتا ہے اور ملنا چاہئے بھی”

گزشتہ دوماہ سے ملک میں الیکشن کے بعد اب تو لگتا ہے بزرگ نے ٹھیک کہا “برا تو ہم عوام ہے!!!!  عوام!! کافر اور ملک دشمن نہ مذہب کا سوچتے ہیں نہ ملک کا!!!  سب کا تعریف کرتے ہیں سب کی برائی ہم کو اس کی سزا بھی ملتا ہے اور ملنا چاہئے بھی باقی سب تو اچھا ہے کیا پٹواری، کیا یوتھیا، کیا جیالا کیا جماعتی یا کسی اور سیاسی جماعت یا گروہ کا حمایتی”

9/16/2018

فوجی ڈیم

ایک سینئر بتا رہے تھے ماضی میں جب بھی فوجی حکومت آئی یعنی فوجی حکمران آیا اس نے ڈیم بنانے پر زور دیا یا اس کا سوشہ چھوڑا۔
پوچھا فوجی حکمران مطلب فوج کا حکمران
بے دھیانی سے بولے "ہاں"
تو پوچھا ڈیم کے نعرہ کا مطلب فوجی حکومت ہوتا ہے ؟
بولے خاموش بیٹا تیری عمر ابھی میری عمر جتنی نہیں ہوئی کوئی دوسری بات کر۔

6/20/2018

ایلیکٹیبل

ایک عجیب معاملہ ہے بڑی پارٹیوں  کے نامرذ امیدوار کردار میں بڑے نہیں اور جو امیدوار  کردار میں اچھے ہیں وہ بڑی پارٹی میں نہیں۔ ہمارے ملک کی جمہوریت میں یوں لگتا ہے بڑے و بُرے  اور اچھے و نکے آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ دلچسپ بات جو پارٹی جس قدر کم عوام میں مقبول ہوتی ہے اس قدر بہترین کردار کا امیدوار نامزد کرتی ہے اور جو جو عوامی حمایت بڑھتی جاتی ہے اس کا ممکنہ امیدوار اس قدر کمزور کردار کا حامل ہوتا ہے۔ اس اعلی درجے کے پست کردار امیدوار کو ایلیکٹیبل کا نام دیا جا رہا ہے۔
ایسا کیوں ہے؟ کیا یہ منتخب امیدوار ہمارے معاشرے کا آئینہ نہیں ہیں؟ اگر جمہوریت واقعی ہی عوام کی حکومت کی ایک شکل ہے تو اس سے یہ اخذ کیا جائے کہ بحیثیت قوم ہم  پست کردار ہیں؟ یا ابھی ہم قوم کی تعریف سے بھی دور ایک ہجوم یا گروہ ہیں؟

4/21/2018

دعا، طلب اور شرف قبولیت

یوں لگتا ہے کچھ دعائیں منظور ہو کر نہیں دیتی چاہے کتنا رو کر مانگو اور کچھ خیالات ابھی طلب کی دہلیز پر پہنچتے بھی نہیں کہ پورے ہو جاتے ہیں۔ مطلوب کے نہ ملنے کا احساس بن مانگے ملنے والی نعمتوں پر شکر گزاری کے راستے بند کر دیتا ہے۔
بڑے بزرگ کہتے ہیں جو دعائیں قبولیت کا شرف نہیں رکھتی ان کے بدل میں ملنے والی نعمت دراصل انمول ہوتی ہیں مگر اس کی آگاہی صرف اس کو ہو پاتی ہے جو شکر گزار  و رب کی رضا پر مطمئن ہو بصورت دیگر بندہ ایسی راہ پر چل نکلتا ہے جس سے آخرت کی کھیتی و فصل دونوں تباہ ہو جاتے ہیں۔
دعا و شکر گزاری کا آپس میں بہت گہرا تعلق ہے۔  شکر گزاری دراصل دعا کی قبولیت کی سند ہے۔ خالق کی عبادات، اللہ کے بندوں کی مدد و ان پر احسان، ہر مشکل و تکلیف پر صبر، مختصر یہ کہ زندگی کے ہر لمحہ میں اللہ کو یاد رکھنا ہی شکرگزاری ہے۔
اسے اپنے بندے کا رو رو کر مانگنا پسند ہے مگر نہ ملنے پر اپنے بندے کا رونا نہیں۔ طلب کے پورا نہ ہونے پر شکایت کرنے والے عموماً ذہانت سے نہیں عقل سلیم سے مرحوم ہوتا ہے جس کی ایک شکل گمراہی کی وہ سطح ہے جب کوئی رب کی ذات سے مایوس ہو کر اس کے ہونے سے انکار کر دیتا ہے۔
مانگو!! اس کی ذات سے یہاں تک خواہش کے پورے نہ ہونے پر مانگ بدل جائے مگر مایوسی تمہیں اپنی لپیٹ میں نہ لے مانگ کا بدلنا بھی سند خوشنودی ہے۔