Pages

1/27/2021

انتقال و شخصیت



زمین کے انتقال کے بعد آپ اس کے مالک بنتے ہیں اور اپنے انتقال کے بعد آپ زمین کی ملکیت بنتے ہیں۔

اس درمیاںی وقفے آپ کا کردار دراصل آپ کی اصل شخصیت ہے۔

7/19/2020

گورک ہل کا سفر

کورونا سیزن یا لاک ڈاؤن میں جہاں سارا پاکستان کرونا سے لڑنے کو گھر میں بیٹھ کر “کرونا خلاف” جنگ میں مصرو ف تھا وہاں دوسری طرف ہم روازنہ کی بنیاد پر نوکری پر موجود ہوتےتھے۔ ایسے میں دوستوں کا گورک ہل کا پروگرام تازہ ہوا کا جھونکا لگا۔
کراچی سے چار سو کلومیٹر دور یہ علاقہ سندھ کا “مری” و “ناردن ایریا” کہلاتا ہے۔ ہم نے اب تک اصل مری و ناردن ایریا نہیں دیکھا لہذا ہمارے جیسے کے لئے یہ “شارٹ کورس” تھا کہ تھوڑا تھوڑا جان لیں سب بارے اور پھر بھی معلوم کچھ بھی نہ ہو۔

کراچی سے دادو تین گھنٹے میں اور پھر دادو شہر سے واہی پاندی قریب چالیس منٹ کا سفر طے کرنے کے بعد معلوم ہوا گورک ہل (پہاڑی) تک مزید تین گھنٹے درکار ہونگے۔
واہی پاندی، ضلع دادو کے تعلقہ جوہی کا وہ مقام ہے جہاں سے آگے ہم اپنی گاڑی میں سفر نہیں کرسکتے تھے یہاں سے جیپ اوپر جانے و آنے کے لئے پانچ سے چھ ہزار میں ملتی ہے اور ڈرائیور رات اوپر رکنے کو راضی ہوتے ہیں۔
واہی پاندی کو واہی پاندی کہنے کی کیا وجہ ہے؟ ہم نے یہ جانا کہ کسی پاندی نام کے فرد نے کھیتی باڑی کے لئے ایک نہر بنائی اور کاشت کاری شروع کی ۔ واہی مطلب کھیتی کا کام بھی ہے۔ یوں پاندی صاحب کا نام تاریخ میں زندہ رہا اپنی کاشت کاری کے لئے کی گئی جدوجہد کی وجہ سے۔ ویسے کراچی میں ایک جگہ لالوکھیت ہے شہر کی ترقی نے کھیت ختم کر دیا اور لالو کا علم نہیں کہاں چلا گیا مگر لالو کے کھیتوں نے اسے اب تک زندہ رکھا ہوا ہے۔ 
جوہی تعلقہ کا نام یاد رکھنا ہمارے لئے یوں مشکل نہ تھا کہ جوہی چاولہ ہمارے کئی جاننے والوں کی پسندیدہ اداکارہ رہی ہے اگرچہ اس کا اس تعلقہ سے کوئی لینا دینا نہیں۔ جوہی کسی دور میں (مطلب انگریزی دور حکومت میں) ضلع کراچی کا حصہ رہا ہے اور بدھ ازم کا اسٹوپا (عبادت گاہ) بھی یہاں ہے۔ تھر کے بعد شاید یہ ہی بدھ عقیدے

کے لوگوں کے اثر میں رہنے والا ایک اہم علاقہ رہا ہے سندھ میں۔
بہرحال واہی پاندی سے ستر کلومیٹر کا سفر ہے طے کر کے گورک کی پہاڑی کی چوٹی پر پہنچنا ایک الگ ہی ایڈوانچر تھا۔یہ ایک دس سال سے زیرتعمیر روڈ ہے۔اس پرخطر راستے پر گاڑی چلانا ایک مہارت ہے جو ان جیپ ڈرائیوروں کا ہی خاصا ہے۔ ایک غلطی آُپ کو اوپر سے نیچے ہی نہیں لاتی بلکہ نیچے سے اوپر بھی پہنچا سکتی ہے۔راستہ پر خطر ہی نہیں تھا بلکہ سحرانگیز بھی ہے۔ “حسن سحرانگیز ہو تو پر خطر بن جاتا ہے” ممکن ہے یہ جملہ صرف کسی دوشیزہ کے حسن کی تعریف کے لئے استعمال کیا گیا ہو مگر ہمیں اس سفر میں نظر آنے والے فطری حسن پر بھی سچا معلوم ہوتا ہے۔

زمین (واہی پاندی) پر 44 دگڑی کے بعد اوپر (کورک ہل) پر بارہ سے پندرہ درجہ حرارت ایک حیران کر دینے والا مامعلہ ہے۔ سمندر سے قریب چھ ہزار فٹ پر واقعہ یہ مقام جولائی میں ہم کراچی والوں کو دسمبر کی سردی کا لطف دیتا محسوس ہوتا ہے۔ کوہ کیر تھر کے پہاڑی سلسلے پر یہ مقام ایک عمدہ تفریح مرکز بن سکتا ہے۔ سندھ سرکار نے اوپر اچھے انتظامات کر رکھے ہیں یہاں تمام سہولیات و انتظامات سرکار کے ہیں اگر کوئی پرائیویٹ پارٹی منتظم بھی ہے تو اس کے پاس ٹھیکہ ہے کیونکہ یہاں تمام املاک سرکاری ہیں۔اگرچہ راستہ زیرتعمیر ہے اور اوپر تک کا سفر دشوار ہے مگر چوٹی پر رہائش و کے اچھےانتظامات ہیں ، کیمپنگ بھی کی جا سکتی ہے۔ موٹرسائیکل پر دل والے اوپر پہنچے ہوئے تھے۔ کورونا سیزن کی وجہ سے لوگوں کی کم تعداد تھِی۔

کوہ کیرتھر کا پہاڑی سلسلہ سندھ و بلوچستان کی سرحدی لکیر بھی ہے۔گورک ہل کو گورک ہل کہنے کی دو ممکنہ وجوہات بیان کی جاتی ہیں ، ایک یہ کہ کورک کے معنی چیتے و خطرناک جانور کے ہیں اور یہاں کسی دور میں کافی خطرناک جانور ہوتے تھے دوسری وجہ کورک ناتھ نامی بدھ مذہب کا پیروکار بتایا جاتا ہے جو یہاں اپنی عبادت کرتا تھا۔

سورج غروب ہونے سے پندرہ منٹ قبل ہم اوپر زیروپوائنٹ پر پہنچ ےاو ر ہم نے یوں سورج غروب ہوتا دیکھا کہ سورج کسی پہاڑی کے پیچھے نہیں چھپا بلکہ آسمان پر ایک لال داری سی سطح چھوڑتا ہوا مدہم ہوتا ہوا غائب ہو ا اور بعد میں وہ لالی بھی آہستہ آہستہ غائب ہو گئی۔ رات ہم نے استادامیرخان کی گائیکی کے سرور میں مدہوش ہوئے اور صبح کراچی واپس روانہ ہوئے۔ 
 ایک یادگار سفر تھا یہ!!! ہمارا شارٹ کورس فطرت کی حسن بارے آگاہی کا۔

6/19/2020

بڑا ‏وکیل

جب ہم نئے نئے وکیل بنے تھے تو کراچی کے ان وکلاء کو کیس چلاتے سننے جایا کرتے جس کے دلائل کی دوسرے وکیل تعریف کرتے تھے ان میں ایک فروغ نسیم بھی تھے ان کے دلائل سننے کی وجہ ایک سینئر کا یہ تبصرہ تھا کہ "جج کو قائل نہ کر سکو تو اسے کنفیوز کیسے کرنا ہے یہ فروغ سے بہتر کوئی نہیں جانتا". انکے دلائل سنتے ہوئے ایک بات تو جان گیا کہ یہ ان چند وکیلوں میں سے ہیں جنہیں نے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلے پڑھنے اور نوٹ کرنے کی بہت عادت ہے جو ایک قابل وکیل ہونے کا بنیادی جز مانا جاتا ہے۔
یوں ہی کچھ ایسے معاملات سے متعلق بھی وکلاء کے رویے نوٹ کرتا جن میں میں بنیادی طور پر نااہل و کمزور رہا ہوں اور اب تک ہوں۔ دو بنیادی نااہلیاں جو مجھ میں تھیں ایک سائل سے فیس کا تعین کرنا (ہمیشہ کم معاوضہ پر راضی ہونا اور یہ ہی بنیادی وجہ بنی نوکری کی) اور دوسرا بُری خبر کیسے سنائی جائے (اگرچہ اپنی وکالت کے دوران بری خبر اپنے کلائنٹ کو سنانے کے مواقع صرف تین آئے 2008 سے 2014 تک کی پریکٹس میں)۔
ایسے میں ایک قصہ نہ تو میں بھولتا ہوں نہ بھول سکتا ہوں بلکہ اکثر جگہ کوٹ بھی کرتا ہوں مگر ان کے کرداروں کے نام لیئے بغیر۔
قصہ یوں کہ ہم ایک کیس کے سلسلے میں ملیر کورٹ کی ایک ایڈیشنل ججز صاحبہ کی عدالت میں اپنی باری کے انتظار میں بیٹھے تھے کہ ایک ہمارے سٹی کورٹ کے وکیل بھی وہاں گزشتہ روز اپنی ضمانت کی درخواست کے محفوظ شدہ فیصلے کے بارے میں جاننے کو اپنی جونیئر کے ہمراہ عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔ عدالت نے انہیں آگاہ کیا کہ آپ کی درخواست رد کر دی گئی ہے جو ایک بری خبر تھی۔ وہ وکیل چند لمحے رکے اور عدالت کو سلام کر کے باہر کو روانہ ہوئے۔ اس سے قبل ملیرکورٹ کے احاطے میں ہم انہیں ملزم کے رشتہ داروں (اور اپنے کلائنٹس) کے ہمراہ دیکھ چکے تھے لہذا ہم جانتے تھے کہ وہ اپنے کلائنٹس کو کمرہ عدالت سے نکل کر اس خبر سے آگاہ کریں گے اور ہم ایسے مشکل لمحوں پر کیسے react کرنا ہوتا ہے سیکھنے کے خواہش مند تھے (جو اب بھی ہیں) لہذا ان وکیل کے ہمراہ/پیچھے پیچھے کمرہ عدالت سے باہر آئے۔ ان صاحب کمال نے کمرہ عدالت سے باہر نکلتے ہی اپنے دونوں ہاتھوں کو جوڑ کر سر سے بلند کر کے سلام کیا (جیسا کہ رواج ہے سندھ میں دور سے سلام کرنے کا) کلائنٹس کی طرف قدم بڑھائے اور زبان سے یوں گویا ہوئے "مبارک مبارک!! جج صاحبہ نے ہمیں ضمانت کی درخواست بڑی عدالت یعنی ہائی کورٹ لے جانے کی اجازت دے دی ہے اب سب ٹھیک ہو جائے گا"۔
یقین جانے ان کے کلائنٹس ان کی اس  بات سے یوں مطمئن ہوئے جیسے کوئی بہت بڑا ریلیف ملا ہو اور ہم ششدر رہ گئے کہ کیسے کر لیتے ہیں یہ سینیئر ان لوگوں کو مطمئن ایسی شعبدہ بازی سے۔
بہرحال ابھی ایک دوست کا اسٹیٹس پڑھا کہ فروغ نسیم نے کامران خان کو انٹرویو میں بتایا ہے کہ سپریم کورٹ کا فیصلہ حکومت کے موقف کی جیت یے۔
بلاشبہ فروغ نسیم ایک بڑا "وکیل" ہے اس لئے انہیں قاضی فائز عیسیٰ والا کیس اگلے فورم پر کے جانے کی اجازت ملی ہے۔

3/26/2020

میری نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے دنیا سے پردہ فرمانے کا بیان!!

وفات سے 3 روز قبل جبکہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ام المومنین حضرت میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے گھر تشریف فرما تھے، ارشاد فرمایا کہ 
"میری بیویوں کو جمع کرو۔"
تمام ازواج مطہرات جمع ہو گئیں۔
تو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: 
"کیا تم سب مجھے اجازت دیتی ہو کہ بیماری کے دن میں عائشہ (رضی اللہ عنہا) کے ہاں گزار لوں؟"
سب نے کہا اے اللہ کے رسول آپ کو اجازت ہے۔
پھر اٹھنا چاہا لیکن اٹھہ نہ پائے تو حضرت علی ابن ابی طالب اور حضرت فضل بن عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما آگے بڑھے اور نبی علیہ الصلوة والسلام کو سہارے سے اٹھا کر سیدہ میمونہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے حجرے کی طرف لے جانے لگے۔
اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس (بیماری اور کمزوری کے) حال میں پہلی بار دیکھا تو گھبرا کر ایک دوسرے سے پوچھنے لگے 
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کو کیا ہوا؟
چنانچہ صحابہ مسجد میں جمع ہونا شروع ہو گئے اور مسجد شریف میں ایک رش لگ ہوگیا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کا پسینہ شدت سے بہہ رہا تھا۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے اپنی زندگی میں کسی کا اتنا پسینہ بہتے نہیں دیکھا۔
اور فرماتی ہیں: 
"میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کے دست مبارک کو پکڑتی اور اسی کو چہرہ اقدس پر پھیرتی کیونکہ نبی علیہ الصلوة والسلام کا ہاتھ میرے ہاتھ سے کہیں زیادہ محترم اور پاکیزہ تھا۔"
مزید فرماتی ہیں کہ حبیب خدا علیہ الصلوات والتسلیم
سے بس یہی ورد سنائی دے رہا تھا کہ
"لا إله إلا الله، بیشک موت کی بھی اپنی سختیاں ہیں۔"
اسی اثناء میں مسجد کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے بارے میں خوف کی وجہ سے لوگوں کا شور بڑھنے لگا۔
نبی علیہ السلام نے دریافت فرمایا:
"یہ کیسی آوازیں ہیں؟
عرض کیا گیا کہ اے اللہ کے رسول! یہ لوگ آپ کی حالت سے خوف زدہ ہیں۔
ارشاد فرمایا کہ مجھے ان پاس لے چلو۔
پھر اٹھنے کا ارادہ فرمایا لیکن اٹھہ نہ سکے تو آپ علیہ الصلوة و السلام پر 7 مشکیزے پانی کے بہائے گئے، تب کہیں جا کر کچھ افاقہ ہوا تو سہارے سے اٹھا کر ممبر پر لایا گیا۔
یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کا آخری خطبہ تھا اور آپ علیہ السلام کے آخری کلمات تھے۔
فرمایا:
" اے لوگو۔۔۔! شاید تمہیں میری موت کا خوف ہے؟"
سب نے کہا:
"جی ہاں اے اللہ کے رسول"
ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔!
تم سے میری ملاقات کی جگہ دنیا نہیں، تم سے میری ملاقات کی جگہ حوض (کوثر) ہے، خدا کی قسم گویا کہ میں یہیں سے اسے (حوض کوثر کو) دیکھ رہا ہوں،
اے لوگو۔۔۔!
مجھے تم پر تنگدستی کا خوف نہیں بلکہ مجھے تم پر دنیا (کی فراوانی) کا خوف ہے، کہ تم اس (کے معاملے) میں ایک دوسرے سے مقابلے میں لگ جاؤ جیسا کہ تم سے پہلے (پچھلی امتوں) والے لگ گئے، اور یہ (دنیا) تمہیں بھی ہلاک کر دے جیسا کہ انہیں ہلاک کر دیا۔"
پھر مزید ارشاد فرمایا:
"اے لوگو۔۔! نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سےڈرو۔ نماز کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، اللہ سے ڈرو۔"
(یعنی عہد کرو کہ نماز کی پابندی کرو گے، اور یہی بات بار بار دہراتے رہے۔)
پھر فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، عورتوں کے معاملے میں اللہ سے ڈرو، میں تمہیں عورتوں سے نیک سلوک کی وصیت کرتا ہوں۔"
مزید فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ایک بندے کو اللہ نے اختیار دیا کہ دنیا کو چن لے یا اسے چن لے جو اللہ کے پاس ہے، تو اس نے اسے پسند کیا جو اللہ کے پاس ہے"
اس جملے سے حضور صلی اللہ علیہ و سلم کا مقصد کوئی نہ سمجھا حالانکہ انکی اپنی ذات مراد تھی۔
جبکہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ وہ تنہا شخص تھے جو اس جملے کو سمجھے اور زارو قطار رونے لگے اور بلند آواز سے گریہ کرتے ہوئے اٹھہ کھڑے ہوئے اور نبی علیہ السلام کی بات قطع کر کے پکارنے لگے۔۔۔۔
"ہمارے باپ دادا آپ پر قربان، ہماری مائیں آپ پر قربان، ہمارے بچے آپ پر قربان، ہمارے مال و دولت آپ پر قربان....."
روتے جاتے ہیں اور یہی الفاظ کہتے جاتے ہیں۔
صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم (ناگواری سے) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی طرف دیکھنے لگے کہ انہوں نے نبی علیہ السلام کی بات کیسے قطع کردی؟ اس پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دفاع ان الفاظ میں فرمایا:
"اے لوگو۔۔۔! ابوبکر کو چھوڑ دو کہ تم میں سے ایسا کوئی نہیں کہ جس نے ہمارے ساتھ کوئی بھلائی کی ہو اور ہم نے اس کا بدلہ نہ دے دیا ہو، سوائے ابوبکر کے کہ اس کا بدلہ میں نہیں دے سکا۔ اس کا بدلہ میں نے اللہ جل شانہ پر چھوڑ دیا۔ مسجد (نبوی) میں کھلنے والے تمام دروازے بند کر دیے جائیں، سوائے ابوبکر کے دروازے کے کہ جو کبھی بند نہ ہوگا۔"
آخر میں اپنی وفات سے قبل مسلمانوں کے لیے آخری دعا کے طور پر ارشاد فرمایا:
"اللہ تمہیں ٹھکانہ دے، تمہاری حفاظت کرے، تمہاری مدد کرے، تمہاری تائید کرے۔
اور آخری بات جو ممبر سے اترنے سے پہلے امت کو مخاطب کر کے ارشاد فرمائی وہ یہ کہ:
"اے لوگو۔۔۔! قیامت تک آنے والے میرے ہر ایک امتی کو میرا سلام پہنچا دینا۔"
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دوبارہ سہارے سے اٹھا کر گھر لے جایا گیا۔
اسی اثناء میں حضرت عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے اور ان کے ہاتھ میں مسواک تھی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسواک کو دیکھنے لگے لیکن شدت مرض کی وجہ سے طلب نہ کر پائے۔ چنانچہ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیکھنے سے سمجھ گئیں اور انہوں نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سے مسواک لے نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کے دہن مبارک میں رکھ دی، لیکن حضور صلی اللہ علیہ و سلم اسے استعمال نہ کر پائے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا نے حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مسواک لے کر اپنے منہ سے نرم کی اور پھر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم کو لوٹا دی تاکہ دہن مبارک اس سے تر رہے۔
فرماتی ہیں:
" آخری چیز جو نبی کریم علیہ الصلوة والسلام کے پیٹ میں گئی وہ میرا لعاب تھا، اور یہ اللہ تبارک و تعالٰی کا مجھ پر فضل ہی تھا کہ اس نے وصال سے قبل میرا اور نبی کریم علیہ السلام کا لعاب دہن یکجا کر دیا۔"
أم المؤمنين حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا مزید ارشاد فرماتی ہیں:
"پھر آپ صلی اللہ علیہ و سلم کی بیٹی فاطمہ تشریف لائیں اور آتے ہی رو پڑیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھہ نہ سکے، کیونکہ نبی کریم علیہ السلام کا معمول تھا کہ جب بھی فاطمہ رضی اللہ تعالٰی عنہا تشریف لاتیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ و سلم انکے ماتھے پر بوسہ دیتےتھے۔
حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا اے فاطمہ! "قریب آجاؤ۔۔۔"
پھر حضور صلی اللہ علیہ و سلم نے ان کے کان میں کوئی بات کہی تو حضرت فاطمہ اور زیادہ رونے لگیں، انہیں اس طرح روتا دیکھ کر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا اے فاطمہ! "قریب آؤ۔۔۔"
دوبارہ انکے کان میں کوئی بات ارشاد فرمائی تو وہ خوش ہونے لگیں۔ 
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد میں نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے پوچھا تھا کہ وہ کیا بات تھی جس پر روئیں اور پھر خوشی اظہار کیا تھا؟
سیدہ فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا کہنے لگیں کہ 
پہلی بار (جب میں قریب ہوئی) تو فرمایا:
"فاطمہ! میں آج رات (اس دنیاسے) کوچ کرنے والا ہوں۔
جس پر میں رو دی۔۔۔۔"
جب انہوں نے مجھے بےتحاشا روتے دیکھا تو فرمانے لگے:
"فاطمہ! میرے اہلِ خانہ میں سب سے پہلے تم مجھ سے آ ملو گی۔۔۔"
جس پر میں خوش ہوگئی۔۔۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنھا فرماتی ہیں:
پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے سب کو گھر سے باھر جانے کا حکم دیکر مجھے فرمایا:
"عائشہ! میرے قریب آجاؤ۔۔۔"
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زوجۂ مطہرہ کے سینے پر ٹیک لگائی اور ہاتھ آسمان کی طرف بلند کر کے فرمانے لگے:
مجھے وہ اعلیٰ و عمدہ رفاقت پسند ہے۔ (میں الله کی، انبیاء، صدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت کو اختیار کرتا ہوں۔)
صدیقہ عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں:
"میں سمجھ گئی کہ انہوں نے آخرت کو چن لیا ہے۔"
جبرئیل علیہ السلام خدمت اقدس میں حاضر ہو کر گویا ہوئے:
"یارسول الله! ملَکُ الموت دروازے پر کھڑے شرف باریابی چاہتے ہیں۔ آپ سے پہلے انہوں نے کسی سے اجازت نہیں مانگی۔"
آپ علیہ الصلوة والسلام نے فرمایا:
"جبریل! اسے آنے دو۔۔۔"
ملَکُ الموت نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے گھر میں داخل ہوئے، اور کہا:
"السلام علیک یارسول الله! مجھے اللہ نے آپ کی چاہت جاننے کیلئےبھیجا ہے کہ آپ دنیا میں ہی رہنا چاہتے ہیں یا الله سبحانہ وتعالی کے پاس جانا پسند کرتے ہیں؟"
فرمایا:
"مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے، مجھے اعلی و عمدہ رفاقت پسند ہے۔"
ملَکُ الموت آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کے سرہانے کھڑے ہوئے اور کہنے لگے:
"اے پاکیزہ روح۔۔۔!
اے محمد بن عبدالله کی روح۔۔۔!
الله کی رضا و خوشنودی کی طرف روانہ ہو۔۔۔!
راضی ہوجانے والے پروردگار کی طرف جو غضبناک نہیں۔۔۔!"
سیدہ عائشہ رضی الله تعالی عنہا فرماتی ہیں:
پھر نبی کریم صلی الله علیہ وسلم ہاتھ نیچے آن رہا، اور سر مبارک میرے سینے پر بھاری ہونے لگا، میں سمجھ گئی کہ آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا۔۔۔ مجھے اور تو کچھ سمجھ نہیں آیا سو میں اپنے حجرے سے نکلی اور مسجد کی طرف کا دروازہ کھول کر کہا۔۔
"رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔! رسول الله کا وصال ہوگیا۔۔۔!"
مسجد آہوں اور نالوں سے گونجنے لگی۔ 
ادھر علی کرم الله وجہہ جہاں کھڑے تھے وہیں بیٹھ گئے پھر ہلنے کی طاقت تک نہ رہی۔
ادھر عثمان بن عفان رضی الله تعالی عنہ معصوم بچوں کی طرح ہاتھ ملنے لگے۔
اور سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ تلوار بلند کرکے کہنے لگے:
"خبردار! جو کسی نے کہا رسول الله صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے ہیں، میں ایسے شخص کی گردن اڑا دوں گا۔۔۔! میرے آقا تو الله تعالی سے ملاقات کرنے گئے ہیں جیسے موسی علیہ السلام اپنے رب سے ملاقات کوگئے تھے، وہ لوٹ آئیں گے، بہت جلد لوٹ آئیں گے۔۔۔۔! اب جو وفات کی خبر اڑائے گا، میں اسے قتل کرڈالوں گا۔۔۔"
اس موقع پر سب زیادہ ضبط، برداشت اور صبر کرنے والی شخصیت سیدنا ابوبکر صدیق رضی الله تعالی عنہ کی تھی۔۔۔ آپ حجرۂ نبوی میں داخل ہوئے، رحمت دوعالَم صلی الله علیہ وسلم کے سینۂ مبارک پر سر رکھہ کر رو دیئے۔۔۔
کہہ رہے تھے:
وآآآ خليلاه، وآآآ صفياه، وآآآ حبيباه، وآآآ نبياه
(ہائے میرا پیارا دوست۔۔۔! ہائے میرا مخلص ساتھی۔۔۔!ہائے میرا محبوب۔۔۔! ہائے میرا نبی۔۔۔!)
پھر آنحضرت صلی علیہ وسلم کے ماتھے پر بوسہ دیا اور کہا:
"یا رسول الله! آپ پاکیزہ جئے اور پاکیزہ ہی دنیا سے رخصت ہوگئے۔"
سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ باہر آئے اور خطبہ دیا:
"جو شخص محمد صلی الله علیہ وسلم کی عبادت کرتا ہے سن رکھے آنحضرت صلی الله علیہ وسلم کا وصال ہو گیا اور جو الله کی عبادت کرتا ہے وہ جان لے کہ الله تعالی شانہ کی ذات ھمیشہ زندگی والی ہے جسے موت نہیں۔"
سیدنا عمر رضی الله تعالی عنہ کے ہاتھ سے تلوار گر گئی۔۔۔
عمر رضی الله تعالی عنہ فرماتے ہیں:
پھر میں کوئی تنہائی کی جگہ تلاش کرنے لگا جہاں اکیلا بیٹھ کر روؤں۔۔۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی تدفین کر دی گئی۔۔۔
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں:
"تم نے کیسے گوارا کر لیا کہ نبی علیہ السلام کے چہرہ انور پر مٹی ڈالو۔۔۔؟"
پھر کہنے لگیں:
"يا أبتاه، أجاب ربا دعاه، يا أبتاه، جنة الفردوس مأواه، يا أبتاه، الى جبريل ننعاه."
(ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ اپنے رب کے بلاوے پر چل دیے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ جنت الفردوس میں اپنے ٹھکانے کو پہنچ گئے، ہائے میرے پیارے بابا جان، کہ ہم جبریل کو ان کے آنے کی خبر دیتے ہیں۔)
اللھم صل علی محمد کما تحب وترضا۔

7/10/2019

جج کا ملاقی فرد

آج کل ایک منصف کی ویڈیو کا بہت شور ہے ویڈیو میں گفتگو کے مواد سے قطع نظر ایک معاملہ یہ بھی ہے کہ جج صاحب اپنی رہائش گاہ پر کس فرد سے ملاقی ہو رہے ہیں ایک ایسا فرد جس کا اپنا ایک کریمنل ریکارڈ ہے او رجو ایک ایسے فرد کا سیاسی سپوٹرجس کے مقدمہ کا فیصلہ ان جج صاحب نے کیا ۔ جج کے لئے سوشل ہونا کبھی بھی درست نہیں سمجھا گیا اور جن چند ایک سے ممکنہ طور ملنا لازم ٹہرے اس سلسلے میں بھی انہیں ملاقاتی کے کردار اور شہرت کو بھی دیکھنا ہوتا ہے۔
قریب آٹھ دس سال قبل ایک ایسے ہی معاملے پر دوران گفتگو بیرسٹر شاہدہ جمیل نے ہمیں اس سلسلے میں بطور مثال اپنے دادا سر شاہ محمد سلیمان (یہ الہ آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہے ہیں 1932 سے 1937 تک) کا ایک قصہ سنایا تھا کہ او ل تو وہ عوامی تقریبات میں جاتے نہ تھے تاہم انہیں ایک بار اس علاقے کے ایک ایسے کاروباری فرد کی جانب سے شادی کی تقریب کی دعوت موصول ہوئی جسے نظرانداز کرنا ان کے لئے ممکن نہ ہو پا رہا تھا۔ ایسے میں انہوں نے اپنی ہائی کورٹ کی رجسٹرار کی ذمہ داری لگائی کہ وہ معلوم کر کے آگاہ کرے آیا اس دعوت دینے والے محترم یا ان کے خاندان کے کسی فرد کا کو ئی مقدمہ ان کی عدالت میں تو نہیں ، طے یہ پایا کہ اگر مقدمہ ہوا تو وہ اس تقریب میں شرکت سے معذرت کر لیں گے۔ رجسٹرار نے رپورٹ کی کہ اس کا کوئی مقدمہ یا تنازعہ اس عدالت کے روبرو نہیں ہے لہذا دعوت قبول کی گئی۔ پروگرام کے مطابق جب دعوت میں شرکت کے لئے پہنچے تو عدالت کا رجسٹرار بھی ہمراہ تھا تقریب میں شریک افراد کو دروازے پر ریسیو کرنے والوں میں ایک فرد ایسا تھا جو اگرچہ مدعو کرنے والے کا رشتہ دار نہ تھا مگر اس کا ایک مقدمہ عدالت میں زیرالتواء تھا چیف جسٹس صاحب تقریب کے دروازے سے واپس ہو لئے۔ یہ کردار اب میسر نہیں ہیں۔
منصف کے لئے انصاف کی پہلی سیڑھی یہ کہ وہ ہر اس تعلق سے کنارا (نظر انداز) کرے جو کسی بھی طرح اس کے فیصلے پر اثر انداز ہو سکتا ہو۔ ہمارے ایک دوست ایڈیشنل سیشن جج نے تو نوکری جوائن کرنے سے ایک دن قبل اپنی فیملی کے افراد کو جمع کر کے کہا وکالت کے دور میں اور اب میں فرق ہے یاد رکھنا کل سے میں ایک بہت بڑی ذمہ داری پر ہو گا لہذا کبھی یہ مت سمجھنا کہ تم لوگوں کی وجہ (سفارش) سے میں انصاف میں کسی قسم کی کوتاہی کا مرتکب ہو کر اپنی آخرت کا سودا کروں۔ یہ بات انہوں نے شاید ہمیں بھی (دوستوں کی ایک محفل میں) اس نیت سے سنائی کہ مستقبل میں انہیں دوستوں سے اور دوستوں کو ان سے کوئی غلط امید یا شکایت نہ ہو۔
کچھ فرائض سخت احتیاط اور احساس ذمہ داری سے منسلک ہوتے ہیں۔