2/06/2014

اصل کی طرف سفر

گاؤں کی طرف سفر کا آغاز کیا تو اپنے آباؤ اجداد کی وراثت کی طرف جانے کی خوشی تھی. اپنے اصل کی طرف روانگی کیا لذت عطا کرتی ہے یہ بیان سے باہر ہے. سفر سارا اسی سرشاری میں ہوا.
میں اپنے خاندان کی اس نسل سے تعلق رکھتا ہوں جن کی پیدائش و پرورش شہر میں ہوئی. گاؤں سے ہمارا تعلق بڑوں کی زبانی سنے ہوئے قصوں سے شروع ہو کر ان قصوں پر ہی ختم ہوتا ہے.
غیر محسوس انداز میں ایک ایسی نسل جو اپنے اصل سے واقف ہو کر اس سے دور اور اس سے جڑے ہونے کے باوجود اس سے بے خبر ہوتے ہیں.
دیہاتی زندگی کے حق میں ہماری وکالت زبانی جہاد سے آگے نہیں ہوتی. جب کبھی اپنے ہم عمر کزنوں سے  دیہی زندگی کے کسی گوشے سے متعلق سوال کرتا ہوں کہ یہ کیا ہے یہ کیسے ہے تو اندر کہیں سے یہ آواز آتی ہے جہالت یہ بھی ہے کہ بندہ ان باتوں اور حقیقتوں سے ناواقف ہو جس پر آباؤ اجداد کو ماہرانہ دسترس ہو، ایسا علم کیا کرنا جو اصل سے دور کرے.
یہاں گاؤں میں کھلے گھر کو حویلی کہتے ہیں! یہ بادشاہوں کی حویلیوں جیسی نہیں ہوتی مگر رہائشیوں کے لئے یہ اپنی سلطنت کے دربار سے کم نہیں. میرے گاؤں میں لوگوں نے اپنی ان حویلیوں کو واقعی سلطنت کے دربار سا بنا رکھا ہے بیرون ملک کی کمائی سے بننے والے یہ مکان شہر کے بنگلوں سے ذیادہ بہتر اور جدید ہیں. ان میں اپنا آبائی مکان جو اب بھی پرانے طرز کا ہی ہے ایک احساس جرم میں مبتلا کرتا ہے کہ دیکھو مکان کے مکین اس سے دور ہو تو گھر ویران ہوتے ہیں. ایسے گھر ان ریسٹ ہاؤس کی شکل اختیار کر لیتے ہیں جو سال دو سال میں ایک آدھ بار آباد ہوں.

سمجھنے والی بات یہ ہے کہ میرا جیسا خود فریبی میں مبتلا ہو کر بے شک یہ فخر کرتا ہے کہ وہ ایسی زندگی گزار رہا ہے جو شہری و دیہاتی زندگی کا بھرپور امتزاج ہے مگر درحقیقت ایک رخ یہ بھی ہے کہ میرے جیسا بندہ نئی تشکیل شدہ پہچان اور اصل پہچان کی درمیانی کشمکش کا شکار بھی رہتا ہے .