ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: December 2013

گناہ کی حسرت و پچھتاوا

سُنا ہے بُرائی میں کشش ہوتی ہے مگر کیا کیا جائے زندگی میں ہم ایک دو معاملات میں "حسرت گناہ" کا شکار رہے. گناہ یا بُرائی سے بچنے کو کوشش نہیں کی مگر اس کی طرف قدم بڑھا نہیں پایا اگر کبھی اس جانب گیا تو ناکامی کا سامنا ہوا.
یوں لگا جیسے کوئی طاقت اس طرف جانے سے روکنے پر مامور ہو ہم پر. اس وقت احساس ہوا کہ ناکامی کا غم ایک سا ہوتا ہے خواہ اچھائی پر ہو یا گناہ پر.

گمراہی یا بہکنے سے بچنے کو فقط یہ لازم نہیں کہ بندہ نہ صرف خود نیکی کرے یا نیکی کی تلقین کرے بلکہ گمراہ لوگوں کی صحبت سے دور رہنا بھی اہم ہے. دعا صرف گناہ سے بچنے تک محدود نہ ہو بلکہ شیطان صفت لوگوں سے پناہ بھی دعا کا حصہ ہو.
اب زندگی کے اس موڑ پر احساس ہوتا ہے خوش قسمت وہ بھی ہوں گے جو نیک اعمال کو زندگی کا حصہ بنائے رکھے اور تمام عمر گناہ سے باز رہیں. مگر وہ لوگ جو بُرائی کی دنیا سے نکل کر نیکی کی راہ پر گامزن ہوتے ہیں وہ اصل میں نہایت ہی قسمت والے ہوتے ہیں. وہ نہ صرف روحانی منازل تیزی سے طے کرتے ہیں بلکہ مالک کی پسندیدگی کی لسٹ میں ٹاپ پوزیشن پر ہوتے ہیں. جیسے پیچھے رہ جانے کا احساس جدوجہد کو تیز کر دیتا ہے اور مقابلہ کرنے کی خواہش کے زیر اثر امیدوار سب سے آگے نکل جاتا ہے.
میرے جیسے "حسرت گناہ"  رکھنے والے نیکی میں سب سے پیچھے رہتے ہیں مگر گناہ سے توبہ کرنے والے نیکوں کی لسٹ میں خود سے آگے نظر آتے ہیں.
پچھتاوا گناہ ایک بڑا عمل ہے.
.