Pages

4/10/2023

انصاف یا رعایت

اپنے کام کی وجہ سے عدا لت کے فیصلے ا ور جج کا رویہ دونو ں مدنظر رہتے ہیں۔ میرا یہ خیال پختہ ہو چکا ہے کہ ججز کی اکثریت میں گناہ گار کو سزا سنائے جانے کے لئے جو قوت و حوصلہ درکار ہے وہ ناپید ہے۔ جورسپروڈنس (علم قانون )کی روح سے عدالتیں فوجداری مقدمات میں انصاف کرنے کی پابند ہیں، مگر ملکی عدالتوں میں بیٹھے ججز اور ان کے سامنے پیش ہونے والوں وکلاء انصاف نہیں relief (رعایت) کے شوقین ہیں۔ ایک لمحے کو سوچیں! ملزم جو شواہد سے مجرم ثابت ہوتا ہو کو اگر مقدمہ کے آخر میں رعایت کے تحت بریت ملے تو ملنے والی رعایت کیا معاشر ے و عام آدمی سے دشمنی نہیں؟ سزا کی ججمنٹ لکھنا صرف جج کے حوصلہ و قو ت کی ہی نہیں قابلیت کی بھی محتاج ہے۔ 
 سندھ ہائی کو رٹ نے مقدمات کے جلد ٹرائل کو یقینی بنانے کو ایک point system بنایا ہے جس کا دباو ججز پر ہوتا ہے۔ ممکن ہے میری رائے غلط ہو مگر محسوس ہوتا ہے مہینے کے اختتام پر آنے والے فیّصلے انصاف کم اور “رعایت “ کا سبب ذیادہ بنتے ہیں۔ ججز کی خود کو بھی رعا یت دیتے ہیں اور “مجرم” کو بھی۔ مگرکیا یہ رعایت معاشرے کے لئے سود مند ہے؟ منصف دنیا کے کسی کونے کا ہو وہ ملزم کو حاصل قانونی حقوق اور عام آدمی کی حفاظت کی ذمہ داری کے درمیان توازن رکھنے کے د رمیان دباو کا شکار رہتا ہے اور اس ہی دباو کی وجہ سے ججز کی اکثریت فیصلے سنانے کے بعد افسوس کا شکار ضرور ہوتے ہے۔بے انصافی کا بوجھ بڑا بھاری بوجھ ہے۔ ناانصافی صرف یہ نہیں کہ ملزم کو “ رعایت” کے تحت بری کر دیا جائے بلکہ اس کی بنتی ممکنہ سزا سے ذیادہ سزا دینا بھی ناانصافی ہے جو یقینا ذیادہ سنگین ہے۔
منصف کا توازن قائم رکھنا ہی اصل عدل ہے۔ میزان عدل کے دونوں پلڑے برابر ہو تو ہی نتیجہ انصاف پر مبنی ہوتا ہے۔