1/31/2006

ایک شرارت

ِیوں تو شرارت کرنا اچھی بات نہیں پھر ایسی جیسی میں نے کی۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ تو ہر گر ااچھی نہیں ہے مگر مجھے یقین ہے کہ میرا دوست اس کا برا نہیں مانے گا۔۔۔۔۔ یہ تصویر تب کی ہے جب میں نے نیا نیا فوٹو شاپ پر گھر میں وقت گزاری کے لئے شغل کے غرض سے کام کرنا شروع کیا تھا۔۔۔۔

اس وقت کی ایک تصویر تو یہ تھی جو میری اپنی ہے۔۔۔۔۔ اور دوسری یہ ٓآمنہ حق کی تصویر پر دوست کا چہرہ

1/29/2006

نیویارک میں اہم پاکستانی شخصیات کی تذلیل

کتنی شرم کی بات ہے کہ وزیراعظم شوکت عزیز کے ساتھ امریکہ کے سرکاری دورے پر جانے والے وفد کے کپڑے اتروار کر تلاشی لی گئی ۔ ساری اہم شخصیات تھیں ، تعلاقات بڑھانے گئے تھے یا خود کش حملہ کرنے، تلاشی کے لئے کتوں کا استعمال کیا گیا۔ خصوصی آلات کام میں لائے گئے، سب کو قطار میں کھڑا کر کے تلاشی لی گئی، شائد جسم کے کسی حصے میں بم چجپا رکھا ہو، شریف الدین پیرزادہ کتنی محترم شخصیت ہیں، خصوصا موجودہ حکمرانوں کے لئے تو وہ نعمت غیر مترقبہ ہیں اس طرح آنے والوں کو آئینی تحفظ فراہم کرنا انہیں کا دل گردہ ہے، آنکھ کا تارہ دل کا سہارا ہیں، مگر انہیں بھی نہ بخشا گیا، ایک نجی چینل نے تلاشی کی فلم دیکھا دی، اللہ معاف کرے، شریف الدین پیرزاد سمیت ٹاپ ٹین قطار باندھے کھڑے ہیں، شریف الدین پیرزادہ کی بار بار ٹوپی اتروائی جا رہی ہے، ٹوپی میں کیا چھپا تھا کیا بم یا راکٹ ٹوپی میں سما سکتے ہیں؟ پاکستانی بڑے ترقی یافتہ ہو گئے ہیں،ٹوپی میں چھپا کر لے جانے والے راکٹ اور بم ایجاد کر لئے ہیں مبادا ادھر ٹوپی اتاری ادھر نائن الیون جیسا کوئی اور حادثہ پیش آیا، پاکستانیوں پر اعتبار نہیں ، ٹاپ ٹین پر تو بالکل اعتبار نہیں مصلحت آمیزی میں اتحادی بنا رکھا ہے، اعتبار ہوتا تو اتنی بے عزتی کیوں کی جاتی، طارق عظیم حکومت کا “برین“ ہیں، برین واشنگ کے بعد ہی امریکہ لے جائے گئے تھے ، کتوں نے بھی انہیں سونگھا، کیا محسوس کرتے ہو گے، چلے تھے تعلقات بڑھانے، دلوں میں کدورت لے کر آئے، انہوں نے چپکے سے تلاشی کی فلم بنا لی، ایک امریکی جاسوس نے پوچھا “کیا کر رہے ہو“ جواب دیا “فلم بنا رہا ہوں۔پاکستان آؤ گے تو اسی قبیل کے کتوں سے اسی طرح تلاشی کے مراحل سے گزاریں گے، امریکی جاسوس ہنس کر چپ ہو رہا، ہنسا اس لئے کہ طارق عظیم نے مذاق اچھا کیا تھا، لاہوریا ہوتا تو کہتا “آپ بڑے مخولئے ہیں، اچھا مذاق کرلیتے ہیں “، چپ اس لئے ہو گیا کہ پاکستانی سرکاری دورے پے امریکہ آئے تھے، اتحادی ہونے کے ناطے سخت بات کہنا سفارتی آداب کے خلاف ہوتا، جو کچھ کیا گیا وہ بھی تو سفارتی آداب کے خلاف تھا لیکن بقول ہمارے شیخ رشید کے کہ یہ سب معمول کی کاروائی تھی ، اسلئے ٹاپ ٹین میں سے کسی کے ماتھے پر غیرت کا پسینہ نہ آیا، ٹھندے لوگ ہیں، ٹھنڈے ملک میں گئے تھے، اس لئے پسینہ آنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، امریکیوں کے پاس بھی ، غیرت کا پسینہ نام کی کوئی چیز نہیں ، غیرت ہو گی تو پسینہ آئے گا نا۔۔۔۔۔۔۔! مادرپدر آزاد معاشرے میں غیرت کا کیا کام، قطار میں کھڑا کرکے تلاشی لینے کا مقصد ہی یہ تھا کہ سات سال کی “فرماں برداری“ اور جی حضوری کے بعد بھی غیرت کے جراثیم باقی ہیں تو امریکہ میں داخل ہونے سے قبل ختم ہو جائیں۔ تلاشی کا باعزت طریقہ بھی ہوسکتا تھا۔ طیارے میں سوار ہونے سے قبل یا طیارے کے لینڈ کرنے کے بعد طیارے ہی میں خصوصی آلات کے ذریعہ معلوم کرلیا جاتا کہ کسی اہم شخصیت کی جیب میں اسامہ یا ایمن الظواہری تو چھپے ہوئے نہیں ہیں، ایسا ممکن نہ تھا تو ٹاپ ٹین کو وی وی آئی پی لاؤنچ کے دروازے بند کر کے جامہ تلاشی بلکہ جامعات تلاشی لے لیتے، کسی کو اعتراض نہ ہوتا، زیر جامہ کو چھوڑ کر باقی سارے جامے اتار ے جاسکتے تھے، واپس آ کر ٹاپ ٹین امریکی دورے کے قصے سناتے تو ہر قصہ سے پہلے یہ فقرہ ضرور کہتے کہ اس میں پاجامے کا ذکر نہیں ہوگا، اب کیا سنائیں، اب تو ہر قصہ میں پاجامے اور زیرجامے کا ذکر بھرا پڑا، وی وی آئی پی شخصیات تھیں اتنی اہم شخصیات کے ساتھ یہ عامیانہ سلوک “تف ہے اے چرخ گردوں تف ہے“، ہمیں شرم نہیں آئی تھی تو امریکی ہی شرم کر لیتے، اپنے آپ کو مہذب ترین قوم سمجھتے ہیں، کہاں کی مہذب ترین قوم ہیں، رشتوں کی پہچان نہ سات سال سے قائم رشتہ داریوں کی قدر، چاروں کھونٹ چت ہو کر لیٹ جانے والے غلاموں کی بھی آخر کوئی عزت ہوتی، ہم کوئی گئے گزرے لوگ تھوڑی ہیں ذرا ہمارے ملک میں آکر ہماری قدر و منزلت اور “ ٹور“ دیکھیں، ہمارا گورنر یا وزیراعلٰی شہر میں نکل جائیں تو، گلیاں ہو جان سنحیاں وچ مرزا یار پھرے، والی کیفیت ہو جاتی ہے، ٨ (آٹھ) پولیس موبائلیں، چار پجیرو گاڑیاں اور دس بارہ دیگر لگثری کاروں کے جھرمٹ میں نکلتے ہیں، پوری سڑک پر ٹریفک یوں رک جاتا ہے، جیسے نبض کائنات رک گئی ہو، یہ وی وی آئی پی انتظامات ہوتے ہیں اسلئے کچھ نہیں کیا جاسکتا، ٹریفک جام ہوتا ہے تو اس پر معذرت کرنے کی بھی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی، کوئی ناراض ہوتا ہے تو اپنا سر کھائے دو روٹی (میسر آ جائے تو) ذیادہ کھا کر مطمین ہو جائے، صدر یا وزیراعظم آ جائیں تو شہر میں کرفیو لگانا پڑتا ہے، ہر دس قدم پر کمانڈو یا رینجر کا سپاہی تعینات، بکتر بند گاڑیوں پر مشین گنیں چلنے کے لئے بے تاب ، گشت کرنے والی رینجر اور پولیس کی گاڑیوں میں موجود عملہ مستعد، آنے جانے والی گاڑیوں کے روٹ تبدیل سروس روڈ پر سے بھی گاڑیوں کا بھی صفایا، شاہراہ فیصل پر ایک دفتر کے نیچے گاڑی کھڑی کی، نیچے اترے گاڑی غائب دس گھنٹے کی پریشانی کے بعد گاڑی دوسری سڑک پر کھڑی ملی، کس سے فریاد کریں ، پولیس اہلکار شدید سردی میں ٢٠ گھنٹے تک ڈیوٹی پر کھڑے کھڑے جم گئے، ایک تو جان سے گیا، اڑتی اڑتی خبر ملی تھی دبا دی گئی، اہل خانہ کو بھاری معاوضہ دے کر چپ کردیا جائے گا، ایسے حکمرانوں اور ان کے قریبی وزیروں، مشیروں کے کپڑے اتروا کر تلاشی لینا کہاں کی شرافت اور تہذیب ہے، کچھ عرصہ قبل ایک وزیر بھولے بھٹکے امریکہ گئے تھے ان کے کپڑے اتروا کر تلاشی لی گئی، پاؤں میں صرف موزے رہ گئے تھے ، حکم ملا “یہ بھی اتاریں“ عرض کیا موزوں میں بم نہیں آسکتا، امریکی انٹیلی جینس افسر نے بگڑی ہوئی انگریزی میں کچھ کہا جس کا مفہوم یہ تھا کہ ہر چیز ممکن ہے اور پھر پاکستان تو تخریب کاروں کی “جنت“ رہا ہے، ابھی تک لوگ پکڑے نہیں جا سکے، تم لوگ ہر چیز کو ممکن بنا سکتے ہو اس لئے موزے بھی اتارو ، وزیر نے موزے اتارے، امریکی جاسوس نے موزوں کو جھاڑ کر دیکھا، کتوں سے سونگھنے کو کہا، کتوں نے موزوں کی بو سونگھنے سے انکار کر دیا، حکم عدولی پر “سرکاری کتے“ معطل ہو گئے، وزیر موصوف کو موزے واپس کر دیئے گئے، ٹاپ ٹین کی جیبوں کی تلاشی لی گئی، باربار تلاشی، بار بار تلاشی، یا اللہ کیا مصیبت ہے، کیا حکمران اور شہری ابھی تک امریکہ کی نظروں میں مشکوک ہیں۔۔۔
اور یوں چاہتے ہو تم مجھ سے کیا بجھادوں چراغ ہستی بھی
مذاق کی بات نہیں، شرم کی بات ہے کہ ہمارے وزیر مشیر اور حکمران جو اپنے شہریوں کے لئے شیر بنے رہتے ہیں، امریکیوں کے سامنے بھیگی بلی بن کر قطار میں کھڑے ہو گئے۔ احتجاج کا یاک لفظ تک منہ سے نہ نکلا ، حضرت علامہ اقبال نے کہا تھا “حمیت نام تھا جس کا گئی تیمور کے گھر سے“ “سارے تیمور‘ کپڑے اتار کر تلاشی دینے کو تیار ہیں، اسے معمول کی کاروائی قرار دے کر مطمئن ہیں، کسی کو کیا اعتراض ہو سکتا ہے، کپڑے اتارنے کا شوق ہے تو پورا کیا جائے، اپنے ملک میں غریبوں کے کپڑے اتار دیتے ہیں، آنکھوں پر بندھی پٹیاں نہیں کھل سکیں، کتنا جھکو گے ، جتنا جھکا جا سکتا ہے اتنا ہی جھکا جائے نا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من
طارق عظیم نے فلم بنا لی کہا کہ پاکستان آؤ گے تو یہی سلوک تمہارے ساتھ کریں گے۔ کیا واقعی۔۔۔۔۔۔۔؟ بجا کہتے ہو سچ کہتے ہو، پھر کہیو کہ ہاں کیوں ہو، یقین کیجئے اس بات کا یقین نہیں آیا، بش کا کتا “بڈی“ پاکستان آجائے تو اسے وی وی آئی پی پروٹوکول دیا جاتا ہے اس سے تو یہ تک نہیں پوچھا جاتا کہ اس کے والد محترم یا والدہ محترمہ کا نام کیا ہے، دراصل امریکی کتوں کے والد ایک سے زائد ہوتے ہیں اس لئے پاکستانی حکام ان سے اس قسم کی گستاخی کے مرتکب نہیں ہوسکتے، مبادا صدر بش کا بڈی ناراض ہو جائے اور بش سے شکایت کرکے حکمرانوں کا پاٹیہ گول کردے ، اس لئے امریکی کتے کو بھی بھرپور سفارتی پروٹوکول کے ساتھ طیارے سے باہر لایا جائے گا۔ اسے گلدستے پیش کئے جائیں گے، ریڈکارپٹ تقریب منعقد ہو گی ، حکام بالا سے تعارف کرایا جائے گا، ٹاپ ٹین اس کی خاطر مدارت میں آگے آگے ہو گے نمبر اسکور کرنے کا اس سے بہتر موقع اور کیا ملے گا، کس میں ہمت ہے کہ امریکی کتے کی جامہ تلاشی لے ( اس میں پاجامے کا ذکر نہیں ہو گا) روزانہ معمول ہے ہر روز کوئی نہ کوئی امریکی پاکستان میں براجمان ہوتا ہے اور ہم سراپا نیاز اس کی خدمت میں مصروف ہوتے ہیں، سارے تیمور اپنا لنگ چھپائے اپنی حمیت کے جنازے کو کندھا دیئے ہوئے ہیں، ایسے میں کیا کیا اور کیا کہا جا سکتا ہے۔
تحریر؛ “مشتاق سہیل“ ------------------------------بشکریہ؛ “نوائے وقت“ **********
اصل خبر یہاں ہے نوائے وقت کے سرراہے میں اس کا ذکر اور یہاں بھی ڈاکٹر اجمل نیازی کی "بے نیازیاں" اس متعلق یہ ہیں نذیر ناجی کا سویرے سویرے اس بارے میں پوچھتے ہیں کہ بے عزتی تو نہیں نا!! اوریا مقبول نے دراصل حرف راز میں اسے عام آدمی کا مزا قرار دیا عبدالقادرحسن غیرسیاسی باتیں کرتے ہوئے رائے دیتے ہیں کہ ہماری توہین جاری ہے بوریت کا اس پر تبصرہ بھی مجھے اچھا لگا

1/25/2006

سر کجھانے کی فرصت

مصروفیت!! یہ بھی جب ہو تو اس کے نہ ہونے کی اہمیت کا اندازہ ہوتا ہے۔۔۔۔۔ آج کل اللہ تعالی نے چھپڑ پھاڑ کر اسے ہمارے سر دے مارا ہے۔۔۔۔ چلو یہ تو ثابت ہوا کہ وہ جب بھی دیتا ہے جھولی بھر کے دیتا ہے چاہے مصروفیت ہی۔۔۔ کہتے ہیں ایسے میں سر کجھانے کی فرصت نہیں ہوتی۔۔۔ ویسے میری مصروفیت ایسی بھی نہ تھی کہ سر کجھانا ممکن نہ ہو۔۔۔۔مگر!۔۔۔۔۔ ہم سر کجھائیں گے نہیں ۔۔۔۔ کیونکہ یار لوگ کہیں یہ نہ سجمھ لیں کہ ہمارے سر میں جوئیں پڑ گئیں ہیں۔۔۔۔ ایسی بدنامی تو اچھی نہیں ہے نہ بھائی!۔۔۔۔ اگر یہ تہمت ہم پر لگ گئی تو بھلا کون ہم سے سر جوڑ کر باتیں کرے گا؟؟؟۔۔۔۔۔ دوسرا واراثتی طور پر بھی سر کے بال بھی بال بال بچتے ہیں ۔۔۔۔ یعنی ماتھا اصل سے بڑھ کر کچھ اور ہی اصل بن جاتا ہے۔۔۔ نہیں سمجھے کیا؟؟؟ ارے! جس سر پر کبھی بال ہی بال ہوتے ہیں وہ سر کئی بال کھو بیٹھتا ہے اور کچھ بال سر پر باقی بچ جاتے ہیں اور بندہ مکمل گنجا ہونے سے بال بال بچتا ہے۔۔۔۔۔ ابھی بال سے محروم ہونے کا سلسلہ شروع تو نہیں ہوا مگر ماضی (خاندان کے بزرگوں) کو دیکھ کر احتیاط لازم ہے۔۔۔۔لہذا فرصت میں بھی سر کجھانے سے اجتناب کرنا بہتر ہو۔۔۔ لہذا ہم ابن انشاء کی یہ بات فرصت کے وقت کہتے ہیں کہ اتنی فرصت ہے کہ سر کجھانے کی بھی فرصت نہیں۔۔۔
مصروفیت ایک کی وجہ وکلاء کے الیکشن تھے، سینئر ہمارے جنرل سیکر؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂؂ٹیری (یہ کوئی فوجی عہدہ نہیں) بن گئے ہیں، کراچی بار کے۔۔۔۔ دوسری وجہ دوست کی سلیکشن ہوئی تھی دولہے کی پوسٹ کے لئے اب اس نے چارج لیا ہے ۔۔۔ بھائی ان کی شادی تھی، بارات میرپور خاص(دوست کے لئے خاص وخاص) گئی، پورے تیرہ گھنٹے کی تقریب تھی دس گھنٹے کا سفر اور تین گھنٹے شادی حال میں۔۔۔۔
Technorati Tags: ,

1/12/2006

شائد یہ۔۔۔۔۔۔۔۔

بعض قتل ایسے ہوتے ہیں جو قتل خطا کےذمرے میں آتے ہیں۔۔۔۔۔ یعنی آپ کا ارادہ نہیں تھا غلطی سے سرزد ہو گیا ہو گئی۔۔ جب خطا ہو تو اسے محسوس کرنا بھی اکثر ممکن نہیں رہتا۔۔۔ غلطی انفرادی سطح پر ہی نہیں ہوتی اجتماعی سطح پر بھی ہو جاتی ہے۔۔۔ نا معلوم،غیر محسوس،انجانے میں کوئی بھی اس کا حصہ بن سکتا ہے۔ منٰی میں بھگڈر بھی ایک اجتماعی خطا ہے، ایک اجتماعی قتل خطا!!!!۔ برداشت ہو، انتظار کرنے کا حوصلہ ہو، دوسرے کے حق کو پہچاننے کی سمجھ ہو، تو افراتفری کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اس واقعے میں (اب تک کی خبر کے مطابق) ٣٤٥ کے قریب حجاج شہید ہو چکے ہیں۔۔۔ ٢٥ لاکھ کے قریب کا اجتماع لازمّا کافی بڑا ہوتا ہے، اسے قابو کرنا ممکن نہیں، اسے انتظامی غفلت کا نام دینا آسان ہے، مگر میں ذاتی طور پر یہ سمجھتا ہو کہ اسے کسی حد تک اخلاقی تربیت کی کمی کہوں گا۔۔۔ یہ مسلمانوں کی سب سے بڑی عبادت ہے، اس کے ذریعہ ہم ایک خاص پیغام کہ ہم خواہ الگ ہوں ملکی لحاظ سے، ہم میں زبان کا فرق ہو، ہمارارنگ جدا ہو مگر اصل میں ایک ہیں، ایسے میں کوئی ایسا ایک حادثہ ہمارے اس پیغام کا تاثر تباہ کرنے کے لئے کافی ہے، آج کے اس میڈیا کے دور میں، جب خبر منٹوں میں پھیل جاتی ہو۔ ایسے حادثات سے بچنے کے لئے اگر چند ضروری اقدامات کرنے میں کسی قسم کی مذہبی رکاوٹ کا سامنا ہو تو اس سلسلے میں اجتہاد کا راستہ موجود ہے، جیسے حجاج کی تعداد کے بڑھنے کی وجہ سے منٰی کے موقعہ پر شیطان کو ٣ دن میں کنکریاں مارنے میں دشواری کا سامنا ہے کیوں کہ اس سلسلے میں مغرب سے پہلے یہ عمل کرنا بعض علماء کے نزدیک لازمی ہے تو اگر ممکن ہو تو مغرب کے بعد یعنی رات میں بھی اس سلسلے کو جاری رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔۔۔۔ اگر کوئی شرعی قید نہ ہوتو ۔۔۔ باقی اللہ بہتر جانتا ہے تاکہ حاجی کے ہاتھوں حاجی کا قتل خطا نہ ہو۔ خود اہل مسلم کا ایک غلط تاثر باقی دنیا کے سامنے نہ جائے۔
Technorati Tags: , , , , , ,

1/10/2006

قربانی کی کھالیں

لیں! عید قربان آن پہنچی اور ساتھ ہی کھالوں کے امیدوار بھی۔ ورنہ۔۔۔آپ کی کھال تو ہے نا!
عید پر عیدی کیا؟؟؟ گوشت اور کھال!! ۔۔۔۔ اب آپ کس کے امیدوار ہیں؟؟ سارے فلاحی ادارے تو کھال مانگ رہے ہیں۔۔۔شکر ہے قربانی کے جانور کی کھال مانگی جاتی ہے ورنہ تو عوام کی کھال اتاری جاتی ہے ۔۔۔۔ عیدی و قرنانی دینے والے کا اپنا حصہ؟؟؟ ہڈیاں!!!۔۔۔۔۔ اور بس یہ لو کیا بھی بس ہے؟؟؟ ہمارے دوست ہیں کہتے ہیں کہ“ یار ٹھیک کہ اس عید کا اصل مقصد سُنت ابراہیمی کا پورا کرنا ہے اور دعا یہ کہ اللہ اس قربانی کو قبول کرے، مگر یہ کیا! خود قرنانی کرنے والے کا حصہ چھچھڑے یا پھر ہڈیوں کا سوپ اور گوشت اہل محلہ یا رشتہ دار لے جاتے ہیں باقی کچھ فقیر برادری!!!!! اور کھال یہ مدرسہ والے مانگ لیتے ہیں یہ دیر کردیں تو خدمت خلق یا الخدمت والے بتا دیتے ہیں کہ ہم لیں کر جائیں گے مانگتے بھی نہیں!!! “ ویسے مجھے ان سے اختلاف ہے کہ اہل محلہ اور رشتہ دار تو خود دینے بھی آتے ہیں اور غرین کو گوشت ملتا ہی اس عید پر ہے باقی معاملہ رہا کھال کا تو وہ تو ہوتی ہی اتارنے کے لئے ہے۔۔۔ اور جو چیز اتاری جائے اس کا نہیں بتاتے کیوں !!!۔۔۔ ویسے ہمارے یہ دوست ہیں کافی سمجھ دار ہیں وجہ!! بھائی ہڈیاں وہ دوسروں کو ڈالتے ہیں اور گوشت فریج میں۔۔۔۔ خیر جو ان کی مرضی ۔۔سانوں کی!
قربانی صرف جانور ہی کی نہیں ہوتی بلکہ اس کے مالک کی بھی ہوتی ہے پہلے جانور خریدنے کے لئے بجٹ بنانا پڑتا ہے پھر اس سے آگے کا سسلسہ ۔۔۔۔۔۔۔ خود قربانی کا جانور بڑا لاڈلا ہوتا ہے، جب تک ہوتا ہے، اُس کے ناز نکھرے اُٹھانے پڑتے ہیں،اُس کی صحت اور مزاج کا خیال رکھا جاتا ہے، پڑوس میں ایک مرتبہ بکرا اپنے لاڈ نہ آٹھائے جانے پر اس قدر برہم ہوا کہ عید سے ایک دن پہلے ہی قربان کرنا پڑا ۔۔۔۔ یوں اس نے عید تک بھی خیر نہ منائی اور چھری کے نیچے آگیا۔۔۔اب مجھے یہ نہیں معلوم اس نے یہ بتایا کہ نہیں کہ وہ بکرے کی ماں نہیں بلکہ بھائی ہے یا نہیں؟؟؟ مگر خیر ،خیر تو اس کے مالک کی بھی نہیں رہی اسے دوسرے بکرے کا انتظام کرنا پڑا عید والے دن!!! ان کا کہنا تھا اس بار تین قربانیاں ہوئیں ہیں ہمارے گھر دو بکروں کی اور ایک میری!!!!
عید تو اصل میں بچوں کی ہوتی ہے، کیونکہ وہ بچے رہتے ہیں پریشانی سے،ذمہ داری سے، کام سے اور اپنے سے بڑاں کی ڈانٹ سے کہ عید کا دن ہے اب کیا کہے ان کو۔۔۔ اور عیدی الگ!!! جب ہم چھوٹے تھے تو۔۔۔ جی جناب ہم بھی چھوٹے تھے قسم لے لیں!! ذیادہ پرانی بات نہیں ہے۔۔۔۔ تو عید ہوتی تھی اصل میں ہماری۔۔ عید قرناب پر سارا دن ایک جگہ سے دوسری جگہ جانوروں کو ذبح ہوتے دیکھنے جانا۔۔۔ جہاں کوئی اچھا (صحت مند) جانور ہوتا اس کی قربانی کو دیکھنے کا شوق ہوتا تھا ہمیں ۔۔۔ اس مقصد کے لئے ایک دن قبل ہی ہم دوست علاقے کا جائزہ لے کر بڑے جانور نوٹ کر لیتے تھے اب یہ باتیں یاد آتی ہیں تو حیرت ہوتی ہے یہ حرکتیں تھی ہماری؟؟؟؟۔۔۔۔ کمال ہے!!!
کھال سے بات بچپن پر چلی گئی ۔۔۔۔ واپس کھال میں آتے ہیں آپے سے باہر ہونا اچھی عادت نہیں۔۔۔
“جان کسے دو گے“
“اللہ کو“
“اچھا! ٹھیک ہے تو کھال مجھے دینا“
کیوں ٹھیک ہے نا! جان تو نہیں مانگی اس نے۔۔۔ اچھا آپ کھال کسے دیں گے؟؟؟؟
کھال جسے مرضی دیں اور گوشت چاہے کھالیں آپ بس میری طرف سے ایک بات۔۔۔۔ وہ کیا؟؟؟۔۔۔ پریشان مت ہو جان نہیں مانگ رہا!!!!!۔۔۔۔ وہ بات یہ ہے کہ
عید مبارک ہو آپ کو“

1/09/2006

رات کے گپ اندھیرے میں

میں نے رونا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
چاند کو تکنا چھوڑ دیا ہے
رات کے گپ اندھیروں میں
وہ جو ایک عادت تھی میری
تارو سے باتیں کرنے کی
چپکے چپکے بھیگی بھیگی
پلکوں سے موتی چونے کی
گھنٹوں گھنٹوں لیٹے لیٹے
گھڑی کی ٹک ٹک سننے کی
یہ کرنے کی وہ کرنے کی
جانے کتنے سال پرانی
وہ جو ایک عادت تھی میری
خود سے لڑتے رہنے کی
اپنے لئے نظمیں کہہ کہہ کر
دیواروں پر لکھنے کی
یہ بھی کرنا چھوڑ دیا تھا
رات کے گپ اندھیرے میں
کچھ دن گزرے
وہ پرانی عادت مجھ میں
پھر سے لوٹ آئی ہے
میں پھر سے باتیں کرنے لگی ہو
بھیگے موتی چننے لگی ہو
پھر سے خود سے لڑنے لگی ہو
پھر سے نظمیں لکھنے لگی ہو
پھر اس بار ایک عجب سا سناٹا چھایا ہے
اب میں خود سے ڈرنے لگی ہو
رات کے گپ اندھیرے میں

1/05/2006

تازہ ُتک بندی

چراغ کے بجھ جانے سے
اجالے سمٹ جانے سے
اندھیرا پھیل جانے سے
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

غم کے دلدل میں
آنسوں کے بھنور میں
سسکیوں کے جھرمٹ میں
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

بھیڑ کے چھٹ جانے پر
اپنوں کے بچھڑ جانے پر
تنہا رہ جانے پر
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

مگر درد سے نا آشنائی ہو
اندر بے حسی کی پرچھائی ہو
سانس تو چلتی رہتی ہے
موت تب بھی نہیں آتی
پر زندگی زندگی نہیں رہتی