Pages

1/05/2006

تازہ ُتک بندی

چراغ کے بجھ جانے سے
اجالے سمٹ جانے سے
اندھیرا پھیل جانے سے
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

غم کے دلدل میں
آنسوں کے بھنور میں
سسکیوں کے جھرمٹ میں
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

بھیڑ کے چھٹ جانے پر
اپنوں کے بچھڑ جانے پر
تنہا رہ جانے پر
زندگی روٹھا نہیں کرتی
موت آیا نہیں کرتی

مگر درد سے نا آشنائی ہو
اندر بے حسی کی پرچھائی ہو
سانس تو چلتی رہتی ہے
موت تب بھی نہیں آتی
پر زندگی زندگی نہیں رہتی









0 تبصرے:

اگر ممکن ہے تو اپنا تبصرہ تحریر کریں

اہم اطلاع :- غیر متعلق,غیر اخلاقی اور ذاتیات پر مبنی تبصرہ سے پرہیز کیجئے, مصنف ایسا تبصرہ حذف کرنے کا حق رکھتا ہے نیز مصنف کا مبصر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔

اگر آپ کے کمپوٹر میں اردو کی بورڈ انسٹال نہیں ہے تو اردو میں تبصرہ کرنے کے لیے ذیل کے اردو ایڈیٹر میں تبصرہ لکھ کر اسے تبصروں کے خانے میں کاپی پیسٹ کرکے شائع کردیں۔