ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: 2008

او! خبیثَ!

وکالت میں کئی قصے سنانے سے تعلق رکھتے ہیں! یہ قصہ بھی کچھ ایسا ہی ہے!

آغاز وکالت میں شوشل ویلفیر کا نیا نیا شوق تھا! اب کچھ پرانا ہو گیا ہے ناں! مگر اپنا وکالت نامہ لگانے سے گھبراہٹ ہوتی تھی! ساتھ ہی کوئی تنہا کیس چلانے سے بھی! ایسا تنہا ہمارے ساتھ نہیں تھا، دیگر یار دوست بھی کچھ ایسی کیفیت کے حامل تھے! تب ہی کی بات ہے ہمارا ایک وکیل دوست ایک مائی اماں کے ساتھ راہ چلتے سامنے آ وارد ہوا! ہمارے یہ دوست بھی خلق خدا کے خدمت گزار بننے کے شوقین ہیں!
ماں جی موٹے موٹے آنسوؤں سے ساتھ پولیس والوں کو بد دعا دیتی جا رہی تھی! ‘اللہ کریں پولیس والوں کو اللہ اُٹھا لیں‘ اماں کے اکلوتے بیٹے کو پولیس والوں نے موبائل فون چھننے کے کیس میں جیل بھیج دیا تھا! ماں کا دعوٰی تھا کہ اُن کا بیٹا نہایت شریف و نونہال ہے! اُس نے کبھی ڈاکا تو کجھا راہ میں میں پڑی ہوئی کسی کی چیز پر ملکیت کا دعوٰی نہیں کیا!
اماں کے ساتھ اُن کے بیٹے کے کیس کی ایف آئی آر حاصل کرنے مطلوبہ کورٹ کے کلرک کے پاس جا پہنچے۔ دوست نے جیب سے جناب کو اُن کا مخصوص ‘ٹیکس‘ ادا کر کے ایف آئی آر حاصل کی! پھر اُس نے اپنے سینئر کا وکالت نامہ اماں کو دیا کہ بیٹے سے دستخط کروا کر لے آنا! وہ ہمارے منہ کی طرف دیکھنے لگی! بقول اُس کے مجھ سے یہ کام نہیں ہوتا، خیر پولیس وین کے ڈرائیور جو جیل سے قیدی لے کر اتا ہے اُس سے رابطہ کرکے اُس سے ذریعہ وکالت نامہ دستخط کروانے کا پروگرام بنایا! وہاں پہنچے وکات نامہ دیا! اب اُس کو مطلوبہ معلومات دیں! تو وہ مسکرا کر دیکھنے لگا! میرے دوست سے مجھے اشارہ کیا! جیسے کہہ رہا ہے پہلے میں نے نقد ویلفیر کی ہے اب تمہاری باری ہے! مفلسی میں آٹا گیلا! خیر مجبوری تھی! کام سے پہلے مزدوری ادا کی گئی!
اماں کو تسلی دے کر بھیج دیا! کورٹ کے دیگر ذاتی کیسوں سے فارغ ہو کر! لائبریری میں بنائے گئے پروگرام کے مطابق ملےآ ایف آئی آر کا مطالعہ کی! چند قانونی نقائض جو ہماری سمجھ میں اُس میں ایسے تھے تو کام آ سکتے تھے! نوٹ کئے! مزید کی تلاش کے لئے وہاں سے اُٹھ کر کورٹ میں جا کر فائل میں سے دیگر کاغذات کا مطالعہ کر کے اُس کیس کو ٹائپ کرکے پرنٹ نکالنے کی ذمہ داری اُٹھا کر ہم دفتر آگئے! اور دوست اپنے دفتر چلا گیا!
کیس ٹائپ کیا! دوست کو ای میل کیا اُس نے اُس ایک نظر دیکھا ہو گا! چند مزید باتیں ایڈ کی! واپس ای میل کیا! ہم نے پرنٹ نکال کر اگلے دن اُس کے حوالے کر دیا! بعد میں وکالت نامہ حاصل کرنا! اور ضمانت فائل کرنا اُس کے سر تھا! اور اس دوران ہونے والا خرچا بھی!!!
دوپہر میں اُس کا ایس ایم ایس آیا دو دن بعد کی تاریخ ملی ہے! ہم نے ڈائیری میں نوٹ کیا! کیس لاء تلاش کئے! اگلے دن دوست کو بتائے اُس نے بھی تیاری کر رکھی تھی! اُس کا کہنا تھا کیس وہ چلائے گا! میں نے کہا ٹھیک ہے! اماں کو بھی وہ ہی ڈیل کر رہا تھا!
مخصوص دن ہم دونوں کورٹ میں تھے! Bail چلائی! جج نے تین دن بعد آڈر پر رکھ دیا! اور اُس دن آرڈر نہیں آیا! جج صاحب نے معذرت کی کہ کام کے رش کی وجہ سے آڈر نہیں لکھوا سکا! دو دن معاملہ آگے چلا گیا! اور دو دن بعد ضمانت منظور ہو گئی! پچاس ہزار کی!
ماں کو بتایا! اور اسے کہا کہ اماں پندرہ بیس دن صبر کرنا! پھر ضمانت کم کرنے کی درخواست لگا دے گے تمہارے پاس کہاں پیسے ہوں گے!!! ا ٹھیک ہے کہہ کر وہ چلی گئی مگر اگلے ہی دن ایک بندے کو ساتھ لے کر کورٹ میں آ گئی! اُس کے گاڑی کے کاغذات ضمانت کے طور پر کورٹ میں داخل کروانے کے لئے! ضمانت کورٹ میں داخل ہوئی! کورٹ نے ویریفیکیشن کا آڈر کیا! اگلے دن بندہ باہر!
جس چیز نے مجھے حیرت میں ڈالا وہ یہ تھی کہ جس مائی کے پاس پہلے فیس و کورٹ کے لئے پیسے نہیں تھے! بیٹے کی ضمانت منظور ہوتے ہی کیسے نہ صرف ضمانت کا انتظام ہو گیا؟ نیز اُ نے اس دن کورٹ میں بھی ہزار پندرہ سو روپے خرچ کر ڈالے! اور ہمیں صرف دعائیں دیں!!! خیر!
تیسرے دن دوست سے کورٹ میں ملاقات ہوئی تو اُس نے بتایا! کہ وہ مائی کا لڑکا ضمانت پر نکلنے کے بعد دفتر شکریہ کرنے آیا تھا ور میں سینئر سے ملاقات کروانے جب اُن کے کمرے میں اُسے لے کر گیا تو میرا سینئر اُس دیکھ کر کھڑا ہو گیا!
میں نے کہا کیوں؟
تو بتانے لگا کہ سینیئر نے اُس سے کہا کہ ‘اوہ خبیثَ! میرا موبائل تو نے چھینا تھا فلاں فلاں جگہ‘ اُس نے یہ تو نہیں کہا ہاں مگر تین گھنٹے بعد وہ اُس ہی ماڈل کا موبائل دینے آ گیا! اور مائی کو بیٹے کی حرکتوں کی خبر تھی!
کیا سمجھے!

Operation Lionheart

“جگر کیسا ہے“
جگر چھلنی ہے!
“کیوں تجھے بھی بوتل لگ گئی ہے کیا؟“
بکواس نہ کر! یہ حرام تم ہی پیا کرو!
“تو پھر تیرا جگر کیوں چھلنی ہو گیا؟“
جب سے معلوم ہوا ہے سرحد کر دونوں جانب امریکی و پاکستانیوں افواج نے مشترکہ آپریشن شروع کیا ہے تب سے!
“اوئے بغیر داڑھی والے طالبان! تم لوگ سدا سے ایسے ہی ہو ایسے ہی رہو گے!“
بے خبر بندے! تجھے پتا ہے اُس آپریشن کا نام کیا ہے؟
“ہاں معلوم ہے ، آپریشن شیر دل!“
یہ نام تو اس کا سرحد کے اس پار پے ناں! مگر افغانستان میں اس کا نام Operation Lionheart ہے!
“ہاں ! انگریزی ترجمہ ٹھیک ہے!“
میں انگریری ترجمے کی بات نہیں کر رہا، میں یہ کہہ رہا ہوں کہ درحقیقت یہ دسویں صلیبی جنگ کے ایک حصے کا نام ہے!!
“اوئے!! یہ کیا منطق نکالی ہے تو نے؟؟؟؟ دیکھ پاکستانی طالبان تو نہیں بن گیا ناں تو؟“
کیسے سمجھاؤ تجھے؟؟ دیکھ ٹھیک ہی شیردل کا انگریزی ترجمہ Lionheart ہے مگر یہ نام ہم نے نہیں رکھا! ہم نے دراصل ترجمہ کیا ہے! جنھوں نے رکھا ہے! اُن کے سربراہ نے جنگ کے آغاز پر ہی صلیبی جنگ کا نعرہ بلند کیا تھا!
“کیا بک رہا ہے آسان الفاظ میں بتا!“
بھائی آپریشن کا یہ نام امریکی افواج کا تجویر کردا تھا! جو انہوں نے اپنے ہیرو رچرڈ شیردل یعنی انگریزی میں Richard the Lionheart کے نام پر رکھا ہے! اور یہ وہ بندہ تھا جو صلاح الدین ایوبی کے خلاف صلیبی جنگوں میں لڑتا رہا ہے!!
“تم بھی ناں! اللہ تم لوگوں سے بچائے! یہ باتیں تم لوگ کہاں سے بنا لیتے ہو؟“

کس کا کمال؟؟؟؟

میں بنیادی طور پر نالائق ہوں! اس میں کوئی شک شبہ نہیں! ہاں کسی پر یہ راز آشکار نہ ہو تو اسے آپ میری خوش قسمتی کہہ سکتے ہیں! ذہانت نہیں! اس لئے میں کہہ سکتا ہوں! کہ میں خوش قسمت ضرور ہوں!! بعض راز آشکار ہونے کے بعد بھی کچھ لوگ خوش قسمت بنے رہتے ہیں!!

بہر حال بات کچھ اور کرنی تھی، آج صبح عدالت جاتے ہوئے راستے میں ہم نے بینر دیکھے! جناب ناظم کراچی کو مبارک باد دی جارہی تھی! دنیا کے دوسرے نمبر پر ایک اچھے و بہترین ناظم (میئر) قرار دیئے جانے پر! کورٹ میں ابتدائی کام سے فارغ ہو کر چائے پینے اور اخبار پڑھنے بار روم میں آیا تو اخبار میں جناب “قائد تحریک” اپنے لاڈلے کو سینے سے لگا کر مبارک باد دیتے نظر آئے! ایک اخبار میں ایک جگہ تو گورنر سندھ پر بھی دست شفقت پھیرتے نظر آئے! ہماری آنکھون کے سامنے 12 مئی اور 9 اپریل آ گیا! اور حیرت ہوئی کہ پہلے نمبر پر کون آ گیا ہے؟ معلوم ہوا ٹی وی پر بھی یہ خبر چلی کہ وہ دنیا کے “دونمبری” ناظم ہیں مقابلے میں! جیسے جیو، آج، سما، اے آر وائے،ایکسپریس اور یہاں تک کہ ڈان نے بھی کور کیا! کمال ہے ناں!!
پھر اخبارات! جیسے آج کل، ایکسپریس، جنگ ارر دیگر نے بھی اس خبر کو جگہ دی! ایم کیو ایم مخالف اخبار “امت” اور جماعت اسلامی کے اخبار “جسارت” میں اس خبر کا انتظار رہے گا کس انداز میں آتی ہے مجھے ذاتی طور پر!
اب یہ غلطی کی کس نے؟ جو جناب کو دوسرے نمبر پر دنیا کا بہترین ناظم شہر قرار دیا گیا! تو یار لوگ یہ الزام فارن پالیسی نامی جریدے پر لگاتے ہیں، اُن کی ویب سائیٹ دیکھی تو وہ خود کراچی کو دنیا کے اولین 60 شہروں میں سے 57 نمبر پر شمار کرتے ہیں! اور جن پانچ باتوں کو بہتری کا میعار بتایا گیا اُن سب میں “ہمارا کراچی” نصف سینچری کے بعد آتا ہے۔
ہاں The Mayors of the Moment میں انہوں نے مصطفٰی کمال کا ذکر کیا مگر ساتھ ہی بتا دیا کہ اس کا شہر 57 نمبر پر ہے جیسے جو ہیڈ لائین بنائی تھی تعارف کے سلسلے میں وہ یہ تھی Syed Mustafa Kamal Mayor of Karachi (#57) اس میں نمبر شمار57 شہر کے ریکنک کو بیان کر رہا ہے۔ دوسرے نمبر پر تعارف کا مطلب یہ نہیں کہ وہ دنیا کے دوسرے بہترین ناظم ہیں!!! بلکہ جریدے نے تینوں ناظموں کا ذکر کرنے سے پہلے لکھا!

Here’s how three of the world’s top mayors are climbing the ladder

نہ کہ

Here’s how three world’s top mayors are climbing the ladder

یہاں of the قابل توجہ ہے، یعنی دنیا کے اولین ناظمین میں سے تین جبکہ ہمیں سمجھایا جا رہا ہے کہ لکھا ہے دنیا کے بہترین تین! کمال ہے ناں! (ویسے میں غلطی پر ہوں تو بتا دینا!)
کیونکہ ہم اردو میڈیم والے ہیں! ساتویں جماعت میں بمشکل پوری ABC یاد ہوئی تھی !!!!
دنیا کے بہترین ناظموں کی فہرست یہاں ہے البتہ! اللہ کرے اس میں ہمارے ناظم بھی شامل ہو جائے آئندہ سالوں میں!

اَپ ڈیٹ؛ راشد کامران کے زیل کے تبصرے (تبصرے میں میں نے لنک بھی ڈال دیا ہے) نے بدتمیز کی پوسٹ طرف دوبارہ متوجہ کیا! میں وہ پوسٹ اُس وقت پڑھی تھی جب اُس پر کوئی تبصرہ نہیں ہوا تھا! جس میں عمار نے بہترین میئر والی لسٹ ہم سے پہلے ہی فراہم کر دی تھی! نیز عبدلقدوس کے متوجہ کرانے پر توجہ pkpolitic کیایک میل کے خاکے پر !،جو انہوں نے پوسٹ کیا! جس میں آگاہ کیا گیا کہ بھائی ہم نے ایسی کوئی حرکت نہیں کی! وہاں ہی تازہ ترین پوسٹ سے آگاہی ہوئی ہے، کہ خود foreignpolicy والوں نے کانوں کو ہاتھ لگا کر توبہ توبہ کی کہ بھائی ہم پر ایسا الزام تو مت لگاؤ!!! کر لو گل!

سلمان بے تاثیر

گورنر پنجاب، سلمان تاثیر، سے قریب اب ہر پاکستانی ہی واقف ہے کہ یہ ہے کون! یہ بڑی شخصیت ہے ناں! ایک کامیاب کاروباری شخصیت! اسٹاک ایکسچینج ایک روشن خیال شخصیت! جناب ہے بیانات پڑھنے سے ہر گز تعلق نہیں رکھتے اس لئے کافی پڑھے جاتے ہیں! جناب کے ایک بیٹے آتش تاثیر بھارت میں ہوتے ہیں، میڈیا میں لکھتے ہیں! خود یہ بھی انگریزی اخبار ڈیلی ٹائمز، اردو اخبار آج کل اور ٹی وی بزنس پلس کے مالک ہیں! بچوں کے لئے بھی کوئی ٹی وی چینل کھولا ہے!
کسی کی ذاتی زندگی اُس کی ذاتی زندگی ہے! مگر ایک بار آپ اگر حکمران طبقے سے جا ملے تو میرا خیال ہے عوام کو آپ کی ذات کے بارے میں تمام جانکاری ہونی چاہئے! ذیل میں جناب کی چند ذاتی فیلمی تصاویر ہیں! جو ایک مخصوص کہانی بیان کرتی ہے! شریف حضرات دیکھنے سے پر ہیز کریں! ورنہ پھر شکایت کریں گے!! یہ ہے وہ ہے!!!

taseer family
ایک گروپ فیلمی تصویر! سلمان تاثیر، اُن کی بیگم، بیٹیاں صنم و شیربانو (کیا کہو؟ لباس قابل دید ہے! اور بیٹے شہریار اور شہبار

taseer
سلمان تاثیر ہاتھ میں جام!!

Salman Taseer
سلمان تاثیر اور مشرف کا حواری! جام بھی!

taseer wife
سلمان جام تھامے اور حسن اُن کے بیگم

taseer son
گورنر ہاؤس میں جام و شہریار

shhrayar
شہریار، جام و شباب

taseer son
شہریار جام تھامے، لڑکیوں کے جھرمٹ میں!

taseer son
شہریار کی ساتھی لڑکیاں جام تھامے!

tasser son
شہریار آہم آہم

نیچے تاثیر کی بیٹی شیر نانو کی تصاویر ہیں!
محفل میں مرد حضرات موجود تھے!!

اعتراض نہانے پر نہیں مردوں کے ساتھ نہانے پر ہے ثبوت ذیل میں ہے!

اب آپ مجھے تنگ نظر کہے گے! بھائی نہیں ہوں میں ایسا روشن خیال!! معذرت

اَپ ڈیٹ: یہ تصاویر کل 17 نومبر کو میڈیا کو پنجاب کے وزیر قانون ثناء اللہ نے جاری کی آج کسی اخبار نے شائع تو نہیں کی مگر خبر کو اخبار کا حصہ بنایا ہے! جیسے جنگ اخبار، وقت ، جناح، اور دیگر!
لو میرے بلاگ سے یہ بات کہاں تک پہنچ گئی!!!! ‘جب دوسرے ایسے دعوٰی کرتے ہیں تو میں میوں نہیں”۔۔۔۔حیرت ہے ناں!!!

ملیر بار میں یوم سیاہ

آج ملک بھر میں وکلاء نے یوم سیاہ منایا ہے! اس سلسلے میں ملیربار نے جسٹس رانا بھگوان داس کو بلایا تھا! چند تصاویر جو میں نے لی یہ ہیں!

چند اور یہاں ہیں!!!


ہماری باری آنے پر بیٹری ختم ہو گئی!

غیر حاضری معاف!

کچھ دنوں سے خیال آرہا ہے کیوں نا وہ دلچسپ قصے اس بلاگ کا حصہ بناؤ جو دوران وکالت اپنی نالائعقیوں کی بناء پر ہم بھگت چکے ہیں! ان میں چند ایک سبق آموز ہیں اور چند ایک صرف آموز! یہ سلسلہ قسط وار ہو گا!

تو جناب پہلا قصہ حاضر ہے! یہ دلچسپ ہے مگر سبق آموز نہیں! یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم ایل ایل بی کر کے تازہ تازہ اپنے سینئر کے پاس وکالت کے گُر سیکھنے جا پہنچے تھے! جوائن کئے کوئی ایک ماہ ہی ہوا تھا! ایک شام سینئر نے اپنے آفس میں بلایا کہا کہ یہ زازق خان صاحب کل کورٹ میں اپنا میڈیل سرٹیفکیٹ لے کر آ جائے گئے یہ ضمانت پر ہے مگر پچھلی دو تاریخوں پر غیر حاضر رہے ہیں ان کی Condonation کی درخواست دے دینا کہ بیماری کی وجہ سے غیر حاضری ہوئی! ہم نے ہدایات لیں رزاق صاحب کو ایک نظر دیکھا کہ صبح پہچاننے میں دشواری نہ ہو، اور کمرے سے باہر آ گئے۔
وہ صاحب جاتے ہوئے ہم سے ملنے آئے! ہم نے اُن سے پوچھا ‘کیا بیماری تھی آپ کو جو عدالت سے غیرحاضر ہوئے‘
کہنے لگے ‘یار ویسے ہی نہیں گیا وہ اب کورٹ سے نوٹس آیا تو ہوش آیا ہے!‘
تو زار کھلا کہ یہ معاملہ ہے! دریافت کی‘میڈیکل سرٹیفکیٹ کہاں سے لائے گے؟‘
کہنے لگے ‘کوئی مسئلہ نہیں‘ پھر آنکھ مارتے ہوئے گویا ہوئے! ‘میری ایک ڈاکٹر جاننے والی ہے، اُس سے ہی لے کر آؤ گا‘
میں نے کہا ‘ٹھیک ہے کل لے آنا میں اُس میں آپ کی بیماری کی درخواست بنا لو گا‘
اگلے دن ہم کورٹ پہنچے باقی کیسوں کو دیکھتے ہوئے جب اُس کورٹ میں پہنچے تو وہ صاحب وہاں موجود تھے۔ ہمیں دیکھتے ہی ہماری جانب لپکے۔ میڈیکل سرٹیفکیٹ ہمیں دیا، اور لگے سنانے قصہ اپنے اور اُس ڈاکٹر کے تعلق اور سرٹیفکیٹ لینے کا۔ ہم نے سرٹیفکیٹ پر ایک سرسری سی نظر ڈالی، پہلے سے بنائی ہوئی درخواست سے منسلک کیا، آگاہی لی کہ کیس کا نمبر کب آئے گا! معلوم ہوا دو چار کیسوں کے بعد ہی ہے لہذا کورٹ میں بیٹھ گئے، اور بندے کو باہر انتظار کرنے کو کہا۔
کورٹ میں کافی رش تھا! سینئر وکیل موجود تھے اور اُن کے جونیئر بھی، ہماری باری آئی، جج کے سامنے حاضر ہوئے، درخواست پیش کی، رازق میاں بھی پیش ہو گئے، جج نے ہماری طرف دیکھا ہم نے بتایا کہ بندہ بیمار تھا اس لئے نہ آ سکا، جج نے بات سمجھنے کے انداز میں سر ہلانے لگے! ایک نظر درخواست پر ڈالی پھر اُسے پلٹ کر میڈیکل سرٹیفکیٹ دیکھنے لگے! سر اُٹھا کر پہلے مجھے اور پھر میرے سینئر کے کلائینٹ پر ڈالی!
مجھے سے پوچھا ‘وکیل صاحب اس میڈیکل سرٹیفکیٹ کو پڑھا تھا آپ نے؟‘
میں نے کہا ‘جی سر‘
پھر اگلا سوال کیا ‘بغور‘
جواب عرض کی ‘جی ہاں‘ (دل میں کھٹکا ہوا معاملہ خراب لگتا ہے)
ہم نے رازق میاں پر نظر ڈالی! اور آنکھوں ہی سے سوال کیا! کوئی گڑبڑ تو نہیں! اتنے میں جج صاحب نے درخواست اپنے ریڈر کی طرف بڑھائی کہا ذرا ذرا اسے ایک نظر دیکھ لیں! میں نے ریڈر سے درخواست واپس لی، میڈیکل سرٹیفکیٹ پر ایک نظر ڈالی، دیکھا کہیں یہ تو نہیں لکھا کہ یہ کورٹ میں پیش کرنے کے لئے نہیں (اکثر ڈاکٹر یہ لکھ دیتے ہیں تا کہ کورٹ کی معاملات سے دور رہئے)، مگر ایسا نہیں تھا! ایک نظر اُس کے مضمون پر ڈالی کہیں اس میں تو کوئی مسئلہ نہیں، ہمیں ٹھیک لگا! اب ہم نے جج پر ایک حیرت بھری نظر ڈالی!
جج نے کہا “وکیل صاحب ذرا سرٹیفکیٹ کے ہیڈر کو پڑھنا“
میں نے اب جو ہیڈر پر نظر ڈالی تو اُس پر درج تھا! “شازیہ میٹرنٹی سینٹر و ہسپتال“! کمرہ عدالت میں اچانک کئی سینئر ہلکے قہقہہ سے ہنسے! اور ہمارا گلا خشک ہو چکا تھا! پچاس افراد کی موجودگی میں بے عزتی کا احساس امنڈ آیا!
جج نے مسکراتے ہوئے ایک نظر رازق میاں پر ڈالی پھر ہم سے مخاطب ہوئے“وکیل صاحب! جہاں تک میں دیکھ رہا ہو آپ کا ملزم ایک مرد ہے، کیا آپ بتا سکتے ہیں انہیں کون سی ایسی بیماری ہو گئی کہ انہیں اپنا علاج کروانے میٹرنٹی ہوم جانا پڑا؟؟“
اب ہم کیا بولتے؟ ہم تو پہلے ہی جج کی طرف التجا بھری نظروں میں دیکھ رہے تھے! اب جو سوال انہوں نے داغ دیا تو اُس کو کوئی ناں کوئی تو جواب دینا تھا! ایک بار پھر میڈیکل سرٹیفکیٹ پر نظر ڈالی! تمام تع توانائی کو جمع کیا اور بولے “سر آخر میں ہسپتال بھی تو لکھا ہے!“
جج بولا “مگر میٹرنیٹی سینٹر پہلے لکھا ہے اس لئے اس سے یہ اخذ ہوا ہسپتال عورتوں کا ہوا“
اب ہماری ڈیٹائی کی باری تھی! لہذا مخاطب ہوئے! “جی سر! عموما ایسا ہی ہوتا ہے! مگر اس معاملے میں ایسا نہیں ہے۔“
جج نے ہمیں گور کر دیکھا! درخواست ہم نے اُس کے ریڈر کو پکڑا دی! جج نے اُس پر نوٹ لکھا! اور ہمیں دیکھتے ہوئے کہا “وکیل صاحب! پہلے کنفرم کر لیا کریں! میں اس بار تو چھوڑ رہا ہو! آئیندہ غلط بیانی مت کیجئے گا“
ہم نے کہا “سر شکریہ! مگر یہ صرف میٹرنٹی ہوم نہیں یہاں مرد حضرات بھی جاتے ہیں، علاقے کی سطح پر ایک منی ڈسپنسری ہے“ اور کورٹ سے باہر آ گئے!
رزاق میاں کو پکڑ لیا ابے لعنتی مروا دیا تھا! اور بھی بہت کچھ جو قابل سنسر ہے اُس سے کہا! پھر ہم کافی دن تک اُس جج کی کورٹ میں جانے سے جھجکتے رہے!!

صدر کی رہائش گاہ بنا شادی ھال

پاکستان میں دونوں عیدوں کے درمیانی عرصہ میں شادیاں بہت ہوتی ہیں! سنت ہے شادی کرنا لہذا یہ ایک نیک کام ہے! خود ہمیں چھ سات شادیوں میں شرکت کی دعوت مل چکی ہے! کیا کریں جانا پڑتا ہے! شادی کرنے والے احباب یا تو سڑک پر ٹینٹ لگا کر یہ تقریب مناتے ہیں یا کوئی شادی ھال بُک کر کے!!
شادی کی ایک تقریب ہمارے ملک کے صدارتی محل میں بھی منائی گئی ہے! یار لوگ اسے بھی کرپشن و عوام کی دولت کا غلط استعمال کہتے ہیں!

اس میں کوئی حرج نہیں اگر کوئی بھی شخص اپنی شادی کی تقریب ایک مخصوص قیمت ادا کر کے وہاں منا سکتا ہو مگر اگر وقت کی سرکار یا حکمران سے تعلق اس کے اہلیت ٹہرے اور خرچ سرکاری ہو تو یہ قابل اعتراض و احتساب ہے! ویسے شاید ایوان صدر میں یہ شادی کی پہلی تقریب ہے۔

ٹی وی دیکھے!!!

جب ہم ڈائل اَپ انٹرنیٹ کے صارف تھے تو اُس وقت تک انٹرنیٹ پر گانے سننا تو دور کی بات ویب سائیٹ کی تصاویر و فلیش بھی اکثر Disable کردیا کرتے تھے! مگر اب آن لائن ٹی وی دیکھتے ہیں! اس سلسے میں ہمیں کسی فورم سے ایک چھوٹا کا ٹول ملا تھا کسی بھارتی کا بنایا ہوا تھا اس لئے اُس نے اس کا نام انڈیا ٹی وی رکھا تھا! ہم نے ڈاؤن لوڈ کر لیا اچھا لگا! مگر اُن پر انڈیا لکھا اچھا نہیں لگا! لہذا مشہور سوئی والے لطیفہ “میڈ اِن پاکستان“ کی روشنی پر اُس پر ہم نے اُس پر اپنا نام لکھ دیا!!!! اُس میں قریب آن لائن موجود تمام پاکستانی و ہندوستانی ایف ایم ریڈیو و ٹی چینل کی فیڈ جمع کر دی گئی ہیں! امید ہے اگر آپ کا نیٹ کنکشن اچھا ہے تو آپ اس مستفید ہو سکتے ہیں! بلکہ جتنا اچھا ہے اُتنا مستفید ہو سکتے ہیں!! اگر کوئی نئی فیڈ آپ کے علم میں ہو تو مجھے بھی آگاہ کر دینا! شکریہ!
یہ سافٹ ویئر صرف دنڈو کے صارفین کے لئے ہے!! لینکس والے اِس کی طرز پر کوئی ہے تو اُس سے آگاہ کریں!

Watch TV

ڈاؤن لوڈ کریں!! یا یہاں سے کر لیں!!

آپ کو کیسا لگا!

آصف زرداری اور کشمیر

اچھا کہنے اور بننے کا شوق بُرا نہیں بلکہ بہت بُراہے! مگر اچھا ہونا بُرا نہیں! ہمارے حکمران اچھا بنتے نہیں مگر خود کو کہلوانا چاہتے ہیں! افسوس یہ ہے کہ اپنی عوام سے مخلص ہواتے نہیں، اور دوسروں پر اپنے خلوص کی بارش کرتے رہتے ہیں!!
ایسا ہی حال ہمارے نئے صدر کا ہے! سنا ہے کہ “وہاں“ جناب کی اپنی کوئی خاص پہچان نہیں!! مغربی میڈیا تو انہیں بی بی کا زنڈوا قرار دیتا ہی تھا! لیکن جب امریکی صدر بش سے ملاقات ہوئی تو اُنہوں نے بھی کہا آپ کو تو نہیں البتہ میں بینظیر کو جانتا ہوں چین میں اُن کے بچوں سے ملا قات بھی ہوئی تھی! تو کیا آپ اُن کے باپ ہوتے ہیں؟ بڑی خوشی ہوئی آپ سے مل کر! اور جناب وہاں ایک لیڈر کے طور پر خود کو نہیں منوا سکے! البتہ۔۔۔۔۔۔۔ بلکہ یار لوگوں نے اُن کی کئی جگہ کی گئی نالائقیوں پرروشنی ڈالی ہے!
پاکستان کا بانی کون؟ قائداعظم! اور اُن کا کہنا تھا کشمیر پاکستان کی شہہ رَگ ہے! وہ ہی کشمیر آج خود کو بھارت کے شکنجھے سے آزادی کی جدوجہد میں ایک نئے موڑ پر کھڑا ہے! یہ تحریک جو زمین کے جھگڑے سے شروع ہوئی اور جس میں شیخ عبدالعزیز کی شہادت نے ایک نئی روح پھونک دی ہے آگے ہی بڑھتی جا رہی ہے! اس میں کشمیر کی نواجوان نسل سب سے پیش پیش ہے! اور تاریخ بتاتی ہے کہ جس تحریک میں کسی قوم کے نوجوان شامل ہوں وہ جدوجہد منزل کو پا لیتی ہے!
دلچسپ بات یہ ہے کہ اس بار خود بھارتی میڈیا یہ تسلیم کرتا ہے کہ اس کے پیچھے ہر گز پاکستان یا آئی ایس آئی کا ہاتھ نہیں! (آوٹ لک انڈیا کا یہ کالم پڑھنے سے تعلق رکھتا ہے اور بھاتی اور انٹرنیشنل میڈیا میں اس کا کافی تذکرہ ملتا ہے) اور کیونکہ پانچ سے آٹھ لاکھ افراد کا ایک جگہ جمع ہونا ایک کال پر اُس کے جذبہ آزادی کو ظاہر کرنے کے لئے کافی ہے! اور اِن جلوسوں میں لگنے والے نعرے کچھ یوں ہیں،

“ہم کیا چاہتے! آزادی!
ہے حق ہمارا! آزادی!
چھین کر لیں گے! آزادی!“

“اے جابرو! اے ظالمو!
کشمیر ہمارا چھوڑ دو!“

“جس کشمیر کو خون سے سینچا!
وہ کشمیر ہمارا ہے!“

“خونی لکیر توڑ دو
آر پار جوڑ دو“

“ہندوستان تیری شامت آئی!
لشکر آئی! لشکر آئی“

اور پاکستان سے اُن کی محبت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ نعرے بھی اُن کی زبان پر ہوتے ہیں!

“کشمیر کی منڈی! رولپنڈی“

“جیوے جیوے پاکستان“

“پاکستان سے رشتہ کیا! لاالااللہ! آزادی کا مطلب کیا! لاالااللہ! ہندوستان کا مطلب کیا؟ بھاڑ میں جائے ہم کو کیا!“

“ننگا بھوکا ہندوستان
جان سے پیارا پاکستان“

ایسے میں ہمارا میڈیا اِسے اُس طرح ہم تک نہیں پہنچا رہا جو حق ہے! بلکہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ خبریں چھپائی جاتی ہیں!! کشمیری لیڈر عمر فاروق نے باقاعدہ یہ اعتزاض اُٹھایا ہے کہ ہمیں جو توقعات پی ٹی وی سے تھی وہ کوریج کے معاملے میں اُس نے پوری نہیں کیں! اور دوسری طرف ہم نے کشمیر کمیٹی کا سربراہ “مولانا ڈیزل“ کو بنایا دیا ہے (میں جناب کے کشمیر کاز سے دوری یا دشمنی پر بعد میں لکھوں گا!)، اس پر حریت کانفرنس والوں نے بھی اعتراض کیا تھا!
اور آج پھر ایک مرتبہ وال اسٹریٹ جرنل کو دیئے گئے آصف زرداری کے انٹرویو کو پاکستان کے اخبارات نے خبر کے طور پہلے صحفہ پر جگہ دی مگر کشمیر اور بھارت والے بیان کو جان بوجھ (کم از کم مجھے تو یہ ہی لگتا ہے) گول کرنے کی کوشش کی ہے! جبکہ میں سمجھتا ہوں میڈیا کو ازخود اس پر جناب کی “مخصوص عزت افزائی“ کرنی چاہئے تھی! اس انٹرویو میں بقول آصف زرداری صاحب کے “بھارت کبھی پاکستان کے لئے خطرہ نہیں رہا!!!“ (سوات والے معاملات کے بعد بھی؟؟؟) اور “کشمیر میں سرگرم اسلامی عسکریت پسند دہشت گرد ہیں“!!! اسے خود اخبار نے حیران کُن قرار دیا ہے! اخبار کہتا ہے!

When I ask whether he would consider a free-trade agreement with traditional archenemy India, Mr. Zardari responds with a string of welcome, perhaps even historic, surprises. “India has never been a threat to Pakistan,” he says, adding that “I, for one, and our democratic government is not scared of Indian influence abroad.” He speaks of the militant Islamic groups operating in Kashmir as “terrorists” — former President Musharraf would more likely have called them “freedom fighters”

شاید حادثاتی سربراہ بن جانے اور جینوئن لیڈر میں یہ ہی فرق ہوتا ہے کہ جینوئن لیڈر کو معلوم ہوتا ہے کیا کہنا ہے اور کیوں کہنا ہے! وہ کسی کو خوش نہیں کرتا!! یا پھر کشمیر کے ایک ماہ میں حل کا وعدہ یہ ہی تھا؟ حریت پسندوں کو دہشت کرد مان لیا! پھر آزادی مانگنے والوں کو باغی کہہ دیا جائے گا! اللہ اللہ خیرسلا! بات ختم پیسہ (مزید) ہضم!!
ممکن ہے آپ میں سے کئی اس بات کو معمولی سمجھے مگر ایسی بات ملکی خارجہ پالیسی کے لئے نقصان کا باعث ہوتی ہے! آج بھارت کے تمام اخبارات نے اس خبر کو یوں چھاپا ہے! “زرداری مانتے ہیں کشمیر میں دہشت گرد سرگرم ہیں“!!! ہون آرام اے!!

اگر اجازت ہوتو لپٹ جاؤں؟

بقول سی این این کے پاکستان کے صدر نے تو Alaska کی گورنر اور نائب صدر کی امیدوار سے بس اتنا کہا تھا
“آپ تو بہت ذیادہ حسین ہے جتنا کہ آپ دیکھتی ہیں (آواز مدہم) پر“
“شکریہ، کرم نوازی آپ کی“ سارہ پالین
“اب میں سمجھا سارا امریکہ آپ کو دیوانہ کیوں ہے“ زرداری
(جب سارہ اور زرداری ہو تصاویر کے لئے دوبارہ ہاتھ ملانے کو کہا تو)
“میں سمجھتی ہوں دوبارہ ہاتھ ملانے کا انداز اپنانا پڑے گا“ سارہ پالین
“اگر اس نے مجبور کیا تو، ممکن ہے میں گلے لگا لو“ زرداری!

بس اتنی سی بات! اور یار لو ہو گئے ناراض! پریشان ہو گئے ہیں، یہ اپنے زرداری صاحب کیا کر بیٹھے؟ کیا ہوا بھائی؟ اس میں ناراض ہونے والی کیا بات؟ جس پر تبصرہ ہوا وہ تو خوش ہے؟ سارہ پالین نے تو صحافیوں سے ملاقات کو very informative اورhelpful قرار دیا ہے!
ویسے بھی یہ کوئی بات نہیں پالین جی کو تو بالغان کے رسالے کے لئے بھی آفر آئی تھی! اور جان میکن کی صدرارتی مہم کو کو نشانہ بنایا گیا ہے!
یہ تو کچھ بھی نہیں یا! بے شک زرداری اسلامی جمہوریہ کے صدر ہیں!!! مانا کہ رمضان چل رہے ہیں!
مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔! (شریف حضرات ذیل کی تصویر کو دیکھنے سے پر ہیز کریں! روزہ خراب ہونے کی صورت میں آپ خود ذمہ دار ہوں گے، آرام نہ آنے کی صورت میں مولوی سے رجوع کریں)!

Sarah

صدراور Spelling bee

ہمارے صدر صاحب ہمارے باقی صدور سے یوں مختلف ہیں کہ جیسی شہرت باقی پاکستان کے سابقہ صدروں کو اپنے آخری دور میں حاصل ہوئی انہیں اپنے اقتدار کے آغاز میں ہی مل گئی! یہ پہلی دفعہ ہے کہ ایک آنے والے صدر کو یار لوگ اُن ہی کلمات سے یاد کر رہے ہیں جیسے جانے والوں کو یاد کیا جاتا ہے! وہ تمام “خوبیاں“ ابتدا میں ہی سامنے آنے لگ پڑی ہیں جو عام طور تحت سے ان سربراہان مملکت کے بچھڑ جانے پر یاد آتی ہیں!
یار لوگ ہم انگریزی کے ماروں کو ویسے بھی بُرا بھلا کہتے رہتے ہیں مگر ہمیں کیا ہم تو ہیں ہی اردو میڈیم (لو انگریزی کا لفظ استعمال کر لیا) کے مارے ہوئے،لہذا ہم سے غلطی ہو تو کوئی کفر نہیں ہوتا! پھر یاروں نے اپنے وزیراعظم کی انگریزی پر تنقید کی تو ہم نے آگاہ کردیا جناب یہ ملتانی بھی اردو میڈیم کا مارا ہوا ہے!
ابتدا میں ہمیں اپنے صدر کے گریجویٹ ہونے پر شبہ تھا مگر اُن کے اہل بیت نے ہمیں آگاہ کیا جناب وہ نہ صرف گریجویٹ ہیں بلکہ برطانیہ کے ڈگری تافتہ ہیں! ساری ٹینشن دور ہوگئے چلو حکمرانی کا سرٹیفکیٹ لے کر آیا ہے! ورنہ تو کیا مزا! پہلے ہی ہمیں لوکل سربراہ پسند نہیں، مغربی ذرائع ابلاغ کو جب جناب میں انٹرویو دیئے تو اچھی بھلی انگریری بولی! مگر یار لوگ پیچھا نہیں چھوڑتے! کہتے ہیں کہ انگریزی لکھنے کی قابلیت صدر صاحب میں نہیں!
زرداری کی قابلیت

پچھلے دونوں جناب کراچی آئے اس لئے قائداعظم کے مزار پر بھی حاضری دی وہاں موجود ڈائری پر لکھی گئی تحریر کی تصاویر اتار کر یار لوگ صدر کی انگریزی کی قابلیت کو نشانہ بنا رہے ہیں! کہتے ہیں کہ GOD اور STRENGTH کی Spelling جناب نے غلط لکھی ہیں! حد ہو گئی ہمارا صدر ہے کوئی Spelling bee تو نہیں!

اب آپ کہے گے “منزل انہیں ملی جو شریک حیات تھے“ غلط بات ہے! قابل بھی ہیں!

سمجھو!

کتاب کی عزت کرنا سیکھے! اگر اسے نہ پڑھیں تو یہ تمہاری ماں اور پڑھ لیں تو یہ تمہاری اولادیں!

امداد و قوت

جب ہم چھوٹے تھے تو بچوں کی کہانیاں کافی شوق سے پڑھا کرتے تھے! کئی کہانیاں ہمیں سمجھ بھی نہیں آتی تھیں! ایک ایسی ہی کہانی کچھ یوں تھی!
کہتے ہیں ایک ملک خداداد میں رعایا کافی سکون سے رہ رہے تھے، ملک کی آبادی توحید کی قائل تھی! جو کچھ بھی مانگنا ہوتا رب تعالٰی سے طلب کرتی! ایک بار مشہورہو گیا کہ ملک خداداد کے گنجان جنگل میں ایک درخت ہے اُس کے سامنے کھڑے ہو کر جو دعا مانگی جائے وہ قبول ہو جاتی، کئی لوگوں نے دعا مانگی اور وہ قبول ہو گئی، ہوتے ہوتے یہ سلسلہ اس قدر بڑھ گیا کہ عوام گمراہ ہو کر اُس درخت کی عبادت کرنے لگ پڑے۔ جب اس کا علم اُس علاقے کے ایک چھوٹے دوکاندار بہادر ہو ہوا تو اُسے بہت غصہ آیا اُس نے اپنی کلہاڑی لی اور درخت کاٹنے کے لئے جنگل کی طرف روانہ ہو گیا! کہ نہ درخت ہو گا نہ یہ گمراہی مزید پھیلے گی! جب وہ جنگل کے قریب پہنچا تو شیطان ایک پہلوان کے روپ میں اُس کا راستہ روک کر کھڑا ہو گیا! پہلے شیطان نے اُسے پیار محبت سے روکنے کی کوشش کی لیکن بہادر نے اُس کی ایک نہ مانی اور وہ اپنے ارادے پر قائم رہا! پھر شیطان اُسے دھمکیاں دینے لگ پڑا مگر بہادر ٹس سے مس نہ ہوا، آخر دونوں میں کُشتی ہوئی اور بہادر سے پہلے ہی وار میں شیطان کو اُٹھا کر دور دے مارا! شیطان کو سمجھ آ گئی کہ لڑائی میں اس شخص کو مات دینا ممکن نہیں لہذا شیطان نے فورا نیا تیر چلایا! اُس نے اُسے آفر کی کہ اگر تم اُس درخت کو نہ کاٹو تو میں تمہیں پانچ سو درہم دوں گا! بہادر نے انکار کر دیا! اُس نے کہا میں ہر ماہ تمہیں اتنی رقم ادا کرو گا! بہادر لالچ میں آ گیا اور پانچ سو درہم اُس ہی وقت لے کر واپس چلا آیا!
قریب پانچ ماہ تک شیطان نے اُسے ہر ماہ پانچ سودرہم دیئے! پھر اچانک یہ سلسلہ رک گیا! ابتدا میں بہادر کو پانچ سو درہم کا انتظار رہا پھر اُسے اندر سے ملامت ہونے لگی! لہذا ایک بار پھر وہ کلہاڑی لے کر وہ درخت کاٹنے کے لئے نکل گیا! اب کی بار پھر پرانے والے مقام پر شیطان اُس ہی پہلوان کے روپ میں اُسے ملا، اُس نے پرانے والئے انداز نے پہلے پیار سے پھر ڈرا دھمکا کر اُسے روکنا چاہا، آخر دونوں میں لڑائی ہوئی اور بہادر نے شیطان کو چاروں شانے چت کر دیا! آخر میں شیطان نے پھر لالچ والی ترتیب آزمائی اور بہادر نے انکار کر دیا! شیطان نے انکار کیا تو شیطان نے سو درہم بڑھا دیئے، پھر ہوتے ہوتے بہادر آٹھ سو درہم پر درخت نہ کاٹنے پر راضی ہو گیا!
اب کے کوئی تین ماہ بعد ہی شیطان نے رقم کی ادائیگی روک لی، بہادر اب کے جو گھر سے نکل کر جنگل کی طرف بڑھا تو شیطان نے راستہ روک لیا! دونوں میں لڑائی ہوئی اور شیطان نے بہادر کو وہ چاروں شانے چت کر دیا! بہادر کچھ بھی نہ کر سکا! اور شاید اب وہ کچھ بھی نہیں کر سکتا تھا!
کہانی لکھنے والے نے بعد میں بتایا کہ حرام کھانے سے برائی کو روکنے کی قوت ختم ہوجاتی ہے! میں یہ سمجھا کہ جس سے مانگ کر کھایا جائے اُس کے خلاف لڑنا ممکن نہیں ہوتا نہ ہی سکت ہوتی ہے! یہ انفرادی واجتماعی سطح دونوں صورتوں میں درست ہے؟
ہم بیرونی دنیا سے امداد کے طالب رہے ہیں! لیتے رہتے ہیں! ہماری نئے وزیراعظم بھی امریکہ کا ایک دورہ اس لئے کر چکے، ہمیں فوجی و سویلین امداد لینی ہوتی ہے!ایسی میں وہ کیا ہے جو ہم رہن رکھ کر آتے ہیں؟؟؟ خوداری و عزت!
یار لوگ ناراض ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کی سرزمین پر زمینی حملہ کیا بیس افراد جان بحق یا ہلاک (اب شہید کہوں گا تو اپنے ہی مارے گے) ہوئے، اور پاکستان نے کیا کیا؟ ارے بابا پارلیمنٹ نے قرارداد مذمت پاس کردی، دفتر خارجہ نے مذمتی و احتجاجی بیان کافی نہیں ہے کیا! اور بھی امداد لینی ہے! بند ہو گئی تو پھر؟ دہشت گردی کی یہ جنگ جاری رکھنی ہے ناں!
War on?
ویسے آج یوم دفاع ہے آپ کو مبارک ہو! یوم دفاع!

ٹیم ورک

زندگی میں ہر کسی کو کسی وقت دوسرے کی مدد درکار وہتی ہے!

زندگی میں ہر کسی کو کسی وقت دوسرے کی مدد درکار ہوتی ہے!

فرمان قائد

“رسول اکرم ایک عظیم رہبر تھے، آپ ایک عظیم قانون عطا کرنے والے تھے۔ آپ ایک عظیم مدبر تھے۔ آپ ایک عظیم فرمانروا تھے۔ جنہوں نے حکمرانی کی۔ جب ہم اسلام کی بات کرتے ہیں تو بلا شبہ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اس بات کو بالکل نہیں سراہتے“

قائداعظم، 25 جنوری 1948ء ، عیدمیلادالبنی سے خطاب، کراچی

حکمران کی نیت!

ایک بادشاہ سلامت ایک دن شام میں اپنے وزیر کے ہمراہ دارلحکومت سے باہر نکلے شہر سے باہر انہیں ایک چھوٹا باغ نظر آیا! بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا مجھے تو پیاس محسوس ہو رہی ہے چلو اس باغ سے پیاس کے بجھانے کا کوئی سبب بن جائے گا! وہاں جو پہنچے تو ایک بچے کو کھیلتا دیکھا! بادشاہ اپنے گھوڑے سے اُترا بچے کو آواز دی! جب وہ بچہ قریب آیا تو بادشاہ نے اُس سے کسی بڑے کی وہاں موجودگی کے بارے میں پوچھا! اُس بچے نے اپنی والدہ کا حوالہ دیا۔
بادشاہ نے اُس سے کہا کہ اپنی والدہ کو بتاؤ دواجنبی آئے ہیں! وہ پیاس کو مٹانے کہ لئے کچھ پانی (مشروب) کے طالب ہیں! بچہ دوڑ کے قریب ہی بنی ایک جھونپڑی میں داخل ہوا! وہاں سے نکلا ایک درخت کی جانب لپکا! ایک کینو توڑا اور پھر جھونپڑی میں داخل ہو گیا اور ایک پیالے میں جوس لا کر بادشاہ کو دیا! اس سے قبل بادشاہ باغ کی خوبصورتی کی دل ہی دل میں داد دے رہا تھا! اُس نے پیالہ ہاتھ میں تھامہ اور مشروب کی لذت و تاثیر نے اُسے بہت متاثر کیا! اُس نے بچے سے پوچھا کہ بیٹا یہ باغ کس کا ہے! بچے نے اپنے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا!“میرا“!۔ بادشاہ نے اگلا ہی سوال اُس کے والد کے بارے میں پوچھا تو اُسنے معصومیت سے جواب دیا وہ تو اللہ میاں کے پاس چلے گئے ہیں!
اُس لمحے بادشاہ کے دل میں خیال آیا کہ اس یتیم بچے نے اس باغ کا کیا کرنا ہے ایسا باغ تو شاہی ملکیت میں ہونا چاہئے، واپس محل جا کر اس باغ کو شاہی ملکیت میں لے لیتا ہوں! اور بچے اور اُس کی ماں کے لئے ایک ماہنامہ وظیفہ مقرر کر دیتا ہوں! پیالے میں سے جوس ختم کرنے کے بعد بادشاہ نے وہ پیالہ بچے کو واپس کیا، اور مزید جوس کی فرمائش کی! بچہ دوڑ کر جھونپڑی میں داخل ہوا، پھر بادشاہ نے دیکھا کہ وہ بچہ پھر دوڑ کر اُس ہی پرانے والے درخت سے ایک کینو توڑ کر جھونپڑی میں داخل ہو گیا! اس کے بعد یکے بعد دیگر بچے نے چار مزید چکر لگائے! اور پیالہ لا کر بادشاہ کو دیا! بادشاہ نے جب اُس رس کو پیا تو لذت پہلے جیسی نہ تھی!
بادشاہ نے لڑکے سے سوال کیا! پہلے تم نے ایک چکر لگایا تھا اب پانچ اُس درخت تک کیوں؟
بچہ کا جواب تھا پہلے ایک کینو سے ہی پیالہ بھر گیا تھا مگر اب پانچ میں بمشکل بھرا ہے۔
بادشاہ نے ایک سوال بچے کی جانب اور اُچھال دیاکہ! پہلا پیالہ ذیادہ لذیذ تھا کیا وجہ ہے یہ والا ویسا نہیں؟
بچے نے کہا میں اپنی امی سے پوچھ کر بتاتا ہوں! وہ بھاگ کر جھونپڑی میں گیا والدہ سے کہا کہ باہر جو دو اجنبی آئے ہیں وہ ایسے ایسے پوچھ رہے ہیں! والدہ سے جواب پا کر اُس نے بادشاہ کو بتایا کہ!

“والدہ کہہ رہی ہیں معلوم ہوتا ہے ہمارے بادشاہ وقت کی نیت میں کچھ گڑبڑ ہوئی ہے کیونکہ جب بادشاہ وقت کی نیت خراب ہو تب ہی ایسا ہوتا ہے! سونا بھی مٹی ہو جاتا ہے “

بادشاہ نے بات سنی پیالہ خالی کیا! بچے سے ایک اور پیالہ مشروب طلب کیا اپنے وزیر کے لئے اب کی بار بھی ایک ہی کینو سے پیالہ بھر گیا! وزیر نے جب رس پیا تو لذت سے متاثر ہونے کے بعد بادشاہ کو مشورہ دیا کہ ایسا باغ تو شاہی ملکیت میں ہونا چاہئے! اب آپ کو معلوم ہے اُس کا ردعمل کیا ہوا گا!
ہمارے ملک میں اگلے ماہ صدر کے الیکشن ہیں! تین مختلف شخصیات اس دوڑ میں شامل ہیں! جن میں پیپلزپارٹی کے امیدوار کا جیتنا اب تک نظر آرہا ہے! آصف زرداری، مسٹر ٹین پرسنٹ کے نام سے مشہور ہے! ہر پروجیکٹ میں کمیشن دس فیصد ہوتا تھا! اب نیا تناسب کیا ہو گا؟ فیصلہ ہونا باقی ہے تب تو وزیراعظم کا شوہر تھا! اب خود صدر ہو گا! خدا ہمارے حاکموں کی نیت کا فتور ختم کرے، خدا کرے۔
چند احباب کا خیال ہے ایسے حاکم عوام کے اعمال کی بنا پر نازل ہوتے ہیں! مگر یہ بھی سچ ہے کہ حکمران کی بدنیتی اُن مملکت کی رعایا کی معاشی بد حالی کا سبب بنتی ہے!