ّ بے طقی باتیں بے طقے کام: January 2010

جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا؟

ہماری والدہ پیپلزپارٹی کی ہامی رہی ہیں نہ صرف یہ کہ ہامی رہی ہیں بلکہ محلہ کی سطح پر کافی ایکٹو کارکن بھی اُن کی ان سیاسی ہمدردیاں شادی کی بعد کراچی بلکہ سچ تو یہ ہے ماڈل کالونی آنے کے بعد کی ہیں دوسری جانب ہمارے والد مسلم لیگ کے حمایت کرتے تھے اور علاقے کی سطح پر مسلم لیگ کی کارنر میٹنگ میں شرکت کرتے تھے۔ وہ الگ بات ہے جب سے زرداری صاحب کے پاس پارٹی کی قیادت آئی ہے تب سے اب ہماری فیملی میں صرف ایک بڑے تایا ابوہی پیپلزپارٹی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
ہمارے والد اکثر والدہ کی موجودگی میں اُنہیں چیڑانے کے لئے ممکن ہے ایک قصہ بھٹو کے حوالے سے سنایا کرتے تھے کہ جناب ایک مرتبہ بھٹو صاحب اسٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے تقریر شروع کی ”میری ماوں، بہنوں، بھائیوں اور بزرگو" ابھی تک اتنا ہی کہا تھا کہ ہاتھ مائیک سے ٹکرا گیا جو کہ شاٹ تھا لہذاکرنٹ لگا اور بھٹو صاحب کی زبان سے نکل گیا "تمہاری تو۔۔۔۔۔۔سنسر۔۔۔"
یہ ممکن ہے بلکہ ذیادہ امکان یہ ہے کہ گھڑا ہو لطیفہ ہو مگر ذیل میں ریکارڈ شدہ ہے۔








آخر یہ ہی ہونا تھا بھائی جمہوریت کے ساتھ

میڈیا، بلاگرز اور اردو

پاکستان میں خواہ پریس میڈیا ہو یا الیکٹرونک میڈیا اس پر اردو کی اجارہ داری ہے، ہاں یہ کہا جا سکتا ہے کہ اردو الیکٹرونک میڈیا پر انگریزی کے شوقین ایسے اینکر ضرور ہونگے جو ولایتی اردو اور دیسی انگریزی بولتے ہیں۔ حد تو یہ کہ جسے ہم نمبر ایک انگریزی چینل مانتے تھے معلوم ہوا ہے اب اُس پر بھی چھ گھنٹے اردو کی حکومت ہوگی، چینل کو بچانے کے لئے یہ اقدام اُٹھایا جا رہا ہے۔
ایک طرف یہ معاملہ دوسری طرف حیرت انگریز معاملہ یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر نہ نہ کرتے بھی پاکستانی بلاگرز میں انگریزی بلاگرز کی تعداد اردو بلاگرز سے چار پانچ گنا یا شاید اس بھی ذیادہ ہے، وجہ کیا ہے؟
یوں تو عملی زندگی میں بھی یار لوگوں کی رائے میں انگریزی بولنا ایک اضافی خوبی کے بجائے قابلیت و ذہانت مانا جاتا ہے مگرافسوس جی افسوس جو دراصل حیرت کے بعد کی سطح ہے تب ذیادہ ہوتا ہے جب اردو بلاگرز میں سے کوئی یہ تاثردے کہ اردو زبان نہ صرف اظہار کےمعاملے میں انگریزی سے پیچھے ہے بلکہ اس زبان تک خود کو محدود رکھنے والے دراصل سوچ و میعار میں پست ہیں۔
پچھلی اردو بلاگرز ملاقات جس میں کُل گیارہ افراد نے شرکت کی جن میں ایک خاتون سمیت آٹھ اردو بلاگرز اور ایک ممکنہ اردو بلاگر جیسا کہ انہوں نے وعدہ کیا تھا بھی شامل تھے، اس اب تک کے سب سے بڑے اردو بلاگرز کے اجتماع میں بھی اردو بلاگرز و میڈیا کا انگریزی میڈیا و بلاگرز سے تقابلی جائزہ لینے کی کوشش کی گئی تھی اس کی تفصیل کی ذمہ داری میں اُن ہی احباب کے لئے رہنے دیتا ہوں جنہوں نے اردو بلاگرز ملاقات کی روداد لکھنے کی ذمہ داری لی تھی۔
میرا سوال وہ ہی ہے،جس کے جواب کا میں طالب ہوں گا،جو میں نے اُس ملاقات میں بھی رکھا تھا کہ کیا وجہ ہے اردو پرنٹ و الیکڑونک میڈیا اردو بلاگنگ کو اہمیت نہیں دیتا جبکہ اس کے مقابلہ میں دونوں پاکستانی انگریزی چینل سمیت نہ صرف لوکل انگریزی پرنٹ میڈیا بلکہ کئی صورتوں میں غیر ملکی نیٹ و الیکٹرونک میڈیا پاکستانی انگریزی بلاگرز کا حوالہ دیتا ہے؟
ڈوئم یہ کہ اردو عوام و الناس کی زبان ہے نیٹ پر یار لوگ رومن اردو میں بات چیت کرتے ہیں مگر پھر کیاوجہ ہے کہ اردو بلاگرز کی تعداد اتنی کم ہے؟
- - - - -
اردو بلاگرز کی ملاقات میں کچھ خاص موضوعات پر تحریروں کی وعدہ ہوئے تھے کون کون اللہ کا بندہ پورے کرے گا؟

مستقبل سے کھیلنے کی قیمت

"بھائی آج پارک میں کیا کر رہے ہو؟"
"کچھ نہیں دیکھو معصوم بچے کتنے پیارے لگتے ہیں ناں یوں کھیلتے ہوئے"
"ہاں ماشاءاللہ، عمر کا یہ حصہ زندگی کا بہت پیارا دور ہے"
"یہ ہماری قوم کا مستقبل ہیں"
"بلکل"
" میں سوچ رہاں ہوں وہ ظالم جو اب معصوموں کا برین واش کر کے دہشت گردی میں استعمال کرتے ہیں کیسے سخت دل ہیں اُن کے اپنے بچے نہیں ہوتے"
"بھائی کہتے تو تم ٹھیک ہوں بس دعا کرو رب ہمارے بچوں کو انسان دشمنوں سے بچائے"
"آمین"
"اور اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہماری غیرتوں کو جگائے کہ ہم اپنے بچوں کی جانوں و خوشیوں کی قیمت وصول کرنے سے انکار کر سکے"
"کیا مطلب ہے تمہارا؟ ہہم نے کون سی قیمت وصول کی ہے؟"
"ہم نے کئی طرح سے اور کئی شکلوں میں قیمت وصول کی ہے"
" مثًلا"
" مثال کے طور پر افغان وار میں جہاد کے نام پر کئی سیاسی مولویوں نے اُس وقت کی نسل سے مجاہدین کی کھیپ کے نام پر فی نوجوان قیمت وصول کی"
" وہ ایک اسلامی فریضہ تھا، نوجوان اُس وقت خود جہاد کے لئے جاتے تھے"
" جاتے ہوں گے مگر سب نہیں، تم خود مطالعہ کر کے دیکھ لو"
"یہ ایک اختلافی مثال ہے کوئی اور مثال دو"
”چلو ٹھیک ہے، ہم نے سیاسی جماعتوں خواہ وہ لسانی ہوں یا مذہبی یا کسی اور شکل کی، اُن کے اسٹودنٹ ونگ بنائے جنہیں اسلحہ و تشدد سے لیس کیایوں اپنے تعلیمی اداروں کو سیاسی تربیت کی جگہ کے بجائے غنڈوں و بد معاشوں کی آماہ گاہ بنایا، جو آج ایک ناسور بن چکے ہے"
”یار یہ کیا مثالیں ہے معاشرتی کمزوریاں و خامیاں ان کی وجوہات ہے، کبھی بھی سرکاری سطح پر ایسا کچھ ہم نے نہیں کیا"
”حکومتوں کی خاموشی، کو میں تو سرکاری سرپرستی ہی کہوں گا"
”یار کوئی تُک کی مثال دینی ہے تو ٹھیک ہے ورنہ اپنی یہ بکواس بند کرو"
”چلو حالیہ مثالیں دیکھ لو یہ ڈرون حملوں میں جو معصوم بچے مارے جاتے ہیں اُس پر حکومت کی خاموشی کہ انکل سام کے آگے شکایت نہ کی جائے کہیں کیری لوگر بل جیسی مونگ پھلی ملی بند نہ ہو جائے یہ بھی تو غیرتوں کا سو جانا ہے"
”وہ حادثاتً ہوتا ہے وہ بھی اُن طالموں کے ٹھکانوں کو نشانہ بناتے ہوئے جو ہمارے بچوں کا برین واش کر کے خود ہمارے خلاف ہی استعمال کرتے ہیں"
”اچھا وہ حادثاتً ہوتا ہے تو یہ جو ہم قیمت وصول کر کے شکریہ ادا کرتے ہیں سرکاری سطح پر یہ کیا ہے؟"
”کون کی قیمت وصول کی ہم نے اپنے ان پھولوں کی؟"
”ابھی تازہ تازہ قیمت وصول کی ہے آپ نے اور شکریہ بھی ادا کیا ہے ادائیگی کا محترم وزیر داخلہ صاحب نے، ممکن ہے کل ستائشی سرٹیفکیٹ بھی دے دیں کہ بچوں کو اونٹ ریس میں بہتر طور پراستعمال کیا ہے، پھر اعتراض پر بلیک واٹر کی طرح اس کے وجود سے انکاری بھی ہو جائے"
”تم لوگ بلاوجہ الزام لگاتے رہتے ہو تمہارے پاس بیٹھا وقت کی بربادی ہے، میں چلا"

خبر
لنک اول
لنک دوئم

کمال ہو گیا

"تم کہاں ہوتے اگر تمہاری ماؤں کو پیدا ہونے نہ دیا جاتا"

یہ جملہ اُس بھارتی اشتہار کا حصہ ہے جو آج تمام بڑے ہندوستانی اخبارات میں شائع ہوا ہے اور یہ اشتہار اس وقت بھارتی میڈیا میں زیر بحث ہے وجہ یہ کہ اس میں کپل دیو، وریندر سیواگ اور امجد علی کے ساتھ پاکستان کے سابق ایئر مارشل جناب تنویر محمود کی تصویر بھی بطور قومی ہیرو کے شائع کی گئی۔ اب وزیر وزارت بہبود خواتین و بچوں کرشنا تیرتھ صاحبہ پر وضاحتیں دے رہی ہیں۔ اشتہار ذیل میں ہے۔






ممکن ہے کہ یہ تحریک طالبان ہندوستان یا لشکر طیبہ کی سازش ہوں، اس سلسلے میں پاکستانی آئی ایس آئی نے اُن کی تربیت کی ہو، وہ رات کے اندھیرے میں کسی اُڑن طشتری میں بیٹھ کر ڈیپارٹمنٹ آف ایڈورٹائزنگ اینڈ پبلسیٹی میں داخل ہوئے ہوں اور وہاں پہنچ کر انہوں نے لاہور و کراچی میں بیٹھے اپنے "کمانڈر" کے حکم کے تحت یہ سب کیا ہو، آپ کیا کہتے ہوں؟

ایک منٹ کے عالم

کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ کی ایک ہی اولاد تھی، بادشاہ اُسے زندگی کے دیگر میدانوں میں کامیاب دیکھنا تو چاہتا تو تھا ہی مگر ساتھ ہی اُس کی دلی خواہش تھی کہ کچھ ایسا ہو جائے کہ وہ ایک بڑا عالم بن جائے لہذا اپس نے اپنے وزیر خاص کو سلطنت کے بڑے بڑے عالم بلانے کے لئے کہا۔
ایک مخصوص دن جب تمام عالم ایک جگہ جمع تھے تو اپنے لاڈلے کے اُستاد کے چناو کے لئے بادشاہ نے اُن سے ملاقات کی پہلے عالم سے پوچھا اگر میرا بیٹا اپ کی شاگردگی میں آ جائے تو آپ اُسے کتنے عرصہ میں عالم بنا دو گے اُس نے جواب دیا کل آٹھ سے دس سال کا عرصہ لگے گا مگر شرط شہزادہ کی اپنی دلچسپی پر بھی ہے، اس کے بعد یکے بعد دیگر دوسرے عالموں سے بھی اس بابت استفسار کیا کسی نے سات، کسی نے نو، کسی نے آٹھ سال کا ٹائم پیریڈ دیا، اتنے میں ایک نے اسے چونکا دیا جب اُس نے کل عرصہ ایک منٹ کا بتایا، بادشاہ حیران ہوا اور اُس نے ایک منٹ کے لئے اپنے بیٹے کو اُن عالم کی شاگردگی میں دے دیا۔ عالم شہزادہ کو ایک طرف لے گیا اور اُسے کچھ بتا کر واپس لے آیا۔ اب جو اُس کا امتحان لیا گیا تو اُس نے پہلے ہی سوال پر اعتراض کردیا کہ یہ سوال ہی غلط ہےاور پوچھے گئے ہر سوال میں وہ اختلافی نقطہ نکال لیتے۔
معاملہ یہ سامنے ایا کہ اُستاد صاحب نے انہیں یہ ہی بات سیکھائی تھی کہ بیٹا کوئی کچھ بھی پوچھے اُس کی بات سے اختلاف کر لینا آپ کو لوگ عالم مانے گے۔ ایک دن اس ایک نقطہ سے وہ یوں مار کھا گیا کہ ایک بار کسی نے اُس سے کہا کہ "بادشاہ سلامت آپ کے والد محترم ہیں" تو ایک منٹ کے عالم جناب شہزادہ نے فورا کہا "حضرت میری ناقص رائے کے مطابق اس میں بھی اختلاف ہے"۔
ہمیں یہ لطیفہ ہمارے ایک دوست نے ہمارے ایک جملہ "اختلاف زندگی ہے اسے نفرت نہ بناو" کے جواب میں سنایا تھا۔
عملی زندگی میں ایسے ایک منٹ کے عالموں کی کافی بہتات ہے۔

اومترا


تحریر: اوریا مقبول جان

متعلقہ لنک
اومترا


بوٹیاں نوچنے والے!

بعض معاملات پر جان بوجھ کر چُپ رہا جاتا ہے مگر ایک کنکر بولنے پر مجبور کر دیتا ہے، جن معاملات میں بولنا چاہئے ہم اکثر اس خوف سے کہ سامنے والے کا اختلاف مجھ سے نفرت میں نہ بدل جائے خاموشی اختیار کر لیتا ہیں، یہ جانتے ہوئے کہ ایسی بعض صورتوں میں خاموشی منافقت کے ذمرے میں آتی ہے، لیکن یہ عمل کئی اعتبار سے بہتر ہے۔
اگر کہنے کو بات نہ ہو تو خاموشی بہتر ہے بجائے اس کے کہ تنگ کرنے کو بات کی جائے، کئی مرتبہ یوں بھی ہوتا ہے کہ ہم اپنی بات و خیالات میں بہت پختہ ہوتے ہیں یہاں تک کہ کوئی دلیل و مثال بھی ہمیں اُس سے متزلزل نہیں کر سکتی یہاں تک کہ کئی حقیقتیں بھی افسانہ معلوم ہوتی ہیں مگر وجہ فساد وہ تب بنتی ہے جب ہم دوسروں کو قائل کرنے بجائے اُن پر اپنی بات تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس رویئے سے جس قدر ممکن ہو اجتناب کرنا چاہئے اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئےکہ ممکن ہے جسے ہم افسانہ سمجھ رہے ہیں وہ حقیقت ہو۔ بے موقعہ و بے ربط بات اس کے سوا اور کیا تاثر دے گی کہ ہم اپنی سوچ دوسروں پر مسلط کرنے کے خواہش مند ہیں ،مان جاؤ یا ڈر جاؤ، انتہا پرستی کیا یہ ہی نہیں؟
انتہا پسندی کا یہ رویہ ہم میں سے ہر کسی میں مختلف شکلوں میں موجود ہے۔
بزرگ کہتے ہیں بعض مرتبہ کانوں کا سنا اور آنکھوں کا دیکھا بھی دھوکہ ہو تا ہے۔ مگر رویے یہ بتاتے ہیں کہ یار لوگ پسند کا سنا جھوٹ تو سچ مان لیتے ہیں مگر پرکھے ہوئے سچ کو بھی ناپسندیدگی کی بنا پر رد کر دیتے ہیں۔
اللہ کے بندوں سیاست میں جو کہا جاتا ہے جو کیا نہیں جاتا، جو کیا جاتا ہے بتایا نہیں جاتا، جو مانگنا ہوتا ہے اُسے لینے سے انکار کیا جاتا ہے۔ بوٹیاں نوچنے والے اکثر چھوٹ لگنے کا رونا روتے ہیں، آگ لگانے والے پانی لاؤ کا شور مچاتے ہیں، گولیاں مارنے والے ارے مار دیا کا واویلا مچاتے ہیں، تب اُن کے چاہنے والے انہیں صدیوں میں پیدا ہونے والا مسیح بتاتے ہیں ۔
یہ باتیں کسی کے لئے لکھی ہیں!

ایک اور "الو کے پٹھے" ۔۔۔۔۔۔۔

یہ لیں ایک اور اُلو کے پٹھے اور "سنسر" کہنے والے۔۔ دوسری لسانی جماعت اور ایک سی حرکت

ایک بار پھر کراچی اردو بلاگر میٹ اپ

کراچی کےاردو بلاگرز کی خواہش اور پُرزور مانگ کی بناء پر کراچی میں ایک بار پھر اردو بلاگرز کی ملاقات کا اہتمام کیا جا رہا ہے، لہذا کراچی کی کے اردو بلاگر سے درخواست ہے کہ وہ اس میں شرکت کر کے ثواب کمائے۔ ممکنہ تاریخ 17 جنوری آنے والی اتوار اور جگہ ملیر میرا آفس ہے (جہاں پہلے ہوئی تھی)، دور رہنے والے افراد ٹیکسی والوں سے پہلے ہی بات کر لے تا کہ آخری وقت میں انکار و بہانہ نہ کرنا پڑے! دیگر خواہش مند احباب اپنے گھر سے مقام ملاقات تک آنی والی ممکنہ عوامی بس سروس کا نام دریافت کر لیں،۔ اردو محفل و انٹرنیٹ پر اردو کیمونٹی سے تعلق رکھنے والے دوست بھی شرکت کر سکتے ہیں۔ ذیل میں تبصرہ میں "لبیک" لکھ دے ، عین نوازش ہو گی۔
اگر دوستوں کو دشواری ہو تو دن، جگہ و وقت تبدیل کیا جا سکتا ہے۔
میزبان : منظرنامہ و چوراہا (عمار ٹھیک ہے)
ملاقات کا ایجنڈا کیا ہونا چاہئے اس پر بھی بات تبصروں میں کر لی جائے، کوشش ہو گی دوسرے شہروں میں موجود دوستوں سے بھی دوروان ملاقات بذریعہ فیس بک و ٹویٹر رابطہ ہو سکے (ابو شامل متوجہ ہوں)۔

گوگل تلاش۔۔۔۔۔

اردو محفل پر فخر نوید کی یہ پوسٹ اور نیٹ پر islam is پر گوگل کے ممکنہ تلاش کے الفاظ پر خاموشی پر چند مغربی بلاگرز کا رونا پڑھ کر خیال آیا کہ دیکھا جائے چند دیگر الفاظ پر گوگل کا ردعمل کیا آتا ہے۔ رزلٹ ذیل میں ہے!












 
 
چند دیگر مثالیں جو آپ کو اچھی یا بری لگتی ہوں!۔

یادش بخیر

یوں تو موڈ تھا آج پھر کچھ سانحہ کراچی پر لکھا جائے، اُن باتوں ، خیالات و تبصروں کو آپ سے شیئر کیا جائے جو اہل سانحہ کے ہیں! (وہ احباب کان کھڑے کر لیں جنھوں نے پہلی والی پوسٹ کے بعد ای میل کی تھیں) مگر گھر واپسی پر اپنے میٹرک کے دوستوں سے ملاقات نے موڈ تبدیل کر دیا!
ماضی کی یاد نے آ پکڑا ہے، ماضی اتنا خوبصورت کی لگتا ہے، تب کی تلخ یادیں بھی میٹھے درد کی طرح ہوتی ہے، جن سے لذت کی ٹیسیں اُٹھتی ہیں۔ وہ اسکول کے دن! زمانہ کتنا بدل گیا ہے۔ چند لمحوں میں ماضی کی مکمل ڈی وی ڈی (کیسٹ کا زمانہ تو گیا ناں) آنکھوں کے سامنے چل جاتی ہے، سالوں کے واقعات سیکنڈوں میں مکمل جزیات کے ساتھ پردہ اسکرین پر نمودار ہو جاتے ہیں! کیا بات ہے۔
چلیں میں آپ سے دو مختلف اپنے واقعات شیئر کرتے ہیں، جن کا بہت خاص تعلق ہمارے آج سے ہے! اول چوری و پہلی گالی کا!
ہم نے پہلی چوری اپنے گھر میں کی تھی! جو آخری ثابت ہوئی۔ معاملہ یہ تھا ہمیں جیب خرچ میں آٹھ آنے ملتے تھے روزانہ یہ تب کی بات ہے جب ہم پانچویں یا چھٹی میں تھے۔ اسکول میں وہ میٹھے بال وہ جو رنگ برنگ ہوتا ہے نہ معلوم کیا نام ہے اُس کا؟ (کیا کوئی بتائے گا) ہم اُسے بابے بڈھے کا بال کہا کرتے تھے! وہ ایک روپے کا ملتا تھا۔ ہم کچھ دن سوچتے کہ رہے کہ کل لے کر کھاؤ گا پھر ایک دن ہم نے اپنی آٹھنی بچائی اگلے دن ملنے والی اٹھنی ملی اور ایک روپیہ ہو گئے صبح یہ سوچ کر خوش ہوئے کہ آج بابے بڈھے کے بال لے کر کھاؤ گا اور آدھی چھٹی میں ہمارے ساتھ ظلم ہو گیا! وہ بندہ ہی نہیں آیا!!!! اور ساری خوشی غارت ہو گئی۔ اور شام تک ایک روپیہ بھی خرچ ہو گیا! اگلے دن وہ بندہ پھر آیا ہم نے اپس سے تصدیق کی کہ بھائی کل آؤ گے تو اُس نے ہاں کی!! شام کو خیال غلط آیا کہ کیوں ناں رات کو برتنوں میں پڑے اُس گلاس سے آٹھنے نکال لئے جائے جن میں پیسے پڑے ہوتے ہیں! رات وہاں سے پیسے نکال کر اپنے اسکول کے کپڑوں کی جیب میں رکھ کر سو نے کے لئے لیٹے تو چوری پکڑی جا چکی تھی! دو تھپڑ پڑے اور ایک ہفتہ کے لئے جیب خرچ بند ہو گیا! وہ الگ بات ہے کہ تمام ہفتہ کے جیب خرچ کی رقم تین روپے ہفتے کے آخر میں اس وعدہ کے ساتھ دے دی گئی کہ آئندہ چوری نہیں کروں گا!! اور مار پڑنے اور جیب خرچ بندہونے کی وجہ سے وہ بابے بڈھے کے بال و چوری دونوں سے نفرت ہو گئی!!!
اس ہی طرح اُن ہی دنوں ایک مرتبہ ہمارے گھر میں محلے کے ایک گھر کے چند افراد آئے تھے اُن کے ساتھ ہماری عمر کا بچہ بھی تھا! ہم اُس کے ساتھ کھیل رہےتھے کسی بات پر ہمارا اُس سے کھیل کے دوران جھگڑا ہو گیا ! ہم نے غصے میں اُسے "خنزیر، اُلو کا پٹھا" کہہ دیا اس سے قبل کے جملہ مزید آگے بڑھتا ایک زنائے دار تھپڑ ہمارے گال پر پڑ گیا! اس سوال کے ساتھ ہم نے یہ الفاظ کہاں سے سیکھے؟ اُس دن کے بعد ہمارے منہ سے کوئی گالی نہیں نکلی! ہاں اب وکالت کی فیلڈ میں انے کے بعد زبان کچھ خراب ہو گئی ہے مگر مجال ہے گھر میں کبھی غلطی سے بھی الفاظ کا چناؤ خراب ہوا ہو!
ہمیں یہ دو نوں قصے ہر بار بچپن کی یادوں کے ساتھ یاد آتے ہیں اول اس لئے کہ یہ ہمارے اول جرم ٹہرے تھے دوئم ان پر تھپڑ پڑے تھے۔
کیا آپ کی کوئی ایسا قصہ ہے؟؟ کیا آپ لکی رہے!

چور تے کُتے

چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے

کر لو بندوبست ہن اپنا
نئیں تے سدا لئی جے کھپنا
ٹٹجاوء گا ہر اک سپنا
وکھرا لُچ کوئی تلدے پئے جے

چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے

خورے کاہدا شوق نے ایڈھا
ملے ایہناں نوں ملک جو میڈھا
ایہہ قصائی میں اک بھیڈا
چھریاں سل تے ملدے پئے جے

چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے

اگے ایہناں گھٹ نئیں کیتی
قوم دی رتّ انھّے واہ پیتی
وڑ جان بھاویں وچ مسیتی
جھوٹھ دے دیوے بلدے پئے جے

چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے

لوکو اپنا دیس بچاؤ
کتیاں کولوں جان چھڈاؤ
ایہناں چوراں نوں مگروں لاؤ
قوم دی رتےّ پلدے پئے جی

چور تے کتے رلدے پئے جے
تیل ڈنڈاں نوں ملدے پئے جے

شاعر= نامعلوم

قانونی امداد کیمپ برائے متاثرین سانحہ کراچی

سنی رہبر کونسل نے سانحہ کراچی کے متاثرین کے لئے ایک بولٹن مارکیٹ میں دیگر امدادی کیمپوں کے درمیان اپنا کیمپ لگایا ہے جس میں متاثرین سانحہ کے لئے مفت قانونی مشاورت کا انتظام موجود ہے! وکلاء کے پینل میں ندیم قریشی (ایڈوکیٹ سپریم کورٹ) ، صفی الدین (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) اور شعیب صفدر گھمن (ایڈوکیٹ ہائی کورٹ) کے نام شامل ہے۔ جسے قانونی مشورہ چاہئے ہو بلا جھجک کیمپ تشریف لے آئے۔ میں دوپہر ایک سے شام پانچ/چھ بجے تک کیمپ میں ہو گا صبح میں عدالتی مصروفیت کی بناء پر وقت دینا ممکن نہیں ہے۔

کراچی والے بمقابلہ اُلو کے پھٹے!

یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں تازہ تازہ وکیل بنا تھا ہمارے سینئر ہم سے وکالت کا کام کم لیتے اور متفرق کام ذیادہ!
یہ 2006 کے آخر کی بات ہے، جمشید ٹاؤن کے ناظم سے ایک طلاق نامہ کی تصدیقی سند لینی تھی ہماری ڈیوٹی لگائی گئی۔ ہم جا پہنچے اُن کے دفتر ! اُن سے تو ملاقات نہ ہوئی نائب ناظم سے ملاقات ہوگئی ہم نے اپنا مدعا بیان کیا انہوں نے بیٹھنے کو کہا، ہم اُن کے ساتھ بیٹھ گئے، اُنہوں نے اپنے پنجاب سے آئے ہوئے ایک دوست سے ملاقات کروائی کہنے لگے یہ ہمارے ساتھی بھائی ہیں فیصل آباد سے آئے ہیں وہاں قائد کے پیغام و ایم کیو ایم کی ترویج کے لئے کافی کام کر رہے ہیں ہم نے قابل ستائش نظروں سے دیکھا! یہاں یہ بتا دوں نائب ناظم صاحب نے ہم سے پوچھا آپ کا تعلق کہاں سے ہے تو ہم نے انہیں کہا تھا کہ ہم کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں! پھر ہم نے دوران گفتگو اُن سے پوچھا کہ آپ کتنی تنخواہ لیتے ہے؟ جواب آیا بھائی ہم تو قائد کے حکم پر عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، جواب متاثر کن تھا لہذا ہم نے سراہا! فنڈ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اُس کے ملنے و بہتر انداز میں خرچ کرنے کا کہا۔ جواب میں ہم نے مزید کریدہ تو اُن کے الفاظ کچھ یوں تھے "ہم تو قائد کے حکم کے مطابق بلا امتیاز فنڈ خرچ کرتے ہیں صرف اپنے علاقوں میں ہی نہیں بلکہ اقلیت کا بھی بہت خیال کرتے ہیں" ہم نے اُن سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے علاقے میں ہندو یا عیسائی آبادی ہے؟ تو جواب تھا نہیں۔ اقلیت کا مطلب پوچھنے پر اُن کے الفاظ تھے " یار جو ہمارے شہر میں غیر مہاجر رہتے ہیں"۔ ہم نے اُن سے اقلیت کے ان معنوں سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا! ورنہ ہم تو پاکستان میں صرف غیر مسلم کو ہی اقلیت سمجھ رہے تھے، یہ تقسیم و تعریف تو ذہن میں تھی ہی نہیں۔
اُس دن مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ" کراچی والا " کی تعریف پر پورا اترنے کے معیار بہت مختلف ہیں! بعد میں بھی مختلف واقعات اور ان "کراچی والوں" سے مختلف روابط میں یہ معلوم ہوا کہ بے شک آپ کی پیدائش کراچی کی ہو، آپ کی تعلیم کراچی کی ہو، آپ کے پاس کراچی کا Domicile ہو، کراچی کا پتہ آپ کے شناختی کارڈ پردرج ہو، آپ کا گھر کراچی ہو! آپ کا جینا مرنا اگرچہاس شہر میں ہو مگر آپ کراچی والے نہیں ہو سکتے!! آپ کیا ہو سکتے ہیں یہ جواب طلب سوال تھا! اب جواب مل گیا ہے،اور تازہ انکشاف سے معلوم ہوا کہ ہم "اُلو کے پٹھے" ہیں! ثبوت ذیل میں ہے۔