یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں تازہ تازہ وکیل بنا تھا ہمارے سینئر ہم سے وکالت کا کام کم لیتے اور متفرق کام ذیادہ!
یہ 2006 کے آخر کی بات ہے، جمشید ٹاؤن کے ناظم سے ایک طلاق نامہ کی تصدیقی سند لینی تھی ہماری ڈیوٹی لگائی گئی۔ ہم جا پہنچے اُن کے دفتر ! اُن سے تو ملاقات نہ ہوئی نائب ناظم سے ملاقات ہوگئی ہم نے اپنا مدعا بیان کیا انہوں نے بیٹھنے کو کہا، ہم اُن کے ساتھ بیٹھ گئے، اُنہوں نے اپنے پنجاب سے آئے ہوئے ایک دوست سے ملاقات کروائی کہنے لگے یہ ہمارے ساتھی بھائی ہیں فیصل آباد سے آئے ہیں وہاں قائد کے پیغام و ایم کیو ایم کی ترویج کے لئے کافی کام کر رہے ہیں ہم نے قابل ستائش نظروں سے دیکھا! یہاں یہ بتا دوں نائب ناظم صاحب نے ہم سے پوچھا آپ کا تعلق کہاں سے ہے تو ہم نے انہیں کہا تھا کہ ہم کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں! پھر ہم نے دوران گفتگو اُن سے پوچھا کہ آپ کتنی تنخواہ لیتے ہے؟ جواب آیا بھائی ہم تو قائد کے حکم پر عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، جواب متاثر کن تھا لہذا ہم نے سراہا! فنڈ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اُس کے ملنے و بہتر انداز میں خرچ کرنے کا کہا۔ جواب میں ہم نے مزید کریدہ تو اُن کے الفاظ کچھ یوں تھے "ہم تو قائد کے حکم کے مطابق بلا امتیاز فنڈ خرچ کرتے ہیں صرف اپنے علاقوں میں ہی نہیں بلکہ اقلیت کا بھی بہت خیال کرتے ہیں" ہم نے اُن سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے علاقے میں ہندو یا عیسائی آبادی ہے؟ تو جواب تھا نہیں۔ اقلیت کا مطلب پوچھنے پر اُن کے الفاظ تھے " یار جو ہمارے شہر میں غیر مہاجر رہتے ہیں"۔ ہم نے اُن سے اقلیت کے ان معنوں سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا! ورنہ ہم تو پاکستان میں صرف غیر مسلم کو ہی اقلیت سمجھ رہے تھے، یہ تقسیم و تعریف تو ذہن میں تھی ہی نہیں۔
اُس دن مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ" کراچی والا " کی تعریف پر پورا اترنے کے معیار بہت مختلف ہیں! بعد میں بھی مختلف واقعات اور ان "کراچی والوں" سے مختلف روابط میں یہ معلوم ہوا کہ بے شک آپ کی پیدائش کراچی کی ہو، آپ کی تعلیم کراچی کی ہو، آپ کے پاس کراچی کا Domicile ہو، کراچی کا پتہ آپ کے شناختی کارڈ پردرج ہو، آپ کا گھر کراچی ہو! آپ کا جینا مرنا اگرچہاس شہر میں ہو مگر آپ کراچی والے نہیں ہو سکتے!! آپ کیا ہو سکتے ہیں یہ جواب طلب سوال تھا! اب جواب مل گیا ہے،اور تازہ انکشاف سے معلوم ہوا کہ ہم "اُلو کے پٹھے" ہیں! ثبوت ذیل میں ہے۔

یہ 2006 کے آخر کی بات ہے، جمشید ٹاؤن کے ناظم سے ایک طلاق نامہ کی تصدیقی سند لینی تھی ہماری ڈیوٹی لگائی گئی۔ ہم جا پہنچے اُن کے دفتر ! اُن سے تو ملاقات نہ ہوئی نائب ناظم سے ملاقات ہوگئی ہم نے اپنا مدعا بیان کیا انہوں نے بیٹھنے کو کہا، ہم اُن کے ساتھ بیٹھ گئے، اُنہوں نے اپنے پنجاب سے آئے ہوئے ایک دوست سے ملاقات کروائی کہنے لگے یہ ہمارے ساتھی بھائی ہیں فیصل آباد سے آئے ہیں وہاں قائد کے پیغام و ایم کیو ایم کی ترویج کے لئے کافی کام کر رہے ہیں ہم نے قابل ستائش نظروں سے دیکھا! یہاں یہ بتا دوں نائب ناظم صاحب نے ہم سے پوچھا آپ کا تعلق کہاں سے ہے تو ہم نے انہیں کہا تھا کہ ہم کراچی سے ہی تعلق رکھتے ہیں! پھر ہم نے دوران گفتگو اُن سے پوچھا کہ آپ کتنی تنخواہ لیتے ہے؟ جواب آیا بھائی ہم تو قائد کے حکم پر عوام کی خدمت کے لئے آئے ہیں، جواب متاثر کن تھا لہذا ہم نے سراہا! فنڈ کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے اُس کے ملنے و بہتر انداز میں خرچ کرنے کا کہا۔ جواب میں ہم نے مزید کریدہ تو اُن کے الفاظ کچھ یوں تھے "ہم تو قائد کے حکم کے مطابق بلا امتیاز فنڈ خرچ کرتے ہیں صرف اپنے علاقوں میں ہی نہیں بلکہ اقلیت کا بھی بہت خیال کرتے ہیں" ہم نے اُن سے استفسار کیا کہ کیا آپ نے علاقے میں ہندو یا عیسائی آبادی ہے؟ تو جواب تھا نہیں۔ اقلیت کا مطلب پوچھنے پر اُن کے الفاظ تھے " یار جو ہمارے شہر میں غیر مہاجر رہتے ہیں"۔ ہم نے اُن سے اقلیت کے ان معنوں سے آگاہ کرنے پر شکریہ ادا کیا! ورنہ ہم تو پاکستان میں صرف غیر مسلم کو ہی اقلیت سمجھ رہے تھے، یہ تقسیم و تعریف تو ذہن میں تھی ہی نہیں۔
اُس دن مجھے پہلی مرتبہ احساس ہوا کہ" کراچی والا " کی تعریف پر پورا اترنے کے معیار بہت مختلف ہیں! بعد میں بھی مختلف واقعات اور ان "کراچی والوں" سے مختلف روابط میں یہ معلوم ہوا کہ بے شک آپ کی پیدائش کراچی کی ہو، آپ کی تعلیم کراچی کی ہو، آپ کے پاس کراچی کا Domicile ہو، کراچی کا پتہ آپ کے شناختی کارڈ پردرج ہو، آپ کا گھر کراچی ہو! آپ کا جینا مرنا اگرچہاس شہر میں ہو مگر آپ کراچی والے نہیں ہو سکتے!! آپ کیا ہو سکتے ہیں یہ جواب طلب سوال تھا! اب جواب مل گیا ہے،اور تازہ انکشاف سے معلوم ہوا کہ ہم "اُلو کے پٹھے" ہیں! ثبوت ذیل میں ہے۔
تبصرے ()
۔
دلیل اور عقلیت پسندی کا ساتھ دیجئے صرف اپنے دل کی نہ سنیں۔
یہ منطق صرف کراچی میں نہیں پورے پاکستان میں رائج ہے!
رہی اس کونسلر کے رشوت لینے کی بات تو بجائے یہاں بیٹھ کر واویلا کرنے کے اپ نے اس کی رپورٹ ٹاؤن ناظم سے کیوں نہیں کی،اصل کام کرنے کے بجائے آپ نے ہزار روپے رشوت دینا آسان سمجھا تو جتنا وہ کونسلر اور نائب ناظم غلط تھا اس سے ذیادہ آپ غلط ہیں آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے اس ملک میں رشوت کا چلن عام ہے!
جبکہ بقول آپ کے آپ ایک صحافی بھی ہیں جس میں مجھے تو شک ہی ہے مگر خیر تو آپ اس بارے میں اپنے اخبار میں بھی لکھ سکتے تھے!
اور وہ اور انکے اباناظم اباد میں رہائش پزیر ہیں،تو یہ کہانیاں ایسے ہی بنانے والے بناتے رہیں گے مگر صرف سچ رہ جائے گا !
یہ انکا ذاتی تجربہ ہو سکتا ہے۔ اسے تمام لوگوں پہ نافذ نہیں کیا جا سکتا۔ خیال رہے کہ میں یا مجھ سے منسلکہ تمام لوگ ایسی جگہوں پہ اپنی ذاتی حیثیت میں ہی گئے اور عوامی چریقے سے ہی اپنے کام کروائے ہیں۔
شعیب صفدر صاحب کی ڈومیسائل والی بات پہ انکی معلومات میں اضآفہ کرتے ہوئے کہونگی کہ یہاں کراچی میں بے شمار لوگ ایسے ہیں جن کے پاس دو دو ڈومیسائل ہوتے تھے ایک انکی یا انکے والدین کی جنم بھومی اور دوسرا کراچی۔ جبکہ کراچی میں پیدا ہونے اور کراچی سے باہر کوئ تعلق نہ ہونے کی بناء پہ مجھ سمیت بے شمار کراچی والے ان دو ڈومیسائلز کے ظلم کا شکار ہوئے۔
صرف کراچی کا ڈومیسائل رکھنا تو کبھی بھی کوئ قابل ستائش بات نہیں سمجھا گیا۔
آپ اپنے آپکو علیحدہ کرنے کی بات کرتے ہیں میں بھی اسی شہر میں رہتی ہوں اور یہاں کے معروف تعلیم اداروں سے لیکر پیشہ ورانہ اداروں تک میری بھی پہنچ ہے اور اس بات کو اس تناظر میں دیکھا جانا کیسا لگتا ہے کہ آپ یہاں اس شہر میں شامل نہیں ہوتے۔ اگر آپکی گلی میں کوڑے کا ڈھیر ہو تو آپ اسے ہٹوانے کے سلسلے میں کبھی بھاگ دوڑ نہیں کریں گے۔ اگر آپکی گلی کے درمیان سے نالہ گذر رہا ہو تو آپ کو شاذ ہی اسکا خیال آئے گا کہ گلی کے اس نالے پہ پل بنوانے کے لئیے دیگر لوگوں کے ساتھ مل کر پل بنانے کی کوشش کی جائے۔ آپ نے کبھی سیاسی معاملات سے ہٹ کر اس چیز کی کوشش کی وہ کہ شہر میں اسکولوں کا بہتر نظام آئے، مضافاتی علاقوں کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئیے آپ کیا کر سکتے ہیں۔ اپنی گلی کی ٹوٹی سڑک کے بارے میں متعلقہ دفاتر کو اطلاع یا کوئ درخواست، ، گلی میں پول کا بلب خراب ہونے کی شکایت۔ محلے میں بچوں کے کحیل کے میدان کی حالت زار درست کرنے کی کوشش۔ زیادہ تر حالات میں رویہ یہ ہوتا ہے کہ ہمیں کون سا اس شہر میں رہنا ہے ہمیشہ۔ جو ہم اس چکر میں پڑیں۔ ہم تو یہاں صرف روزی روزگار کے سلسلے میں ہیں۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ پاکستانی غیر ممالک میں جا کر صرف اپنے روزی روزگار کے بارے میں سوچیں۔۔
اب اگر اخبار اٹھا کر دیکھیں تو یہ نک چڑھے بڑے میاں کاواس جی ، جو کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اور پارسی ہیں یہ جس تندھی سے شہر کی بہتری کے لئیے سوچتے نظر آتے ہیں اسکا مقابلہ آپ اپنے آپ سے کریں۔ عبدالستار ایدھی میمن ہیں، چھیپا والے میمن ہیں۔ ابھی آپ اورنگی ٹاءون جیسے علاقوں کی طرف نکل جائیں اسکا پائیلٹ پروگرام بنانےوالے ایک اردو اسپیکنگ صاحب تھے۔ شہر میں اور بھی تنظیمیں کام کر رہی ہیں آپ اپنے بارے میں صرف یہ بتائیں کہ آپ شہری سطح پہ کیا کر رہے ہیں اور اسے کرنے کے سلسلے میں آپکو شہری حکومت کیا کام نہیں کرنے دے رہی ہے۔
شہر اسی کا ہے جو اسے بہتر بنا چاہتا ہے اور اسکے لئیے کام کرتا ہے جو یہ سوچتےہے کہ ہم یہاں پہ موجود بنیادی حقائق کے ساتھ کیا کر سکتے ہیں یہ کوئ ہمارا مسئلہ ہے۔ یہ خاصہ عجیب رویہ ہے کہ آپ جہاں رہتے ہیں اور جن لوگوں کے ساتھ آباد ہیں انہیں اپنے سے مختلف سمجھ کر ہر وقت اپنے طعنوں کی زد میں رکھیں۔ اور پھر یہ کہیں کہ ہمیں الگ سمجھا جاتا ہے۔
جو لوگ ہیں ہی ایم کیو ایم کے پروانے اُن کو فٹا فٹ ڈومیسائل کراچی کا نہیں ملے گا تو اور کسے ملے گا
باقی لوگوں کو چھوڑیئے ۔ بلاگر حضرات کو ہی دیکھ لیجئے کہ اُن کی بات سے اختلاف کیا جائے تو منافق ۔ جاہل ۔ جھوٹا کے القاب داغ دیتے ہیں اور اس سے بھی بڑھنے میں کوئی پس و پیش نہیں ہوتا
باریک بینی سے غور کریں گے تو یہ بھی واضح ہوجائے گا کہ صوبائی حکومت کی طرح شہری حکومت بھی اپنی کوتاہیوں سے نظریں چرانے میں مصروف ہے۔
حالیہ واقعہ کی تحقیق اور اس کے ذمہ داروں کو سزا دینا کراچی کے ہر شہری کا مطالبہ ہے۔ لیکن اس طرح کے گندے لفظوں میں اپنے نظریاتی مخالفوں کو کبھی کسے نے مخاطب نہیں کیا۔
افتخار اجمل بہت دیکھے ہوں گے مگر آپ جیسا۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہیں نہ دیکھا!
اب سوال آتا ہے گندے الفاظ کا۔۔ "کراچی کے عوام الو کے پٹھے ہیں" ۔۔ یہ اچانک ہمارے بلند اخلاق کے لیے بہت گرا ہوا جملہ ہے۔ یا "میں لعنت بھیجتا ہوں تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں پر"۔۔ یہ ہماری قوم کے اخلاقی میعار سے کہیں بہت ادنی درجے کی بات ہے؟ کم از کم اس ویڈیو میں تو اس نے سیاسی مخالفین پارٹی لیڈروں پر لعنت بھیجنے کے علاوہ کچھ نہیںکیا؟ پست جملے ہیں لیکن رد عمل ان دو الفاظ سے کہیں زیادہ کسی اور جذبے کی نشاندہی کرتا
کچھ لوگوں کو آج ڈومیسائل کے معاملات یاد آئے ہیں۔۔ ان کے لیے عرض ہے کہ اس سادگی پہ کون نا مرجائے اے خدا۔۔ بلکہ ڈومیسائل اور پی آر سی بھی کہیے تو کراچی کے شہریوں اور بلیک واٹر کی ملی بھگت ہی ہوئی تاکہ دوسرے شہروں کے رہائشی کراچی کے تعلیمی ادراوں جیسے جامعہ این ای ڈی میں داخلہ نا حاصل کرلیں۔
ویسے میرا تو یہ خیال ہے کہ محض قومیت کی بنا پر کسی پڑھے لکھے شخص کو کسی خاص گروہ یا جماعت کی حمایت نہیں کرنی چاہئے۔۔ ۔
کیونکہ جہاں صحیح معنوں میں تعلیم ہوتی ہے وہاں قومیت اور لسانیت کا کوئی تصور نہیں ہوتا۔۔ ۔
کاش اللہ پاکستان کے پڑھے لکھوں کو سندھی، پنجابی، مہاجر کے کھیل سے نجات عطا فرمائے۔۔ ۔
اور نعمان کا تعلق بھی دہلی کے پنجابی سوداگران سے ہے!
درج بالا قصہ سچ ہے یا جھوٹ اس پر کوئی دلیل نہیں نہیں دوں گا!
جلاؤ گھراؤ کس نے کیا میں اس پر اپنی رائے محفوظ رکھتا ہوں! جو دل کی بات کی بنیاد پر نہیں تحقیق کی بیاد پر ہے۔لنک کا حوالہ دیا تھا کیونکہ نعمان آپ نے سوال ہی ایسا کیا تھا!
ڈومیسل یا پی آر سی کا جھگڑا نہیں ہے اصل جھگڑا اُس تعصب کا ہے جو ہم میں ہے! ہم اس ہی کی بیاد پر دوسرے کے اچھے کام کو برا کہتے ہیں اور برے کا کو درست بتانے کے لئے بہانے تاشتے ہیں! اور کوئی نشاندھی کریں تو اُسے بُرا بھلا کہتے ہیں!
یہ تصب جو ہمیں تباہ کریں گا! کسی علاقے تم مخصوص نہیں ہے! کسی خاس طبقے یا زبان والے تک مخصوص نہیں ہے مختلف شکلوں میں ہم میں ہی ہے! آپ اسے ایس ایم ایس و لطیفوں کی شکل میں، مخصوص لسانی جملوں و فقروں میں اپنے اردگرد پائے گے!
آپ انکاری ہو یا مانے مگر اوپر کے چند تبصروں میں یہ تعصب نفرت کی شکل اپناتا نظر آتا ہے!
اختلاف کو نفرت اور زبان کو وجہ تقسیم بنانے کی لاشعوری حرکت کو آپ جیسے پڑھے لکھےرد نہیں کریں گے تو پھر کسی اور کو قصوار کیوں کہا جائے؟
یا آپ مجھے ایم ایس این پر ایڈ کر لیں!۔
ملاقات ممکن ہو تو ذیادہ اچھا ہے!
یہی حال ایک پیپلز پارٹی کے ایک سندھی یا بلوچ کارکن کا ہے، پنجاب میں بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں اور اے این پی تو خیر سے ہے ہی لسانیت کا نام۔۔ ۔
ویسےآپ اگر ایم کیو ایم میں شامل بے شمار غیر مہاجروں سے بھی ان کے ایم کیو ایم میں شامل ہونے کی وجہ پوچھ لیتے تو بات سمجھنے میں آپکو زیادہ آسانی رہتی!
شعیب ملاقات تو اس وقت ناممکن ہے کیونکہ میں پاکستان مین نہیں ہوں اور شائد ایک لمبے عرصے تک موجود نہ ہوں البتہ ای میل ایڈریس آپکو بلکل دیا جاسکتا ہے !حالانکہ میرے ایک دوست کہہ رہے تھے کہ ہرگز نہ دینا آجکل ایم کیو ایم کے کارکنان کے ساتھ ساتھ ان کے ہمدردوں کی بھی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے اور ایجینسیوں کے کارندے ایسے لوگوں کی بو سونگھتے پھر رہے ہیں!مگر مینے اسے کہا کہ میرا ایمان ہے کہ جب تک میرا وقت نہیں آیا کوئی میرا بال بھی بانکا نہیں کرسکتا اور ویسے بھی شعیب صاحب خود قانون اور انصاف کے ادارے سے تعلق رکھتے ہیں!:)
میں آپکو اپنا ای میل "تازہ تحریر بزریعہ ای میل حاصل کریں" کے ذریعے بھیج رہا ہوں!
جناب بے فکر ہو جائے ہم ٹارگٹ کلنگ والے نہیں! اور اس میں ایم کیو ایم کا کارکنان و ہمدرد شامل ہیں یا نہیں مگر ہم نے اپنے تین دوست اس ایک ہفتہ میں ضرور گنوائے ہیں! اس ٹارگٹ کلنگ میں جو ایم کیو ایم کے نہ کارکنان تھے نہ ہمدرد!۔
اور ایک زخمی ہے وہ اپنے حملہ آروں سے واقف ہے!۔
میرے بھائی۔ اس تعصب کی ہزار مثالیں میں آپ کو پنجاب سے پیش کرسکتا ہوں۔ مگر میں نے انہیں جتنی دفعہ بھی پنجاب گیا قابل توجہ نہ سمجھا۔ اگر یہ لسانی عصبیت ملکی برائی ہے تو نشانہ صرف ایم کیو ایم کیوں ہے؟ آپ نے ملک کے معاشرے میں پھیلی لسانی تفریق تک اشارہ نہیں کیا۔ بلکہ آپ کی پوسٹ صرف ایم کیو ایم کی لسانی تفریق کا ذکر کرتی ہے۔ آپ سب کی بات کریں گے تو سب کی بات ہوگی نا۔ آپ ایک تنظیم کی
بات کریں گے تو یہ لسانی تعصب ضرور زیر بحث آئے گا۔
اچھا ہوتا اگر آپ اپنی پوسٹ کے آخر میں یہ جملہ بھی لکھ دیتے جو آپ نے اپنے تبصرے میں لکھا ہے۔
یہ تصب جو ہمیں تباہ کریں گا! کسی علاقے تم مخصوص نہیں ہے! کسی خاس طبقے یا زبان والے تک مخصوص نہیں ہے
جنگ کی رپورٹ کے مطابق کراچی میں 69 ایم کیو ایم کے کارکن اور 60 حقیقی کے اور اسی طرح اے این پی اور پی پی پی کے بھی 30 سے اوپرکارکنان رواں ماہ میں ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن چکے ہیں!
آج کا حامد میر کا کالم چیخ چیخ کر اس بات کو واضح کررہا ہے کہ کون ہے وہ خفیہ ہاتھ جو پاکستان میں عموما اور کراچی میں خصوصا حکومتوں کو کمزور کرنے کے لیئے اس طرح کی گھناؤنی قتل وغارت گری کرتا رہا ہے اور جس کے سامنے حکومت ہمیشہ بے بس رہی ہے ان خفیہ اداروں میں موجود لوگوں میں سے 90 فیصدکا تعلق پنجاب سے ہے بلکل اسی طرح جس طرح ایل پی جی گیس میں عوام کی بوٹیاں نوچنے والوں کی اکثریت کا تعلق پنجاب سے ہے کیا پنجاب کے غیرت مند اور محب وطن عوام اب بھی صوبہ پرستی میں پڑ کر ان وطن دشمنوں کی طرف سے آنکھیں بند کیئے رہیں گے؟
we have to fight back!
kia Abdullah kar de na MQM wali harkat.
حامد میر کا کالم تو پڑھ لیا ہوگا اب نذیرناجی کا کالم بھی پڑھ لیں!
اپنا تبصرہ دیں