1/30/2010

جمہوریت کے ساتھ کیا ہوا؟

ہماری والدہ پیپلزپارٹی کی ہامی رہی ہیں نہ صرف یہ کہ ہامی رہی ہیں بلکہ محلہ کی سطح پر کافی ایکٹو کارکن بھی اُن کی ان سیاسی ہمدردیاں شادی کی بعد کراچی بلکہ سچ تو یہ ہے ماڈل کالونی آنے کے بعد کی ہیں دوسری جانب ہمارے والد مسلم لیگ کے حمایت کرتے تھے اور علاقے کی سطح پر مسلم لیگ کی کارنر میٹنگ میں شرکت کرتے تھے۔ وہ الگ بات ہے جب سے زرداری صاحب کے پاس پارٹی کی قیادت آئی ہے تب سے اب ہماری فیملی میں صرف ایک بڑے تایا ابوہی پیپلزپارٹی کا دفاع کرتے نظر آتے ہیں۔
ہمارے والد اکثر والدہ کی موجودگی میں اُنہیں چیڑانے کے لئے ممکن ہے ایک قصہ بھٹو کے حوالے سے سنایا کرتے تھے کہ جناب ایک مرتبہ بھٹو صاحب اسٹیج پر تشریف لائے اور انہوں نے تقریر شروع کی ”میری ماوں، بہنوں، بھائیوں اور بزرگو" ابھی تک اتنا ہی کہا تھا کہ ہاتھ مائیک سے ٹکرا گیا جو کہ شاٹ تھا لہذاکرنٹ لگا اور بھٹو صاحب کی زبان سے نکل گیا "تمہاری تو۔۔۔۔۔۔سنسر۔۔۔"
یہ ممکن ہے بلکہ ذیادہ امکان یہ ہے کہ گھڑا ہو لطیفہ ہو مگر ذیل میں ریکارڈ شدہ ہے۔







آخر یہ ہی ہونا تھا بھائی جمہوریت کے ساتھ

8 تبصرے:

  1. ایک بار کے شٹ اپ کو دس بار بنانے کا کام واقعی صرف آپ ہی کرسکتے تھے!:D

    جواب دیںحذف کریں
  2. افوہ ہنستا ہوا منہ الٹا ہو گیا!D:

    جواب دیںحذف کریں
  3. آپ نے جو وڈیو لگا ئی ہے میں نے نہیں دیکھی اسلئے کچھ کہہ نہیں سکتا لیکن آپ نے اپنے والد صاحب کے حوالے سے جو بات کی ہے وہ درست ہے ۔ آپ نے مندرجہ ذیل ربط پر میری تحریر نہیں پڑی وہ بھی حقیقی تھی
    http://www.theajmals.com/blog/2010/01/05

    جواب دیںحذف کریں
  4. ہاہاہا! شکر ہے شٹ اپ تو کہتے ہوئے اٹکا نہیں۔۔ ۔

    جواب دیںحذف کریں
  5. ایک بار جو غلطی ہو جائے املا میں میں درست نہیں کرتا وقت نہیں ہوتا ناں۔۔۔

    جواب دیںحذف کریں
  6. بقول پیپلز پارٹی کے نمائندوں کے یہ ویڈیو شاید اس جلسے کی ہے جس میں کسی جیالے نے تقریر کے دوران کسی مخالف پارٹی کو گالی یا کسی کے خلاف نعرہ لگایا تھا جس پر اسے منع کرتے ہوئے زرداری نے ایسا کہا تھا۔
    ویسے سوچنے کا مقام ہے کہ ہم خود کیسے ہیں جو ہمارا صدر زرداری ہے۔

    جواب دیںحذف کریں
  7. بلال ۔ اک تیر تونے مارا ظالم کہ ہائے ہائے۔

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔