5/28/2010

گو صاحب جی گو

جی جناب اب سیاسی گانے عام ریلیز ہونے لگ پڑے ہیں اس فہرست میں ہاروں بھی شامل ہو گئے ہیں۔
چلیں بتائیں اس ویڈیو میں کس شخصیت کو دیکھایا گیا ہے۔۔۔ ایک ممکنہ پہیلی

5/23/2010

فیس بک پر پابندی !! کھلی آزادی! مگر کہاں؟

عدنان کے بلاگ پر “فیس بک کی بندش اور مکمل آزادی رائے” ایک اچھی تحریر نیز عواب علوی کے بلاگ پر “فیس بک کے دوہرے میعار “ پر مہمان بلاگر سعد ورائچ کی عمدہ پوسٹ۔

بائیکاٹ سے بندش تک

کہتے ہیں ایک بندہ پہلی بار سفر پر روانہ ہونے لگا تو خاندان کے بڑوں نے الگ الگ کچھ اس انداز میں اُسے نصیحتیں کی۔
ایک خاتون نے کہا ؛ بیٹا آج کل زمانہ بہت خراب ہے ، اپنے علاوہ کسی پر سفر میں بھروسہ کرنا بیوقوفی ہے، جو دیکھنے میں فرشتہ لگتا ہے وہ تو شیطان کا بھی با پ ہوتا ہے، لوگ معصوم معصوم چہرہ رکھ کر دھوکہ دے جاتے ہیں، اب تم اپنی خالہ کے بیٹے کو دیکھ لو پورے خاندان کا لاڈلا بچہ تھا نہایت ذہین و نونہال، اُس نے اسکالرشپ جیتی ہمارے دل کو بھی حوصلہ ہوا کہ چلو ایک ہی بچہ ہے زبید ہ کا شاید اس کے ذریعے ہی اُس کی کچھ قسمت بدل جائے، مگر ایئرپورٹ پر اُس کے پاس موجود بیگ سے ہیروئین نکل آئی اور پانچ سال کے لئے اندر ہو گیا، کسی خاتون نے اپنا بیگ بڑھاپے کے بہانے اُسے پکڑا دیا تھا۔ اپنے پچھلی گلی والے مرزا صاحب کا قصہ تو تمہیں یاد ہی ہو گا پچھلے ہفتہ گھر واپسی پر ایک خاتون کو لفٹ دی اور اگلے ناکے پر پولیس نے در لیا خاتون پولیس کو مطلوب تھی اور اُن کو اُس کا ساتھی سمجھ کر مقدمہ بنا دیا گیا آج کل ضمانت پر ہیں اور پیشیاں بھگت رہے ہیں۔ نیکی کا زمانہ نہیں ہے بیٹا، نیکی ہی گلے کو آتی ہے۔ اب دیکھو ناں تمہاری بہن کی نند کے گھر کے گیٹ پر ایک بزرگ غش کھا کرگر گیا تھا پانی پلایا دوپہر کا وقت تھا گھر کے اندر بٹھایا اُس نے بیٹوں کو فون کرنے کے بہانے ساتھیوں کو بلا لیا اور لوٹ کر چلے گئے۔ لہذا کسی سے راستے میں کوئی ہمدردی یا دوستی کرنے کی ضرورت نہیں نہ کچھ لے کر کھانا وہ امجد بچا رے کا تو معلوم ہے ناں کراچی آتے ہوئے کسی لڑکے نے کچھ نشہ آور شے پلا کر لوٹ لیا تھا بچار ے نے ٹیکسی کا کرایہ بھی ساس سے لے کر دیا تھا، اچھا اپنا خیال رکھنا دوران سفر سکھ سے جاو۔
دوسرے صاحب نے کچھ یوں کہا؛ یار جوان آدمی ہو ، لمبے سفر پر جا رہے ہو، یار دوست کوئی ساتھ نہیں ورنہ دونوں ہنستے کھیلتے جاتے ہمیں بھی پریشانی کم ہوتی تمہاری، اب خود ہی اپنا خیال رکھنا ، انسان انسان کا وسیلہ ہوتا ہے ، ایک دوسرے کی اسے سدا ضرورت ہوتی ہے، سفر میں یہ ضرورت زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ تمہیں بھی پڑے گی اور دوسرے تم سے مدد بھی مانگے گے۔ بچے اور بزرگ زیادہ مدد کے طالب ہوتے ہیں، بزرگوں کی دعاؤں کا جو موقعہ ملے لے لو ضائع نہ کرو اس کا صلہ دنیا و آخرت دونوں جگہ ملتا ہے۔ پھر نیکی کی نیکی۔ اللہ تمہارا حامیوں ناصر ہو۔
ایک نے کہا؛ بھائی آپ کو کیا سمجھانا نہایت سمجھ دار ہیں، عمر کے اُس حصے میں ہیں جب لوگ دوسرے کو سمجھ بوجھ دینا شروع کر دیتے ہیں ہمیں تم پر اعتماد ہے لیکن پھر بھی بڑا ہونے کے ناطے ہمارا فرض ہے کچھ نا کچھ تمہیں سفر کی ٹپس دیں دوران سفر آنکھیں کھلی رکھنا، اپنے سامان کی حفاظت کی پہلی ذمہ داری خود آپ کی اپنی ذات پر آتی ہے، کسی سے کچھ لے کر کھانے میں محتاط رویہ اختیار کرنا منع کرنا ہو ایسے کہ اُسے بھی محسوس نہ ہو، راہ میں خریداری کرتے وقت چوکنا رہنا کہیں کسی فراڈیئے کے ہاتھ نہ لگ جاو۔ جلد بھروسہ کرنے اور تمام سفر اپنے اردگرد سے بیگانہ رہنے سے بھی اجتناب کرنا اور منزل پر پہنچ کر فون کر کے اپنی خیریت سے آگاہ کرنا اور راستے میں بھی گاہے بگاہے ایس ایم ایس کر کے آگاہ کرتے رہنا۔
ایک بزرگ یوں گویا ہوئے؛ محترم ماشاءاللہ سفر پر جا رہے ہو، ہم بزرگوں کی باتیں آج کل کے تم نوجوان نظر انداز کر دیتے ہو، مگر ہم بھی اپنی عادت سے مجبور ہیں، تم جیسے نالائقوں کو کچھ نہ سمجھاؤ تو کچھ نہ کچھ غلط ہی کرتے ہو، اچھائی کی امید تو نہیں ہے یہ بھی یقین ہے جو ہم کہیں گے تم نے اُس پر عمل نہیں کرنا بلکہ اُس کا اُلٹ ہی کرو گے۔کسی نوجوان حسینہ کو دیکھ کر آپے سے باہر نہ ہو جانا کہ خاندان کا نام ڈبو ڈالو سفر آنکھ مٹکے کے لئے نہیں ہوتا سمجھے، کہ وہ تمہیں لوٹ کر یہ جا وہ جا، اور یہ جو سامان اور تحفے لے کر جا رہے ہو ناں اس کی حفاظت بھی کرنا کہ موبائل کے اندر مگن ہو جاؤ۔ ویسے تمہاری حرکتیں دیکھ کر نہیں لگتا کہ تم کوئی گُل گلائے بغیر ایک سفر کو بہ خوبی انجام تک پہنچا ؤ۔ ویسے ضرورت کیا ہے جانے کی بہتر ہیں یہاں ہی رہو، وہاں جا کر کرو گے کیا؟ ہم نے سنا ہے نکما ہر جگہ ہی نکما ہوتا ہے، تم بھی رہنے ہی دو وقت و پیسہ دونوں کی بربادی ہے محترم سن رہے ہو ناں میری بات!!!۔
ان میں سے کس کا مشورہ سب سے بہتر معلوم ہوتا ہے؟ ممکن ہے شاید کسی کا بھی نہیں! ممکن کوئی ایک یا دو سے آپ متعفق ہوں!! اور یہ بھی ممکن ہے ہر کوئی اپنے اپنے طور پر درست کہہ رہا ہو، بات کہنے کا انداز اہمیت رکھتا ۔ اوپر کی مثال میں چار افراد نے ایک شخص کو چار مختلف مشورے دیئے اور تمام کے مشورے ایک دوسرے کے مخالف مگر اگر انفرادی طور پر دیکھیں تو اپنی اپنی جگہ سب ہی سچے ہیں مگر نا معلوم کیوں فیس بک کی پابندی کے خلاف بولنے والوں کے اب تک کے کسی مکالمے نے مجھے متاثر نہیں کیا مجھے انفرادی طور پر متاثر نہیں کیا یا تو بات ٹھیک نہیں تھی یا انداز؟
ملک میں آج کل انٹرنیٹ پر کتاب چہرہ کی بندش زیر بحث، رونے والے کہتے ہیں اوئے پابندی کیوں لگائی؟ ساتھ میں چور راستے بتاتے ہیں استعمال کے! ہاں اس سارے جھگڑے میں یہ تو وضاحت اب ہو گئی کہ توہین رسالت پر ہمارا آپسی اختلاف کوئی نئی بات نہیں رہی! بس ہر بار دلائل بدل جاتے ہیں تاویل بدل جاتی ہے! ایک نہایت دلچسپ مکالمہ ہر بار کی طرح یہ سامنے آیا ہے کہ پابندی کو درست قرار دینے والوں کی اکثریت فیس بک سے ہی ناواقف ہے! اور دوسرا یہ کہ ہمارے ملک کی عدلیہ میں بیٹھے جج اس ٹیکنالوجی سے ناواقف و نالائق ہیں! ان خیالات کا اظہار کرنے والے کیا واقف ہیں کہ جج مقدمے کا فیصلہ یا اُس پر وقتی ریلیف کس طرح دیتا ہے؟ چلیں مختصر بتا دیتے ہیں۔
آپ کو جب بھی عدالت کا دروازہ کھکانہ ہو تو اول اپنا مدعا یعنی وہ معاملات عدالت کو بتانے ہوتے ہیں کہ کیا ہوا ہے؟ وجہ تنازعہ کیا ہے؟جس پر یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ آپ اس سے متاثر ہوئے ہیں! آخر میں یہ کہ آپ کی مانگ کیا ہے؟ نیز جو آپ کی مانگ ہے وہ ملکی قانون کے مطابق قابل عمل ہے۔ان میں سے ایک عنصر بھی جزوی یا مکمل طور پر غائب ہو یا دوران کیس ختم ہو جائے تو کیس ختم ہو جاتا ہے۔ ہائی کورٹ میں ایک کیس کی اگلی پیشی عموما 10 سے 17 دنوں میں آتی ہے۔
یہاں بھی یہ کوئی فائنل آڈر یا فیصلہ نہیں مزید کیس کی سماعت 31 مئی کو ہو گی! اگر کسی کو اس فیصلہ پر اعتراض ہے تو باہر رولا ڈالنے کے بجائے 31 مئی کو اپنے وکیل کے ہمراہ عدالت میں پیش ہو کر اپنا موقف پیش کرے۔ مزید یہ کہ ننانوے فیصد امکان ہے کہ 31 مئی کو بندش ہٹ جائے گی کہ غالب امکان ہے کہ وجہ تنازعہ ختم ہو چکا ہو گا! ۔
ملکی شہریوں کے مزاج کی روشنی میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہائی کورٹ یہ 19 مئی کا پابندی کا فیصلہ درست تھا ورنہ افراد نے بہت غصہ کھانا تھا! ہاں کوئی چاہئے تو کہہ لیں فیصلہ پنجاب کی عدالت نے دیا اس لئے پنجابی بول اُٹھا!!! ویسے میں پاکستانی مسلمان ہوں!
متعلقہ تحریریں؛
سزا، مانگ اور توقع عبث
کھلی چھٹی

5/13/2010

قوم کی دعائیں ہمیں کیوں نہیں؟

ویسٹ انڈیز سے پاکستانی خواتین کی کرکٹ ٹیم ٹی ٹونٹی سے نامراد واپس آ گئی ، ٹیم کی کپتان ثناء میر نے نامراد لوٹنے کی وجہ قوم کی دعاؤں کی عدم دستیابی قرار دیا نائب کپتان نین عابدی نے بھی قوم کا خواتین کھلاڑیوں کے لئے دعائیں نہ کرنے کا گلہ کیا ہے، :) بندیاں سچی ہیں، میں نے بھی دعائیں نہیں کی تھی۔ یعنی دعائیں نہ کرنا زیادتی ہے وہ الگ بات ہے ہمارے دوست کا کہنا ہے خواتین کے آگے پیچھے زیادتی کا لفظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے کہ ملکی صحافت نے اس لفظ کا استعمال خواتین کے سلسلے میں ایسے معاملات تک محدود کر دیا ہے کہ حدود کے معاملات کے کیس بن جاتے ہیں اور بندہ بے مختیار ہو کر بیبیوں کے زیر اثر چلا جاتا ہے۔
ویسے مجھے ثناء میر کا شکایت سن کر ایک بار ہنسی آ گئی ، وہ اس طرح تو کچھ اور اعتراضات یا اپنی طرف سے کچھ اور دلائل بھی پیش کر سکتی تھیں جیسے بھارت سے ہارنے کی ایک وجہ شعیب ملک سے پاکستانی لڑکیوں کو چھوڑ کر بار بار بھارت میں شادی کرنے کا بدلہ لینا، یا یہ کہ ہماری ٹیم کی خواتین ہر گز کپتان اس عمر گل کی طرح اُس طرف فیلڈنگ کی فرمائش نہیں کرتی جہاں جنس مخالف کی وافر تعداد ہو۔ یا بے شک نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹنگ لائن نہیں چل سکی مگر مجال ہے کسی پر میچ فکسنگ کا الزام لگا ہو وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایک شغلی تحریر ہے، سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ویسے کیسے لگے کل کو اپنی ناکامیوں کو ہر شخص و طبقہ دعاؤں کی عدم دستیابی کو قرار دیں! پھر کہتے ہیں ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو جان دو!
خبر: لنک

5/12/2010

گوگل تجویز کنندہ

گوگل اب اردو صارف کو ممکنہ تلاش جس طرح پہلے انگریزی صارف کو تجویز کرتا  ہے کو تجویر کر رہا ہے! دلچسپ!!


اس کے علاوہ اگر آپ رومن اردو میں تلاش کرنے لگیں تو آپ کو ممکنہ اردو کے الفاظ تجویز کریں گا



5/11/2010

اہم وجہ

ہیلو وکیل صاحب میرے شوہر چار دن سے گھر نہیں آئے لا پتہ ہو گئے ہیں۔
"بی بی آپ کو بغیر بتائے گئے ہیں؟"
جی تب ہی تو آپ کو فون کیا ہے میں بہت پریشان ہوں!
“اُن کی کوئی دشمنی وغیرہ تونہیں تھی؟"
نہیں جناب وہ تو کافی شریف النفس انسان تھے کبھی مجھ سے بھی جھگڑا نہیں کیا!
“حالیہ دنوں میں آپ نے اُن میں کوئی خاص تبدیلی دیکھی تھی؟"
جی ہاں بس ذرا مذہبی ہو گئے تھے یہاں تک کہ تہجد بھی پڑھنا شروع کر دی تھی۔