5/13/2010

قوم کی دعائیں ہمیں کیوں نہیں؟

ویسٹ انڈیز سے پاکستانی خواتین کی کرکٹ ٹیم ٹی ٹونٹی سے نامراد واپس آ گئی ، ٹیم کی کپتان ثناء میر نے نامراد لوٹنے کی وجہ قوم کی دعاؤں کی عدم دستیابی قرار دیا نائب کپتان نین عابدی نے بھی قوم کا خواتین کھلاڑیوں کے لئے دعائیں نہ کرنے کا گلہ کیا ہے، :) بندیاں سچی ہیں، میں نے بھی دعائیں نہیں کی تھی۔ یعنی دعائیں نہ کرنا زیادتی ہے وہ الگ بات ہے ہمارے دوست کا کہنا ہے خواتین کے آگے پیچھے زیادتی کا لفظ استعمال کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے کہ ملکی صحافت نے اس لفظ کا استعمال خواتین کے سلسلے میں ایسے معاملات تک محدود کر دیا ہے کہ حدود کے معاملات کے کیس بن جاتے ہیں اور بندہ بے مختیار ہو کر بیبیوں کے زیر اثر چلا جاتا ہے۔
ویسے مجھے ثناء میر کا شکایت سن کر ایک بار ہنسی آ گئی ، وہ اس طرح تو کچھ اور اعتراضات یا اپنی طرف سے کچھ اور دلائل بھی پیش کر سکتی تھیں جیسے بھارت سے ہارنے کی ایک وجہ شعیب ملک سے پاکستانی لڑکیوں کو چھوڑ کر بار بار بھارت میں شادی کرنے کا بدلہ لینا، یا یہ کہ ہماری ٹیم کی خواتین ہر گز کپتان اس عمر گل کی طرح اُس طرف فیلڈنگ کی فرمائش نہیں کرتی جہاں جنس مخالف کی وافر تعداد ہو۔ یا بے شک نیوزی لینڈ کے خلاف بیٹنگ لائن نہیں چل سکی مگر مجال ہے کسی پر میچ فکسنگ کا الزام لگا ہو وغیرہ وغیرہ۔
یہ ایک شغلی تحریر ہے، سنجیدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ ویسے کیسے لگے کل کو اپنی ناکامیوں کو ہر شخص و طبقہ دعاؤں کی عدم دستیابی کو قرار دیں! پھر کہتے ہیں ہم ۔۔۔۔۔۔۔۔ چلو جان دو!
خبر: لنک

3 تبصرے:

  1. آہ جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
    پر نہيں طاقتِ پرواز مگر رکھتی ہے

    دعا وہ قبول ہوتی ہے جو دل سے نکلے

    قوم بجلی مہنگائی اور بے روزگاری کے چکر ميں لٹيرے اور قاتل حکمرانوں سے نجات مانگنے کی دعا کرنے سے قاصر ہے تو کسی کو کرکٹ ميچ کا کيا ہوش ہو گا

    جواب دیںحذف کریں
  2. اچھی تحریر ہے اور ٹی ٹونٹی (مردانہ نا سہی زنانہ ہی سہی) کپ میں آپ کی دلچسپی کو ظاہر کرتی ہے۔
    :D

    جواب دیںحذف کریں
  3. خواتين کی بھی ٹيم ہے مجھے تو پتہ ہی نہيں تھا آ^ندہ ميری دعائيں انکے ساتھ ہوں گی

    جواب دیںحذف کریں

بد تہذیب تبصرے حذف کر دیئے جائیں گے

نیز اپنی شناخت چھپانے والے افراد کے تبصرے مٹا دیئے جائیں گے۔